لفافہ

حجاب کے نام

ایک مشورہ

نومبر کا حجاب اسلامی اچھا لگا۔ کہانی کا انجام افسانہ بہت پسند آیا۔ ایک تجویز دینا چاہتی ہوں کہ آپ حجاب اسلامی بیسویں صدی کی انقلابی خواتین پر معلومات کا سلسلہ شروع کریں۔

محسنہ رحیم (بذریعہ واٹسپ)

علماء کا رویہ

نومبر کا حجاب اسلامی سامنے ہے۔ اداریہ پسند آیا۔ آپ کی تحریر اچھی ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب لوگ تین طلاق اور حلالہ جیسی لعنت کی تائید کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ حیرت اور افسوس اس وقت ہوتا ہے جب علماء لوگ ایسا کرتے ہیں۔ پرسنل لاء بورڈ کا رویہ اور رائے دونوں ہی حیرت انگیز ہیں۔

مسلم پرسنل لاء میں اصلاح الگ موضوع ہے اور یونیفارم سول کوڈ الگ موضوع ہے۔ دونوں کو ایک ساتھ نہیں گڈمڈ کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر حلالہ آفاق، موتیا باغ بھوپال (ایم پی)

ایک بات

نومبر کا رسالہ بروقت مل گیا۔ ہمارے گھر میں حجابِ اسلامی کا سبھی لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ شماروں کی طرح اس ماہ کارسالہ بھی پسند آیا۔ اس شمارے میں ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انداز دعوت‘‘ اچھا لگا۔ اس کے علاوہ ’’اولاد کی تربیت محبت سے‘‘ اور ’’اہل خانہ کی تربیت کی ذمہ داری‘‘ اچھے مضامین تھے۔

ایک بات میں کافی دنوں سے محسوس کر رہی ہوں کہ پہلے حجاب اسلامی میں ’گوشۂ نوبہار‘ کے نام سے بچوں کے لیے بھی کچھ صفحات ہوتے تھے۔ اب وہ دیکھنے کو نہیں ملتے۔ اگر وہ سلسلہ جاری رہتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔

نائلہ صدف

گیا (بہار)

[نائلہ صاحبہ! گوشۂ نوبہار اس لیے بند کیا گیا ہے کہ بچوں کا الگ رسالہ نکالنے کی تیاری میں ہوں۔ ان شاء اللہ چند ماہ میں بچوں کا رسالہ شروع ہونے کا امکان ہے]

صنفی تفریق

اکتوبر کا حجاب اسلامی ہاتھوں میں ہے۔ پسند آیا۔ اس شمارے میں صنفی تفریق پر مضمون بہت اچھا لگا۔ اگر مائیں بچوں کی ذہن سازی پر توجہ دیں اور ہم خود اپنے گھروں میں اچھا ماحول قائم کریں تو ان بچوں کے ذہنوں میں صنفی تفریق کا شائبہ تک نہ ہوگا۔ مگر اس کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، اپنے گھر کے ماحول کو بدلنا ہوگا اور اپنے طرزِ عمل اور طرزِ فکر کو بدلنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے طرزِ فکر و عمل کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اور ہاں ’’مسلے کی دال‘‘ بہت پسند آئی کافی لذیذ تھی۔

خالدہ احسن صالحاتی

اندور (ایم پی)

گھریلو بزنس

ستمبر اور اکتوبر کے شماروں میں توقیر اسلم انعامدار صاحب کا مضمون دو قسطوں میں شائع ہوا ہے۔ زیر نظر مضمون اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں خواتین کو باوقار گھریلو روز گار کی طرف رہ نمائی کی گئی ہے۔

گھریلو روز گار آج بھی ہمارے معاشرے میں رائج ہے مگر اس سے ملنے والی اجرت اتنی قلیل اور بے معنی ہے کہ گزارہ مشکل ہو جاتا ہے۔ گھروں میں بیڑی بنانے، کشیدہ کاری کرنے سے لے کر ریڈیمیڈ کے کپڑے سلنے تک کا کام ایسا ہے کہ اس میں اجرت برائے نام ملتی ہے۔

ایسی میں ضرورت مند خاندانوں کی خود روز گاری کے طریقوں کی طرف رہ نمائی ایک اہم کام ہے۔ میں مضمون نگار سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آئندہ حجاب اسلامی میں ایک سلسلہ شروع کرتا ہوں کہ وہ آئندہ حجاب اسلامی میں ایک سلسلہ شروع کریں، جس میں وہ کسی ایک روز گار کو لے کر اس کی تفصیلات پیش کریں تاکہ جو گھرانے اس میں آگے بڑھنا چاہیں ان کو مناسب اور ضروری رہ نمائی مل سکے۔ ساتھ ہی اس قسم کے اداروں کی طرف بھی رہ نمائی کریں جو اس طرح کے کاموں میں مالی تعاون یا قرض فراہم کرسکتے ہوں۔

عبد المبین خلجی

کوٹہ (راجستھان)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply