دین اور ہماری معاشرتی زندگی

اسلام اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر گوشے، ہر موقع اور ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں اپنی انفرادی زندگی گزارتے وقت بھی اللہ کی خوشنودی کا خیال رکھنا ہے اور اجتماعی زندگی اور معاملات میں بھی ایسا ہی کرنا ہے۔ اسلام مسلمانوں کو یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ وہ دین کی عطا کردہ ہدایات کو نافذ کرنے کی شروعات اپنی زندگی سے کریں اور پھر اس کا دائرہ بڑھاتے ہوئے اپنے گھر اور خاندان والوں کو اس کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں۔ یہ بالکل فطری درجہ بندی ہے کہ انسان اپنی ذات سے شروع کرتے ہوئے اس کا دائرہ اثر بڑھاتا جائے۔

ہم اگر پوری دنیا میں اور پورے سماج میں دین کو قائم نہیں کرسکتے، حالانکہ یہ بھی بہ حیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے، تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ ہم دین کو اپنی ذاتی اور عائلی زندگی میں جاری و نافذ کریں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ہم نے اپنی ذاتی اور عائلی زندگی میں دین کو بڑی حد تک اور مثالی طور پر مکمل حد تک نافذ کرلیا، جس میں کوئی رکاوٹ نہیں، تو ہم اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی زندگی کو بڑا پرسکون اور کامیاب بناسکتے ہیں۔ اور اگر ہم نے اس کا احساس پوری طرح نہیں کیا ہم یہاں پر کامیاب نہ ہوئے تو اجتماعی معاملات میں دین کا نفاذ کسی صورت ممکن نہ ہوسکے گا اور اس ضمن میں جاری تمام کوششیں محض کوششیں ہی رہیں گی اور کامیابی کا امکان مشکل ہوگا۔ ’’اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘ میں یہی تعلیم ہے اور اللہ کے رسولﷺ نے اسی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنے اہلِ خاندان کو دعوت دی اور انہیں دین کی طرف بلایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو نبوت کی ذمہ دای سونپی تھی اور آپ کے اہلِ خاندان اس وقت تک شرک ہی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اس پر ذرا غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ آج ہم اور ہمارے گھر اور خاندان والے اللہ کے فضل سے توحید پر ایمان رکھنے والے اور دین اسلام کے پیرو کار ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کو اس وقت بنیادی عقیدے کی تبدیلی کا چیلنج درپیش تھا، جب کہ آج ہمیں صرف عمل کی اصلاح کرنی ہے۔ عمل کی اصلاح عقیدے کی تبدیلی کے مقابلے میں بہت آسان ہے لیکن اس کے لئے شعور اور احساس ذمہ داری چاہیے جو ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہرشخص ذمہ دار ہے اور اس سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ مرد ذمہ دار ہے اپنے بیوی بچوں کا اور عورت ذمہ دار ہے اپنے بچوں اور شوہر کے گھر بار کی۔‘‘ اس لیے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے اہلِ خانہ اور بچوں کے سلسلہ میں جہاں ان کی بنیادی ضرورتوں اور تعلیم و تربیت کی فکر کرتے ہیں، وہیں اس بات کی بھی فکر کریں کہ گھر کے افراد دین پر عمل کرنے والے ہوں اور ان کی زندگیوں میں اللہ اور رسولؐ کے احکامات اور ہدایات جاری و نافذ ہوں۔

اسلام ہمیں رشتوں کو جوڑنے اور ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے اور رشتوں کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ سورئہ نساء کی شروعات ان الفاظ سے ہوتی ہے:

ترجمہ: ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورتیں دنیا میں پھیلادیے۔ اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ وقرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو اور یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔‘‘

اسی طرح اللہ کے رسولﷺ نے رشتوں کے پاس و لحاظ اور ان کے حقوق کی ادائیگی کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔ آپؐ نے فرمایا:

’’سلام کو پھیلاؤ، بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، رشتوں کو جوڑو (صلہ رحمی کرو) اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سورہے ہوں (اگر ایسا کروگے) تو جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤگے۔‘‘

یہ رشتوں کا جوڑنا اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا ایک معاشرتی انوٹسمنٹ ہے، جو ہمیں تحفظ کا حصار فراہم کرتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ ہم بیرونی خطرات اور ہنگامی حالات سے محفوظ اور مامون ہوجاتے ہیں۔ یہ تحفظ اور امان اس وقت بہت زیادہ یقینی اور مضبوط ہوجاتی ہے جب ہمارے اہل خانہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مذکورہ احکامات کو دانتوں سے پکڑنے والے اور ہر حال میں ان کا پاس و لحاظ کرنے والے ہوں۔ ذرا اس فرد یا گھر کا تصور کیجیے جو رشتہ داروں سے کٹ کر رہتا ہو، کسی کے حقوق کا پاس و لحاظ نہ کرتا ہو۔ ایسا فرد یا گھرانہ بیرونی خطرات اور ہنگامی حالات میں کس قدر غیر محفوظ ہوتا ہے۔

ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ہی ہماری معاشرتی زندگی کی بنیاد ہے اور اگر ہم اس معاشرتی زندگی کو دین کی عطا کردہ بنیادوں پر استوار کرلیں تو زندگی کس قدر خوش و خرم، محفوظ اور مطمئن ہوجاتی ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے اس معاشرے کا صرف تصور کیجیے جہاں بالغ ہوتے ہی والدین اپنی اولاد کو چھوڑ دیتے ہوں، جہاں رٹائرمنٹ کے بعد بوڑھے والدین کی کسی پر ذمہ داری نہ ہو اور وہ اولڈ ایج ہومس میں پناہ لینے پر مجبور ہوجائیں۔ یہ صورتِ حال قیاسی اور فرضی نہیں۔ آج دنیا میں اسی طرح کی معاشرتی زندگی فروغ پارہی ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے اس طرزِ فکر و عمل کا جس میں خدائی ہدایات کا کوئی عمل دخل نہیں اور جہاں لوگ خدا کے احکام اور اس کے دین سے ناواقف ہیں۔ ہر شخص کی بس اپنی زندگی اور اپنی دنیا ہے جس کا وہ شہنشاہ ہے اور باقی معاشرے کی کسی اکائی سے اس کا تعلق محض فائدے اور ضرورت پر مبنی ہے۔

اسلام ہمیں ایک ایسی معاشرتی زندگی دیتا ہے جو رشتوں کی ڈور میں بندھی ہوئی ہے اور یہ ڈور اور بندھن جتنا مضبوط ہوگا زندگی اسی قدر محفوظ اور کامیاب ہوگی۔ یہ زندگی اللہ کی ہدایات پر قائم ہوتی اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی، باہمی الفت و محبت، ایک دوسرے کی خدمت اور خلوص و ایثار کی بنیادوں پر پروان چڑھتی ہے۔ یہاں اولاد اور اہلِ خانہ پر خرچ کی جانے والی پائی پائی اعلیٰ ترین صدقہ قرار پاتی ہے اور بوڑھے والدین سے اونچی آواز میں بات کرنا منع اور گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ کس قدر کامیاب ہے وہ زندگی جس میں بچپن میں اللہ کے لیے محبت کرنے والے بہن بھائی اور والدین میسر ہوں اور بڑھاپے میں فرماں بردار اور خیال رکھنے والی اولاد میسر ہو، ایسی اولاد جو ان کے سامنے’ اُف‘ تک کرنے کی روادار نہ ہو۔ وہ معاشرہ کتنا مضبوط اور مستحکم ہوگا جس کے افراد رشتوں کا احترام کرنے والے، ان کے لیے ایثار و قربانی دینے والے اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کے لیے از خود آگے بڑھنے والے ہوں۔

ایسے دور میں جب رشتوں کا حال بوسیدہ دھاگوں کا ساہوگیا ہو، معاشرت کے تانے بانے بکھرنے لگے ہوں، لوگ اپنی ذاتی زندگی کے خول میں سمٹ کر جینے لگے ہوں، رشتوں کو مضبوط کرنے اور ان کا پاس و لحاظ کرنے کی تعلیم کتنی اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے۔

ایک مضبوط خاندان اور مستحکم معاشرہ وہ پہلی اکائی ہے، جس کی تشکیل اسلام کا مقصود ہے اور اس کی تشکیل و تعمیر ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے اور بیرونی طاقتوں کی دست رس سے دور۔ کسی کی مداخلت سے بالکل پرے۔ آئیے ہم اپنے گھر اور خاندان کو اسلام کی عائلی اخلاقی قدروں کی بنیاد پر استوار کریں اور اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل دنیا وآخرت ہر دو جگہ پر محفوظ اور اطمینان و سکون سے بھرپور بنائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply