حرص اور بخل

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لاَ یَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْاِیْمَانُ فِیْ قَلْبِ عَبْدٍ اَبَدًا۔ (نسائی ـــــ ابوہریرہؓ)

ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال کا لالچ اور ایمان دونوں کسی بندے کے دل میں ہرگز جمع نہ ہوں گے۔

تشریح: شحّ ،مال کے لالچ اور بخیلی کو کہتے ہیں، ظاہر ہے جو مال کا حریص ہوگا وہ لازماً بخیل ہوگا۔ یہ دونوں باتیں ایمان سے میل نہیں کھاتیں، ایمان تو یہ چاہتا ہے کہ آدمی مال کا پجاری نہ بنے بلکہ جو کچھ کمائے اس میں سے دین کے پھیلانے میں اور غریبوں پر خرچ کرے اور مال کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے اور بچا بچا کر رکھنے کی ذہنیت نہ دینی ضرورتوں میں خرچ کرنے دیتی ہے اور نہ بے سہارا بندگانِ خدا پر رحم کرنے دیتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا جلیل احسن ندوی

Leave a Reply