مشورہ حاضر ہے!

س: صبح کے وقت طبیعت بہت نڈھال اور سست رہتی ہے، کام کو جی نہیں کرتا، نیند آتی ہے، ناشتہ میں کیا کروں؟

ج: بہن افشاں سب سے پہلے تو بھرپور نیند کا اہتمام کریں۔ رات کو جلد سوئیں، سوتے وقت گرم دودھ کی ایک پیالی لیں، اذکار اور مسنون دعاؤں سے دم کر کے سوئیں۔ ناشتے میں جَو کا دلیہ شہد کے ساتھ دو تین کھجوریں مکھن لگا کر کیلا یا کیلے کا شیک فوری توانائی دیتا ہے اور انسان چست رہتا ہے۔ کیلے میں پوٹاشیم ہوتا ہے اور پروٹین کی دو قسم جو موڈ کو اچھا رکھتی ہے۔

س: کھانوں مین جو رنگ استعمال ہوتے ہیں کیا وہ مضر صحت ہوتے ہیں؟

ج: کھانوں میں ہمارے ہاں جو رنگ استعمال ہو رہے ہیں وہ صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں اور کینسر کا پیش خیمہ ہیں۔ ۱۰ روپے میں ڈھیر سارا ملنے ولا زردے کا رنگ ڈھیر ساری بیماریاں لا رہا ہے۔ زعفران سے بریانی زرد نہ بنا سکیں تو سادہ اور بے رنگ بریانی اس سے بہتر ہے جو بیماریوں کو دعوت دے۔ قدرتی رنگ بے ضرر ہوتے ہیں اور جسم ان کو قبول کرلیتا ہے، جب کہ کیمیائی رنگ جسم میں تغیر پیدا کر کے طرح طرح کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ آئسکریم، بیکری کی اشیاء، کولڈ ڈرنگ سب میں مضر صحت رنگوں کا استعمال ہو رہا ہے۔

س: میرا بچہ اسکول میں لنچ نہیں کرتا، ناشتہ بھی صحیح طرح نہیں کرتا، میں کیا کروں؟

ج: بچے نازک اور معصوم ہوتے ہیں، بہت زیادہ توجہ کے طالب۔ ماں کی ذمے داریاں ہی اس کا رتبہ بڑھاتی ہیں۔ بچوں کو بھی نمود و نمائش کی دوڑ میں اچھے لنچ باکس تو دلائے جا رہے ہیں لیکن لنچ پر توجہ نہیں دی جاتی۔ گھر کے بنے ہوئے صحت مند کھانے روز بدل بدل کر دیں۔ کباب، فرنچ ٹوسٹ، انڈا، پراٹھا۔ ناشتے میں بھی جلدی کا پہلو ہوتا ہے۔ جو کا دلیہ شہد کے ساتھ، کھجور کا شیک، کیلے یا آم کا شیک گلاس اور کپ بدل بدل کر خوب صورت سی اسٹرا کے ساتھ بچوں کو ضرور ناشتے میں دلچسپی دلائے گا۔

س: حکیم صاحبہ! میرا بچہ تقریباً ۱۳ سال کا ہوگیا ہے، بستر میں پیشاب کرنے کی وجہ سے بہت پریشان ہوں، خدارا اس کا کوئی حل بتائیں۔

ج: کچھ بچے پیشاب پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ ۸۵ فیصد بچے بستر میں پیشاب اس وقت کرتے ہیں، جب ان کے دماغ اور مثانے میں ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ کچھ بچے نفسیاتی کیفیت، احساسِ کمتری، والدین یا بہن بھائیوں کا دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنا، کوئی جسمانی یا ذہنی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ بچے کو احساسِ کمتری سے نکالیں، اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔ رات کے وقت زیادہ پانی، جوسز اور چاول نہ دیں، کسی معیاری دوا خانے کی ماسک البول دو گولیاں سوتے وقت دیں، رات میں اٹھا کر واش روم لے جائیں۔ ماں کی محبت، خصوصی دیکھ بھال اور مناسب علاج ان شاء اللہ جلد اس کیفیت سے چھٹکارا دلائے گا۔ تل کے لڈو کھلانا بھی مفید خیال کیا جاتا ہے۔

س: میرے بچوں میں بہت کم وقفہ ہے جس سے میری بچہ دانی نیچے کی طرف لٹک گئی ہے، پیشاببھی بار بار محسوس ہوتا ہے، کوئی مفید علاج بتائیں۔

ج: بچے دانی مثانے پر زور ڈال رہی ہے، جس کی وجہ سے بار بار پیشاب کی حاجت ہو رہی ہے، آپ کو دوا سے زیادہ احتیاط کرنی ہے۔ کموڈ استعمال کریں، پونچھا نہ لگائیں، اکڑوں نہ بیٹھیں، وزن نہ اٹھائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
طبیبہ ثمینہ برکاتی

Leave a Reply