رسولِ پاکﷺ کا سلوک

آج کل لوگوں کے اخلاق تجارتی نوعیت کے ہیں۔ آج کل امیر آدمی وہ ہے جس کی نکتہ آفرینی پر سامعین خوشامدانہ ہنسی ہنستے ہیں اور اس کی غلطیوں کو حقیر جان کر ان سے عموماً اغماض برتا جاتا ہے۔ اس کے برعکس غریب آدمی وہ ہے جس کی نکتہ سنجی حاضرین پر گراں گزرتی ہے او روہ بجائے تحسین کے اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ ایسے آدمی سے کوئی خطا سرزد ہوجائے تو لوگ اس پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اس کی آنکھ کا تنکا بھی انھیں شہتیر نظر آتا ہے۔

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل نہایت سیدھا سادہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امیر و فقیر دونوں سے برابر کا مشفقانہ سلوک روا رکھتے تھے۔

انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک بادیہ نشین جب بھی کسی کام سے مدینہ آتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پنیر یا گھی کا تحفہ ضرور لاتا۔ واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے کھجور یا مدینے کی کوئی اور سوغات تحفے کے طور پرعنایت کرتے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو زاہر سے بہت محبت تھی۔ آپ کہا کرتے تھے:

’’زاہر ہمارا بادیہ نشین ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں۔‘‘

زاہر واجبی شکل و صورت کا مالک تھا۔ وہ ایک دن گاؤں سے روانہ ہوا اور نبیؐ سے ملنے آپ کے گھر آیا۔ آپ گھر پر نہیں تھے۔ زاہر کے پاس تجارت کا کچھ سامان تھا جسے لے کر وہ بازار چلا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زاہر کی آمد کا پتا چلا تو آپ بازار جاکر اسے تلاش کرنے لگے۔ ایک جگہ آپ نے اسے دیکھ لیا۔ وہ پسینے میں شرابور کھڑا اپنا سامان بیچ رہا تھا۔ اس کے کپڑے گندے تھے جیسا کہ بادیہ نشینوں کے ہوتے ہیں اور ان سے بو آرہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقب سے گئے اور چپکے سے اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا۔ زاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو نہ دیکھ سکا۔ وہ گھبرا کر چلایا:

’’چھوڑو مجھے… کون ہو تم؟‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ زاہر نے گرفت سے نکلنے کی کوشش میں قدرے مڑ کر دیکھا۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے تو اطمینان ہوگیااور گھبراہٹ جاتی رہی۔

اب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے سینے سے اپنی پیٹھ چمٹانے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے خوش طبعی کرنے لگے اور آس پاس کھڑے لوگوں سے مخاطب ہوکر بلند آواز سے کہا:

’’یہ غلام کون خریدے گا؟ یہ غلام کون خریدے گا؟‘‘

زاہر جو اپنی پتلی حالت زار سے بخوبی واقف تھا، شگفتگی سے بولا:

’’اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! تب تو آپ کو میری قیمت زیادہ نہیں ملے گی۔‘‘

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:

’’لیکن اللہ کے ہاں تم کم قیمت نہیں ہو… اللہ کے نزدیک تم قیمتی ہو۔‘‘

چناںچہ اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ غرباء و مساکین کی دل نبیﷺ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ ان سے ایسا ہی دوستانہ اور ہمدردانہ رویہ رکھتے تھے۔

اکثر فقراء و مساکین کو مال داروں سے یہ شکایت نہیں ہوتی کہ وہ مال خرچ کرنے اور کھانا کھلانے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ دراصل انھیں امیروں کے رویے سے شکایت ہوتی ہے کہ وہ ان سے نرمی اور حسن اخلاق سے پیش نہیں آتے۔

کتنے غریب لوگ ایسے ہوں گے، جن کے منہ پر آپ مسکرا دیے اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھا تو انھوں نے آپ کے لیے رات کی تاریکیوں میں دعائے رحمت کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ اور ایسے پراگندہ حال لوگ بھی بہت ہوں گے جنہیں دروازوں سے دھکے دے کر پیچھے ہٹایا جاتا ہے اور ذرہ برابر اہمیت نہیں دی جاتی۔ لیکن اگر وہ اللہ پر قسم ڈال دیں تو اللہ ان کی لاج رکھ لیتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مرسلہ: نبیلہ کوثر

Leave a Reply