صبر کی ایک مثال

سعد یونیورسٹی میں میرا طالب علم ہے۔ وہ پورا ہفتہ غیر حاضر رہا۔ وہ آیا، مجھ سے ملا تو میں نے پوچھا: ’’سعد! خیریت؟‘‘

’’کچھ نہیں، بس کچھ ضروری کام نمٹانے تھے۔‘‘

اس کے چہرے پر غم کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے پھر کہا: ’’سعد! کیا بات ہے؟ مجھے بتاؤ!‘‘

’’میرا بیٹا بیما رہے۔ اسے جگر (Cirrhosis) کی بیماری ہے۔ اب چند دنوں سے سمیت خون (Tosemia) نے بھی آگھیرا ہے، کل میں یہ جان کرسکتے میں آگیا کہ زہر کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہے۔

سعد واقعی پریشان تھا۔ بات تھی بھی پریشانی کی۔

میں نے کہا: ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ صبر کرو، اللہ تمہارے بیٹے کو شفا دے۔ اور اگر اللہ نے کوئی فیصلہ کرلیا ہے تو روزِ قیامت اسے تمہارا سفارشی بنائے۔‘‘

وہ بولا: ’’سفارشی؟ یا شیخ، وہ بچہ نہیں۔‘‘

میں نے کہا: ’’چلو، اللہ اسے شفا دے۔ اس کے بھائیوں کو تمہارے لیے مبارک کرے۔‘‘

اس نے سر جھکا کر کہا: ’’یا شیخ! اس کا کوئی بھائی نہیں۔ وہ میری اکلوتی اولاد ہے۔ اسے بھی بیماری کھائے جا رہی ہے۔‘‘

سعد کی حالت قابل رحم تھی۔ میں نے دل کڑا کر کے کہا: ’’سعد! اپنے آپ کو غم کے مارے ہلاک نہ کرو۔ ہم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ نے لکھ رکھی ہوتی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر میں چلا آیا۔

جی ہاں! اپنے آپ کو غم کے مارے ہلاک نہ کریں۔ غم کرنے سے مصائب کا بوجھ ہلکا نہیں ہو جاتا۔

کچھ عرصہ پیشتر میں مدینہ منورہ گیا۔ وہاں میں اپنے دیرینہ دوست خالد سے ملا۔ اس نے مجھ سے کہا: ’’چلیں، دکتور عبد اللہ سے مل کر آتے ہیں۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’کس خوشی میں؟‘‘

کہنے لگا: ’’خوشی میں نہیں، تعزیت کرنے۔‘‘

’’تعزیت کرنے۔‘‘

’’ہاں! ان کا بڑا بیٹا پورے کنبے کو لے کرساتھ والے شہر شادی پر گیا تھا۔ دکتور عبد اللہ یونی ورسٹی سے منسلک ہیں، اس لیے وہ شادی پر نہ جاسکے۔ واپسی پر ان کے گھرانے کو خوف ناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں گھر کے تمام گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے۔‘‘

دکتور عبد اللہ پچاس کے پیٹے میں تھے اور نیک آدمی تھے۔ لیکن بہرحال انسان تھے۔ ان کے جذبات و احساسات تھے۔ سینے میں درد مندل دل تھا، رونے والی آنکھیں تھیں، انھیں یہ اندوہ ناک خبر پہنچی تو نہایت صبر مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھوں نے سارے خاندان کی تجہیز و تکفین کی، نمازِ جنازہ پڑھی اور اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے دبا آئے۔ گیارہ افراد، پورا کنبہ۔

دکتور عبد اللہ خالی خولی گھر میں سرگرداں رہتے۔ بچوں کے کمرے میں کھلونے بکھرے تھے۔ کئی دن ہوئے ان کھلونوں سے کھیلا نہیں گیا تھا، اس لیے کہ ان سے کھیلنے والے بچے خلود اور سارہ وفات پاچکے تھے۔

بستر پر جاتے ہیں تو اسے بے ترتیب پاتے ہیں کیوں کہ ام صالح جاں بحق ہوچکی ہیں۔

یاسر کی سائیکل کے قریب سے گزرتے ہیں۔ وہ بے حس و حرکت کھڑی تھی۔ اسے چلانے والا اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔ بڑی بیٹی کے کمرے میں اس کی شادی کے جو عنقریب ہونے والی تھی، رنگ برنگے جوڑے بکھرے پڑے تھے۔ وہ بھی اب اس دنیا میں نہیں تھی۔

سبحان اللہ! اللہ پاک ہے، جس نے انہیں صبر دیا اور ان کا دل ثابت رکھا۔ لوگ تعزیت کرنے آتے۔ ایسا لگتا کہ دکتور عبد اللہ پر کوئی مصیبت ہی نہیں آئی اور وہ خود تعزیت کرنے آئے ہیں۔

وہ باربار یہی کہتے: ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ اس نے دیا اور جو لے لیا۔اس کے ہاں ہر شے کا ایک مقررہ وقت ہے۔

یہ نہایت سمجھ داری کی بات تھی۔ اگر وہ ایسا نہ سوچتے تو یقینا غم کے مارے مر جاتے۔

میں ایک صاحب کو جانتا ہوں، جو ہمیشہ خوش نظر آتے ہیں۔ لیکن آپ ان کے حالات کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ معمولی ملازمت ہے، کرائے کا تنگ سا گھر ہے، معمولی سواری ہے اور اہل و عیال بکثرت ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں۔ زندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد المالک

Leave a Reply