خواتین کی ایجادات

آپ بس یاکار میں سفر کر رہے ہوں اور اچانک تیز بارش ہونے لگے تو گاڑی کے شیشہ پر پانی گرنا فطری ہے۔ پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ڈرائیور نے بٹن دبایا اور سامنے شیشہ پر وائپر چلنے لگا۔ ارے یہ کیا؟ یہ تو شدید بارش کے باوجود گاڑی کا ڈرائیور بڑی آسانی سے آگے دیکھ پا رہا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو ڈرائیور یا تو گاڑی روکنے پر مجبور ہوتا یا چلاتا تو حادثہ کا خطرہ۔

اس خطرے سے انسانوں کو کس نے بچایا۔ ایک عورت نے جس نے گاڑی میں لگنے والا وائپر ایجاد کیا۔ کون جانتا ہے کہ ونڈ شیلڈوائپر کی ایجاد ’’میری اینڈرسن‘‘ نے کی۔ اسی طرح کے بے شمار ایجادات ہیں جو ہماری زندگی کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔ کئی چھوٹی چھوٹی مگر بے انتہا اہم چیزیں ہیں جن کے استعمال کے وقت ہم غور نہیں کرتے کہ ان کی ایجاد کس نے اور کیسے کی۔ اگر ہم ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی ایجاد اور تاریخ پر معلومات حاصل کرنے بیٹھیں تو بڑی دلچسپ اور حیرت انگیز چیزیں سامنے آتی ہیں۔

آپ کا کوئی رشتہ دار درد سے تڑپ رہا ہے آپ ڈاکٹر کو بلاتے ہیں، ڈاکٹر اپنی کٹ سے ایک سرنج یعنی انجکشن نکالتا ہے اور مریض کے جسم میں گھسا دیتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مریض کو راحت مل جاتی ہے۔ لیکن جس طرح سرنج کی سوئی جسم میں گھسا دی گئی اور تکلیف نہیں ہوئی کیا اسی طرح ہم کپڑے سینے والی سوئی بھی جسم میں گھسا سکتے ہیں نہیں ہرگز نہیں۔ اس کی تو نوک ہی چبھ جائے تو چیخ نکل جاتی ہے۔ لیکن مریض کو فوری علاج کی سہولت کے لیے سرنج ایجاد کرنے والی ایک خاتون تھیں جن کا نام ’’لے ٹیٹا گیر‘‘ تھا۔

عورتیں اور باورچی خانہ لازم و ملزوم ہیں۔ آج کے دور میں گیس سے چلنے والے چولہوں اور بجلی اور سولر اینرجی سے چلنے والے چولہوں نے انہیں کس قدر سہولت میسر کر دی ہے۔ ذرا سوچیے اس زمانے کے بارے میں جب عورتیں مٹی کے چولہوں پر لکڑی سے کھانا پکا کر بے حال ہوجاتی تھیں۔ دھواں، راکھ، گرمی، گھٹن اور نتیجہ بیماریاں۔ ایسے میں ایک عورت نے کھانا پکانے کے لیے ’’اسٹوو‘‘ ایجاد کیا۔ کتنا بڑا احسان کیا انھوں نے خواتین پر جب 1867 میں ایلزا بیتھ ہاک نے اسٹوو ایجاد کیا۔

اگر خواتین موجدین اور سائنس دانوں کا نام پوچھا جائے تو لوگ ایک، دو یا تین ناموں سے آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ لیکن یہاں تو ایک لمبی فہرست ہے ان خواتین کی جنہوں نے انسانیت کے لیے سائنس اور ٹکنالوجی کے دور میں اہم ترین ایجادات کیں۔

ذیل میں ہم چند ایجادات اور ان کی ایجاد کرنے والیوں کے نام درج کرتے ہیں۔ اگر آپ گوگل سرچ میں جاکر تلاش کریں تو دلچسپ معلومات ملیںگی۔

۱- ماؤنٹین گلوب ایلن فٹج 1875

۲- الیکٹرک واٹر ہیٹر ایڈا فوربس 1917

۳- پن ڈبی لیمپ سارا ماتھیر 1885

۴- ٹیلی اسکوپ سارا ماتھیر

۵- پرنٹر ای چیل چمرمین 1980

موجودہ زمانے میں انٹرنیٹ اور وائر لیس ٹکنا لوجی نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس میدان میں آسٹریا کی خاتون ہیڈی لینگر کا نام بھی نمایاں حروف میں لکھا جاتا ہے۔ انھوں نے اسپریڈ اسپکٹرم ٹکنا لوجی دریافت کی تھی۔

دریاؤں پر باندھ اور پل بنانا قدیم زمانے سے ہی رائج رہا ہے۔ لیکن جدید طرز کے پانی کے ذخائر اور ڈیموں کے لیے تعمیر میں ہیرٹ اسٹرانگ نام کی خاتون کو جانا جاتا ہے جنہوں نے 1887میں اس جدید طرز کی تعمیر شروع کی تھی۔

کروڑوں اشیاء جو آج ہم استعمال کرتے ہیں ان کی ایجاد اور دریافت میں کتنی ہی خواتین کا کردار رہا ہوگا مگر ہم اس انداز میں سوچتے نہیں۔ لیکن اگر سوچیں تو شاید ہمیں حوصلہ ملے اور آگے بڑھنے کی اور دنیا کو کچھ دے کر جانے کی فکر کریں۔ کیوں کہ یہ تو ہمارے نزدیک اور اللہ کے نزدیک صدقۂ جاریہ ہے۔

ایک خاص بات اس سلسلے میں اور ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے پہلی موجد خاتون کے طور پر ’’سبلا ماسٹرس‘‘ کا نام آتا ہے۔ 1775ء میں انھوں نے اناج کو فوڈ اور فائبر میں تبدیل کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ لیکن برطانیہ کی عدالت نے اس کا پیٹنٹ ان کے نام جاری کرنے کے بجائے ان کے شوہر کے نام جاری کیا۔

در اصل انیسویں صدی کی آخری دہائی تک وہاں خواتین کو ملکیت اور پیٹنٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ موجد خواتین کی فہرست جو بہ ظاہر مختصر نظر آتی ہے کافی طویل ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مجیب الرحمن ندوی

Leave a Reply