حضرت ابراہیمؑ کا اندازِ دعوت

حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کے مختلف واقعات ہمیں دعوتی زندگی نے کے اصول دیتے ہیں۔ ان اصولوں پر عمل کرکے ہم اپنی دعوتی سرگرمیوں کو بہتر اور نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعات قرآن میں آتے ہیں۔ وہ ایک ایسی قوم یا گروہ کے ساتھ رہے جو ستاروں کی عبادت کرتی تھی۔ آپ ان کے ساتھ بیٹھتے۔ یہ ستاروں کی خصوصیات بیان کرتے یہ رات کر روشنی دیتے ہیں۔ اندھیری رات میں یہ رہ نمائی کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ کون سا راستہ کس طرف ہے۔

ستاروں کے ذریعے سمت معلوم کرنے کا سلسلہ ہزاروں سال تک انسان استعمال کرتے رہے ہیں۔ ستاروں کو دیکھ کر قافلے صحرا میں رات کو سفر کرتے تھے۔ یہ وہ حقائق ہیں کہ جو بالکل صحیح ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام صبر و تحمل کے ساتھ ان کی گفتگو سنتے، کیوں کہ اس میں حقیقت بھی تھی۔ لیکن یہ غلط نتیجہ وہ ساتھ ہی نکال لیتے کہ ان حقائق کی وجہ سے ہمیں ان کی پوجا کرنی چاہیے۔ جب ستارے غروب ہو جاتے تو ابراہیم علیہ السلام انہیں رد کردیتے کہ یہ تو ڈوب گئے۔ اب کون رہ نمائی کرے گا۔ ان کو راستہ دکھائے گا۔ انھوںنے اس بات کی تصدیق یہ تو سچ ہے۔

اسی طرح ابراہیم علیہ السلام چاند کو ماننے والی قوم کے ساتھ رہے۔ انہوں نے دلائل دیے کہ یہ روشن ہے، رات کو روشنی ملتی ہے، اس کے گھٹنے بڑھنے سے مہینہ کی تاریخوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس طرح ہم مہینوں کی پلاننگ کرسکتے ہیں اور زندگی کی پلاننگ کرنا آسان ہے۔ ہم اس کی پوجا کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے تحمل سے ان کے دلائل سنے اللہ کے نبی تھے۔ جانتے تھے یہ سب غلط کہہ رہے ہیں لیکن چاند کے جو فائدے انھوں نے بتائے وہ حقیقت تھے۔ لیکن پوجا والی بات غلط تھی۔ آپ نے ان کی بات سنی، ان کے دلائل کے بعد غلط نتیجہ جو انھوں نے نکالا یعنی یہ چاند رب ہے، سنا لیکن خاموش رہے۔ جب چاند چلا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو چلا گیا اب کیا ہوگا۔ دن میں تو یہ کوئی کام نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو آپ کی بات صحیح ہے۔ آپ نے پہلے ان کو Observe کرنے اور خود تجربہ سے گزرنے کا موقع دیا اور پھر جب وہ مشاہدہ کرچکے تو انہیں بتایا کہ غیر مستقل چیز رب نہیں ہوسکتی۔

اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام سورج کے پجاری گروہ کے ساتھ رہے۔ سورج کو دیکھ کر آپ نے ان کی اس بات کی تائید کی کہ یہ توواقعی بہت بڑا اور روشن ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سورج زندگی کے مسائل حل کرتا ہے۔ اس کی روشنی سے پودوں اور فصلوں کو توانائی ملتی ہے۔ سردی سے ہم بچتے ہیں، دن رات کا پتا چلتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کے مشاہدوں اور تجربات کی تائید کی۔ لیکن جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے انہیں کہا کہاں گیا؟ یہ تو رات کو نہیں ہوتا، پھر یہ غیر مستقل چیز ہے۔ ابراہیم علیہ السلام ان کی باتیں سنتے رہے تھے۔ ان کے ساتھ تھے، ان کی کسی بات کی مخالفت نہیں کی۔ انھوں نے بھی آپ کی بات سنی اور کہا واقعی یہ تو غائب ہوگیا۔

آپ نے ان کے مشاہداتی تجربہ کے بعد انہیں بتایا کہ میں آپ لوگوں سے مختلف رائے رکھتا ہوں۔ جو چیز غائب ہوجائے وہ رب نہیں ہوسکتی۔ رب تو ایسا ہو جو ہر وقت موجود ہو۔

قرآن مجید میں اللہ نے واقعہ بیان کیا یہ ہماری ہدایت کے لیے رہ نما اصول دیتا ہے۔ اگر ہمیں کسی قوم، گروہ، افراد چاہے وہ ہم سے، ہماری بات چیت سے، ہمارے ذہن میں موجود طرزِ زندگی سے، ہمارے مذہب سے کتنا ہی اختلاف رائے رکھتے ہوں، ان سب سے اور دیگر افراد سے بھی بات کرنے کے سنہری اصول ہمیں مل گئے۔ یہ اصول وہ ہیں، جن پر عمل کر کے ہم اپنی دعوتی ذمہ داریوں کی ادائگی میں مدد لے سکتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دیے ہوئے اصول:

۱- دوسرے کی بات چاہے کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو تحمل سے سننی چاہیے۔

۲- کسی کی بات کی مخالفت فوراً نہ کریں۔ اس کے ذہن میں جو چیزیں ہیں، جو حالات، جذبات، تجربات، احساسات ہیں وہ فرد یا گروہ اسی کے مطابق بات کر رہا ہے۔ جب ہمیں اس کے دل و دماغ کے اند رکی بات معلوم ہی نہیں تو اس کی بات کو ایک دم غلط نہیں کہنا چاہیے۔ چاہے وہ اتنی غلط ہو جتنی یہ چاند، سورج، ستارے کو رب ماننے والے پیغمبر ابراہیم کے سامنے کر رہے تھے۔

۳- دوسرے افراد، گروہ، خاندان، ملک، جماعت یا جو بھی ہو اس کے ساتھ رہ کر اس کی صحیح باتوں کی تائید کرنی چاہیے۔ اس طرح اس کے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ساتھ وقوت گزارنا ضروری ہے اور اسے اپنے سامنے مشاہدہ کروائیں۔ تاکہ جو دلیل آپ کے پاس ہے اسے وہ آنکھوں سے دیکھ لے۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے سورج، چاند ستارے والوں کے ساتھ رہ کر مشاہدہ کروایا۔

۴- کسی کے ذہن کو بدلنے کی فوراً کوشش نہ کریں صرف مشاہدہ کرائیں۔ ساتھ رہنے سے وہ آپ کی بات سن اور سمجھ سکتا ہے۔

۵- مشاہدہ کے بعد حکمت سے صحیح بات بتا دیں۔

۶- ایسے فرد، گروہ، خاندان، جماعت، ملک کے لوگوں پر تنقید نہ کریں۔ دیکھا تم غلط تھے میں ٹھیک تھا۔ حضرت ابراہیم نے ان کی کسی ماضی کی بات کو غلط نہیں کہا بلکہ آپ نے صرف مشاہداتی تجربہ پر بات کی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرزِ استدلال سے مدعو کے ذہن و فکر کے دریچے کھلتے ہیں اور وہ سننے، سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ فوری تردید کی روش نہیں اپناتے اس لیے مدعو برگشتہ ہونے کے بجائے ان سے جڑا رہتا ہے۔ اور یہی کامیاب داعی کی خوبی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر خالد مشتاق

Leave a Reply