چوری کا جنون

چوری کرنے والا چوری کے وقت مومن نہیں ہے۔‘‘ (حدیث) اور حضور پاکﷺنے فرمایا: ’’چوری کرنے والے پر اللہ کی لعنت نازل ہو۔‘‘

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ بلا وجہ چوری کرتے ہیں اور کوشش کے باوجود اس بیماری سے نجات نہیں پاسکتے۔ یہ چوری وہ تو ذاتی فائدے یا مشغلے کے طور پر نہیں کرتے بلکہ یہ بیماری ہے۔ جس کا وہ شکار ہوگئے ہیں۔

حلقہ اثر

جب یہ بیماری بچے کو پکڑ لیتی ہے توچوری کا غیر ارادی جنون بچے کے اختیار سے باہر ہوجاتا ہے۔ بچہ ہر کوشش کے باوجود چھوٹی چھوٹی غیر ضروری چیزیں چرانے لگتا ہے۔ مثلاً پنسل، ٹافی، کاپی، پن، ربڑ وغیرہ۔ تقریباً آدھ فیصد بچے اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ بچیوں میں بچوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ۱۳ سے ۱۹ سال کی عمر میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

علامات

اس کی پانچ اہم علامات ہیں:

۱- چوری کرنے کی شدید خواہش۔ حالاں کہ یہ بچے چوری شدہ چیزوں کو استعمال بھی نہیں کرتے۔

۲- چوری کے بعد سکون محسوس کرنا۔

یہ بچے کسی کی چیز نفرت یا ناپسندیدگی کی وجہ سے نہیں کرتے۔ ۳- مجبوراً چوری۔ یہ بچے چوری کے بعد برا محسوس کرتے ہیں۔

۴- بری عادت نہ ہونا۔ یہ بچے برے یا غلط اخلاق والے نہیں ہوتے۔

اس کے علاوہ یہ بچے پریشانی، اداسی، غصہ، احساس محرومی، احساس جرم، ناخن کھانے، غیر ارادی طور پر بال کھینچنے اور توجہ میں کمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔

چوری کے جنون میں شدید اداسی زیادہ پائی جاتی ہے۔ پریشانی خوف کی وجہ سے بھی بچے چوری کرتے ہیں۔ اس کی علامات کے طور پر بچے میں تبدیلی، چڑچڑا پن، غصہ اور علیحدہ رہنا، تعلیم میں کمزوری وغیرہ کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔

وجوہات

٭ خاندانی

٭ شدید پریشانی اور خوف

٭ اداسی

٭ نشہ آور چیزوں کا استعمال

٭ ذہن میں کیمیکل کی خرابی

٭ والدین میں ناچاقی یا طلاق۔

علاج

اس بیماری کا علاج بہت ضروری ہے تاکہ بچے غیر ضروری طور پر مجرم نہ کہے جائیں۔ شدید چوری کے جنون میں مبتلا بچے اچھے اور شریف ہوتے ہیں۔ ان بچوں کی مدد کر کے ہم ان کو اچھا شہری بنا سکتے ہیں۔

’’اور جب میں بیمار ہوتا ہوں، تو اللہ شفا دیتے ہیں۔‘‘ (قرآن پاک)

۱- جب بھی والدین بچے میں تبدیلی محسوس کریں تو اس سے علیحدگی میں پیار اور دوستانہ ماحول میں بات کریں۔ اعتماد پیدا کریں اور تسلی دیں کہ یہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔

’’وہ ہم میں سے نہیں جو بچوں سے پیار نہیں کرتا۔‘‘ (حدیث مبارک)

۲- بچے کے ساتھ وقت گزاریں اور بچے کو لکھ کر اپنا خوف بتانے کو کہیں۔

۳- گھر میں پرسکون ماحول بنائیں۔

۴- بچوں کی تعلیم، نشو ونما، کھیل اور صحت پر توجہ دیں۔

۵- بچوں سے پیارو اور بزرگوں سے ادب کا ماحول پیدا کریں۔

۶- علمائے کرام بچوں کو اسلام، حدیث، قرآن اور مسلمان مشاہیر کے متعلق بتائیں۔ روزانہ قرآن اور نماز کی عادت ڈالیں۔ ’’نماز میری آنکھوخ کی ٹھنڈک ہے۔‘‘ (حدیث مبارک)

۷- اساتذہ بچے سے علیحدگی میں بات کریں اور دوسرے بچوں کے سامنے مذاق نہ اڑائیں۔

۸- مناسب خوراک کھائیں اور باقاعدہ ورزش کریں۔

۹- ریڈیو اور ٹی وی پر اچھے پروگرام دکھائیں۔

۱۰- درج ذیل ذہنی برتگاؤ کا علاج استعمال کریں اور بچے کو درج ذیل چیزوں کی آگاہی دیں۔

*جب بھی چوری کی خواہش بیدار ہو تو اس کے غلط اثرات کا سوچیں۔

*جب بھی چوری کی خواہش ہو تو سانس کو سختی سے روکیں اور باہر نکالیں، بار بار کریں۔

*آرام دہ ورزش، اپنی سانس پر توجہ دیں اور گنتی کریں۔

*اپنے آپ سے سوال کریں کہ کیوں چوری کروں۔

*اچھی کتاب کا مطالعہ یا کھیل یا والدین سے بات کریں۔

*پھل اور پانی کا استعمال کریں۔ (چائے، چاکلیٹ سے پرہیز کریں)۔

*روزانہ ایک اچھاکام کرنے کو کہیں۔

*اگر پھر بھی چوری کریں تو والدین ماہر نفسیات سے بات کریں۔

lادویات، پریشانی، اداسی، خوف اور دوسری ذہنی بیماری کے ادویات مختصر وقت کے لیے استعمال کراسکتے ہیں۔

کوئی دواماہر طبیب کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔

*ملک، اسلام اور دنیا میں اچھے کام کرنے کے متعلق بچے کو سوچ دیں۔

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے(اقبالؒ)

’’اللہ نے ہر بیماری کا علاج پیدا کیا ہے۔‘‘

(حدیث مبارک)

اوپر والی باتوں پر عمل کر کے ۹۹ فی صد بچے بہتر ہوجاتے ہیں، اور مجرم بننے سے بچ جاتے ہیں۔ll*

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد ارشد

Leave a Reply