حقوق و فرائض میں توازن

توازن زندگی کا حسن ہے اور یہی وجہ ہے اسلام میانہ روی کو اختیار کرنے کی ہی میں تلقین کرتا ہے۔

خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز بھی رشتوں کے درمیان توازن قائم کرلینے اور اس توازن کو باقی رکھنے میں ہے۔ گھر کے افراد، ماں باپ، بھائی ہبن اور دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ بیوی کے حقوق کی ادائیگی کچھ اس طرح ان میں سے کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو اور کسی کو بھی شکایت کا موقع نہ ملے، کامیاب ازدواجی زندگی کی سب سے اہم خوبی ہے۔

موجودہ معاشرے کے نوجوانوں میں خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں یہ توازن قائم کرنے اور قائم رکھنے کی فکر مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ازدواجی رشتوں میں ایک تناؤ اور ایک بکھراؤ کی کیفیت پیداہونے لگی ہے۔

چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں خواہ ہو مسلم معاشرہ ہوتا غیر مسلم، مشرق کا ہو یا مغرب کا، وہاں طلاق کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ رشتوں میں عدم توازن، باہمی ایثار و قربانی اور جذباتی محبت کی کمی رشتوں کو متاثر کر رہی ہے۔

میاں بیوی کا رشتہ اعتماد اوربھروسے پر قائم رہتا ہے جب کبھی دونوں میں اعتماد اور بھروسے کی بنیادیں ہلتی ہیں تو اس رشتے کی بنیادیں بھی کم زو رہوجاتی ہیں اور یہ رشتہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ اگر دونوں میں اعتماد اور بھروسے کی بنیادیں مضبوط رہیں گی تو یہ رشتہ بھی مضبوط تر ہوتا جائے گا۔

ہمارا معاشرہ ایک روایتی معاشرہ ہے، اور اس میں خاندانی نظام کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی دو افراد کے نہیں دو خاندانوں کے درمیان ہوتی ہے۔ اسی لیے ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام کو اچھا سمجھا جاتا ہے یقینا اس کی کچھ اچھائیاں بھی ہیں لیکن اس کے کچھ پیچیدہ اور جذباتی مسائل بھی ہیں۔

جب ایک لڑکا شادی کرتا ہے تو وہ اور اس کے والدین، بہن، بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے خاندان میں ایک فرد کا اضافہ ہوگیا ہے اور نیا آنے والا فرد اپنی ذمے داریاں بہ خوبی نبھائے گا، ایسی توقع کچھ غلط اور ناروا نہیں ہے۔ نئے آنے والے فرد کے فرائض کا تعین تو کر دیا جاتا ہے لیکن اس کے حقوق کو یک سر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ توازن زندگی کا حسن ہے اور اسلام نے اسی لیے میانہ روی کو اختیا رکرنے کی تلقین کی ہے۔ اگر شوہر اپنی بیوی اور والدہ کے حقوق کو خوش اسلوبی سے نبھانے کی کوشش کرے اور دونوں کے حقوق کی پاسداری اور ان میں توازن برقرار رکھے تو طلاق تک پہنچانے والے عوامل کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اگر گھر میں نیا آنے والا فرد اپنی ساس سسر اور دیگر افراد کی خدمت اور ان کا خیال خوش اسلوبی سے کرتا رہے تو مسائل جنم نہیں لیتے۔

یہاں ایک مسئلہ بے جا توقعات اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے بھی پید اہوتا ہے۔ جب کہ حقوق اور رواداری کا فقدان اس میں بحران کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جہاں توازن شوہر اور بیوی کو اختیار کرتا ہے وہیں خاندان کے دیگر افراد کو بھی توقعات، ذمہ داریوں اور حقوق میں میانہ روی اختیار کرنی ہے۔

اسلام نے ہر فرد کے حقوق و فرائض کا تعین کردیا ہے۔ بیوی کا اصل فرض اپنے شوہر کی زندگی کو آسودہ بنانا اور اس کے بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ بیوی کا یہ فرض ہرگز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سارے رشتے داروں کی دیکھ بھال کرے اور اگر بیوی یہ کرتی ہے تو یہ اس کا احسان اور اعلیٰ اخلاق ہے، فرض نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں روایتی رسم و رواج کو اسلامی سمجھا جاتا ہے حالاںکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بیوی بھی ایک انسان ہوتی ہے اور اس کے بھی کچھ جذبات ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس کے جذبات کی تسکین کا خیال نہیں رکھا جاتا اور اسے صرف ایک مشین سمجھ لیا جاتا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک توازن کے ساتھ ایک دوسرے کے رشتے داروں کا خیال رکھیں۔ اگر خاندان کا ہر فرد اپنے فرائض ادا کرتا رہے تو حقوق کی ادائیگی خود بہ خود ہونے لگے گی اور مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔

شوہر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کی نگہ داشت اور خدمت کرے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنی بیوی کے حقوق کی بھی پاس داری کرے اور ان میں توازن رکھے۔ ساس سسر کو بھی اپنی بہو کو اپنی بیٹی سمجھنا چاہیے اور اس کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔ بہو کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ دلوں کو محبت اور پیارے سے جیتا جاسکتا ہے۔ عدم برداشت گھر میں بے اطمینانی پید اکرنے کا ایک اہم سبب ہے اگر دونوں فریق آپس میں برداشت اور تحمل سے کام لیں اور ایک دوسرے کی غلطیوں سے درگزر کریں تو مقدس رشتوں کو قائم اور مضبوط رکھنا اور گھر کے ماحول کو خوش گوار بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

طلاق خانگی زندگی کی تباہی کے ساتھ سب سے زیادہ اولاد کو متاثر کرتی ہے اور اس کی آگ میں دو خاندان بری طرح جلتے اور جھلستے رہتے ہیں۔ طلاق جیسا انتہائی قدم اٹھانے والے لمحے بھر کو بھی اس نکتے پر غور نہیں کرتے، نتیجتاً ان کے بچوں کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے اور وہ کبھی نہ ختم ہونے والے احساس کم تری اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نفسیاتی اور دماغی امراض کے اسپتالوں میں کیے گئے سروے کے مطابق ان بیماریوں میں مبتلا ہونے والے مریضوں میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جو طلاق کی وجہ سے بچپن میں والدین کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں، یہ محرومی بچوں کو جرائم کی طرف راغب کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اکثر اوقات طلاق خود کشی اور قتل کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ جن والدین کے درمیان طلاق واقع ہو جاتی ہے ان کے بچے بعض اوقات معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے، وہ عدم توازن اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کی تعلیمی اور معاشرتی کار کردگی متاثر ہوتی ہے اور ان میں اعتماد اور خودداری کا فقدان رہتا ہے جو معاشرے کو ایک مفید اور کارآمد شہری سے محروم کر دیتا ہے۔

اسلام کا بنیادی مزاج رشتوں کو جوڑنے کا ہے اس لیے وہ ایمان والوں کو صبر، تحمل، برداشت، ایثار اور قربانی اور ایک دوسرے کے لیے جھکنے کی تلقین کرتا ہے۔

اہل خانہ اور میاں بیوی کے درمیان اگر ان خوبیوں کو پروان چڑھایا جائے تو رشتوں کو ٹوٹنے سے اور خاندانوں کو بکھرنے سے بچایا جاسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نکہت عمر

Leave a Reply