دوسرا رُخ (گزشتہ سے پیوستہ)

کہیں آپ مجھے بھول تو نہیں گئے… ! جناب میں وہی ہوں جس نے آپ تک بیوی نامی مخلوق کے خیالات پہنچائے تھے اور مجھے مکمل یقین ہے کہ دوسرے رخ پر آپ نے نہ صرف غور کیا ہوگا بلکہ اس میں اپنا عکس سنوارنے کی کوشش میں بھی لگے ہوںگے… بالکل کوشش کرتے رہیں کہ یہی ہم کرسکتے ہیں… باقی راستوں کو آسان کر کے منزل تک پہنچانا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

جی جی اب مزید دیر نہ کرتے ہوئے شوہر، نامی ہستی کے خیالات بھی آپ تک پہنچائے دیتی ہوں… لیجیے آپ بھی سن لیجیے ان دکھے دلوں کی صدا…

میں شوہر ہوں… صرف شوہر!

نہیں اگر میں یہ کہتا ہوں کہ میں ایک مرد ہوں تو پھر ایک مرد بہت سارے رشتوں میں گھرا ہوتا ہے مگر بیوی صاحبہ چاہتی ہیں کہ مرد صرف اور صرف اس کا شوہر بن کر رہے اور بات یہی ہوتی تو بھی تھوڑی قابل قبول ہوتی مگر وہ چاہتی ہے کہ شوہر جناب ان کے بے دام غلام بن کر رہیں… ان ساری کشمکشوں کا آغاز دل میں دبائے جی رہا ہوں…

اس گھنٹی کو میں نے خود گلے میں باندھا ہے اور نہ جانے یہ کب تک بجنے والی ہے اور میرا سکون تباہ کرنے والی ہے… کچھ احساس ہی نہیں اس عورت کو۔ اللہ نے مجازی خدا بنایا ہے… میری خدمت، دل جوئی اس کا فرض ہے مگر اسے اپنے ہی بکھیڑوں سے فرصت ملے تب کچھ سوچے نا!

میں مرد ہوں ہزار جھمیلے ہوتے ہیں۔ پیسہ کمانا کوئی آسان کام تو نہیں اور یہ ہے کہ گھر پر آرام سے پڑی سوتی ہے۔ کوئی فکر معاش کی ذمہ داری نہیں مگر یوں ظاہر کرتی ہے جیسے دن بھر گھر میں خوب پہاڑ کھود لیے ہیں اور کچھ کہو تو میڈم کا منہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کی بیویاں کیسی فرماں بردار، کیسی خدمت گزار ہوتی ہیں اور ایک میری قسمت ہے اوندھے منہ!

اسے اپنی زندگی میں شامل کر کے میں نے جیسے سکون کو اپنی زندگی سے بے دخل کر دیا ہے!… جیسے تیسے کٹ رہی ہے زندگی … ہر وقت کی چخ چخ پخ پخ نے زندگی ویران کر رکھی ہے میری! منہ بسورنے کی بری عادت ہے۔ اب کون ان محترمہ کی روز روز تعریفیں کر کے انہیں سر پر چڑھائے! ٹھیک ہے کھانا اچھا بن گیا تھا کہ اب تعریف کی کیا ضرورت اور سچ پوچھو تو یہ چونچلے اب کون کرے…!!!

اسے تو عادت ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر منہ اتار لینے کی!

کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو کب کا اس جیسی کو چھوڑ چکا ہوتا… مگر اب کیا کروں بچوں کا، گھر کی عزت کا سوال آجاتا ہے تو چپ ہو جاتا ہوں۔ اب یہاں تک تو کٹ گئی آگے بھی کٹ ہی جائے گی… مگر کبھی کبھی نہیں بلکہ اکثر ہی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اس جیسی عورت میرے گلے کیسے پڑ گئی… خیر زندگی دکھ کا اک ساگر ہے اس کے اس پار جانا ہی پڑتا ہے، جب بہت زیادہ بیزار ہو جاتا ہوں تو امید حور پر اسے برداشت کر لیتا ہوں، آپ سب سے دعا کی درخواست!

خواتین… کن سوچوں میں گم ہوگئیں آپ؟ تو بات یہ ہے کہ زیادہ سوچیے مت… آپ کو صرف خود کو چیک کرنا ہے اور اپنا عکس تلاش کرنا ہے دوسروں کا نہیں۔ اور قارئین… بالکل یہی یاد دلانے آئی تھی کہ دوسرا رخ اہم ہے… سوچ کے دروازے کھلے رکھیں!

٭٭٭

میں اک شوہر ہوں…

ہاں … اک بیٹا، بھائی، شوہر ان سب کرداروں کو نبھا رہا ہوں لیکن بالخصوص اپنا تعارف شوہر کے طور پر کرا رہا ہوں… ایسی بیوی کی خاطر، وہ خوش ہوجائے گی نا! اور بیوی کی یہی بات تو اچھی ہوتی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر یوں خوش ہو جایا کرتی ہے جیسے آپ اس کے لیے چاند تارے توڑ لائے ہیں۔

خیر پہلے پہل لگتا تھا کہ کہیں ’قبول ہے‘ کہہ کر گلے میں کوئی گھنٹی نہ باندھ دی جائے لیکن الحمد للہ مجھے تو لگتا ہے کہ میں نے آسانیوں کو قبول ہے کہا ہے۔وہ اس لیے کہ وہ نہ صرف میرے حقوق اچھی طرح سے نبھاتی ہے، میر اخیال رکھتی ہے بلکہ مجھ سے جڑے رشتوں کو بھی محبت و توجہ دیتی ہے۔ میرے فرائض ادا کرنے میں میری مدد کرتی ہے۔

اب ایک گھر میں مختلف مزاجوں کے لوگ ایک ساتھ رہیں تو بحث، ناراضگی اور ناپسندیدگی تو لازمی بات ہے۔ ہاں کہیں کہیں وہ تھوڑی زیادتی کر جاتی ہے کسی معمولی بات پر زیادہ ناراض ہوجاتی ہے، کبھی بڑی تلخ بات کہہ دیتی ہے لیکن اب تو وہ کوئی پاگل ہی ہوگا نہ جو بیوی کی اتنی خدمتوں، محبتوں، احسانوں، قربانیوں اور وفا شعاریوں کو بھلا کر ان ہی باتوں کو لے کر بیٹھے۔ خود کو مظلوم، قابل رحم اور زندگی کو بوجھ سمجھ لے… بھائی میں تو نہیں ایسا پاگل! آپ ہیں کیا؟

ہم دونوں کے مزاج الگ الگ ہی ہیں۔ بھئی کچھ ہی Couples ایسے ہوتے ہیں جن میں مزاج، عادتیں، پسند اور ناپسند وغیرہ ایک دوسرے ملتی ہوں۔ کثرت تو ان کی ہے جن کے مزاج ، عادتیں اور پسند و ناپسند ایک دوسرے سے بہت الگ الگ ہوتی ہیں۔ مگر یہی تو مزہ ہے زندگی کا۔ اور ایک بات کہوں … مجھے لگتا ہے اللہ کی مصلحت ہوتی ہے… دونوں Opposite مزاج کے ہوں تو ایک دوسرے کو Compensate کردیتے ہیں، ورنہ اگر دونوں ہی غصہ والے یا دونوں ہی ٹھنڈے مزاج کے ہوں تو بہت سارے معاملات اور مسائل کو مناسب طریقے سے ہینڈل کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔

مرد کی شان اس میں تو ہرگز نہیں کہ وہ ہر وقت غصہ ناک پر چڑھائے رکھے، خوامخواہ کا رعب جھاڑتا پھرے اور صرف اپنے حقوق کی بات کرے۔ خود کو مجازی خدا سمجھے بیٹھا رہے۔ لیکن ایک بات نہ بھولیے جناب یہ آپ کی بیوی ہی ہے جو آپ کو مجازی خدا بناتی ہے۔ اسی رشتہ کی وجہ سے آپ اس مرتبہ پر پہنچتے ہیں ورنہ شادی سے پہلے آپ کو کون مجازی خدا کہتا تھا ہاں… بتائیے ذرا!! ماں، بہنیں تو اکثر پھونکوں میں اڑایا کرتی تھیں۔

بات بات پر طعنہ دینا، پچھلی باتوں کا غصہ اتارنا، شوہر کے مرتبے سے گری ہوئی بات ہے، اللہ نے عورت کو مرد کا پابند بنایا ہے تو اس کے ساتھ نرمی، رحم دلی، فیاضی و اعلیٰ ظرفی کا سلوک کرنا چاہییـ۔

بھئی وہ تو صنف نازک ہی ہے… فطری کمزوریوں کے ساتھ … جذباتی ہوتی ہے یا جلدی برا مان جاتی ہے… شوہر کی بے توجہی کو جلدی محسوس کرلیتی ہیں۔ کبھی بحث کرے، بے جا ضد کرے تو تھوڑا صبر و درگزر سے کام لے لیتا ہے… مجازی خدا ہوں تو معافی کی گنجائش بھی بہت زیادہ رکھنی چاہیے اس خواہش میں کہ وہ حقیقی خدا، وہ حقیقی معبود ، میری کمزوریوں اور کوتاہیوں کے لیے مجھے معاف کردے۔

میں نے کہیں پڑھا تھا ’’بیوی اپنے شوہر کی آئینہ دار ہوتی ہے… اس کو کہو وہ خوب صورت ہے وہ ہر روز نکھرتی جائے گی، اسے کہو وہ خدمت گزار ہے وہ مزید خدمت کرے گی۔اس کو سراہوگے تو اس کا اعتماد بڑھے گا، لیکن ہر وقت اس کے اندر نقص نکالوگے تو اس کو کھوکھلا کردوگے۔ وہ ٹیڑھی پسلی سے نکلی ہے اس کو سیدھا کرنے کی کوشش میں کہیں اسے توڑ نہ بیٹھو۔ اس لیے اس کے ساتھ دوستی اور رحم کا رشتہ رکھا جائے۔‘‘ بھائی میرے تو دل کو چھو گئی تھی یہ بات… ایک لڑکی جب اپنے جان سے عزیز محبتوں والے رشتوں اور اپنے گھر کو چھوڑ کر ہمارا گھر سجانے اور بنانے کی ذمہ داری ’قبول ہے‘ کے ساتھ لیتی ہے تو اس کی چند کمزوریوں، خامیوں کو بھی ہمیں کھلے دل سے قبول ہے کہنا چاہیے … حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے کوئی صاحب ایمان مرد اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، اگر کوئی عادت اسے ناپسند ہو تو ہوسکتا ہے دوسری کوئی خوبی اسے پسند آجائے۔‘‘ (مسلم)

تو یوں کہیں درگز رکر کے، کہیں نظر اندا زکرکے، کہیں برداشت کرکے، کل ملا کر زندگی بڑی سکون کے ساتھ گزر رہی ہے… میں کوشش کرتا ہوں کہ باہر کے تناؤ یا ٹینشن پر گھرمیں بد مزاجی نہ کروں، ہر گھڑی تیوریاں نہ چڑھائے رکھوں،بلکہ گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ خوش مزاجی ، بے تکلفی ، دلجوئی اور مہربانی کا رویہ رکھوں تاکہ وہ ہنستا بستا پرسکون گھر جو میری خواہش ہے اس کی تعمیر میں اپنی بیوی کا ساتھ دے سکوں…

عورت کی طبعی و فطری کمزوریوں کے پیش نظر اسلام نے ہر معاملے میں شوہر کو تاکید کی ہے کہ عورت کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے، مہربانی سے پیش آئے… گھر والوں کے ساتھ خوش اخلاقی و محبت کا رشتہ رکھے… اور ہرگز بات بات پر اپنی بڑائی اور حاکمیت نہ جتائے۔

اوہ… میںتو کافی لمبی بات کہہ گیا… کیا کروں دل چاہا کہ آپ سے سب باتیں شیئر کرلوں کہ یہ خوب صورت رشتہ اکثر لاپرواہی اور ہمارے سرد اور منفی رویوں کی وجہ سے کچھ عرصے بعد بوجھ جیسا محسوس ہونے لگا ہے… تو اسے بوجھ نہ بننے دیا جائے بلکہ رحمت ہے رحمت ہی بنا کر رکھا جائے۔

تو جناب یوں زندگی میں بہت سکون ، محبت اور کشش ہے… مشکلات کا کیا ہے زندگی کے ساتھ لگی ہیں چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے زندگی کا حصہ ہیں اور مزہ بھی…

شادی ہر انسان کی زندگی میں ایک Uٹرن ہوتی ہے… منظر بدل جاتا ہے، ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اور تبدیلی ہمیشہ خیر لاتی ہے ان کے لیے جو خیر کی امید کرتے ہیں اور خیر کے لیے کوشش کرتے ہیں۔

عزیز قارئین!

آج ہمارے معاشرے میں شوہر اور بیوی کا رشتہ اپنی لطافت کھو رہا ہے… اکثر لوگ اس رشتہ کو مجبوری کی طرح نبھاتے ہیں اور بوجھ کی طرح ڈھوتے ہیں… ہر کردار خود کو مظلوم سمجھتا ہے … آپسی ناچاقی، شکوہ، شکایتوں، خود ساختہ مظلومیت نے گھروں کو سکون سے خالی کر دیا ہے، ہر کوئی اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، اپنے فرائض سے نظریں چراتا ہے، رویوں سے دل برداشتہ ہوتا ہے اور خود کی روش بھول جاتا ہے۔ بڑی بڑی توقعات لگاتا ہے اور خود کو لوگوں کی توقعات سے بری الذمہ سمجھتا ہے…!

ان لفظوں کو اوراق پر بکھیر کر ہلکے پھلکے انداز میں آپ تک پہنچانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ جان لیں زندگی اتنی مشکل نہیں جتنا ہم نے اسے بنا ڈالا ہے…

فرق صرف سوچ کا ہے، نظریہ کا ہے اور نیت کا ہے۔

ہمارے اعمال ان سوچوں اور نیتوں کا عکس ہوتے ہیں!

ہر شخص اپنا عمل دیکھے دوسروں کا رویہ نہیں… اپنے عمل کو دوسروں کے رویے کا تابع اور آئینہ نہ بنا دیں۔

خود کو منفی سوچوں، منفی جذبوں اور شیطان کے وار کے آگے آسان شکار نہ بنا دیں۔

ایک پیغام تھا، آپ تک پہنچا دیا… سوچنا آپ کا کام ہے۔

زندگی کم ہے، مختصر ہے، اسے بدلنے کے لیے قدم اٹھائیے اور اسے آسان بنائیے… اپنی سوچوں کو، نیتوں کو مثبت رخ دے کر زندگی کو، زندگی سے بھرپور بنائیے محبتوں کے رنگوں کے ساتھ… تو چلیے زندگی کے ساز کو نئے سرے سے چھیڑتے ہیں…!!lll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

Leave a Reply