2

ایک الجھی ہوئی کہانی

لو آج میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں یہ کیانی سو سال پرانی ہے۔

’’سوسال؟‘‘

’’ہاں تقریباً سو سال‘‘

’’نہیں بھئی ہم نہیں سنتے اتنی پرانی کہانی، دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور تم ہمیں سو سال پرانی کہانیاں سنا رہے ہو۔‘‘

’’کچھ کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں، وہ وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور سدا جوان رہتی ہیں۔ جب تک انسان کے دکھ سکھ ایک سے ہیں کہانیاں ایک سی رہیں گی۔‘‘

’’نہیں تم ہمیں کوئی نئی کہانی سناؤ بالکل نئی بلکہ آج کی کہانی سناؤ۔‘‘

’’آج کی کہانی؟‘‘

’’ہاں آج کی کہانی، ہمیں کوئی ایسی کہانی سناؤ کہ کچھ وقت گزرے۔ اسپتال میں لگتا ہے وقت ٹھہر گیا ہے سو کوئی قصہ سناؤ دوست لیکن آج کا قصہ۔‘‘

آج تو کوئی خاص بات نہیں ہوئی، ہاں بس ایک فون آیا تھا کہ شبیر نے اپنی بیوی سلمیٰ کو طلاق دے دی ہے۔‘‘

’’اوہ اچھا تو تم ہمیں اسی شبیر کی کہانی سناؤ۔‘‘

’’شبیر کی کوئی خاص کہانی نہیں ہے، وہ میرا بچپن کا دوست ہے، ہم ایک ساتھ پڑھتے کھیلتے رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کی کوئی خاص کہانی نہیں ہے، بس یہ کہ جب ہم میٹرک میں تھے تو اسے سلمیٰ سے محبت ہوگئی اور ہم دونوں گاؤں کے راستوں پر سلمیٰ کی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر گھنٹوں انتظار کرتے تھے۔ تم اس قصے کو چھوڑو میں تمہیں سو سال پہلے کی کہانی سناتا ہوں اور تم دیکھوگے کہ کس طرح ایک دولت مند ایک غریب کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے، یہ تب کی بات ہے جب ہمارے گاوں میں گانگن ندی پر پل بن رہا تھا۔‘‘

’’نہیں نہیں رکو بھئی ہمیں بتاؤ شبیر کی کہانی میں آگے کیا ہوا؟‘‘

’’قصہ مختصر یہ کہ شبیر چوں کہ گاؤں کے ایک کھاتے پیتے زمین دار کا بیٹا تھا، سو جب اس کے گھر والے اس کا رشتہ لے کر سلمیٰ کے گھر گئے تو سلمیٰ کے گھر والے انکار نہ کرسکے اور انھوں نے سلمیٰ سے پوچھے بغیر شادی کے لیے ہاں کردی… تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہمارے گاؤں میں پل بن رہا تھا تو بہت سے آفیسرز دور دور سے ہمارے گاؤں آئے تھے، جب کہ مزدوروں میں زیادہ تر لوگ مقامی تھے، ان مزدوروں میں کرمو بھی تھا، جو گاوں کا سب سے غریب آدمی تھا۔‘‘

’’لیکن جب شبیر کو سلمیٰ سے محبت تھی، تو طلاق کیسے ہوگئی، بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی۔‘‘

’’اصل میں یہ بات لوگوں میں مشہور ہے کہ شادی کی پہلی ہی رات سلمیٰ نے شبیر کو کہہ دیا تھا کہ مجھے تم سے نفرت ہے اور یہ شادی میری مرضی کے خلاف ہوئی ہے۔‘‘

’’اور اچھاتو پھر کیا ہوا؟‘‘

’’کس کا؟ کرمو کا؟‘‘

’’نہیں بھئی شبیر کا؟‘‘

’’شبیر زمین دار خون تھا، بھلا یہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی بیوی کسی او رسے محبت کرے سو وہ روز سلمیٰ کو پیٹتا اور کہتا مجھے بتاؤ تمہیں کس سے محبت ہے، پر سلمیٰ عجیب عورت تھی، اس نے چھے ماہ تک شبیر کو نہیں بتایا کہ اسے کس سے محبت ہے۔‘‘

’’اچھا پھر؟‘‘

’’پل پر کام کرنے والے ایک صاحب کے پاس بہت قیمتی گھڑی تھی جو انھوں نے فارن سے خریدی تھی، ایک دن کیا ہوا کہ وہ صبح اٹھے تو ان کی گھڑی غائب تھی، انھوں نے سارے مزدوروں کو بلایا، مزدور سارے ہی غریب تھے لیکن کرمو کی حالت سب سے زیادہ پتلی تھی اور اس سے ایک دن پہلے ہی اس نے صاحب سے اپنے حالات کا رونا رو کر تنخواہ بڑھانے کی گزارش کی تھی، سو صاحب کو شک ہوگیا کہ چور یقینا کرمو ہی ہے۔ انھوں نے کرمو کو کہا کہ وہ انہیں ان کے گھڑی واپس کردے ورنہ وہ کوڑے مار مار کر گھڑی نکلوالیں گے۔‘‘

’’لیکن ہم تو شبیر اور سلمیٰ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔‘‘

’’ارے بھئی چھوڑو بھی سلمیٰ اور شبیر کو۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ چھے ماہ بعد سلمیٰ نے ایک روز شبیر سے کہا کہ اسے شبیر کے دوست یعنی مجھ سے محبت ہے۔‘‘

’’اوہ یعنی تم بھی اس کہانی کا حصہ ہو؟‘‘

’’نہیں نہیں! میں تمہیں دوسرا قصہ سناتا ہوں کہ جب کرمو پر الزام لگا تو اس نے بہت قسمیں کھائیں اور کہا کہ وہ غریب ضرور ہے لیکن چور نہیں، پر تمہیں تو پتا ہے، غریب آدمی کے لیے یہ ثابت کرنا کتنا مشکل ہے کہ وہ سچ بول رہا ہے۔ سو کسی نے بھی کرمو کی بات کا یقین نہیں کیا اور صاحب نے ایک لمبا کوڑا منگایا۔ وہ کرمو کو مارتے جاتے اور کہتے تھے کم بخت چور، بتادے میری گھڑی کہاں ہے، ارد گرد کھڑے باقی مزدور بھی کرمو پر آوازے کسے جا رہے تھے کہ چوری کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ اب نکال دے گھڑی۔ کوئی دسویں بار جب صاحب نے کوڑا مارا تو کوڑا ان کے ہاتھ سے گر گیا، جسے اٹھانے کو وہ جھکے تو گھڑی ان کی اپنی جیب سے پھسل کر نیچے گری… صاحب کبھی کرمو اور کبھی گھڑی کو دیکھتے اور کرمو نے صاحب کو ایسی نظروں سے دیکھا، جیسے ایک غریب کو ایک امیر کو دیکھنا چاہیے لیکن یکدم اسے خیال آیا کہ کہیں نوکری ہی نہ چلی جائے، وہ اٹھا اور صاحب سے کہا:

… ’’صاحب مبارک ہو گھڑی مل گئی۔ رشید…، فقیرو، گورو! یہ دیکھو صاب کی گھڑی مل گئی۔‘‘

’’اوہ ہو یہ تو بہت دکھی کہانی ہے لیکن وہ شبیر کا کیا ہوا؟‘‘

’’جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ میں اس کہانی کا حصہ ہوں اور سلمیٰ کو مجھ سے محبت ہے۔سو ایک روز میں گھر کے باہر ہی کھڑا تھا کہ شبیر آگیا، اس نے کہا:

’’میں تو تمہیں اپنا جگری دوست سمجھتا تھا، مجھے کیا معلوم تھا کہ ایسے نکلوگے۔‘‘ ’’کیا ہوا دوست! میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا؟‘‘ میں نے پوچھا

’’اب اتنے بھولے نہ بنو، مجھے سلمیٰ نے سب کچھ بتا دیا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے مجھ پر گولی چلادی، جو میری ٹانگ پر لگی، تبھی سے میں تم لوگوں کے ساتھ اس وارڈ میں علاج کی غرض سے داخل ہوں۔‘‘

’’اوہ اچھا تو یہ ہے تمہارے زخم کی کہانی… لیکن تم تو کہہ رہے تھے کہ یہ گولی تمہیں پستول کی صفائی کے دوران لگی تھی۔‘‘

’’تو کیا پہلی ہی ملاقات میں سب کچھ بتا دیتا۔‘‘

’’ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘

’’لیکن پھر شبیر نے سلمیٰ کو آج کیوں طلاق دی؟‘‘

’’سنا ہے کل رات وہ سارے زیور لے کر انور کے ساتھ بھاگ رہی تھی… لیکن دونوں پکڑے گئے اور شبیر نے … سلمیٰ کو طلاق دے دی۔‘‘

’’بھئی یہ انور کون ہے اب‘‘

…’’انور، سلمیٰ کا پڑوسی۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد جمیل اختر

تبصرہ کیجیے