کہانی کا انجام

رخشندہ نے بستر پر پڑے پڑے اپنے ان آنسوؤں کے بارے میں سوچا، جو وہ مسلسل چھ دنوں سے بہا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں پھر بھرآئیں، گرم گرم آنسو اس کے تکیے میں جذب ہونے لگے اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھیں اتنی اکڑ گئی تھیں کہ وہ اب بالکل رونا نہیں چاہتی تھی، لیکن آنسو تو مرضی نہیں دیکھتے۔ امڈے ہی چلے آتے ہیں۔

’’آخر فیس کا کیا انتظام ہوگا۔’’

یہی سوال تھا، جو بار بار اس کے دماغ میں چلا آتا تھا۔ بی اے کے امتحان کی فیس داخل کرنے میں پانچ دن باقی رہ گئے تھے اور اب تک پیسوں کا کوئی انتظام نہ ہوسکا تھا۔

’’تو کیا مجھے وہ کنگن رہن رکھنے ہی ہوں گے۔‘‘

نانی امی کے احتجاج پر وہ بول اٹھی۔

’’ارے نانی اماں! اتنی سی انگوٹھی کے لیے آپ اپنا جی کڑھاتی ہیں۔ میں بس بی اے پاس کرلوں، پھر تو آپ کو ایسی کئی انگوٹھیاں بنوا دوں گی، آخر کبھی تو اچھے دن آئیں گے۔‘‘

وہ کہنے کو تو کہہ گئی، مگر انگوٹھی بیچتے ہوئے اپنے آنسو نہ روک سکی۔ فیس داخل کر کے بھی وہ اتنی ہی اداس تھی، جتنی کہ پہلے۔

آج وہ پھر رو رہی تھی۔ اس کے سر میں درد ہونے لگا۔ رات کے دو بج رہے تھے، سب سوچکے تھے، مگر وہ جاگ رہی تھی، نیند اس کی آنکھوں سے بہت دور تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور لائٹ جلالی۔ کمر ے میں روشنی پھیل گئی، وہ پلنگ سے اٹھ کر آئینے کے سامنے آبیٹھی۔ گندمی رنگ کے چہرے کو آنسوؤں کے نمک نے نکھار دیا تھا۔ آنکھیں سرخ اور پپوٹے سوج کر موٹے ہوگئے تھے۔ کمر سے نیچے لٹکتے ہوئے بالوں کو سمیٹ کر اس نے جوڑا باندھا، اور زور سے اپنا سر پکڑ لیا، سر مارے درد کے پھٹا جا رہا تھا اور آنکھیں تھیں کہ پھر بھی برسی جاتی تھیں۔ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر وہ مسکرائی۔

رخشندہ ترنم صاحبہ! آپ کی ساری عمر آنسو بہاتے ہی گزر جائے گی۔ آپ کا نام ترنم ہے، مگر کتنی بار ترنم فرمایا ہے آپ نے۔ کسی نے آپ کو کبھی مسکراتا یاگنگناتا بھی دیکھا ہے۔‘‘

لمبی لمبی بھیگی پلکیں اس کے گالوں پر گر گئیں۔ اس نے ساڑھی کے پلو سے آنکھیں پونچھیں۔ بڑے اہتمام سے سر پر پلو جمایا اور اپنے عکس کو مخاطب کر کے بولی۔

’’اب تک تو نہیں مسکرا سکی ہوں، مگر اب ضرور مسکراؤں گی۔ میں خود اپنی کہانی لکھوں گی، مجھے انعام ملے گا اور میں امتحان کی فیس جمع کرادوں گی، پھر میں کبھی نہیں رویا کروں گی…

حیدر آباد میں کہانیوں کا انعامی مقابلہ ہونے والا تھا۔ رخشندہ نے جب سے سنا تھا، وہ سوچ چکی تھی کہ کہانی لکھے گی۔ اسے ایسا لگا تھا کہ اللہ میاں نے خاص طور سے اسی کے لیے یہ موقع فراہم کیا ہے۔ کیا پتا انعام اسے ہی مل جائے اور فیس کا مسئلہ حل ہوجائے، لیکن رخشندہ نے جتنی بار بھی کہانی لکھنے کے لیے قلم کاغذ کو ہاتھ لگایا، پلاٹ دور بھاگتا تھا۔ ہر بار وہ کوئی اچھوتا سا پلاٹ سوچ کر کہانی لکھنے بیٹھتی، مگر دوسرے ہی لمحے اسے اپنا دماغ خالی خالی محسوس ہوتا، مگر اب گزشتہ چھ دنوں سے وہ مسلسل کہانیاں لکھے جا رہی تھی۔ کہانی لکھتی، پڑھتی اور اسے پرزے پرزے کر ڈالتی۔ انعام حاصل کرنے کے لیے تو کوئی معرکے کی چیز ہونی چاہیے، ایسی پھس پھسی اور رومانی کہانیاں کہاں انعام پاسکتی ہیں، لیکن وہ ایک پلاٹ سوچ کر کہانی لکھنے پر تل ہی گئی۔

پلاٹ کچھ ایسا تھا:

’’ایک غریب لڑکی پڑھنے لکھنے کی بہت شوقین تھی، لیکن بار بار پیسہ اس کی راہ میں حائل ہو جاتا۔ کبھی کتابیں نہیں، کبھی فیس نہیں، کبھی فاقے کر کے امتحان دینا پڑا، کبھی دو دن بھوکا رہ کر پرچے حل کرنے پڑے، مگر پھر بھی وہ مسلسل پڑھائی پر تلی ہوئی تھی۔ بی اے کے امتحانات تھے اور ہمیشہ کی طرح فیس کا کوئی انتظام نہ ہوسکا تھا اور شہر میں کہانیوں کا انعامی مقابلہ ہونے والا تھا۔ انعام کے لالچ میں اس لڑکی نے کہانی لکھی، کہانی پر اسے انعام مل جانے کا اعتماد اعتماد پختہ تھا کہ اس نے اپنی ماں کے وہ کنگن رہن رکھ دیے، جو انھوں نے اس کی شادی کے لیے رکھ چھوڑے تھے۔ ساہو کار نے اس وعدے پر کنگن رہن رکھ لیے کہ مقررہ میعاد کے آدھے گھنٹے کے بعد بھی وہ مال واپس نہیں کرے گا۔

لڑکی نے اس امید پر وعدہ کرلیا کہ اسے انعام پانے کا پورا یقین تھا۔ کہانی لڑکی کی اپنی زندگی سے متعلق تھی، اس نے خود کو موضوع بنا کر کہانی لکھی اور کنگن والے واقعے کو کہانی بنا کر پیش کر دیا۔ کہانی اتنی موثر تھی، اتنی اچھی تھی کہ اس پر انعام مل گیا، مگر افسوسناک اتفاق یہ ہوا کہ جس دن اسے انعام ملا، اسی دن کنگن کے رہن کی تاریخ ٹل چکی تھی اور اس کے کنگن ڈوب چکے تھے، اس سے بھی زیادہ عجیب اتفاق یہ ہوا کہ کہانی کا انجام اس کی اپنی حقیقی زندگی کے عین مطابق ہوگیا تھا۔‘‘

رخشندہ کہانی کے اختتام کے بارے میں کئی منٹ تک سوچتی رہی۔ اس وقت کہانی کا انجام اسی کے ہاتھوں میں تھا۔ اس نے چاہا کہ وہ کہانی کا انجام یوں رکھے کہ لڑکی انعام کے پیسوں سے کنگن چھڑا لیتی ہے، مگر اس طرح کہانی میں تاثر پیدا نہ ہوتا اور اس کا امکان تھا کہ کہانی پر انعام نہ ملتا۔ کہانی کا اختتام یہ رکھ کر کہ ’’کنگن ڈوب جاتے ہیں‘‘ اس کا دل خود ڈوبا جا رہا تھا۔ کہانی اور کچھ نہیں اسی کی ـ زندگی کا واقعہ تھی۔ اگر واقعی ایسا ہی ہوا اور کنگن ڈوب گئے تو…؟‘‘

اس سے آگے وہ کچھ نہیں سوچ سکتی تھی، مگر اس نے دل کڑا کر کے کہانی ختم کر ہی ڈالی۔

’’یہ تو نری حماقت ہے، بھلا ایک کہانی کے انجام سے میری زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘

کہانی لکھنے میں کئی بار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ کہانی کا نام بہت سوچ بچار کر کے بعد اس نے ’’کہانی کا انجام‘‘ رکھا۔

دوسرے دن وہ کنگن لے کر ایک ساہوکار کے پاس پہنچی تو اس کا دل گھبرا رہا تھا، ہاتھ کا نپ رہے تھے، اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کنگن وہ کبھی بھی نہیں پہن سکے گی، اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں نمی سی گھل گئی۔

ساہو کار کنگن ہاتھ میں لے کر مسکرایا۔

’’کتنے روپیوں میں رکھ لیں گے آپ۔‘‘

وہ بڑی مہین اور کانپتی ہوئی آواز سے بولی، اس کی آواز میں حد درجے درد اور بے بسی بھری ہوئی تھی۔

’’ایسے قیمتی تو نہیں ہیں تمہارے کنگن، پھر بھی تمہارا کیا کہنا ہے۔‘‘

’’میں کیا کہوں گی بھلا، آپ ساہو کار ہیں، آپ ہی کو معلوم ہوگا بھاؤ، آپ ہی کہیے نا‘‘ پھر اسے خود ہی خیال آیا۔ جتنے زیادہ روپیوں میں رکھوں گی، چھڑاتے وقت اتنی ہی پریشانی ہوگی، بولی ’’پچاس میں رکھ سکتے ہیں آپ؟‘‘

ساہوکار مسکرایا۔

’’بس پچاس، مگر اتی کم کیمت تو نہیں ہے کنگنوں کی۔‘‘

’’لیکن مجھے پچاس کی ہی ضرورت ہے۔‘‘

’’مگر دیکھو بائی، ایک سرت ہے‘‘ وہ مکاری سے مسکرایا۔

’’ایسا لکھوا دینا ہوگا کہ تاریکھ مکررہ کے گجر جانے کے آدھ گھنٹے بعد بھی مال واپس نہیں ملے گا، اک دم ڈوب جائے گا۔‘‘

رات والی کہانی ایک دم اس کے دماغ میں گھوم گئی، وہ بڑی مشکل سے بول سکی۔

’’یہ تو بڑی زیادتی ہے آپ کی، کنگنوں کی قیمت کم از کم ڈیرھ دو سو پے ہے اور وہ بھی پہلے زمانے کی، آپ کل پچاس میں رکھیں گے اور وہ بھی اس شرط پر کہ مقررہ تاریخ سے آدھ گھنٹہ بھی زیادہ گزر گیا تو مال واپس نہیں کریں گے…‘‘

’’تو آپ اس سے جاستی میں رکھوایے نہیں تو دوسری جگہ جائیے، سب جگہ ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘

رخشندہ کھڑی سوچتی رہی۔ ڈوبنے کے خیال سے میں زیادہ میں رکھوا تو دوں گی، مگر پھر چھڑانے کے لیے پیسہ کہاں سے لاؤں گی اتنا۔۔ مگر دوسرے ہی لمحے وہ خود مسکرا پڑی ’’یہ کیا ضرورت ہے کہ میں مقررہ وقت سے آدھ گھنٹہ بعد ہی پہنچوں گی۔‘‘

اور اس نے کاغذ پر دستخط کر دیے۔

’’دو ماہ کی مدت پانچ روپے سود، دو عدد کنگن‘‘

ساہوکار نے پچاس روپے اس کے ہاتھ میں تھمائے تو اس کی پتلی پتلی انگلیاں، بری طرح کانپ رہی تھیں۔ دکان سے چلنے لگی تو اس کے قدم جیسے گڑ سے گئے، وہ پلٹی۔

’’ہاہا‘‘ اس کی آواز میں، اس کی بے بس روح کا سارا درد سمٹ آیا تھا۔

’’کیا ہے؟‘‘

ساہوکار کاغذ میں کنگن لپیٹتے لپیٹتے رک گیا۔

’’بابا‘‘ رخشندہ بڑی مشکل سے بول رہی تھی، بابا، وہ جو میں نے کنگن اور اس کی آواز گھٹ کر رہ گئی۔

’’ہاں ہاں، کنگن کو کیا ہوا؟‘‘

وہ گھبرا گیا۔

’’وہ کنگن ذرا ایک منٹ کے لیے مجھے دے دو، میں ذرا پہن کے دیکھ لوں۔‘‘

وہ ایک دم جلدی جلدی بول گئی۔

ساہوکار نے کنگن بڑھا دیے۔

رخشندہ نے کانپتے ہاتھوں سے کنگنوں کی کیلیں کھولیں، میز پر ہاتھ ٹکاکر پہلے اپنے سیدھے ہاتھ میں ایک کنگن پہن لیا، پھر دوسرے ہاتھ میں بھی پہن لیا اور کیلیں بند کرلیں۔ اس کے سوکھے پتلے پتلے ہاتھ جگمگا اٹھے۔

نانی اماں فضول ہی کہتی ہیں کہ کنگن بھری بھری اور گداز کلائیوں میں زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ میرے ان سانولے اور پتلے پتلے ہاتھوں میں کتنے پیارے لگ رہے ہیں یہ کنگن!

اک دم ٹپ سے دو آنسو اس کے ہاتھوں پر گر پڑے۔ گرم گرم اور چمک دار آنسو، نگینوں کی طرح چم چم چکتے ہوئے۔ وہ ایک لمحے میں یہ فیصلہ نہ کرسکی کہ اس کے آنسو زیادہ چمک رہے ہیں یا کنگنوں کے نگینے۔

دوسرے ہی لمحے اس نے کنگن اتار کر ساہوکار کی طرف بڑھا دیے ’’بابا، اب انہیں رکھ لو، میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی پوری ہوگئی۔‘‘

ساہوکار حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا۔

رخشندہ تیزی سے باہر نکل گئی۔

لیٹر بکس میں کہانی ڈراپ کرنے کے بعد بھی وہ تھوڑی دیر تک کھڑی رہی۔ ’’میرے خدا! میری کہانی پر مجھے ضرور انعام دلا دینا، میں نے آج اپنی مردہ ماں کی روح کو رہن رکھ دیا ہے۔ میں نے آج اپنا دل، اپنی ساری آرزوئیں رہن رکھ دی ہیں، صرف تیرے کرم کے سہارے میرے معبود، تو ہی تو ہم غریبوں کو پالنے والا ہے۔‘‘

رخشندہ اپنے کمرے میں بیٹھی حساب لگا رہی تھی۔

امتحان کی فیس ۲۶ روپے

پتلے ریشم کی سرخ ساڑھی ۱۴ روپے

انگوٹھی ۱۰ روپے

’’کہاں سے اتنی رقم مار لی، میری بٹونے، جو اتنا زور دار بجٹ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

ارشد اس کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا سا را حساب پڑھ چکا تھا۔

رخشندہ نے کاغذ اپنی گود میں چھپا لیا۔

’’بھیا، تم پھر مجھے چھیڑنے آگئے نا۔‘‘

ارشد ہنسا۔

’’سچ سچ بتادے، پھر نہیں چھیڑوں گا۔‘‘

’’میری کہانی پر انعام ملے گا! نا! اسی کا حساب ہے سارا۔‘‘

اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا، مگر دوسرے ہی لمحے ہنس پڑی۔

’’ہوں تو یہ بات ہے‘‘ ارشد ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا: ’’مگر محترمہ رخشندہ ترنم صاحبہ! آپ کو اتنا یقین کامل کیسے ہے کہ انعام آپ کی کہانی کے انتظار میں ہی بیٹھا ہے۔‘‘

’’میرا دل جو کہتا ہے۔‘‘

اس نے اپنی بری بڑی آنکھیں گھمائیں۔

’’اتنا یقین تو کرشن چندر کو بھی نہیں ہوسکتا، اپنی کہانی پر، مگر یہ تو بتائیے انعام ملے گا، دو ماہ بعد، تب تک فیس کا کیا بنے گا؟‘‘

رخشندہ فخر سے مسکرائی

’’فیس تو داخل ہوچکی ہے، جناب۔‘‘

’’وہ کیسے؟‘‘

ارشد حیران رہ گیا۔

’’امی کے کنگن رہن رکھوا دیے میں نے۔‘‘

’’امی کے کنگن رہن رکھوا دیے؟ اور مجھ سے پوچھا تک نہیں۔‘‘

’’رخشندہ کچھ نادم سی ہوگئی، ’’بھیا میں نے اسی لیے تو خود لے جاکر رکھ دیے کہ تم ضرور منع مکردیتے، مگر بھیا، تم پریشان نہ ہو پتا نہیں مجھے کیوں پوری امید ہے کہ مجھے کہانی پر ضرور انعام ملے گا۔‘‘

ارشد ہنس پڑا۔

’’بڑی حوصلے والی ہے ری، مگر محترمہ یہ انگوٹھیاں خریدنے کی کیوں سوجھ رہی ہے آپ کو، کہیں گڑبڑ۔‘‘

رخشندہ ہنس پڑی۔

’’بس، بس میں آپ کا مطلب سمجھ گئی، غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوئیے، کیا میں لڑکی نہیں ہوں ، کیا مجھے زیوروں کا شوق نہیں ہے، بھیا تم…!!

ارشد نے اس کی بات کاٹ دی۔ مجھے سب معلوم ہے، یہ آپ کی انگلیاں بہت نازک اور پتلی ہیں نا، اسی لیے زیادہ توجہ انگوٹھی کی طرف رہتی ہے، زیوروں کا ہی شوق ٹھہرا تو کیا آپ ایر رنگ نہیں خرید سکتیں، کیوں رشو بٹیا ہے نا یہی بات؟‘‘

’’گدھے ہو پورے تم۔‘‘

رخشندہ بات ٹال گئی۔

رات کو جب رخشندہ بستر پر لیٹی تو اس کے دماغ میں پھر کنگن گھومنے لگے، اپنے ہاتھ گھومنے لگے، وہ کنگن پہنے ہوئے ہاتھ، جو اس کے پاس ہوتے ہوئے بھی بہت دور تھے۔ کنگن کے نگینوں سے چمکتے ہوئے سانولے سانولے ہاتھ۔ لمبی لمبی خوب صورت انگلیوں والے ہاتھ، جو کنگن کا لمس صرف ایک لمحے کو محسوس کرسکے تھے۔

’’امی نے میرے ان ہاتھوں کے بارے میں کیا کیا نہ سوچا ہوگا۔ رشو جب بڑی ہوجائے گی، جب وہ دلہن بن جائے گی، جب اس کے ہاتھ مہندی سے سخ ہوجائیں گے، جب اس کی نازک انگلیوں میں انگوٹھیاں سجائی جائیں گی، اسی وقت اس کے ہاتھوں میں یہ کنگن ڈال دوں گی، سہاگ کی نشانی، میری بیٹی کا سہاگ، ان مضبوط کنگنوں کے سہارے امر ہوجائے گا۔ اپنے جگمگاتے کنگن پہنے ہوئے ہاتھوں سے وہ اپنے دولہا کو پان بنا کر دے گی اور۔‘‘

اس نے گھبرا کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا، سونے سونے ہاتھوں کو دیکھ کر اس کا دل رو اٹھا۔

’’امی، میں تمہاری روح سے شرمندہ ہوں، مگر صرف تھوڑے دنوں کی بات ہے۔‘‘

میری امی، میں تمہارے ارمان بھرے، مامتا بھرے تحفے کو یوں ہی نہیں کھودوں گی۔‘‘

رات بھر اسے خواب میں کنگن دکھائی دیتے رہے، چمکیلے رنگوں والے کنگن، سانولے سانولے ہاتھوں میں جھلکتے ہوئے کنگن، جس کے نگوں میں آنسوؤں جیسی جھلملاہٹ تھی۔

دونوں باتیں ایک ساتھ ہی ہوئیں۔ جس صبح کو بی اے کا نتیجہ شائع ہوا، اسی دن رخشندہ کو کہانی پر انعام کا منی آرڈر بھی آپہنچا، وہ بھاگی بھاگی ارشد کے پاس پہنچی، لاؤ بھیا تمہاری ناک کاٹوں، تم کہتے تھے نا کہ تجھے انعام نہیں مل سکتا۔‘‘

ارشد کچھ جھینپ سا گیا‘‘ ارے یہ انعام دینے والے بھی بڑے گھاگ ہوتے ہیں، دیکھا کہ کسی لڑکی نے کہانی بھیجی ہے تو جھٹ انعام دے دیا۔ یہ بھی نہ دیکھا ہوگا کہ کہانی کیسی ہے۔

ہے بھی اس لائق یا۔۔۔۔۔

میری کہانی ایسی تھی کہ انعام پاتی؟‘‘

رخشندہ کچھ روٹھ سی گئی ’’تعریف تو کبھی جھوٹے منہ نہیں کرتے، الٹا جل رہے ہو مجھ سے۔‘‘

’’ارے بابا، میں جل ول نہیں رہا تجھ سے۔ پہلے جا کے کنگن چھڑالا، پھر ناک کاٹنا میری اور جھگڑتی رہنا۔‘‘

’’کنگن تو خیر لاؤں گی ہی، مگریہ بتاؤ آتے آتے کیا لاؤں تمہارے لیے۔‘‘

’’کیوں پیسے بہت ہیں، کیا؟‘‘

ارشد مسکرایا۔

’’پھر اور کیا سمجھتے ہو تم، آج تو خوب امیر ہوگئی ہوں میں۔‘‘

’’مجھے کچھ نہیں چاہیے بھئی، بس اپنی بہن کے ہاتھوں میں سہاگ۔‘‘

رخشندہ بری طرح شرما گئی۔ اس کے سانولے چہرے پر شرم کی لالی بکھر گئی۔ مجھے معلوم ہے تم کیا کہنے والے ہو، اور وہ بھاگ کھڑی ہوئی۔

دفتر سے انعام کی رقم وصول کر کے رخشندہ جلدی جلدی ساہوکار کے گھر پہنچی۔ خوشی کے مارے اس کے قدم زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ خوشی کا دن ہی تھا، ہفتوں اور مہینوں کے خواب پورے ہونے کا لمحہ آیا تھا، اور سب سے بڑی بات، کنگن بھی چھوٹنے والے تھے۔

’’یہ لیجیے آپ کے پچاس روپے اور پانچ روپے سود کے، وہ پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان بولی۔

ساہوکارنے اسے غور سے دیکھا، کیسے روپے؟‘‘

وہ اس کا جملہ دہرا گئی۔

ارے بھئی۔ میرے کنگن کے روپے۔ میرا نام رخشندہ ترنم ہے۔ میں نے دو ماہ پہلے اپنے کنگن نہیں رکھوائے تھے؟‘‘

وہ جلدی جلدی بول گئی۔

’’اچھا وہ کنگن، مگر ان کی تو تاریکھ ٹل چکی ہے، آپ کو کل ہی لے کر چلے جانا چاہیے تھا۔‘‘

رخشندہ کے ہاتھوں سے نوٹ چھوٹ کر زمین پر گر پڑے ’’کہانی کا انجام‘‘ پورا ہوچکا تھا!lll

شیئر کیجیے
Default image
واجدہ تبسم

Leave a Reply