والدین کے ساتھ اچھا سلوک

والدین کی خوشی اللہ کو خوش کرنے اور جنت میں لے جانے والی ہے۔ انہیں کیسے راضی رکھا جائے۔ اس سلسلہ میں لوگوں کے بے شمار واقعات ہے۔ یہ حسن سلوک ہم اکابر صحابہ، تابعین اور اہم شخصیات کی زندگی کے واقعات سے سیکھ سکتے ہیں۔

ربوبیتِ الٰہی کے ساتھ اطاعت والدین کے تقاضے پورے کرنا ہمارے دین اسلام کا اہم حصہ ہے۔ اللہ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرا درجہ والدین سے حسن سلوک کو دیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: ’’اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘(النساء)

والدین جب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو اس وقت وہ زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں کیوں کہ بوڑھے والدین کمزور، لاچار اور بے بس ہوتے ہیں۔ یہ عمر کا ایک تقاضا ہے جب کہ جوان اولاد معاش اور دنیاوی آسائشوں کے حصول میں مصروف ہوتی ہے، اس نازک مرحلے میں خدا تعالیٰ ہماری راہ نمائی فرماتے ہیں۔

ترجمہ: ’’اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا وہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کرنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ بات چیت کرنا۔‘‘ (بنی اسرائیل)۔

اسلامی تاریخ سے ہمیں بے شمار واقعات ملتے ہیں جو ہمارے لیے والدین سے حسن سلوک کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ایک بار ابو موسیٰ اشعریؓ اور سیدنا ابو عامرؓ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور آپﷺ سے بیعت کی چناں چہ آپﷺ نے ان سے دریافت فرمایا:

ترجمہ: ’’تمہارے قافلے میں ایک خاتون تھی جسے فلاں نام سے پکارا جاتا تھا، اس کا کیا حال ہے؟‘‘

انھوں نے عرض کیا:

ہم اس خاتون کو اس کے خاندان والوں کے پاس چھوڑ چکے ہیں۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واقعہ یہ ہے کہ اس کی مغفرت ہوگئی ہے۔

انھوں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ ! آخر کس وجہ سے اس کی مغفرت ہوگئی؟

آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ماں کے ساتھ اس کے حسن سلوک کی بنا پر۔‘‘

پھر آپﷺ نے فرمایا:

ترجمہ: ’’اس کی ماں بہت بوڑھی تھی، ایک منادی کرنے والے نے اس قوم میں آواز لگائی کہ دشمن تم پر آج رات حملہ کرنے والے ہیں پس وہ اپنی بوڑھی ماں کو پیٹھ پر لاد کر نکل گئی۔ جب وہ تھک کر چور ہو جاتی تو اپنی ماں کو نیچے بٹھا دیتی اور اس پر اپنا سایہ کر دیتی۔ اپنی ماں کے پیروں تلے اپنے دونوں پیر رکھ دیتی تاکہ اس کے پاؤں شدید گرمی سے جھلس نہ جائیں وہ عورت اپنے اس عمل کی وجہ سے نجات پاگئی۔ (شعب الایمان)

٭ حضرت اویس بن عامر قرنیؓ کو یہ مقام و مرتبہ ملا کہ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کو ان سے دعائے مغفرت کرانے کا حکم دیا۔ (صحیح مسلم)

اور یہ مقام انہیں اس لیے عطا ہوا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔ جو شخص اپنے والدین کی بہترین خدمت کرنے والا ہوتا ہے، اس کی دعائیں بھی جلد قبول ہوتی ہیں۔ ہم میں کون شخص ہے جو لمبی عمر کا خواہش مند نہ ہو؟ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے رزق میں برکت رہے، اس کی عمر لمبی ہو، اللہ کے رسول ﷺ نے اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہمیں آسان فارمولا بتایا ہے اور وہ آسان فارمولا یہ ہے کہ:

٭جس کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی اور اس کا رزق بڑھا دیا جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے والدین کی اطاعت اور فرماں برداری اور صلہ رحمی کرے۔

والدین کی خدمت کرنا ’’جہاد‘‘ کے برابر ثواب حاصل کرنا ہے۔

٭ ایک شخص سرکار دو عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی۔ آپﷺ نے فرمایا:

’’کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟‘‘

اس نے عرض کیا: ’’جی ہاں۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا:

’’ان دونوں کی (خدمت) ہی تیرا جہاد ہے۔‘‘ (ترمذی)

٭ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نبی کی تعریف ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے:

’’وہ اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش اور گناہ گار نہ تھا۔‘‘ (مریم)

سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی صفات کے بارے میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ اپنے والدین کے نہایت فرماں بردار تھے۔

٭ سیدنا زین العابدین علیؓ بن حسینؓ کا تذکرہ ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ آپ اپنی والدہ سے بے حد عزت و احترام اور محبت سے پیش آتے۔ ایک بار ایک شخص نے آپ سے سوال کیا:

آپ اپنی والدہ کے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اپنی والدہ کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

حضرت زین العابدینؓ علی بن حسینؓ نے فرمایا:

کہ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں میرا ہاتھ (کھانے کی پلیٹ سے) وہ چیز پہلے نہ اٹھالے، جسے میری والدہ نے میرے اٹھانے سے پہلے دیکھ لیا ہو اور وہ اسے کھانا چاہتی ہوں، اس لیے میں اپنی والدہ کے ساتھ کھانا نہیں کھاتا کہ اگر میں وہ چیز پہلے اٹھالوں جسے میری والدہ کھانا چاہتی ہوں تو اس طرح میں اُن کا نافرمان نہ ٹھہر جاؤں۔ (شذرات الذہب)۔

٭ محمد بن سیرین مشہور و معروف تابعی ہیں۔ آپ سیدنا انسؓ بن مالک کے غلام بھی تھے۔ ان کی بہن بیان کرتی ہیں کہ محمد بن سیرینؓ جب اپنی ماں کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اُن کے احترام اور تواضع کی خاطر اپنی زبان بھی نہیں کھولتے تھے۔ (وفیات الاعیان)

٭ حیوۃؒ بن شریح مشہور تابعی تھے، آپ درس و تدریس میں مشغول رہتے۔ آپ کے پاس شاگردوں کا جم غفیر ہوتا۔ وہ کاغذ قلم ہاتھ میں لیے ان کی باتوں کو نوٹ کر رہے ہوتے۔ ایک بار آپ کی والدہ نے درس و تدریس کے دوران مسجدمیں آکر کہا:

’’اٹھو اور مرغی کو دانہ ڈال آؤ۔‘‘

چناں چہ آپ اپنی والدہ کے حکم پر درس و تدریس چھوڑ کر مرغی کو دانہ ڈالنے چلے گئے، بعد ازاں واپس آکر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔

٭ لقمان حکیم نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے کہا کہ جنت سے کوئی چیز لاؤ۔ وہ جلدی سے گئے اور مٹھی بھر مٹی لے آئے۔ عرض کیا ابا جان! یہ جنت کی مٹی ہے۔

لقمان حکیم نے پوچھا: یہ کہاں سے لائے ہو؟ یہ جنت کی مٹی کیسے ہوگئی؟

جواب دیا! ابا جان!

یہ میں اپنی والدہ کے قدموں سے لایا ہوں۔

آج کے مسلم نوجوان ان تاریخی اور اسلامی واقعات سے سبق لیں اور اپنے اسلاف کا مبارک عمل اپنانے کی بھرپور کوشش کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
؟؟؟

Leave a Reply