لفافہ

حجاب کے نام

حجاب سے تعلق

حجاب سے تعلق اتنا گہرا اور قلبی بن گیا ہے کہ اس سے دوری اب گراں گزرتی ہے۔ کچھ اسباب کی بنا پر کافی دنوں سے حجاب سے تھوڑی دوری ہوگئی تھی جو بہت گراں گزری لیکن جیسے ہی ستمبر کا تازہ شمارہ ہاتھوں میں آیا یوں محسوس ہوا جیسے میرا قیمتی اثاثہ مل گیا ہو۔

خوب صورت ٹائٹل کیساتھ اس سے وابستہ اندر کے سارے مضامین نے اس کی دلکشی میں اضافہ کر دیا۔

اداریہ میں بعد طلاق کے سلسلے میں قرآنی احکام انشاء اللہ معاشرے کے لیے نہایت موثر و مفید ثابت ہوں گے۔ مسلم معاشرے میں بیک وقت تین طلاق کا عمل نہایت افسوس ناک طرزِ عمل ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو اس غلط روش اور غفلت سے بیدار کردے جس نے کتنے خاندانوں کو منتشر اور کتنے رشتوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔

’’معاشرتی مسائل‘‘ اور ’’تزکیہ و تربیت‘‘ ان دونوں کالم کے مضامین دل کو چھو دینے والے ہیں۔ مصروفیت کے اس دور میں ضعیف والدین کو سنبھالنا واقعی ایک المیہ بن چکا ہے۔ حالاں کہ ہم میں اکثر و بیشتر لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ والدین کا مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے، جنت ماں کے قدموں تلے ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر پھر بھی دل والدین کے حقوق ادا کرنے کے قائل نہیں ہوتے۔ خدائے برتر کی ذات سے امید ہے کہ حجاب کے ذریعے قرآن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کو صحیح معلومات اور بہت سے معاشرتی مسائل کے سلسلے میں رہ نمائی حاصل ہوگی۔ آمین

جلیلہ اقبال شیرازی

کولکاتہ (بذریعہ: ای-میل)

صنفی تقسیم

حجاب اسلامی کا تازہ شمارہ اچھا لگا۔ صنفی تقسیم کیسے ختم ہو؟ بہت اچھا مضمون ہے اور والدین کے لیے رہ نما بھی۔ دراصل ہم جو کچھ ہوتے ہیں ہمارے بچے بھی وہی ہوتے ہیں۔ اگر والدین اپنے گھر میں ایسا ماحول بنا کر مثال بچے کے سامنے پیش کریں گے تبھی سماج سے صنفی تقسیم کا صفایا ہوسکے گا۔

’’اولاد کی تربیت محبت سے‘‘ بہت پسند آیا۔

نصرت جہاں درانی

موتیا پارک، بھوپال (بذریعہ: ای-میل)

آج کی عورت

ماہ نامہ اسلامی کا تازہ شمارہ ہاتھوں میں ہے۔ ستمبر کا یہ شمارہ کافی پسند آیا۔ اس کے موضوعات اور مضامین اچھے لگے۔ عورت کا کردار، میاں بیوی کے اختلافات اور بچے اور ماں باپ سے متعلق مضامین پسند آئے۔ گھریلو بزنس اور خواتین بھی اچھا مضمون ہے۔ عام طو رپر لوگ خواتین کے لیے روزگار کی مخالفت کرتے ہیں۔ مگر غریب اور بے سہارا خواتین کیا کریں۔ کیسے باعزت طریقے سے روزی کمائیں یہ سماجی مسئلہ ہے۔ اس لیے ان کی رہ نمائی ضروری ہے۔ یہ رہ نمائی معاشرے کی ہے کہ لوگ جہاں ضرورت محسوس کریں اس کا استعمال کریں۔

اس شمارے میں قمر جہاں صاحبہ کا افسانہ ’’آج کی عورت‘‘ دل کو چھو گیا۔ کتنی بے چاری اور مجبور کردی گئی ہے آج کی عورت؟ حیرت ہے کہ لوگ مساوات کی بات کرتے ہیں۔ مساوات ہے کہاں؟ یہ تو عورت کے ساتھ ظلم ہے، زیادتی ہے کہ وہ نوکری کرے۔ افسانہ کئی بار پڑھا۔ ہر بار ایسا لگا جیسے کوئی کوڑے مار رہا ہو۔lll

مسیح الرحمن فیضی

ارے ہلی

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply