ایک سبق 

اک دن کا ہے قصہ کوئی مجبور ضعیفہ

غربت کی ستائی ہوی افلاس کی ماری

چل کر پڑی مشکل سے چھڑی کے وہ سہارے

سودے کے لیے آئی تھی بازار بچاری

پھسلن تھی بڑی راہ میں، برسات کے دن تھے

ایسے میں کہ چلنا تھا ہر اک شخص کو بھاری

تھم تھم، بہت آہستہ قدم بچ کے، سنبھل کے

اک سمت رواں تھی وہ ضعیفہ تھکی ہاری

آنکلی ادھر اتنے میں اک شوخ سی لڑکی

فیشن کی مرقع ولے تہذیب سے عاری

گزری وہ مٹکتی ہوئی، دیتی ہوئی دھکے

ڈوبی ہوئی نخوت میں وہ عشرت کی پجاری

ٹکّر جو ضعیفہ کو لگی، آئی زمیں پر

سودا ہوا چوپٹ تو لگی چوٹ کراری

اس حال پہ گو آئے چھلک آنکھ میں آنسو

پر کر کے بہت ضبط وہ نادار پکاری

ٹھہرو! کہ اے بے بی، رکھو پیچھے کی خبر بھی

لوٹو! کہ یہاں رہ گئی اک چیز تمہاری

لڑکی نے کہا لوٹ کے کیا چیز بڑی بی؟

بولی یہ ضعیفہ ’’ارے تہذیب تمہاری‘‘

شیئر کیجیے
Default image
کوثر اعظمی

Leave a Reply