BOOST

ہائی بلڈ پریشر اور ڈیش ڈائٹ

ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ بڑی خاموشی سے انسان کو ناقص یا ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یہ بیماری کسی بھی فرد کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا مریض برسوں تک کوئی پریشانی یا علامات محسوس نہیں کرتے۔ کسی وقت اچانک کسی وجہ سے جب وہ اپنا بلڈ پریشر چیک کرواتے ہیں تو ان پر یہ راز عیاں ہوتا ہے کہ نہ جانے کب سے ایک خاموش قاتل ان کا پیچھا کر رہا ہے اور وہ بے خبری کے عالم میں زندگی کی شاہراہ پر رواں دواں ہیں۔ وہ پریشانی کے عالم میں کسی دوا فروش سے دوائیاں خرید کر اپنے ’’پریشر‘‘ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف دوائیں لینے سے ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں لایا جاسکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ محلے کے بزرگ، نقلی پیر فقیر، دوا فروش، لوکل ڈاکٹر، نیم حکیم وغیرہ پرہیز کے نام پر انہیں گمراہ کرتے ہیں اور انہیں صرف ادویات استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے صرف ادویات کا استعمال کافی نہیں بلکہ کئی اور باتوں پر بھی عمل کرنا لازمی ہے۔ ان میں ڈیش ڈائیٹ ایک ایسا غذائی پلان ہے جس پر عمل پیرا ہوکر ہائی بلڈ پریشر کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مناسب و معتدل تغذیہ اور ہائی بلڈ پریشر کا آپس میں گہرا ربط ہے۔

حالیہ تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایک مخصوص غذا کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کو کم کیا جاسکتا ہیـ۔ یہ مخصوص غذائی پلان اُن لوگوں کے لیے بے حد مفید ہے جن کا بلڈ پریشر نارمل سے زیادہ ہو۔ علاوہ ازیں یہ غذائی پلان ’’قلب دوست‘‘ بھی ہے، یعنی دل کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے بھی سود مند ہے۔ عام خیال کے برعکس بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ (120/80 ملی میٹر مرکری سے 130/90 ملی میٹر مرکری) بھی صحت کے لیے مضر ہے۔ بلڈ پریشر جتنا بڑھتا جائے انسانی جسم کے لیے اتنی ہی پریشانیاں بڑھتی جاتی ہیں۔

ماضی میں محققین اور سائنس دانوں نے ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے مریضوں میں جدا جدا نمکیات و معدنیات آزمائے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون سی اشیائے خوردنی ہائی بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان تحقیقات میں مختلف ’’فوڈ سپلیمنٹس‘‘ کا استعمال کیا گیا مگر کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ امریکہ کے نیشنل کنگ ہارٹ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ میںڈاکٹروں نے تحقیق کی جس میں مختلف غذاؤں میں پائے جانے والے مخصوص اجزاء کا براہِ راست استعمال کیا گیا اور انتہائی حیران کن نتائج سامنے آئے۔ سائنسی تحقیق ڈیش (یعنی غذائی ذریعے یا وسیلے سے ہائی بلڈپریشر کو قابو کرنا) سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایک ایسی غذا جس میں سچوریٹڈ چربی اور کولیسٹرول بہت کم، مگر تازہ سبزیاں اور میوہ جات (تازہ اور خشک) زیادہ ہوں، کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کو بڑی آسانی سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اس مخصوص غذائی پلان میں میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلشیم کے علاوہ پروٹین اور ریشہ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ڈیش غذائی پلان میں روزانہ صرف تین گرام سوڈیم (نمک) استعمال کرنے کی اجازت ہے یعنی تقریباً ۲۰ فیصد اس تناسب سے کم جو ایک عام امریکی استعمال کرتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تازہ سبزیاں اور میوہ جات والے غذائی پلان پر پوری طرح عمل کرنے سے مریضوں کے ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں کمی ہوگئی۔ ڈیش ڈائیٹ سے اوسطاً چھ ملی میٹر مرکری سیسٹولک اور تین ملی میٹر ڈایسٹولک بلڈ پریشر کم ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیش ڈائیٹ پلان شروع کرنے کے صرف دو ہفتوں میں ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

ڈیش ڈائیٹ پلان پر عمل کرنے سے آپ کا طرزِ خورد و نوش بدل جائے گا۔ ایک دن میں کتنی بار غذا کھائیں گے اس کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آپ کو کتنے حرارے (کیلوریز) درکا رہیں، آپ کا وزن کتنا ہے، آپ کام کیاکرتے ہیں اور آپ کتنی فعال زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ کو روزانہ کئی بار سالم اناج سبزیاں، تازہ اور خشک میوہ جات کھانے ہیں، شاید یہ آپ کی عادت نہ تھی۔ ڈیش ڈائیٹ سے آپ کی غذا میں ریشہ کا کئی گنا اضافہ ہوگا، جس سے آپ ڈکار، بدہضمی، ریاح (پیٹ میں گیس) یا اسہال جیسے علامات محسوس کریں گے۔ ان علامات سے بچنے کے لیے آپ ڈیش ڈائیٹ کی عادت ڈالنے کے لیے اس پر دھیرے دھیرے عمل کریں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا نظام ہاضمہ ڈیش ڈائیٹ کے ساتھ دوستی کرے گا اور آپ کسی بھی قسم کی بے آرامی محسوس نہیں کریں گے۔

ڈیش ڈائیٹ ان تمام غذائی اجزا سے مالا مال ہے، جو ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ غذائی اجزا کی تعداد اس بات پر منحصر ہے کہ آپ دن بھر کتنا کھائیں گے۔ اگر آپ دن میں تقریباً دو ہزار حرارے (کلوریز) لیتے ہیں تو آپ کو درج ذیل غذائی اجزا مختلف مقدار میں میسر ہوں گے۔

پوٹاشیم 4700 ملی گرا، میگنیشیم 500 ملی گرام، کیلشیم 1240 ملی گرام۔ یہ مقدار اس سے تین چار گنا زیادہ ہے جو ایک عام انسان لیتا ہے۔ ڈیش ڈائیٹ پلان پر عمل کرنا بالکل آسان ہے، اس میں کسی ’’خاص قسم کی غذاؤں‘‘ کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی پکاتے وقت مخصوص اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ صرف یہ دیکھئے کہ آپ کی روزانہ عادت کیا ہے اور پھر اس میں چارٹ کے حساب سے دھیرے دھیرے تغیر و تبدیلی کرتے جائیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کو خود بخود پتا چل جائے گا کہ آپ کو کیا کھانا ہے؟ کچھ دنوں تک آپ کو عجیب سا لگے گا اور آپ کچھ چیزیں دوسری چیزوں سے زیادہ یا کم مقدار میں کھائیں گے۔ گھبرائیے نہیں، صرف یہ خیال رکھیے کہ ایک ہفتے میں چارٹ کے حساب سے غذا کی مقررہ مقدار ملتی ہے یا نہیں اور ہاں اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے دوائوں کا استعمال کر رہے ہیں تو انہیں کسی بھی صورت میں ترک نہ کریں۔ اگر ایسا کرنا چاہیں تو اپنے معالج سے مشورہ کریں۔ ڈیش ڈائیٹ پر عمل کرنے کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے روزانہ باقاعدہ ورزش اور عبادت کریں۔

٭ سگریٹ و تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔

٭ اپنا وزن عمر اور قد کے حساب سے اعتدال میں رکھیں۔ وزن زیادہ ہو تو اسے کم کریں۔

٭ نمک اور میٹھے کا کم استعمال کریں۔

٭ ذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریں۔

٭ خون میں چربی (کولیسٹرول اور ٹرائی گلسرائیڈ) کی سطح نارمل حدود میں رکھنے کی کوشش کریں۔

٭ خون میں شکر کی سطح کو اعتدال میں رکھیں۔ اور

٭ ایک مرتب، منظم، پاکیزہ اور فعال طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مشتاق نذیر

تبصرہ کیجیے