خبر دار!ماں کی بے جا دخل اندازی …

غضب خدا کا، خبردار جو اپنی تنخواہ میاں کے ہاتھ پر رکھی۔‘‘

’’لیکن اماں! وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے بھی کچھ رقم پس انداز کی ہے، کچھ تمہاری تنخواہ سے ایک بڑی کمیٹی ڈال رہے ہیں، دوسری کمیٹی مل جائے گی، اس طرح اپنا مکان بن جائے گا۔‘‘

’’تم تو سدا کی بے وقوف ہو، اب کوئی اور بے وقوفی مت کرنا۔‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے اماں، میں چلتی ہوں، مجھے رات کے لیے کھانا بھی بنانا ہے۔ آپ کو تو پتا ہے، عزیز آتے ہی کھانا مانگتے ہیں، اگر کھانا وقت پر تیار نہ ہو تو ناراض ہو جاتے ہیں۔‘‘

’’توبہ ہے، بیٹھی رہو۔ تم نے تو شوہر کو سر پر چڑھا رکھا ہے۔ ہفتے میں ایک آدھ بار چھٹی بھی کرلیا کرو، خود ہی صاحب بہادر بازار سے تیا رکھانا لے آئیں گے۔ آدھا دن نوکری میں سر کھپاتی ہو اور آدھا دن گھر کے کام دھندوں میں۔ دیکھو تو سہی کیسی کمھلا گئی ہو۔‘‘

ماں بہنوں کی اس روز روز کی دخل اندازی کو آخر رنگ تو دکھانا ہی تھا، لہٰذا عالیہ اب اکثر گھر سے زیادہ وقت باہر گزارنے لگی۔ عزیز شام ڈھلے گھر میں داخل ہوتا تو اکثر عالیہ کو غیر حاضر پاتا اور گھر ایک کباڑ خانے کے مانند ملتا۔ اگر عالیہ سے شکایت کرتا تو وہ ایک کی دو سنانے کے لیے تیار۔ روز بروز دونوں میں کشیدگی بڑھتی گئی۔ عزیز پڑھا لکھا، سمجھ دار شخص تھا، سمجھ گیا کہ اس سارے المیے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ بارہا اس نے بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ تو کسی صورت ماں اور بہنوں کے خلاف سننے کو تیار نہیں تھی، بلکہ اب تو اکثر یہ ہونے لگا کہ وہ لڑ جھگڑ کر دو تین دن کے لیے ماں کے پاس آجاتی۔

اس مرتبہ تو وہ روٹھ کر ایک ہفتے سے ماں کے گھر بیٹھی تھی۔ اسکول کی بھی چھٹیاں تھیں۔ عزیز نے دو تین مرتبہ اسے فون کرنے کی کوشش کی لیکن عالیہ کو ماں جھڑک دیتی کہ زیادہ لفٹ نہ دو، خود ہی راہِ راست پر آجائیگا، نہ بھی آئے تو تم خود کماتی ہو، خود کو اور اپنے بیٹے کو پال سکتی ہو آسانی سے۔ بے کار میں اس کی چاکری کیوں کرو! ایک دن اماں کی غیر موجودگی میں عزیز کا فون آگیا، مجبوراً اس نے اٹھایا۔

’’ہیلو کون…؟‘‘

’’عزیز…‘‘

’’بولیں کیا کہنا چاہتے ہیں۔‘‘

’’شکر ہے تم سے بات تو ہوئی۔ مسلسل فون کر رہا ہوں لیکن تم …خیر ان باتوں کو چھوڑو، میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’کیوں خیریت؟‘‘

’’ بھئی تمہارا شوہر ہوں، کیا میرا حق نہیں ہے کہ تم سے مل سکوں یا بات کرسکوں! ویسے بھی میں ان جھگڑوں سے تنگ آگیا ہوں، ہماری شادی کو چار سال ہوگئے ہیں، آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا! ہمیں کوئی ایک فیصلہ کرنا ہوگا۔ ہمارا بیٹا بڑا ہو رہا ہے، اس کی زندگی پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس لیے آر یا پار آخر کوئی فیصلہ تو ہو جانا چاہیے۔‘‘

’’اچھا میں اماں سے پوچھ کر بتاؤں گی۔‘‘

’’اماں سے پوچھ کر … (غصے میں) یہ خاص تمہاری اور میری زندگی کا فیصلہ ہے۔ اماں کا اس میں کیا کام! اور ہاں سنو میں تمہارا انتظار کروں گا، صرف تمہارا۔ تم اس ریسٹورینٹ میں پہنچ جانا اکیلی۔‘‘

’’ارے عالیہ یہ سب کہاں گئے؟ تم گھر میں اکیلی ہو کیا؟ کتنی دیر سے دروازے کی گھنٹی بجاتی رہی ہوں، اب تو واپس جا رہی تھی۔اور یہ کیا، کہاں کھوئی ہوئی ہو؟ چہرے پر بارہ بج رہے ہیں۔ ٹھیک تو ہے سب! ایک ہفتے سے یہاں ہو، کیا عزیز لینے نہیں آئے؟

اسی نے فون کیا تھا، بلایا ہے مجھے، بات کرنا چاہتا ہے۔‘‘

’’واؤ… تو چلی جاؤناں۔‘‘

’’اکیلے بلایا ہے…‘‘

’’تو اس میں کیا خرابی ہے وہ تمہارا شوہر ہے۔آخر تم نے کیا جواب دیا؟‘‘

’’ہاں دیکھتی ہوں، اماں اور آپا سے پوچھ کر جواب دوں گی۔‘‘

’’ایک بات کہوں عالیہ، برا تو نہیںمانوگی؟‘‘

’’ہاں… ہاں بولیں بھابھی۔‘‘

’’دیکھو میری بہن، تم خود سمجھ دار اور پڑھی لکھی ہو۔ سوچ سمجھ کر خود فیصلہ کرو کہ تم کیا چاہتی ہو۔ کسی کی دخل اندازی …! میرا مطلب ہے ہر مرد چاہتا ہے کہ وہ گھر میں داخل ہو تو اسے ہر شے پرفیکٹ ملے، گھر بھی صاف ستھرا ہو، کھانا بھی وقت پر ملے۔ یعنی وہ اپنے گھر کو جنت بنانا اور دیکھنا چاہتا ہے۔ عزیز بھائی اتنے برے نہیں ہیں، تم سے زیادتی نہیں کر رہے، یہ تو ان کا حق ہے۔ ہاں تھوڑے غصیلی اور جذباتی طبیعت کے ہیں۔ وہ جو چاہتے ہیں یہ ان کا جائز حق ہے۔ تمہارے اپنے بھائی بھی بیویوں سے یہی توقعات رکھتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ طلاق یافتہ عورت کی اس معاشرے میں کوئی عزت نہیں۔ چاہے عورت کا قصور ہو یا مرد کا، یہ معاشرہ عورت کو ہی موردِ الزام ٹھیراتا ہے۔ میری بات کا برا نہ ماننا۔ اپنا گھر اجڑنے سے بچالو۔ گھر بنتے بڑی محنت سے ہیں لیکن ٹوٹتے دیر نہیں لگتی۔ اس لیے میری مانو تو عزیز بھائی سے اکیلے ہی ملنے چلی جاؤ، اللہ بہتر کرے گا۔‘‘

ماں باپ، بہن بھائی دشمنی کی بنا پر نہیں بلکہ ناسمجھی یا بیٹی سے ہمدردی میں اس کی شادی شدہ زندگی میں دخل اندازی کرتے رہتے ہیں جس کے نتائج بعض اوقات بڑے تلخ نکلتے ہیں۔

بچی پرایا دھن ہوتی ہے۔ والدین دیکھ بھال کر اور توکل خدا پر اسے اپنے گھر سے رخصت کرتے ہیں۔ بیٹی کے سکھی رہنے کی تمنا تمام والدین کی دلی آرزو ہوتی ہے۔ لیکن عموماً دیکھا گیا ہے ۷۰، ۸۰ فیصد لڑکیوں کو شادی کے بعد کچھ نہ کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کہیں کم۔ نئے گھر اور نئے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالنا، شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کے رویوں کو پرکھنا، ان کو سمجھنا، پھر ان سے سمجھوتا کرنا میں وقت لگ جاتا ہے۔ یہ وقت لڑکی کے لیے بڑا صبر آزما اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ہر چیز اس کی امید اور پسند کے مطابق نہیں ہوتی۔ غریب کی بیٹی ہو یا امیر کی، ماں باپ کے گھر میں اسے جو لاڈ پیار میسر ہوتا ہے وہ ضروری نہیں کہ سسرال میں بھی میسر ہو۔ لہٰذا اکثر لڑکیاں اس صورت حال سے دل برداشتہ ہوکر ماں بہنوں سے شیئر کرتی ہیں۔ اس نازک موقع پر سمجھ دار اور تعلیم یافتہ مائیں تو اطمینان اور تحمل سے بیٹی کی باتیں سنتی ہیں اور بیٹی کو بھی بڑے تحمل اور ٹھنڈے دماغ سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ آہستہ آہستہ سب صحیح ہوجائے گا، اور نیک اور مفید مشوروں سے نوازتی ہیں۔ ایسے مشورے اور نصیحتیں جو اس کی گھریلو اور ازدواجی زندگی پر منفی اثرات مرتب نہ کریں۔ وقتی طور پر ہوسکتا ہے کہ کچھ بیٹیاں ماؤں کے اس رویے کو پسند نہ کریں کہ شاید ہماری ماں ہم سے محبت اور الفت نہیں رکھتی۔لیکن ایسا نہیں ہوتا، ماں تو ٹھنڈی چھاؤں ہوتی ہے۔ وہ بیٹی کے لیے ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں کی تمنا رکھتی ہیں۔ ماں کا ایسا برد بار رویہ آگے چل کر بیٹی کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ مجھے میری ایک عزیز دوست نے بتایا کہ ’’شادی کے بعد میرے گھریلو حالات (سسرال میں) بڑے اذیت ناک تھے جنہیں یاد کر کے آج بھی میری آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں۔ بس یوں جانیے کہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے والدین کے گھرواپس آنا چاہتی تھی، والدین اور بہن بھائیوں کا ساتھ اس حد تک تھا کہ برداشت کرو، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اکثر نوبیاہتا لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، اور اس وقت میں سوچتی تھی کہ یہ سب کتنے بے حس ہیں جنہیں میری تکلیف کا ذرہ بھر احساس نہیں کیا! یہ میرے سگے بھی ہیں یا نہیں! الحمد للہ دو دہائیاں گزرنے کے بعد آج مجھے یہ احساس ہوچکا ہے کہ وہ درست تھے۔ آج میں ایک خوش و خرم اور آسودہ زندگی گزار رہی ہوں۔ اس میں میرے گھر والوں کی سمجھ داری اور دور اندیشی کا بڑا عمل دخل ہے۔‘‘

اس کے برعکس ہمارے اس معاشرے میں کچھ ماں بہنیں ناسمجھی یا نادانی میں بیٹی کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے بھڑکاتی ہیں اور نئے نئے حربے استعمال کرنے کی تاکید کرتی ہیں، خاص طور پر میڈیا پر چلنے والے سازشی ڈراموں سے متاثر ہوکر بیٹیوں کو نت نئے تیرو نشتر سے آراستہ کرتی رہتی ہیں، جس سے معمولی چنگاری شعلہ بن کر بھڑکتی ہے اور بیٹی کا گھر اور شوہر متاثر ہوتے ہیں۔ میں نے ایک خاتون کو اپنی چھوٹی بہن کو مشورہ دیتے ہوئے سنا کہ ’’خبردار جو کچن میں گھس کر ساس کو مزیدار کھانے پکا کر کھلائے، میری طرح کچن میں ہی جلتی رہوگی، سیدھی طرح کہنا مجھے پکانا ہی نہیں آتا، جب پکانا آجائے گا تو خود ہی پکاؤں گی۔‘‘ اس خاتون کی بات سن کر میرے کانوں میں مرحومہ والدہ کا یادگار جملہ گونجنے لگا۔ وہ مجھے دلچسپی سے لذیذ کھانا بنانے کی تلقین کرتیں اور کہتیں کہ ’’خدا تمہیں اپنے گھر کا کچن نصیب کرے‘‘ اور اسی بات کو ہم بہنوں نے پلو میں باندھا۔

ایک صاحبہ کو اپنی بیٹی سے جو امید سے تھی، یہ کہتے سنا کہ ’’چال دھیمی اور ڈھیلی رکھنا اور ساس اور شوہر کو یہ تاثر دینا کہ طبیعت بہت خراب ہے اور ڈاکٹر نے مکمل آرام کاکہا ہے۔‘‘ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ساس بے چاری سارے گھر کو سنبھالتی اور تینوں وقت کا کھانا بھی بناتی۔ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتیں بیٹی کا گھر خراب کرتی ہیں اور مدمقابل چاہے کتنا ہی فراخ دل اور تحمل و برداشت کا مالک ہو، حقیقت معلوم ہونے پر اس کے دل میں میل آہی جاتا ہے۔ لہٰذا والدین اور بہن بھائی اپنی بیٹی اور بہن سے پیار ضرور کریں کیوں کہ وہ آپ کے پیار و محبت کی حق دار ہے لیکن کسی بھی ایسے فعل و بات سے پرہیز کریں، جس سے بیٹی کے آشیانے کو ٹھیس پہنچے یا دراڑ پڑے۔ کیوں کہ اسے تمام زندگی اسی آشیانے میں گزارنا ہے۔ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہما کے اس واقعہ سے اپنے اس مضمون کا اختتام کروں گی جو میں نے کہیں پڑھا تھا۔

ایک مرتبہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کسی بات پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ناراض ہوکر آپؐ کے پاس تشریف لائیں اور آپ کو بتایا۔ پیچھے آپ کے حضرت علیؓ بھی تشریف لائے۔ اس وقت حضور اکرمؐ نے بیٹی کی بات تحمل سے سن کر مسکرا کر فرمایا: ’’ایسا کوئی ہوگا جو اس طرح پیچھے پیچھے آجائے اور علی (حضرت علیؓ) جیسا کوئی اور مرد ہے ہی نہیں۔‘‘ سبحان اللہ، والدین کا ایسا ہی رویہ ہونا چاہیے بیٹیوں کو سمجھانے کے لیے۔ سبحان اللہ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
افروز عنایت

Leave a Reply