گوشۂ کتب ترتیب دیجیے!

انسان کے سیکھنے کا عمل اس کی پیدائش سے شروع ہو جاتا ہے اور آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ مگر سیکھنے کی انسانی فطرت اور علم سے محبت اس کو کتابوں سے قریب لے جاتی ہے۔ کتاب سے دوستی شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے۔ کتاب علم کے فروغ اور سوچ کی وسعت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اہل علم کے لیے یہ اسی طرح ضروری ہے جس طرح ہوا پانی۔ اگرچہ اب کتاب ڈیجیٹل دور میں داخل ہوچکی ہے، مگر مطبوعہ کتاب کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔

کتابیں کسی قوم کی تہذیب و ثقافت اور معاشی، سائنسی اور ملی ترقی کی آئینہ دار بھی ہوتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ انسان کی بہترین دوست بھی ہیں۔ کتابوں سے دوستی رکھنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ کتاب اس وقت بھی ساتھ رہتی ہے، جب کوئی ساتھ نہیں ہوتا۔ اگرچہ آج ٹی وی انٹرنیٹ اور موبائل نے لوگوں کی فرصتوں پر قبضہ جمالیا ہے، لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ باقی ہے۔

نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان خاصا کم ہے اور اس کے نقصانات بھی ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ عدم برداشت محدود ذخیرہ الفاظ اور نہایت محدود سوچ اسی کا نتیجہ ہیں۔ جب کہ کتاب کے ذریعے بچوں کی بہترین تربیت ہوتی ہے اور ان کی ذہنی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔ مطالعہ ان کے لیے سوچ کے نئے دروازے کھولتا ہے اور ان کے تخیل کی قوت مضبوط کرتا ہے۔ اچھی کتابیں شعور دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بہت سے فضول مشغلوں سے بھی بچاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہر نفسیات مطالعہ نہ کرنے والے بچوں کو کتاب دوستی کا مشورہ دیتے ہیں، تاکہ ان کی زندگی میں ٹھیراؤ آسکے۔

آج کل جس طرح بڑوں نے کتب بینی کو ترک کر دیا ہے، تو بچوں کو اس طرف راغب کرنا تو اور بھی کٹھن کام بن گیا ہے۔ ایک خاتون خانہ ہونے کی حیثیت سے آپ گھر کی آرائش پر خصوصی نگاہ رکھتی ہیں لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ گھر کا کوئی گوشہ کتابوں کے لیے بھی مخصوص ہونا چاہیے۔

بس ذرا سی دلچسپی اور دست یاب وسائل سے آپ گھر میں ایک چھوٹا سا گوشہ کتب یا کتب خانہ بنا کر اپنے خاندان کے لیے قابل تقلید مثال بن سکتی ہیں۔ یہ کوئی مشکل یا محنت طلب کام نہیں۔ اس کے لیے گھر میں موجود وسائل سے ہی مدد لی جاسکتی ہے۔ لکڑی کی مضبوط الماری اور تھوڑا سا سگھڑاپا ہی تو درکار ہے۔ گھر کا ایسا کمرہ منتخب کریں جو باقی کمروں سے قدرے الگ تھلگ ہو اور اگر ایسا کمرہ دستیاب نہ ہو تو کسی بھی جگہ کو منتخب کرسکتی ہیں۔ اس کے بعد گھر میں موجود تمام کتب ایک جگہ جمع کریں، اگر کچھ کتابوں کو جلد بندی وغیرہ کی ضرورت ہو تو وہ بھی کرالیں، یا خود گھر میں ہی کرلیں۔ کتابوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں مختلف زمروں میں بانٹ لیں۔ جگہ کم اور کتابیں زیادہ ہوں، تو کم اہم کتب کو الگ کرلیں اور اسے کسی کتب خانے کو دے دیں کہ دیگر قارئین کے کام آسکیں۔ کتابیں الگ کرنے کے بعد ہر مضمون کے لیے الماری کا الگ خانہ مختص کریں اور ان کے اوپر متعلقہ مضمون کی پرچی چسپاں کرلیں۔ اس کے بعد کتابوں کو حروف تہجی کے مطابق ترتیب دے کر الماری میں رکھیں۔ فرنیچر کے انتخاب میں کمرے کے رقبے کو مدنظر رکھیں۔ گھر میں موجود اخبارات و رسائل کے لیے بھی الماری کا ایک گوشہ مخصوص کر دیں۔ اگر آپ کی لائبریری میں زیادہ کتب جمع ہوجائیں تو کٹیلاگ یا رجسٹر بھی بنایا جاسکتا ہے، جس کی مدد سے کتابوں کو تلاش کرنا آسان ہوجائے گا۔

بہت سے چھوٹے گھروں میں کتابوں کے لیے کوئی پورا کمرہ مختص کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایسے میں کسی بھی کمرے میں کوئی ایک گوشہ ہی کتابوں کے لیے مخصوص کیا جاسکتا ہے۔

اس سارے منصوبے میں بچوں کی مدد ضرور لیں۔ اس طرح بچوں میں علم دوستی کا جذبہ پیدا ہوگا اور کتابوں کی حفاظت کا قرینہ بھی آئے گا۔ کتابوں سے جڑنے کے بعد پھر وہ بھی چاہیں گے کہ ان کی کتابیں بھی اس ذخیرے کا حصہ بنیں۔ والدین کو چاہیے کہ جوں ہی بچہ سیکھنے اور پڑھنے کی عمر کو پہنچے، اسے اچھی اور مفید کتابیں لاکر دیں، شروع میں یہ کتابیں کہانیوں کی بھی ہوسکتی ہیں، کیوں کہ بچے کہانی سننا اور پڑھنا بہت پسند کرتے ہیں۔ اس طرح بچے کو مطالعے کی عادت پڑے گی۔ اس کے ساتھ والدین بچوں کے سامنے اپنی مثال قائم کرسکتے ہیں۔ فارغ وقت ٹی وی دیکھنے یا فون پر مصروف ہونے کے بہ جائے کسی کتاب یا رسالے کی ورق گردانی میں صرف کریں تاکہ بچے بھی اس طرف مائل ہوں۔ جب بچہ والدین کو مطالعہ کرتے ہوئے دیکھے گا تو لاشعوری طور پر اسے بھی جستجو ہوگی کہ وہ بھی کتابیں پڑھے۔ ہوسکے تو بچے کو لائبریری بھی لے جائیں۔ کہتے ہیں کہ لائبریری بچے کے دماغ کی بہترین میزبان ہوتی ہے۔ ڈھیر ساری کتابیں دیکھ کر بچہ بہت خوش ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی، مزاج اور پسند کے مطابق کتابوں کا انتخاب کر کے اپنے ذوق کی آب یاری کر سکتا ہے۔

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور کتابیں قومی ترقی کی ضامن۔ چناں چہ اپنے بچوں کی کتابوں سے دوستی کروا کر آپ نہ صرف انہیں زندگی میں ایک بہترین دوست عطا کریں گے اور خود ان کی ہی ترقی نہیں، بلکہ سماج کی ترقی میں معاون و مددگار بن جائیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فرحین ریاض

Leave a Reply