ننھے نمازی

بچے اور مسجد

معاشرے سے ناخواندگی کے بادل چھٹتے جا رہے ہیں اور علم کا نور بہ تدریج پھیل رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ چھوٹی عمر سے بچوں کا تعلیمی ادارے سے تعلق ہے۔ اب تین سال کے بچے کو نرسری اور کے جی کی راہ دکھائی جانے لگی ہے۔ اس کے برعکس مساجد میں چھوٹے بچوں کے ساتھ رویہ عام مسلمان اور علماء سب کے لیے قابل غور ہے۔

رسولِ کریمﷺکی ہدایت کے تحت تلقین کی جاتی ہے کہ ’’سات سال کے بچے کو مسجد میں نماز کے لیے لاؤ‘‘ کہا جاتا ہے کہ گیارہ سال کے بچے کو مسجد میں ضرور لایا جائے۔ اگر بچہ آنے میں پس و پیش کرے تو اس پر سختی کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بزرگ اپنے بچوں کو انگلی پکڑے مساجد کی طرف لے جایا کرتے تھے۔ یہ رواج نماز جمعہ اور عیدین میں خصوصیت کے ساتھ دیکھنے میں آتا رہا۔ عام نمازوں میں والدین بچوں کو لانے سے ہچکچاتے ہیں، لیکن اگر کچھ نمازی بچوں کو مسجد میں لے آئیں تو انہیں بعض اوقات شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ فرض نماز کی ادائیگی کے فوری بعد ان بچوں کی سرزنش اور پھر بچوں کے والدین کی شناخت کے بعد انہیں بھی ایسی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کو کیوں لائے؟

بچوں کو مسجد میں لانے اور ان کی شرارت کی بناء پر جس شرمندگی کا احساس والدین یا دیگر بزرگوں کو ہوتا ہے، اس کی وجہ ہمیشہ خود بچے نہیں ہوتے۔ کیوں کہ دیکھا گیا ہے کہ بچے تو بڑے اہتمام کے ساتھ صف بناتے اور نماز کی ادائیگی میں مصروف ہوتے ہیں، مگر چند بڑے بچے اس موقع پر شرارت پر اتر آتے ہیں۔ یوں دھکا دینے، کچھ پوچھنے یا مختلف اشارے کرنے کی بناء پر بچے ہنسی یا دیگر مشاغل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بچے صف بنا کر بڑی تنظیم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی بڑا آیا اور اس نے بچوں کو سب سے پیچھے کی طرف دھکیل کر خود اس کی جگہ سنبھال لی۔ اس وجہ سے بھی وہ تمام اخلاقی تلقین اور تربیت کو فراموش کر کے شرارت پر اتر آتے ہیں۔

معروف عالم دین مفتی عبد الرؤف لکھتے ہیں: ’’بچوں کی صف کا مردوں کی صف کے پیچھے ہونا سنت ہے۔ لہٰذا جب جماعت کا وقت ہو اور بچے حاضر ہوں تو پہلے مرد اپنی صفیں بنائیں پھر ان کے بعد بچے اپنی صفیں بنائیں۔ پھر اس ترتیب سے جماعت قائم ہوجانے کے بعد اگر بعد میں کچھ مرد حاضر ہوں تو اول مردوں کی صفوں کو مکمل کریں، اگر وہ پوری ہوچکی ہوں تو پھر بچوں کی صف ہی میں دائیں بائیں شامل ہو جائیں، بچوں کو پیچھے نہ ہٹائیں، کیوں کہ بچے اپنے صحیح مقام پر کھڑے ہیں۔ مردوں اور بچوں کی مذکورہ ترتیب جماعت کے شروع میں ہے۔ نماز شروع ہوجانے کے بعد نہیں۔‘‘ (صف بندی کے آداب، ص۱۳) مفتی عبد الرؤف بچوں کو مردوں کی صفوں کے درمیان شامل کرنے کی گنجائش بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’اگر بچے تربیت یافتہ نہ ہوں اور دوران نماز شرارتیں کریں، جس سے اپنی نماز کو باطل کرنے یا ان کے کسی طرزِ عمل اور شرارت سے مردوں کی نماز باطل ہو جانے کا قوی اندیشہ ہو تو پھر ان کی علیحدہ صف نہ بنائی جائے، بلکہ انہیں منتشر اور متفرق طور پر مردوں کی صفوں میں کھڑا کرنا چاہیے۔ بہتر ہوگا کہ ان بچوں کو صف میں انتہائی بائیں جانب یا داہنی جانب کھڑا کیا جائے، تاکہ وہ نماز میں کوئی شرارت کر کے اپنی یا دوسروں کی نماز برباد کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔ ایسی صورت میں مردوں کی صفوں میں ان کے کھڑے ہونے سے مردوں کی نماز میں کوئی کراہت نہ آئے گی۔ (ایضاً ص۳۲)

ہمارے معاشرے میں یہ رویہ فروغ پا رہا ہے کہ اکثر بڑے اپنے بچوں کو مسجد میں لانے سے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں ان کی شرارت کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔ اس طرح بچوں کی تربیت نہیں ہو پا رہی ہے۔ ساتھ ہی مسجد میں بچوں کی عدم موجودگی بھی خصوصیت سے محسوس ہوتی ہے۔

کسی بھی کام کی عادت بچپن ہی سے پڑا کرتی ہے۔ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ لوگ بچوں کو اسکول تو بھیجتے ہیں مگر مسجد نہیں، حالاں کہ دونوں ہی تعلیم و تربیت کا ذریعہ ہیں۔ اگر بچپن ہی سے بچوں کو مسجد میں لایا جائے گا تو بتدریج وہ نماز کی ادائیگی اور مسجد کے آداب سیکھ جائیں گے۔ گھر میں رہ کر ان کی تربیت ایک حد تک تو ہوسکتی ہے، مگر آداب نماز مسجد آکر ہی سیکھے جاسکیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے بچے یا چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ لائیں اور ابتدائی طور پر اپنے برابر میں کھڑا کریں۔ ساتھ ہی اسے یہ احساس بھی دلائیں کہ مسجد اللہ کا گھر ہے۔ یہاں شرارت کرنا بے ادبی اور گناہ ہے۔ اس طرح امید ہے کہ بچہ آپ کی قربت کے پیش نظر خیال رکھے گا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں اور وہ شرارت سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ پھر بھی اس سے اگر کوئی لغزش ہو جائے تو اسے سب کے سامنے ڈانٹنے اور بے عزت کرنے کے بجائے بڑے آرام اور تحمل سے سمجھائیں۔ اس طرح اس کی اصلاح بھی ہوگی اور اسے حوصلہ بھی ملے گا، یوں وہ کامل مسلمان بن جائے گا۔

مسجد اور بچوں کا تعلق ہمیشہ سے ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہؐ ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اسی اثنا میں حسن اور حسینؓ آئے، انہوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھی اور وہ چلتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے تو رسول اللہؐ فرط محبت سے منبر سے نیچے تشریف لائے اور ان دونوں کو اٹھا لیا اور اپنے سامنے بٹھا دیا اور فرمایاجب میں نے ان دونوں بچوں کو چلتے اور لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ مجھے اپنی بات ختم کرنی پڑی اور ان دونوں کو اٹھا لیا۔

دوران نماز بچوں کی موجودگی کے حوالے سے یہ روایت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن شدادؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ظہر یا عصر میں سے کسی نماز کے وقت رسول اللہﷺ تشریف لائے اور آپﷺ سیدنا حسنؓ یا حسینؓ کو اٹھائے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے انہیں آگے کر کے بٹھا دیا اور نماز کے لیے تکبیر کہہ کر نماز شروع کی۔ پھر جب سجدہ کیا تو آپؐ نے اپنی نماز کے درمیان سجدے کو طویل کیا۔ میرے والد کہتے ہیں کہ میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ سجدے کی حالت میں ہیں اور بچہ آپ ؐ کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر میں واپس سجدے میں چلا گیا۔ پھر جب رسول اللہﷺ نے نماز پوری کی تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہﷺ آپؐ نے اپنی نماز کے درمیان سجدہ اتنا طویل کیا، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ کوئی معاملہ در پیش ہے یا پھر آپؐ کی طرف وحی کی جا رہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہ تھی، لیکن میرا بیٹا میرے اوپر سوار تھا اور مجھے یہ بات ناپسند لگی کہ میں اس کے لیے عجلت کروں یہاں تک کہ وہ اپنی (کھیلنے کی) ضرورت پوری کرلے۔

کوئی ایسی روایت نہیں ملتی، جس کے ذریعے یہ ثابت ہو کہ نبی مکرم حضرت محمدﷺ سیدنا حسن و حسینؓ کے اوقاتِ نماز میں مسجد آنے پر ناراض ہوئے ہوں اور اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہؓ سے کبھی یہ کہا ہو کہ بچے مسجد میں نماز کے دوران کیوں جاتے ہیں یا روکنے کی ہدایت کی ہو۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سیدنا حسن و حسینؓ نے حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ کا جو زمانہ پایا، اس میں ان کی عمریں محض چند سال تھیں۔

بچوں کے حوالے سے مختصر نماز پڑھنے کا بھی حکم ہے، تاکہ بچوں کے رونے سے ان کی ماں یا دیگر نمازیوں کا دھیان بٹنے کا امکان کم رہے۔ حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے، نبی کریمؐ نے فرمایا: میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ نماز طویل کروں۔ پھر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نما اس ڈر سے مختصر کرتا ہوں کہ یہ بات اس کی ماں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بن جائے۔

خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں بچوں کو ساتھ لانے کا آج بھی عام رواج ہے۔ تقریباً تمام ہی نمازوں میں نا سمجھ اور سمجھ دار ہر دو قسم کے بچے ہوتے ہیں اور ان مقامات مقدسہ پر کثیر تعداد کے پیش نظر یہ اہتمام بھی نہیں ہو پاتا کہ مردوں کی صفوں کے بعد بچوں کی صف بنائی جائے بلکہ بچوں کو اپنے ساتھ کھڑا رکھنے کا رواج ہے۔ خود میں نے دیکھا کہ مغرب کی نماز کے دوران بیت اللہ اور پہلی صف کے درمیان بچے بھاگتے دوڑتے رہے۔ مجھے خدشہ ہوا کہ نماز کے بعد ان بچوں کو بری طرح ڈانٹا یا پیٹا جائے گا مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ نماز کے بعد بچوں کو ان کے والدین نے بڑے پیار سے چوما اور اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اسی طرح مسجد نبویؐ میں بھی ہوا اور جب میرے خدشے کے پیش نظر بچوں کی سرزنش نہ ہوئی تو میں نے مدینے میں مقیم اپنے ایک عزیز سے استفسار کیا کہ ہمارے یہاں تو والدین خود اور دیگر نمازی بچوں پر برس پڑتے ہیں، مگر یہاں بچوں کو ڈانٹنا تو کجا، انہیں پیار کرنے اور چومنے کی کیا وجہ ہے؟ وہ بولے: اچھا ہوا تم نے اس پورے معاملے کو خاموشی سے دیکھا۔ اگر کہیں غلطی سے بچوں کو ڈانٹ دیتے یا ان کے والدین سے شکایت کرتے تو لوگ تم پر برس پڑتے۔ کیوں کہ یہ عام خیال ہے کہ مسجد نبویؐ پر بچوں کو حق سب سے زیادہ ہے۔ اگر وہ نادانی میں بھاگیں، دوڑیں، شرارت کریں یا نمازیوں کی پیٹھ پر چڑھ جائیں تو کوئی حرج اور کراہیت کی بات نہیں۔

اب ذرا اپنے گرد و پیش پر نظر کیجیے۔ ہماری اکثر مساجد کے گرد دکانیں ہوتی ہیں۔ ایک اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود دکان دار قریبی مکینوں اور مسجد کے تقدس سے ناآشنا ہیں۔ موسیقی، گانے اور اشیائے ضروریہ بیچنے والوں کی صدائیں، ان سب سے بڑھ کر قریب سے گزرنے والی گاڑیوں کا شور اور بلا وجہ ہارن کا استعمال، ان مواقع پر مسجد میں موجود نمازی کیا کرتے ہیں؟ محض ان امور کو نظر انداز کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ دکان دار یا صاحب مکان کو کچھ کہہ سکے۔ ہاں اگر غصہ آتا ہے تو ان معصوم بچوں پر جو اپنے والدین کے ہمراہ خوشی خوشی مسجد میں آتے ہیں اور ابھی آدابِ نماز اور احترامِ مسجد سے واقف نہیں۔ اس لیے دوران نماز بچے گلیوں میں کھیلنے یا گھروں میں ٹی وی دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ عمل اسلامی معاشرے کی تیاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ آئیے غور کریں کہ ہم کس طرح اپنے بچوں کو مسجد میں لاکر ان کی بہتر تربیت کرسکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ممتاز عمر

Leave a Reply