گھریلو بزنس اور خواتین

چند کامیاب وومین انٹرپرینرس

٭ ہماری ماں حضرت خدیجہ ؓ بہت اونچے گھرانے کی خاتو ن تھیں۔ یہ بنی مخزوم کے دو رئیسوں سے یکے بعد دیگرے بیاہی تھیں۔ وہ دونوں بہت کافی دولت چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ دو شوہروں کی بیوہ تھیں۔ ان کے شوہروں نے جو سرمایہ چھوڑا، انھوں نے اپنا سرمایہ کو کاروبار میں لگایا۔ وہ دوسروں کو اپنا ما ل دے کر تجارت کراتی تھی۔ حضورؐ نے بھی آپ کے مال ِ تجارت کو شام کے بازارمیں فروخت کیا۔ جب آپؐ کی شادی حضرت خدیجہ ؓ سے ہوئی تو آپ نے ان کی تجارت کو خوب فروغ دیا۔اور تجارت میں بے انتہابرکت ہوئی ۔

عالمہ شیخ نوہیراصاحبہ

انھوں نے ۱۹۹۸ء میں ہیرا گرو پ ہیرا گروپ نام سے ایک گلوبل کمپنی شروع کی۔ یہ ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون ہیں جو ایک گلوبل کمپنی چلار ہی ہیں۔ یہ آندھر اپر دیش کے تیروپتی کے شیخ کولکر مدار صاحب کی پوتی ہیں۔ جنھوں نے ۱۹۲۰ میںSNS نا م سے ایک ٹرانسپورٹ شروع کیاتھا۔ والد ِمحترم اور دادا محترم کے نقش ِ قد م پر چلتے ہو ئے عالمہ شیخ نوہیر ا صاحبہ نے بھی بزنس کو مزید ترقی دی۔ اس بزنس کو انھوں نے ہیر ا گروپ کے نام سے متعارف کرایا۔ اب ہیراگرو پ عالمہ شیخ نوہیر ا کی رہنمائی میں چلتاہے۔ ہیراگرو پ گولڈ ٹریڈنگ کا بزنس کر تا ہے۔ جس کا کارپوریٹ آفس حیدر آباد میں ہے۔ اور اس کی شا خیں پورے ہند وستا ن میں،یو اے ای، چائنا، کینڈااورافریقہ میں ہیں۔ہیرا گروپ کی سرپرستی میں مختلف شعبو ںکی ۱۹ کمپنیا ں چلتی ہے۔

عشرت شہاب الدین شیخ صاحبہ

ممبئی میں مشہور ہو ٹل شالیمار کی مالکن عشرت شہاب الدین شیخ صاحبہ۔شہاب الد ین شیخ کے ساتھ شادی کے بعد اعظم گڑھ سے ممبئی آگئی تھیں۔وہ خاتون خانہ کی سی زندگی گزاررہی تھیں کہ ۲۰۰۲ میں ایک حادثہ ہو ا ۔ ایک کار ایکسیڈ نٹ میں ان کے شوہر اورایک بیٹی کا انتقال ہو گیا۔اور دو بیٹیا ں شدید زخمی ہو گئیں ۔اور ایک لڑکا بچا۔ٹو سرکل ڈاٹ کام کو ایک انٹر ویوں دیتے ہو ئے انھوں نے کہا کہ ’’شوہر کے انتقال کے بعد میرے بھائی اور ساس نے جو بہت اسلام پسند تھیں حضرت خدیجہ ؓ کا حوالہ دے کر اپنے شوہر کا بزنس سنبھالنے کے لئے میری حوصلہ افزائی کی‘‘۔ممبئی میں مشہور ہو ٹل شالیمارکابزنس کروڑوں کا ہے، اس میں کئی قسم کے پکوان تیار ہوتے ہیں اور ۳۵۰ ملازمین ہیں ، ہوٹل 18000 sq.ft. میں پھیلا ہوا ہے۔ عالیشان ہوٹل کے ساتھ ساتھ عشرت شیخ SAFAنام کا اسکول بھی چلاتی ہے۔

٭ شری مہیلا گریھ ادّیوگ: لجت پاپڑ ممبئی کی سات غیر تعلیم یافتہ اور غریب خواتین نے 1959 میں ۸۰ روپے ادھا ر لے کر پاپڑ بنانے کابزنس شروع کیا۔ پہلے ہی سال1959 میں اس کا کل سرمایہ (Turnover) 6,196روپے ہو گیا۔ اگلی چار دہائیوں میں 300کروڑ رو پے اور اب 40,000خواتین کا اسٹاف ہے۔ ممبئی میںاس کاآفس ہے اورہندوستان بھر میںلجت کے ۲۷ ڈویژن اور ۸۱ شاخیں ہیں۔ لجت پاپڑ کواپریٹیو سسٹم کی شکل میں پھیل رہا ہے۔۲۰۱۰ء میں اس کا Turnover ۱۰۰ ملین ڈالرتک پہنچ چکا تھا۔

ہوم بزنس آئیڈیاز/گھریلوروزگار کی شکلیں:

’’اپنی مدد آپ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے کے ہاتھ بٹائے بغیر اپنا کام انجام دیاجائے۔ دوسروں کی اعانت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیت ، محنت اور اپنے ذرائع و وسائل پر بھر وسہ کرنا ہی اپنی مدد آپ ہے۔ جو انسان اپنی مدد آپ پریقین رکھتا ہے وہ کبھی بھی ذرائع وسائل کی کمی کا رونا نہیں روتا بلکہ اپنی قوت بازو پر یقین کامل رکھتے ہوئے اپنی محنت و مشقت کے ذریعہ ترقی کے مدارج طے کرتا ہے اور جو انسان دوسروں کی مدد کا متمنی ہوتاہے و ہ ترقی کے میدان میں نہ آگے بڑھتا ہے اورنہ سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا تاہے۔اگر آپ ضرورتمند ہیں تواسلامی حدود میں رہتے ہوئے درج ذیل میں سے کسی بھی قسم کا کاروبار ،خدمت ، یا صنعت چھوٹے پیمانے پر شروع کرسکتی ہیں۔جیسے ٹیلرنگ، فیشن ڈیزائننگ، ہینڈ ایمبرائڈری، مشین ایمبر ائڈری ،مہندی ڈیزائن، کرافٹ ، زری ورک، فیبرک پینٹنگ، فلاور میکنگ،تر جمہ نگاری ،ٹفن سپلائی،لیدر گارمنٹس، DTPورک،بیگ سازی، گفٹ آئٹم ڈیزائن اینڈپیکنگ، گھر کی سجاوٹ کاسامان، کوشن کورسازی، باسکٹ سازی، مٹی وچینی کے برتن بنانا، قدرتی دوائیاں و مصنوعات کی تیاری، فائل فولڈرسازی، وال پینٹنگ، موم بتی سازی، ، بسکٹ و نمکین کی تیاری، ڈیری مصنوعات، ہوزیئری، واشنگ آئٹم ، خواتین کوروزگار فراہم کرنے والی خدمات(Women Job Placement Service)، ڈائٹیشین سروس، ہابی کلاسیس، کوکنگ کلاسیس، آن لائن مارکٹنگ، آن لائن ایڈ ور ٹائزنگ، اسکالر شپ رہنمائی، ہوم ٹیوشن، کریر کاؤنسلنگ سروس ، چائلڈ کیئر ، سینئر کیئر ،ہوم کال سینٹر (/Inbound Outbound) گرم مسالے کی تیاری و پیکنگ وغیرہ۔

آپ ایسا بزنس شروع کریںجس میںآپ گھریلو ذمہ داریوں کو متاثر کرے بغیر اپنی دلچسپی اورشوق سے کام کرسکیں۔ اس کے لئے بالترتیب پراڈکٹ اور خدمت کی تحقیق کریں ۔مارکیٹ کی ضروریات کا معائنہ کر یں۔ مناسب سرمایہ کے ساتھ بزنس شروع کریں۔ نیٹ ورک کو بڑھاتی جائیں۔ماہرین سے تبادلہء خیا ل کر یں۔ ایڈوٹائزمنٹ اورمارکٹنگ کے لئے آن لائن ویب سائٹس ،ٹی وی ،پمفلٹ، بینر ، ورکشاپ ، سمینار ، نمائش سے مد د لی جا سکتی ہے۔ مسابقت کے اس دور میں اپنی مصنوعات اور خدمات معیار کے ساتھ فراہم کریں اورزیادہ منافع کا لالچ نہ کریں۔

حرفِ آخر: ملازمت پیشہ خواتین گھر اور جاب کے تقاضوں میں توازن نہیں کر سکتیں۔اس کے برعکس گھریلوبزنس کے ذریعے مسلم خواتین اپنے مسائل کو خود حل کر نے کو کوشش کریں، کیوںکہ گھریلو صنعت وتجارت ایک معزز پیشہ ہے۔ خواتین گھر پر ہی بزنس سیٹ کر سکتی ہیں۔اور گھر سے ہی چلا سکتی ہیں۔ تاکہ گھر اور بزنس کی ذمہ داریوں میں بہتر توازن قائم ہو سکے۔

اسلام نے عورت کی جد وجہد کو صرف علم و فن کے میدان تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ خواتین کو دین کی حدود میں رہ کر مختلف پیشوں اور صنعتوںکو اپنانے اور صلاحیت کے مطابق خاندان اورسماج کی خدمات انجام دینے کی اجازت بھی دی ہے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں بھی بہت سی خواتین مختلف معاشی سرگرمیاں انجام دیتی رہی ہیں۔ خواتین کے تجارت اورزراعت میں حصہ لینے کی متعدد مثالیں اسلام کے اولین دور کی سوسائٹی میں ملتی ہیں۔ اگرچہ شریعت نے خاندان کی کفالت مرد کا فریضہ قرار دیاہے لیکن خواتین بشرط ضرورت مدینہ منورہ میں اپنے خاندان کی عسرت اور تنگی کو دور کرنے کے لئے جدوجہد کرتی تھیں اور اس سلسلہ میں کو ئی ممانعت نہیں تھی۔ مثلاً اسماء بنت ابوبکر اپنے شوہرزبیر کی معاش حاصل کرنے میں مدد کرتی تھیں (بخاری) حضرت عمر بن الخطاب نے بازارکی نگہ داشت کی ذمے داری شفا بنت عبداللہ عبدالشمس پر ڈالی تھی۔ ہمارے علماء نے معاشی ضرورت کے علاوہ ، اپنے وقت و صلاحیت کے بہتر استعمال ، سماج اورتمدن کی خدمات ، آمد نی میں اضافہ اوراللہ کی راہ میںخرچ کرنے کے لئے بھی عورت کو معاشی مصروفیت اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔

ایک بات ذہن نشین رہے کہ خواتین اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لئے معاشی و پیشہ وارانہ مصروفیت اختیار کریں یااپنے علم و فن کو استعمال کرنے کے لئے، یا غریبی اور مفلسی دور کرنے کے لئے یااورکسی بڑی تمدنی و سماجی ضرورت کی تکمیل کے لیے۔ لیکن چوںکہ یہ کا م ان کی ذمے داریوں میں شامل نہیں ہے، اس لئے اس کام کے لئے نہ انھیں تناؤ برداشت کرنے کی کوئی ضرورت ہے نہ کسی پریشانی کو جھیلنے کی۔ اگر ان کے حالات اور کام کرنے کی جگہ کے حالات سازگار ہیںتویہ مصروفیت ان کے لئے ایک خوشگوار تجربہ ہے، اور اس مصروفیت کے ساتھ ان کی خاندانی ذمہ داریوں اوردینی و شرعی تقاضوں کی تکمیل بآسانی ممکن ہے تو وہ خوداپنے فیصلہ سے اورشوہریاوالدین کی اجازت سے ایسی مصروفیت اختیار کر سکتی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی آمد نی کو اپنے آپ پر، اپنے والدین، یا رشتہ داروں پر، غریبوںپر اور اللہ کی راہ میں یا چاہے تو اپنی مرضی سے اپنے شوہر و بچوں کی ضرورتوں پر بھی خرچ کرسکتی ہے۔

مزید رہ نمائی اور رابطہ کے لیے مضمون نگار کا موبائل نمبر:

7709062666

اور ای میل ہے :[email protected]

شیئر کیجیے
Default image
توقیر اسلم انعامدار

Leave a Reply