انسانی وقار سے محروم عورت

دنیا بھر میں، خصوصاً میڈیا کی ترقی کے بعد جہاں سیاسی، سماجی اور اقتصادی ترقی پر بحث کا سلسلہ شروع ہو لوہیں خواتین کے حقوق کی پامالی، معاشرے میں ان کے استحصال اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی رویوں کو بھی زیر بحث لایا جانے لگا۔ اس کے ساتھ سماجی اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے بھی کھل کر صدائے احتجاج بلند ہونے لگی، خاص طور پر تیسری دنیا کے ذہنی پس ماندگی، غربت اور جہالت کے شکار ناانصافی، ظلم و جبر اور زیادتی کے حامل معاشروں میں خواتین کی عزت و توقیر، مقام اور ان کے حقوق کے حوالے سے بہت سے سوال اٹھائے جانے لگے، اور ان معاشروں میں سماجی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز نے اس مسئلے کو گہری سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی اور سماج میں ان کے ساتھ ہونے والی صنفی تفریق اور مختلف قسم کے ذہنی اور جسمانی تشدد بڑے مسائل قرار پائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسئلہ اتنی شدت اختیار کرتا چلا گیا کہ آج پوری دنیا میں خواتین کے حقوق، ان کا استحصال کے خاتمے اور معاشرے میں انہیں معاشی طور پر باختیار بنانا عالمی ایجنڈا بن گیا۔ حقوق نسواں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر حتی المقدور آواز اٹھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم مردوں کی حاکمیت اور سماج کے فرسودہ رسم و رواج کے سائے میں پروان چڑھنے والے تنگ نظر، پس ماندہ، ترقی پذیر یہاں تک کہ ترقی یافتہ، معاشروں میں بھی تاحال ان کوششوں کو مکمل کام یابی نہیں مل سکی۔

اکیسویں صدی میں سانس لینے والی ہر خطے، علاقے اور ہر قوم کی عورت کو کم از کم میڈیا کے توسط سے اتنا شعور تو حاصل ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، روا رکھے جانے والے امتیازی رویوں اور در پیش مسائل کو کسی حد تک سمجھنے لگی ہے بلکہ ان سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ان پر آاوز بھی اٹھانے لگی ہے۔ تاہم دنیا بھر میں تحریک نسواں کی کام یابی اور خواتین کی ترقی میں حائل کئی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔

مشہور صحافی سیمون دی بوار نے خواتین کے مسائل کو اپنی کتاب میں اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’اگر ہم عورت کے مقد رکو معاشی قوتوں کی جانب سے تعین شدہ اور اٹل مان لیں تو یقینا اس مسئلے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جائے گی۔ آخر عورت ہونے کی حیثیت ان کی زندگی پر اثر انداز کیوں ہو؟ لہٰذا یہ بات تو طے ہے کہ معاشرے میں عورت کو مکمل انسانی وقار دلانے تک تحریکِ نسواں کو کام یاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘‘

آج ان کے حقوق، شعور اور آگہی کے بارے میں بات ہو رہی ہے، انہیں بااختیار بنانے کے لیے بڑے بڑے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم جب تک ریاستوں، حکومتوں، معاشروں، سیاسی و مذہبی جماعتوں، ملکی آئین و قانون اور مذہبی تشریحات کرنے والوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ عورت سب سے پہلے انسان ہے بعد میں عورت اس وقت تک اسے امتیازی رویوں سے چھٹکارہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی انسان کو مرد ہونے کے سبب معاشرے میں بلکہ خاندان میں بھی مکمل تحفظ، اہمیت اور خاص مقام حاصل ہو سکتا ہے تو عورت اس سے محروم کیوں ہے؟ یہی وہ اہم نکتہ ہے جس کے تحت عورت کو بہ حیثیت انسان برابری کی سطح پر معاشرے میں یکساں حقوق، اختیارات، عزت و احترام اور اہمیت دی جانی چاہیے۔

اسلام اسی صنفی تقسیم اور تفریق کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں، وہ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ یقینا رحمت فرمائے گا۔‘‘ (توبہ:۷۱)

قرآن کی اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مرد و عورت کے درمیان فضیلت کی بنیاد عمل ہے نہ کہ مرد یا عورت ہونا۔

چناں چہ قرآن پاک میں کئی خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ان کی فضیلت بیان کی گئی ہے انہی میں فرعون کی بیوی بھی شامل ہے جس کا قرآن میں بڑی عظمت کے ساتھ ذکر ہے۔

تحریک نسواں کے آغاز کا مقصد اگرچہ مغرب کی خواتین کو مرد کے استحصال سے آزاد کرانا تھا۔ لیکن وہاں پر خواتین کو ایک نئے طرز کی آزادی تو ملی لیکن صنفی تفریق اور عورت کو عورت ہونے کے سبب ظلم کا شکار بننے سے یہ تحریک بھی محفوظ نہ کر سکی، جب کہ مشرقی معاشروں میں جہاں خواندگی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے اس ضمن میں صورت حال مزید بگڑی ہوئی نظر آتی ہے وہیںیہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ خواتین کی آزادی سے زیادہ ان کے لیے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اب بھی دنیا کے کسی ملک سے تعلق رکھنے والی خواتین بہ شمول مغربی دنیا اس بات کا وثوق سے دعویٰ نہیں کرسکتیں کہ انہیں معاشرے میں مردوں کے مقابلے میں بنیادی و مساوی حقوق اور اچھی زندگی گزارنے کے مواقع حاصل ہوگئے ہیں۔ اس سے اس حقیقت کا بہ خوبی اندازہ کیا جاسکا ہے کہ خواتین کی اکثریت وحشت و بربریت اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، حق تلفیوں اور تنگ نظری پر مبنی فکر سے نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ اور یقینا کرنا بھی چاہیے۔ اب ہمارے نزدیک اہم سوال یہ ہے کہ پوری دنیا میں جاری سرکاری و غیر سرکاری کوششوں کے باوجود مشرق و مغرب میں خواتین کے سماجی و معاشرتی حالات میں بہتری کیوں نہیں آرہی ہے۔

ہمارے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تحریک نسواں نے تمام ہی معاشروں میں مرد و عورت کے درمیان ٹکراؤ کی فضا کو جنم دیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ سوچ کی منفیت (Nagativety) ہے۔

اب سے چودہ س سال قبل رسول پاک کے دو رکو دیکھئے جہاں لڑکی کا باپ ہونا عار تھا اورلوگ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی مار دیا کرتے تھے ایسے معاشرے میں عورت کو کیا عظمت ملی۔

وجہ صاف ہے وہاں فکر منفی اور جذبات میں نفرت نہیں تھی اور وہاں تبدیلی سوچ میں پیدا ہوئی جس نے معاشرے کو ہی تبدیل کر دیا جب کہ موجودہ معاشرے میں ایسا نہیں ہے۔ خود وہ لوگ خواتین کا مذاق اڑاتے ہیں جو ان کے حقوق کے لیے اسٹیج پر تقریر کرتے ہیں اور یہی موجودہ دور کی بدقسمتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ہما صدیقی

Leave a Reply