صنفی تفریق

صنفی تفریق کیسے ختم ہو؟

ماں، بہن، بیٹی، بیوی۔۔۔ عورت اپنا ہر کردار خوب صورتی سے ادا کر رہی ہے! کہیں محبتوں میں گندھی ہوئی تو کہیں قربانیوں کا پیکر، کہیں بہترین غم گسار تو کہیں خلوص و الفت کی جیتی جاگتی تصویر۔ دنیا بھر کی شاعری و ادب میں عورت کی عزت و تکریم، عظمت و وفا، خلوص و قربانی کو بطور استعارہ پیش کیا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی نہ جانے کیوں ہر روز صبح جب اخبار اٹھاؤ تو حوا کی اسی بیٹی کی بے توقیری کی کوئی نہ کوئی دل دہلانے والی داستان آنکھوں کو نم اور روح کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ کبھی کہیں کسی کو پنچایت کے فیصلے پر بے عزت کر دیا جاتا ہے تو کبھی کوئی اپنی ہی ماں اور بھائی کے انتقام کا نشانہ بن جاتی ہے، کبھی کسی ننھی سی گلی کوکوئی ظالم مسل کر پھینک دیتا ہے توکبھی شہریوں کی جان و مال کے محافظ ہی قوم کی کسی بیٹی کی زندگی تباہ کر دیتے ہیں، تو کبھی کہیں کسی ناکردہ جرم کے بدلے میں کوئی ہنستی مسکراتی پیاری سی لڑکی جاہلانہ رسوم و رواج کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، کبھی کسی باپ بھائی کی غیرت اچانک جاگتی ہے اور وہ بلا تحقیق محض شک پر اس نازک آبگینے کو منٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے، کبھی کوئی ’’مجازی خدا‘‘ اس کی زندگی روئی کی مانند دھنک کر رکھ دیتا ہے، تو کبھی کوئی انا کا مارا اپنے مسترد کیے جانے کا بدلہ کسی چاند سے چہرے کو تیزاب سے داغ دار کر دیتا ہے۔

یہ تو وہ سب ہے جو ہر روز اخبارات اور ٹی وی کی بدولت ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ اس ’’بہت کچھ‘‘ کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں جو رپورٹر کے قلم اور کیمرے کی آنکھ سے اوجھل رہ جاتا ہے، جسے جان بوجھ کر زمانے کے خوف اور اپنی بے شعوری کی بنیاد پر چھپا لیا جاتا ہے۔ بس اسٹاپس، پبلک ٹرانسپورٹ، بازاروں، پارکوں اور دفاتر وغیرہ میں اکثر و بیشتر خواتین کو جن رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا حال تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔مقام افسوس یہ ہے کہ جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے، ویسے ویسے حقوق نسواں اور مساوات کے نعرے عام ہو رہے ہیں۔ بظاہر باشعور لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، تعلیم کی شرح بھی ماضی کی نسبت بلند ہو رہی ہے، لیکن خواتین کی تعظیم اور ان سے بدسلوکی کے حوالے سے اکثر رویے نہ صرف جوں کے توں ہیں بلکہ ان میں اور زیادہ شدت آتی جاتی ہے۔

اس وقت اصل سوال یہ ہے کہ خواتین کے لیے معاشرے میں بہتر سلوک اور باعزت زندگی گزارنے کی تمام کوششیں آخر اس قدر بار آور ثابت کیوں نہیں ہو رہی ہیں جس کی توقع کی جا رہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ خواتین کے حوالے سے مجموعی معاشرتی رویے تبدیل ہوتے نظر نہیں آرہے؟ کیوں آج بھی ایک مرد کے لیے کسی عورت سے اونچی آواز میں بات کرنا یا اس پر ہاتھ اٹھا لینا دنیا کا سب سے آسان کام ہے؟ کیسے اس مہذب دنیا میں بھی لوگ کھڑے کھڑے برسوں کی خدمت گزار بیوی کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لینے میں لمحہ نہیں لگاتے؟ کیوں آج بھی بلا تحقیق کسی عورت کے کردار پر انگلی اٹھاتے لوگوں کے دل نہیں کانپتے؟

اگر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے رویوں کی اصلاح، افکار و خیالات کی تعمیر اور شخصیت سازی کی ابتدا گھروں سے ہوتی ہے۔ بچے کو سلام کرنا، سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا، بیٹھ کر پانی پینا، اٹھنا بیٹھنا، غرض یہ کہ زندگی گزارنے کے آداب، دنیا کو برتنے کے بنیادی طور طریقے گھر میں ہی سکھائے جاتے ہیں۔ کس رشتے کو کیا مقام دینا ہے، کس سے کیسا برتاؤ کرنا ہے، کہاں اونچی آواز بھی قابل معافی ہے اور کہاں نظریں اٹھا کر جواب دینا بھی گستاخی ہے۔ اس سب کی تربیت چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اسے بچپن میں ہی ماں کی گود سے ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ اب اس کو ہماری ستم ظریفی کہیں، معاشرتی چلن یا کم علمی اور بے شعوری کہ بیٹا اور بیٹی کی تربیت میں اکثر کم تعلیم یافتہ گھرانے تو ایک طرف اچھے اچھے پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی کچھ نہ کچھ امتیازی رویہ شروع سے ہی برتا جاتا ہے اور بیٹوں کو بیٹیوں پر کسی نہ کسی طرح خواہ غیر شعوری طور پر ہی سہی لیکن فوقیت دی جاتی ہے۔ بیٹوں کو عموماً چھوٹی سی عمر سے ہی یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم مرد ہو اور عورت پر تمہاری حاکمیت ہے۔مستقبل میں کنبے کی باگ ڈور تم کو سنبھالنی ہے، تم کو گھرانے کا سربراہ بننا ہے، تمہاری رائے اور حکم مانے جائیں گے۔ ساتھ ہی کہیں نہ کہیں یہ بات بھی کان میں پھونک دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک درجہ قوامیت بخشی ہے۔

آدھی بات اور آدھی تصویر کشی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بارہ تیرہ برس کی عمر سے ہی عام طور پر چھوٹے چھوٹے معصوم لڑکے اپنے ’’لڑکا‘‘ ہونے کے زعم میں سینہ پھلا کر گھومنا شروع کر دیتے ہیں۔ وقت و عمر کے ساتھ یہ زعم، تکبر اور مطلق العنانیت کی سی شکل اختیا رکرلیتا ہے اور اس کا شکار پہلے بہن اور بعد میں بیوی اور بیٹی بنتی ہیں۔ اکثر گھرانوں میں بیٹیوں سے چیزیں لے کر بھائیوں کو تھما دی جاتی ہیں، بھائی صاحب اگر جلال کی کیفیت میں ہیں تو مائیں زیادہ تر بہنوں کو ہی خاموش رہنے کی تلقین کرتی نظر ٓتی ہیں، بیٹا اگر بہن پر ہاتھ بھی اٹھالے تو اس کا ہاتھ پکڑنے کے بجائے بچی کو درگزر کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کردی جاتی ہے کہ تم کو اگلے گھر جانا ہے ابھی سے زبان بند رکھنے کی عادت ہوگی تو سسرال میں گزارہ آسان ہوگا۔ یوں اکثر لڑکوں کو شروع سے ہی اپنے ناروا رویے پر شرمندہ ہونے کے بجائے اکڑ کر چلنے کی عادت ڈل دی جاتی ہے۔بہت سے مردوں کا یہ بھی معمول ہوتا ہے کہ کام سے واپسی پر دن بھر کی کوفت اور تھکن گھر والوں پر چیخ چلا کر نکالتے ہیں۔ بچے بچیاں اس چیز کو بھی محسوس کرتے ہیں اور غیر شعوری طور پر ان میں یہ نظریہ جڑ پکڑ لیتا ہے کہ مرد تو ہوتے ہی غصے کے تیز ہیں، ان کا غصہ خواتین کو برداشت کرنا پڑے گا۔ غرض یہ کہ جب اس قسم کے متضاد رویے بچے شروع سے گھروں میں دیکھتے ہیں تو عمر کے ساتھ ساتھ یہ رویے ان میں بھی پختہ ہوتے جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ’’مردوں‘‘ کا ایک روایتی اور قطعی ادھورا سا تصور ہماری سوسائٹی میں راسخ ہوتا چلا جاتا ہے بلکہ ہو چکا ہے۔

اگر ہم واقعی معاشرے میں خواتین کو ان کا جائز اور باعزت مقام دلانے کے خواہش مند ہیں تو اس کے لیے سب سے پہلے ماؤں کو آگاہی دینی ہوگی۔ اگر ابتدا سے ہی مائیں اپنے بیٹوں کو خواتین کا احترام اور ان کے معاملے میں خدا خوفی اختیار کرنے کا درس دیں، خواتین سے حسن سلوک کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں، بیٹے اور بیٹی میں امتیازی رویہ نہ اپنائیں اور دونوں کے لیے اخلاقیات کا یکساں معیار رکھیں، بیٹوں کو صرف یہ بتا کر کہ وہ ’’مرد‘‘ ہیں، احساس تفاخر جگانے کے بجائے، ان کو ذمہ داریوں کے بارے میں بھی بتائیں تب ہی مجموعی معاشرتی رویوں میں بہتری کے امکانات ہوسکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے مردوں کو بلاشبہ ایک درجہ افضل اور قوام بنا کر خاندان کا سربراہ بنایا ہے۔ اس حیثیت سے ان کا احترام ، ان کے مقام کا خیال رکھنا اور فرماں برداری کرنا جہاں خواتین کا فرض ہے وہیں مردوں کا بھی فرض ہے کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں سمجھ داری، تدبر، معاملہ فہمی، نرمی ، درگزر اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں، کیوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفالت و سربراہی کی بھاری ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈالی ہے۔ جس طرح کسی ریاست پر کوئی مطلق العنان اور جابر سربراہ مسلط ہوجائے تو وہ ریاست تباہ ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح اگر گھر کی دنیا میں یہ رویہ اپنایا جائے تو مکینوں کی شخصیت نہ صرف کرچی کرچی ہو جاتی ہے بلکہ دلوں میں نفرتیں جنم لینے لگتی ہیں۔ لہٰذا گھر کے سربراہ کی حیثیت سے مردوں پر گھر کے ماحول کو بہتر، پرسکون اور دوستانہ بنائے رکھنے کی برابر کی ذمہ داری ہے۔ جب تک گھر کے یونٹ سے بچوں میں اس صنفی تفریق کے خاتمے کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی، جب تک مائیں بچوں کے ذہن میں کچی عمروں سے ہی اس شعور کو اجاگر نہیں کریں گی کہ خواہ مرد ہو یا عورت، عزت و احترام کے حق دار ہیں، عورتوں کا بھی اس دنیا پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی مرد کا۔ سب سے بڑھ کر خواتین کے سلسلے میں اسلامی احکامات کی درست تعلیم عام نہیں کی جائے گی، یوں ہی گھروں کی چار دیواری سے عورت کے کراہنے کی آوازیں آتی رہیں گی اور کوئی بھی قانون یا بل خواتین کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
یسریٰ احسن

Leave a Reply