مسلم خواتین

پردہ اور میرے احساسات

صبغہ معظم

( فرسٹ ایئر عثمانیہ پبلک کالج، حیدر آباد)

میں نے حجاب کسی سے متاثر ہوکر کیا، نہ ہی والدین نے مجھ پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا، میں نے تو بس اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دسویں جماعت سے خود ہی نقاب شروع کر دیا۔ کیوں کہ میں اپنا شمار ان لڑکیوں میں کروانا چاہتی ہوں، جو رب کی پسند کے سانچے میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ اس دنیا میں جتنی بھی مقدس چیزیں ہیں۔ انہیں ایک پردے ہی میں رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کو ہم سب اپنے گھروں میں غلاف میں رکھتے ہیں۔ خانہ کعبہ کو غلاف سے ڈھکا گیا ہے، قیمتی پتھر اور نایاب موتی سیپ میں ہوتا ہے تو پھر ایک عورت، جسے ہمارے نبیﷺ نے نازک ترین چیز قرار دیا ہے، اس کو کیسے بے پردہ رکھا جاسکتا ہے۔ شروع شروع میں بہت ڈر بھی لگا کہ عبایا، نقاب کے استعمال سے زندگی اور تفریحات محدود ہوکر رہ جائیں گی۔ شادیوں اور دوسری تقریبات میں اس طرح لطف اندوز نہیں ہوسکوں گی، جیسے پہلے ہوا کرتی تھی۔ بہت سے لوگ میرے بارے میں یہ بھی سوچیں گے کہ ابھی سے نقاب کی کیا ضرورت تھی، ایسی کیا مجبوری ہوگئی۔ یہاں تک کہ مجھے لگتا کہ حجاب اوڑھ لینے کے بعد پوری دنیا ہی بدل جائے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ دنیا بدلتی ضرورت، لیکن بہت مثبت انداز سے۔ ہاں، البتہ کچھ مشکلات، مسائل بھی ضرور پیش آتے ہیں۔ جیسے آج کل کے ماحول میں شادیوں میں مرد و خواتین کے بیٹھنے کا زیادہ تر ایک ساتھ ہی انتظام ہوتا ہے، تو پوری تقریب میں نقاب ہی میں بیٹھنا پڑتا ہے، مگر پھر یہ سوچ کر دل کو طمانیت ہوتی ہے کہ اسی میں میرے رب کی رضا ہے۔ میرے خاندان میں بھی بعض اقارب نے ٹوکا کہ ’’ابھی سے اس طرح پردے دار ہونے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ لیکن جب ٹھان ہی لیا ہے، تو اب کسی صورت حجاب نہیں چھوڑ سکتی۔ اب تو مجھے لگتا ہے کہ جب ایک لڑکی نقاب میں ہوتی ہے، تو وہ نہ صرف اپنے آپ کو معاشرے کی بری نظروں سے محفوظ، بلکہ اپنے رب کے بہت قریب بھی پاتی ہے اور پھر اس طرح باحجاب ہوجانے سے میرے دل کو کم از کم یہ اطمینان تو ہے کہ اپنے رب کی ایک بات تو مان رہی ہوں۔

حجاب ایک عورت یا لڑکی سے اس کا حسن چھین نہیں لیتا، بلکہ اس کو وہ حسن بخشتا ہے، جو خالصتاً للہ کے لیے ہے اور اس کا حسن صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں، جن کو اللہ نے اجازت دی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لڑکی کو بصیرت عطا کرے۔ اس کے دل کی آنکھ کھول دے۔ وہ معاشرے کا رنگ اختیا رکرنے کی بجائے اپنے اللہ کا رنگ اختیار کرے اور اللہ کے رنگ سے اچھا کس کا رنگ ہوسکتا ہے۔

ربیعہ شکیل

(بی ایس ڈبلیو، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی)

’’حجاب‘‘ کا لفظ سنتے ہی نہ جانے کیوں میرے دل میں اطمینان اور شکر گزاری کی ایک لہر سی اٹھتی ہے۔ شاید اس لیے کہ حجاب ننھی کونپلوں کو ہر بری نظر سے بچانے کا ذریعہ ہی نہیں، ایک ایسا سایہ بھی ہے، جس کی چھاؤں میں حوا کی بیٹی اپنے آپ کو محفوظ ترین تصور کرتی ہے۔ رہی بات یہ کہ میں حجاب کیوں کرتی ہوں، تو جب سے میں نے پردے کی اہمیت، فوائد اور قرآنی آیات کو جانا اور سمجھا تب سے حجاب استعمال کرنا شروع کر دیا۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حجاب کا حکم اس رب عظیم نے دیا ہے، جو پوری کائنات کا مالک و خالق ہے۔ اور اس کا حکم ماننا، ایک مسلمان کے لیے افضل ترین عمل ہے۔ یوں تو اپنے اس فیصلے پر مجھے کسی قسم کے دباؤ یا مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، البتہ کبھی کبھار دل دکھانے والی کچھ ایسی باتیں ضرور سننے کو ملتی ہیں کہ جنہیں نظر انداز کرنا ہی بہتر رہتا ہے۔ بعض افراد، ڈاکٹر اور حجاب کو عجیب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں، لیکن حقیقتاً یہ ان لوگوں کی اپنی کم عقلی ہے۔ میں تو یہی سوچتی ہوں کہ جو کوئی بھی اپنے دین، رب کے احکامات اور پیارے نبیﷺ کے فرمان پر سر جھکا دیتا ہے اسے پھر ’’کیوں، کیا، کیسے‘‘ کی ضرورت نہیں رہتی کہ اللہ کے تو ہر حکم میں خیر ہی خیر ہے اور پھر یہ حجاب کبھی بھی کسی ترقییا کام یابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا کہ یہ تو معاشرے کو مہذب بنانے کا نہایت آسان ذریعہ ہے جب کہ دل کی خوشی کے لیے تو اتنا بھی کافی ہے کہ ’’جب رب راضی، تو سب راضی‘‘ حجاب کی وجہ سے مجھے کبھی بھی کسی مسئلے یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ میں تو یہ کہتی ہوں کہ حجاب نے مجھے وہ خود اعتمادی بخشی ہے، جس کا تصور حجاب کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔ یقین کریں جو احساس ممتا کی آغوش میں ہوتا ہے، ایسا ہی کچھ دلی سکون مجھے اس حجاب کو زیب تن کر کے بھی ملتا ہے۔

عاتکہ اظہر (کولکاتا)

اللہ پاک کو اپنے بندوں سے بے حد محبت ہے۔ مجھے ہمیشہ سے ایسا لگتا ہے کہ پردہ اللہ پاک کی مجھ سے محبت کی ایک نشانی ہے۔ اللہ پاک خود مخفی ہیں اور انہوں نے میرے لیے بھی اخفا کو پسند فرمایا۔ قرآن پاک میں آیت حجاب (سورۃ الاحزاب، آیت۵۹) میں اللہ پاک نے اس خوب صورتی سے اپنی اس محبت کا اظہار کیا کہ اس سے زیادہ دل موہ لینے والا اظہار محبت نہ ہوگا۔ جہاں تک بات ہے مشکلات اور مصائب کی، تو یقینا اللہ پاک سے محبت کا دعویٰ آسان تو نہیں ہے۔ کئی بار گرمی کا شدید موسم ستاتا ہے، تو کئی بار کسی کا طنز دل چیر دیتا ہے، تو کئی بار شیطان کی اکساہٹیں پریشان کر دیتی ہیں۔ لیکن ہر بار ایک خیال غالب رہتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے اور جب وہ مجھ پر نظر کرتا ہوگا، تو وہ نظر پیار بھری ہوتی ہوگی کہ میری بندی نے میری محبت میں خود کو ڈھانپ لیا ہے۔ شاید فرشتوں کو بتایا جاتا ہو کہ یہ مجھ سے محبت کرتی ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں اور زمین و آسمان اس کے گواہ بنتے ہوں۔ پھر ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنی محبت سے نوازیں۔ آمین

حفصہ اقبال

(ہمدرد یونیورسٹی، دہلی)

میں حجاب اپنے رب کی رضا و خوش نودی اور اپنی حیا، پاک دامنی اور شرم و لاج کی حفاظت کے لیے کرتی ہوں۔ اگرچہ میں نے حجاب کم عمری ہی سے اپنے اہل خانہ کی دیکھا دیکھی کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن تب مجھے اس کی اہمیت و افادیت کا کچھ خاص اندازہ نہ تھا۔ ابتدا میں بس اپنے لباس کا ہی ایک حصہ معلوم ہوا، مگر جوں جوں شعور آتا گیا، تو میری نظر میں حجاب و پردے کی اہمیت و توقیر بڑھتی چلی گئی۔ مجھے اپنا آپ بے حجاب خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ و پوتر محسوس ہونے لگا۔ ہر نگاہ بے محابا میری طرف اٹھتی، نہ دنیا کی حریص نگاہوں کے حصار میں آکر کبھی مجھے خود سے شرمندگی محسوس ہوتی۔ خاص طور پر میٹرک کے بعد جب انٹر کی کوچنگ کلاسز اور ایم ٹیک کی تیاری کے دوران ان مخلوط تعلیم کی مجبوری آن پڑی، تو مجھے احساس ہوا کہ میرا یہ حجاب، عبایا میری شناخت ہی نہیں، یہ تو وہ چھتنار سایا، گھنیری چھاؤں ہے، جو زمانے بھر کی دھوپ سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ میں اگر اپنے اللہ کے عطا کردہ اس رنگ میں نہ رنگی جاتی، تو نہ جانے خود کو دنیا کے کون کون سے رنگوں سے رنگنا پڑتا۔ اس پہناوے نے مجھے کہاں کہاں اور کیسے کیسے احساسِ تحفظ، عزت و وقار عطا کیا، میں گنوا بھی نہیں سکتی۔ نہ جانے کیوں کچھ لڑکیوں کو یہ اعزاز، بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ اب یونیورسٹی میں بھی کئی لڑکیاں مجھ سے سوال کرتی ہیں کہ ’’تم کیسے اتنے گھنٹے نقاب میں گزار دیتی ہو، تمہیں الجھن نہیں ہوتی؟‘‘ تو میں انہیں بھی یہی جواب دیتی ہوں کہ ’’ثواب کا کیا بوجھ، حکم کی تعمیل میں کیسی الجھن، وزن تو گناہ کا ہوتا ہے، بھاری تو حکم عدولی لگتی ہے۔ اپنے رب کی رضا پالینے میں تو سکون ہی سکون، اطمینان ہی اطمینان ہے۔ بندہ ایک بار اللہ کی راہ چننے کا فیصلہ کرلے تو مسافتوں کی سب مشکلات وہ خود دور کرتا ہے۔ راہ کے سب کانٹے بھی چنتا ہے اور ہاتھ پکڑ کر منزل تک بھی پہنچاتا ہے۔‘‘ تو جو لڑکیاں بھی حجاب کرنا چاہتی ہیں، لیکن کوئی فیصلہ کرنے سے گھبراتی ہیں، وہ اس بات کا یقین رکھیں کہ اگر ایک بار وہ صدق دل سے فیصلہ کرلیں گی، تو پھر اللہ رب العزت انہیں ان کے گمان سے بھی بڑھ کر آسانیاں، راحتیں عطا فرمائے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply