مسلم خواتین

عالمی یومِ حجاب

عورت کے لیے ’’حجاب‘‘ محض کپڑے کے ایک گز ٹکڑے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورے نظام اور تہذیب کی علامت ہے۔ عربی کا ایک مقولہ ہے: ’’النساء عماد البلاد۔‘‘ عورتیں تہذیبوں کی عمارت کا ستون ہیں۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ عورتیں ہی مایوسیوں میں امید کے چراغ روشن کرتی ہیں۔ اپنے خونِ جگر سے ایک بے جان لوتھڑے کو انسان بناتی ہیں۔ معاشرے میں عورت کے کردار ہی سے قومیں سربلند ہوتی ہیں کہ وہ ایک روشن مشعل کی مانند اندھیروں سے لڑبھڑ جانے کا حوصلہ رکھنے والی نسل تیار کرتی ہے۔ کبھی نہ بجھنے والے چراغ کی طرح راہ نمائی کرتی ہے اور اس کی صدا زندگی کا پیام بن کر اندھیری راہیں منور کرتی ہے اور اگر یہی عورت باحیا، باکردار اور باحجاب بھی ہو تو پھر تو کیا کہنے۔

اس ایک گز کے ٹکڑے نے سماج میں اتنا اہم مقام حاصل کرلیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی، پہلے اسے مسلم خواتین کی ذہنی پس ماندگی کی علامت قرار دیا جاتا رہا کہ اس بے چاری کو نہ زمانے کا شعور ہے، نہ جدید تقاضوں کا اتا پتا، نہ تعلیم ہے اور نہ سماجی مرتبہ، تو پردہ نہ کرے، تو کیا کرے؟؟ گھروں میں بند ہو کر نہ بیٹھے، تو کہاں جائے؟؟ پھر حجاب کو مسلمان مردوں کے جبر کی علامت بنا کر پیش کیا گیا کہ وہ بڑے تنگ نظر اور دقیانوسی سوچ کے حامل ہیں، انہیں عورت کو قید کر کے لطف آتا ہے۔ پھر حجاب کو ایک سیاسی بیانیے کے طور پر لیا گیا اور کہا گیا کہ حجاب کا معاملہ در اصل سیاسی اسلام کے پیروکاروں کا ابھارا ہوا شوشہ ہے۔ وہ خود انتہا پسندی کی علامت ہیں اور انہیں حجاب جیسی انتہا پسندی اچھی لگتی ہے۔ پھر اسے سیاسی بیانیے سے تہذیبی بیانیہ میں تبدیل کر دیا گیا کہ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے حجاب کو تہذیبی اور ثقافتی بیانیے میں ڈھال دیا ہے۔ لیکن آج یہی حجاب کا ٹکڑا آزادی، اختیار او رمسلمان عورت کے اعتماد سے بھرپور تفاخر اور مسلم شناخت کا احساس بن کر ابھر رہا ہے۔ پسماندگی سے عزت و افتخار تک کا یہ ارتقائی سفر بڑا حیرت انگیز ہے۔

اب جب کہ مسلم عورت ان تمام کیفیات سے نکل کر زمانے کے ساتھ چلنے لگی ہے، حجاب پہن کر عالمی کھیلوں کے مقابلے میں چمپئن بن رہی ہے، بیورو کریٹ اور وزیر بن رہی ہے، پائلٹ اور اعلیٰ درجہ کی تاجر ہوگئی تو حجاب کے خلاف سیاسی محاذ آرائی شروع کرتے ہوئے اس پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور ان تمام حالات نے مسلم عورت کو ایک اعتماد کی کیفیت اور عزم و حوصلہ سے ہم کنار کیا ہے۔ یہی نہیں خود مغربی دنیا میں پردہ غیر مسلم خواتین کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے اور وہ اسی میں اپنے لیے عزت و وقار محسوس کر رہی ہیں۔ ان میں کچھ اسلام قبول کرلیتی ہیں اور کچھ ایسی بھی ہیں جو اپنے آباء اجداد کے دین پر رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو حجاب میں ملبوس رکھنا پسند کر رہی ہیں۔

طالبان کی قید میں رہنے کے بعد مسلمان ہونے والی برطانوی صحافی، ایوان ریڈلی نے ایک کانفرنس میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کوئی شخص وال اسٹریٹ کے ایگزیکٹیو یا واشنگٹن کے کسی بینک کے اعلیٰ عہدے دار کو کہے کہ ٹی شرٹ اور جینز میں دفتر آئے۔ وہ آپ کو بتائے گا کہ اس کا بزنس سوٹ کام کے دوران اس کی شخصیت کا عکاس ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں۔ تو حجاب بھی مسلمان عورت کا بزنس سوٹ ہے اور یہ لباس اعلان کرتا ہے کہ میرے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جائے۔‘‘ ایوان نے مزید کہا کہ ’’عورتوں کے اختیار اور آزادی کا پیمانہ کیا ہے؟ ان کی اسکرٹ کی چھوٹائی یا یہ کہ جسم کو کس حد تک نمائش کے لیے عریاں کرنا ہے۔ یا کبھی عورتوں کو ان کے کردار، علم اور ذہانت کی بنا پر بھی پرکھا جائے گا۔‘‘ سخت افسوس کا مقام ہے کہ آج مغربی ثقافتی یلغار نے ہمارے معاشرے، ہماری تہذیب کی اصل علامت، دو پٹے ہی کو لباس سے غائب کر دیا ہے اور اس طرز کو ماڈرن ازم اور جدیدیت کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر دنیا بھر میں مسلم خواتین کی ایک کثیر تعداد، مشرق و مغرب کی نوجوان نسل بلا خوف و خطر، بڑے افتخار کے ساتھ اسی حجاب کو اپنا بھی رہی ہے کہ ہمارا حجاب محض ہمارا سر ہی نہیں ڈھانپتا بلکہ یہ ہماری، اپنے رب سے وفا کا علم بردار بھی ہے۔ یہ ہمارا سر فخر سے بلند رکھتا ہے کہ ہم اپنے رب اور اپنے رسولؐ کی اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

Leave a Reply