دنیا کا آخری بھوکا آدمی

ہم ایک پرتکلف دعوت سے لوٹ رہے تھے اور رات کے نو سوا نو بج رہے تھے۔ بازار میں زیادہ تر دکانیں بند ہوچکی تھیں۔ مگر بیکریوں، پان سگریٹ کے کھوکھوں، کھانے پینے کے اسٹالوں اور اوپن ایئر ریستورانوں پر ابھی تک رونق تھی۔ مجھے جمائیاں آرہی تھیں مگر وہ ابھی تک چوکس اور ترو تازہ تھی کیوں کہ اس نے خوب صورت لباس اور قیمتی زیور پہن رکھا تھا۔ گنجائش تو نہیں تھی لیکن آج کل شہر کے اس فیشن ایبل علاقے میں رات کو کاروں میں بیٹھ کر کھانا پینا، کھاتے پیتے لوگوں کا دستور ہے۔ خود کو اس طبقے میں شامل سمجھنے کے لیے ہمیں بھی یہ دستور نبھانا پڑتا ہے۔ میں نے اس کے لیے آئس کریم اور اپنے لیے کولڈڈرنگ منگائی۔ اب صرف پان کی گنجائش رہ گئی تھی۔ میں منگا بھی سکتا تھا مگر سوچا اسی بہانے ٹھل لوں گا۔ بیٹھے بیٹھے پیٹ میں ہوا بھر گئی تھی۔ میں پان لے کر لوٹا تو وہ تنکوں کی تین ٹوکریاں اٹھائے اس کے قریب کھڑا تھا۔ وہ منع کر رہی تھی اور وہ اصرار… میں نے کوئی دخل نہ دیا۔ ہوٹل کے لڑکے کو ٹپ دی اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔ بولی:

’’اسے کچھ دے دیں کہہ رہا ہے بھوکا ہوں۔‘‘

’’کوئی بھوکا ’’کا نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے ریورس گیئر لگایا۔ ’’سب مانگنے کے بہانے ہیں۔‘‘

گاڑی ریورس ہوئی۔ وہ پریشان ہوکر بولی۔

وہ رو رہا ہے۔ ’’کون رو رہا ہے؟‘‘

میں نے ایک نظر اسے دیکھا۔ وہ ٹوکریاں زمین پر رکھے ننھے بچوں کی طرح روتے ہوئے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔

’’بڑے مکار ہوتے ہیں یہ… فریبی۔‘‘

میں نے یہ الفاظ نسبتاً بلند آواز مگر کھوکھلے لہجے میں کہے کیوں کہ میں خود کو ڈھارس دینا چاہتا تھا۔ ورنہ سچی بات یہ ہے کہ پچپن ساٹھ برس کے ایک بزرگ صورت شخص کو اس طرح بلکتے دیکھ کر میرے اندر بہت کچھ آپ ہی آپ ٹوٹ گیا تھا۔ میں اسے کچھ دے سکتا تھا۔ دینا چاہتا تھا لیکن اب گاڑی سڑک پر آچکی تھی۔ آگے پیچھے بھاری ٹریفک تھا۔ پھر وہ کیا سوچتی میں اندر سے اتنا کمزور اور زود پشیماں ہوں؟ لیکن گھر پہنچتے پہنچتے مجھے لگا زار و قطار روتا وہ بوڑھا میرے ذہن سے چپک کر میرے ساتھ ہی چلا آیا ہے۔

میں نے کپڑے تبدیل کیے اور ٹیلی ویژن کھولا مگر بند کر دیا۔ کتاب لے کر لیٹا مگر پڑھنے میں جی نہ لگا۔ بار بار بوڑھے کا آنسوؤں سے تر چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا۔ کاش میں نے اسے روپیہ دو روپیہ دے دیا ہوتا۔ یہ الجھن تو نہ ہوتی۔ روپے … جس کا میں نے پان چبا کر تھوک دیا تھا جسے میں سگریٹ کی صورت پھونک رہا تھا۔ جس کی قیمت کا سوڈا واٹر میں بوتل میں چھوڑ آیا تھا اور روپے … جو میں نے ہوٹل کے لڑکے کو ٹپ میں دے دیے تھے۔

کبھی خود پر غصہ آتا کبھی بوڑھے پر… طرح طرح سے جی کو بہلانے کی کوشش کی کہ ضرور اس کا تعلق پیشہ ور بھکاریوں کے کسی گروہ سے ہوگا اور اب تک اس کی اپنی گاڑی اسے لینے آگئی ہوگی بلکہ اب تک وہ اپنے ڈیرے پر پہنچ کر دن بھر کی کمائی کا حساب لے یا دے رہا ہوگا۔ کیا پتہ وہ اس وقت کسی ریستوران میں بیٹھ کر چکن تکہ یا کڑاہی گوشت کھا رہا ہو یا چرس بھرے سگریٹوں کے کش لگا رہا ہو۔ لیکن دوسرے دن لمحے آنسوؤں سے دھلا ہوا اس کا معصوم اور نڈھال چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا اور میں پریشان ہو جاتا۔

پریشانی سے بچنے کی صرف ایک صورت تھی کہ میں واپس جاؤں اور اگر وہ بھوکا ہے تو اسے کھانے کے لیے کچھ پیسے دے آؤں یا اگر وہ کڑاہی گوشت کھا، یا سگریٹ پھونک رہا ہے تو اس پر لعنت بھیج کر واپس آجاؤں اور مطمئن ہوکر سو جاؤں لیکن میں اپنی ہر کمزوری اس سے چھپاتا رہا۔ اس لیے میں نے کسی ضروری کام کا بہانہ کیا اور گیراج سے گاڑی نکال کر بازار کی طرف روانہ ہوگیا۔

جونہی میں گلی کا موڑ مڑ کر سڑک پر آیا مجھے دور پہاڑوں میں واقع اس کا چھوٹا سا گھر دکھائی دینے لگا جہاں اس کی بیمار بیوی کھاٹ پر لیٹی کھانس رہی تھی اور زرد رو بیٹی بیٹھی تنکوں کی ٹوکری بنا رہی تھی۔ اس کی بیٹی کو اپنے کام میں بڑی مہارت ہے اور اسے اپنی بنائی ہوئی ٹوکریوں پر بڑا ناز ہے مگر اسے شکایت ہے کہ قصبے کا دکان دار اچھے دام نہیں دیتا وہ ہر بار بابا سے کہتی ہے کہ وہ ٹوکریاں شہر لے جاکر بیچے اور دیکھے کہ بیگمات ٹوکریاں دیکھنے کے لیے کاریں روک لیں گی اور ہاتھوں ہاتھ خرید لیں گی۔ پھر وہ بیوی کی دوائی، بیٹی کے کپڑے اور بکری کی گانی خرید کر بس میں سوار ہوگا اور اپنے گھر واپس چلا جائے گا۔ مگر آج تیسرا روز ہے اور اس کی ایک بھی ٹوکری فروخت نہیں ہوئی۔ شاید ان کا فیشن ختم ہوگیا ہے یا ڈیزائن پرانے ہوگئے ہیں۔ وہ سڑکوں اور بازاروں میں ٹوکریاں اٹھائے بھوکا پیاسا مارا مارا پھرتا ہے۔

میں نے بازار کے اس حصے میں جہاں تھوڑی دیر پہلے اسے روتا چھوڑ گیاتھا، پہنچ کر گاڑی روکی۔ ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔ میرا خیال تھا کہ وہ یہیںکہیںآتی جاتی کاروں کے گرد منڈلاتا ہوگا لیکن وہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ میرے دل کو دھچکا سا لگا۔ میری پشیمانی کیسے دور ہوگی۔ میں نے بازار میں گھوم پھر کر اسے تلاش کرنا شروع کر دیا لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ وہ ضرور چھپ کر کسی ریستوران میں کھا پی رہا ہوگا۔ اگر میں اسے کھاتے پیتے دیکھ لوں تو مجھے کس قدر سکون ملے۔ دل میں چبھی ہوئی پھانس نکل جائے۔

ہوٹلوں اور ریستورانوں میں طرح طرح کے لوگ بیٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ کر رہے تھے۔ میرے ذہن میں اس کی پوری شکل نہیں تھی لیکن اتنا ضرور یاد تھا کہ اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی سفید داڑھی تھی اور وہ پچپن ساٹھ برس کا ایک دیہاتی بوڑھا تھا جس کے پاس تین ٹوکریاں تھیں۔ میں نے ایک ایک ہوٹل میں جاکر اسے تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہ ملا۔ کئی بار ارادہ کیا کہ لوٹ جاؤں مگر مجھے اپنی طبیعت کا حال معلوم تھا۔ ذرا سی الجھن بھی ہو تو جب تک اس پر قابو نہ پالوں یا اس کا حل نہ سوچ لوں چین نہیں آتا۔ میں نے اسے فٹ پاتھوں اور ملحقہ پارکوں میں سوئے یا سوتے جاگتے آدمیوں میں تلاش کیا۔ پھر قریبی مسجدوں میں جاکر دیکھا۔ رات کے بارہ بج گئے مگر اس کا کہیں دور دور تک پتہ نہ تھا۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ ناکام واپس آؤں اور رات بھر بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہوں۔ تو کیا وہ سچ مچ بھوکا تھا۔ بغیر کچھ کھائے پئے سو گیا۔ سویا کہاں ہوگا۔ خالی پیٹ نیند کہاں آتی ہے۔ بھرے پرے شہر میں بھوکا رہ کر وہ کیا سوچتا ہوگا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ لذیذ کیک پیسٹڑیوں سے بھری بیکریوں، خوش ذائقہ مٹھائیوں سے اٹی دکانوں، اناج سے بھرے گوداموں اور رنگا رنگ پھلوں سے آراستہ فروٹ شاپس کے سامنے یا کہیں آس پاس آدمی بھوکا پڑا رہے۔

رات بھر عجیب واہیات اور مکروہ خواب دکھائی دیتے رہے۔ کبھی میں دیکھتا، میں جس شخص کی برائیاں بیان کر رہا ہوں وہ عین میرے پیچھے کھڑا سن رہا ہے۔ کبھی دیکھتا کہ میں نے ایک بچے سے ٹافی چھین کر ہڑپ کرلی ہے اور وہ میرے سامنے زار و قطار رو رہا ہے۔ بار بار آنکھ کھلتی رہی۔ عجیب ندامت بھری رات تھی۔

صبح دفتر جاتے ہوئے میں نے بازار کا ایک لمبا چکر لگایا۔ فٹ پاتھوں، دکانوں کے تھڑوں اور ملحقہ پارکوں پر نظر دوڑائی۔ دفتر میں بھی بار بار مجھے اس کا خیال آتا رہا۔ دفتر سے واپسی پر بھی میں نے اس خیال سے بازار کا چکر لگایا کہ شاید وہ کہیں دکھائی دے جائے اور میں اسے روپے دو روپے دے کر اس خلش سے نجات حاصل کرسکوں جو مجھے گزشتہ شب سے اندر ہی اندر بے چین کر رہی تھی۔ لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ تاہم مجھے توقع تھی کہ شام کے بعد وہ ضرور اسی جگہ مل جائے گا جہاں اس سے ملاقات ہوئی تھی۔

میں نے شام ہونے کا بیتابی سے انتظار کیا اور کھانا کھائے بغیر ٹہلنے کے بہانے بازار کی طرف چل دیا۔ میں بڑی دیر تک ادھر ادھر گھومتا رہا۔ تھوڑے تھوڑے قفوں کے بعد گزشتہ رات والی جگہ کا چکر لگایا مگر وہ نہ ملا۔ مجھے اس پر غصہ آنے لگا۔ بدبخت تیری اتنی عمر گزر گئی لیکن تجھے خبر نہ ہوئی کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ آخر تو اتنا عرصہ کیا کرتا رہا کہ اس زمانے میں بھی بھوکا سوتا ہے جب اس موضوع پر شاعر نظمیں کہنا اور افسانہ نگار کہانیاں لکھنا ترک کرچکے ہیں۔ تیری زندگی میں کتنے ملک آزاد ہوئے، کتنی نئی قومیں اور ملک معرض وجود میں آئے۔ کیا کیا ایجادات ہوئیں، کتنے علمی اور سائنسی انکشاف ہوئے، ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کیا۔ کلرک وزیر سفیر اور سپاہی جرنیل کرنیل بن گئے، دینو چپراسی کا لڑکا پٹواری بن گیا۔ رحمو نائی کا بیٹا کلاس ون افسر لگ گیا۔ وسیم خان راج گیری کرتا تھا اب اے کیٹگری گورنمنٹ کنٹریکٹر ہے۔ جمیل صاحب پروف ریڈنگ کرتے تھے اب پرنٹنگ پریس کے مالک ہیں۔ بشیر اریڑھی لگاتا تھا۔ اب ہول سیل فروٹ مرچنٹ ہے۔ بدبخت بوڑھے صرف تو رہ گیا۔ اتنی تبدیلیاں آئیں اور تجھے خبر ہی نہ ہوئی۔ ٹھیکے، پرمٹ، لائسنس، نیلام، لاٹریاں، الاٹمنٹیں، وظیفے۔ پتہ نہیں تو کس کھوہ میں چھپا رہ گیا۔ تونے اپنے پہاڑوں سے اتر کر کبھی دیکھا ہی نہیں۔ تونے دھوپ میں بال سفید کیے، ساری دنیا آگے نکل گئی صرف تو پیچھے رہ گیا۔ میرا سکون غارت کرنے کے لیے۔ لیکن تم اگر بھوک سے مرتے ہو تو مرو میری بلا سے۔ میری کیا ذمہ داری ہے اور کیا میری اکیلے کی ذمہ داری ہے۔ میں نے اسے اگلے روز اور اس سے اگلے روز بھی تلاش کیا۔ یقینا وہ اپنے گھر واپس چلا گیا ہوگا۔ یہ سوچ کر میں دل کو تسلی دینا چاہتا تھا لیکن ایک بوجھ سا تھا جو میں ہر وقت دل پر لیے پھرتا تھا۔ ایک بے کلی سی تھی۔ ایک خلش تھی جو مجھے بے چین کرتی رہتی تھی۔

پھر ایک روز میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی۔ ایک نامعلوم بوڑھا بس کے نیچے آکر کچلا گیا تھا اور حالاں کہ خبر میں ٹوکریوں کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن میں نے یہ یقین کرلینے میں عافیت سمجھی کہ وہ وہی بوڑھا تھا۔ مجھے دکھ ضرور ہوا لیکن اس رات میں چین اور سکون کی نیند سویا جیسے آخری بھوکا آدمی دنیا سے اٹھ گیا ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منشا یاد

Leave a Reply