دوسرا رخ

ایک پرسکون ازدواجی زندگی، ایک ہنستا بستا گھر صرف عورت ہی کی نہیں بلکہ مرد کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ جنت میں آدم و حوا ساتھ تھے، جنت سے آدم و حوا ساتھ نکالے گئے تھے تو کسی ایک کی نہیں بلکہ دونوں ہی کی جنت چھوٹی تھی۔ اور تب سے آج تک ابن آدم اور بنت حوادونوں ہی جنت جیسے سکون و آرام کی چاہ میں ہیں۔ ابن آدم حوروں والی خوب صورتی ڈھونڈتا ہے تو بنت حوا اپنی غلطی فوراً مان لینے والے آدم کو ڈھونڈتی ہے۔ مگر دونوں ہی بھول جاتے ہیں کہ وہ جنت تھی اور یہ دنیا ہے۔ اللہ نے جنت جیسے سکون کا ایک بڑا حصہ گھر میں رکھا ہے۔ گھر جسے مرد و عورت دونوں مل کر بناتے ہیں۔ بس فرق خالق کی اس فطری تخلیق کا ہے کہ اس نے عورت میں لچک زیادہ رکھی ہے۔

لیکن آج بھی شیطان ان کے سکون و محبت کی تاک میں روز اول کی طرح ہے اور آج بھی وہ ابن آدم اور بنتِ حوا کو ان کی جنتوں سے نکالنے کی اتنی ہی کوششیں کرتا ہے اور افسوس کہ روز اول ہی کی طرح کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔ بے شمار ابن آدم اور بنت حوا اپنی جنتوں سے نکل نکل جاتے ہیں، غلطی کس کی ہے؟ کہاں ہے؟ یہ ایک طویل گفتگو ہے اور یہ داستانِ غم میں ابھی چھیڑنا نہیں چاہتی۔

مجھے تو بس تصویر کے دو رخ آپ کے سامنے رکھنے ہیں اور آپ کو انھیں آئینہ سمجھ کر ان میں اپنا عکس تلاش کرنا ہے۔ اپنے عمل اور خیالات کو تبدیل کرنا ہے یہ کام کوئی اور نہیں کرسکتا صرف آپ کرسکتے ہیں اس لیے کیجیے!

اور میری مانیں تو مثبت رخ پر غور کریں، عمل کریں اور ایک ایسا حصار اپنے گرد بنائیں کہ شیطان کا ہر وار خالی جائے۔ اب اگر آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ محبت اتنی نہیں ہے، بس ایک تعلق ہے جسے نبھایا جا رہا ہے تو واقعہ یہ ہے کہ:’’ایک شخص اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے چھوڑنا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا تو اس کے جواب میں سیدنا حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا تھا:

’’کیا ضروری ہے کہ ہر گھر کی بنیاد محبت پر ہی ہو؟ تو پھر وفاداری اور قدر دانی کا کیا؟‘‘

میں نے کہیں پڑھا ہے کہ ضروری تو نہیں کہ میاں بیوی میں لازمی محبت ہو، ان کے درمیان مودت اور مرحمت ہونی چاہیے، مودت کہتے ہیں الفت کو، اٹیچ ہونے کو، دوستی ہو جانے کو، اور مرحمت ہوتی ہے ایک دوسرے سے ہمدردی Compossion خیال رکھنا، احساس کرنا ایک دوسرے کا۔ خیر فیصلہ تو آپ کے ہاتھ میں…!!

ویسے میں بتاؤں آپ کو ایک راز کی بات: اگر شوہر اور بیوی کے تعلق میں مودت اور مرحمت ہو تو محبت خود ہی ہوچکی ہے کوئی آپ کا احساس کرے، آپ کا خیال رکھے، آپ کی سائیڈ پر رہے اور ان سب کے بعد بھی آپ کو محبت نہ ہو تو مان لیجیے کہ آپ کے سینے میں سب کچھ ہوسکتا ہے مگر وہ دل نہیں ہوسکتا…! اور آپ اگر اس پر بضد ہی ہیں کہ آپ ایک عدد دل رکھتے ہیں تو یقین کیجیے پھر وہ جذبات سے عاری ہوگا…!

اوہ اللہ! یہ کیا؟ میں تو بس اپنی ہی کہے جا رہی ہوں کوئی ان کی بھی تو سنے اور سچ تو یہ ہے کہ میں ان کی بات ہی آپ تک پہنچانے والی تھی مگر وہی پیچیدہ عادت کہ بات کسی کی کسی تک پہنچانا ہو تو پہلے اپنی بات، اپنا Opinion پھر بات آگے بڑھے گی تو لیجیے دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے۔ [خود ساختہ دکھی لوگوں سے معذرت کے ساتھ]

٭٭

میں ایک عورت ہوں۔

اس سے زیادہ مناسب ترین الفاظ میں کہوں تو ایک بیوی ہوں!

ایک باندی ہوں اور میری اس باندی نما بیوی قسم کی زندگی کا آغاز اس ’’قبول ہے‘‘ کے دو الفاظ سے ہوا اور تین لفظوں کے ڈر (طلاق) سے اب تک نبھ رہا ہے۔ عورت اپنی زندگی میں جتنے کردار نبھاتی ہے ان میں سب سے آزمائشی کردار ہوتا ہے بیوی کا۔ نکاح کے وقت کہے گئے وہ دو جملے اس کی ساری زندگی پر محیط ہوجاتے ہیں۔

اور اب اس کی ساری زندگی اس ’’قبول ہے‘‘ کے گرد ہی گھومتی ہے اور ’قبول ہے‘ کی گردان ضرورت بن جاتی ہے۔ جہاں کہیں وہ قبول ہے کی گردان کو چھوڑ کر کوئی اعتراض کر بیٹھتی ہے وہیں سے مسائل شروع ہونے لگتے ہیں۔ ساس کی ہر بات ’قبول ہے‘۔۔۔! نند کا ہر طعنہ ’قبول ہے‘۔۔۔! اور دیگر ہر سسرالی رشتہ دار کا ہر مطالبہ ’قبول ہے۔۔۔!

شوہر کے سامنے تو ویسے بھی قبول ہے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا کہ اس رشتہ کا آغاز ہی ’قبول ہے‘ سے ہوا تھا۔ مظلومیت سی مظلومیت ہے… اب دیکھیں کہ دن رات گھر کو سجانے، سنوارنے میں خود کو تھکا ڈالو، شوہر کے گھر اور اس کے گھر والوں کو سنبھالو اور پھر شوہر کا غصہ اور طعنہ بھی برداشت کرو۔ بجائے اس کے کہ وہ دو الفاظ تعریف کے کہے تضحیک کے کہتا ہے… مجھے تو لگتا ہے انھیں قبول ہے کہہ کر میں نے ایک مسلسل عذاب دیتی زندگی کو ’قبول ہے‘ کہا ہو… ہوں!

بس جیسے تیسے کٹ رہی ہے، انھیں تو میرے حقوق کا، خود کے فرائض کا کوئی احساس ہی نہیں ہے… میں کیا چاہتی ہوں؟ میری کیا مرضی ہے؟ میری کیا خواہش ہے ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں… ہر وقت کی چخ چخ نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ہر وقت ماں، بہنوں میں گھسے پڑے رہتے ہیں، بیوی تو زر خریدی غلام ہے نا! مگر اب کیا کریں، برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ زندگی اگر زہر ہے تو پینا ہی پڑے گا اور یہ سب تو بائی چوائس ہی تھا نا! ان سے اچھے اچھے رشتے تھے میرے لیے مگر پتا نہیں ان میں ایسا کیا نظر آگیا تھا امی ابا کو…

یہ جیسا سلوک میرے ساتھ کرتے ہیں اگر کسی دوسری عورت کے ساتھ کر رہے ہوتے نا تو کب کا چھوڑ چکی ہوتی انھیں… مگر ہم ایسا نہیں کرسکتے نا! عزت دار، خاندانی گھر سے ہوں سو نبھا رہی ہوں… خیر یہاں تک تو جیسے تیسے کٹ گئی آگے بھی کٹ ہی جائے گی مگر سچ کہوں تو بہت بیزار ہو گئی میں اس زندگی سے…!! اس آدمی نے کبھی کچھ خیر نہ کیا میرے ساتھ…

اوہ…! اوہ قارئین (بالخصوص خواتین) آپ کی تو آنکھیں نم لگ رہی ہیں… یہ کیا آپ تو جذباتی ہوگئیں… اس جیسی تھوڑا کم، تھوڑا زیادہ ملتی جلتی سوچیں کہیں آپ کے ذہن میں بھی تو نہیں!

خیر یاد ہے آپ کو میں نے آپ کو تصویر کے دوسرے رخ پر زیادہ غور کرنے کے لیے کہا تھا… جی جی … بس وہی یاد دلانے کے لیے انڑی لی تھی اب آپ دوسرا رخ دیکھئے اور بتائیے گا ضرور کہ سکون کہاں ہے؟

٭٭

میں ایک بیوی ہوں…

جی… وہ کیا ہے نا در اصل ایک عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہوتا ہے تو میں اپنا سب سے مناسب تعارف بطور بیوی ہی سمجھتی ہوں… جی ہاں میری زندگی کے اس اہم ترین مرحلے کا آغاز ’قبول ہے‘ کے ساتھ ہی ہوا اور یہ الفاظ میں نے دل میں یہ سوچ کر ادا کیے کہ یہ جواب میرا شوہر ہے تمام خوبیوں اور خامیوں سمیت مجھے قبول ہے… جو اسے نا پسند ہے اس سے دوری مجھے قبول ہے… سچ تو یہ ہے کہ گھر کے بننے بگڑنے کا دار و مدار بیوی کے طرزِ عمل پر ہی ہوتا ہے۔ میری بھی تمنا ہے کہ میرا ایک ہنستا بستا گھر ہو، رحمتوں کا نزول ہو تو پھر میں اس کے لیے کوشش کیوں نہ کروں؟

عورت پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کا ہے تو پھر کیوں نہ میں اپنے شوہر کی مدد کروں، اس حق کو ادا کرنے میں… اس سے جڑے ہر رشتہ کو عزت و محبت دوں… اگر کسی منفی رویے یا منفی سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو کیوں نہ میں اپنی برداشت کو سمندر کی طرح وسیع کرلوں کہ یہ رویے، طعنے اس میں گم ہوجائیں…! ایک اتنا پاکیزہ رشتہ جو اللہ کو حاضر و ناظر جان کر قبول کیا جائے وہ اتنا کمزور تو نہ ہو کہ معمولی باتوں سے ٹوٹ جائے اور نہ ہی ایسا ہو کہ بوجھ سمجھ کر برداشت کیا جائے، عذاب سمجھ کر جھیلا جائے اور قابلِ رحم بنا دیا جائے… ہاں بھئی…! مزاجوں میں بہت فرق ہوتا ہے…کبھی کبھی غلط بات پر بھی خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے مگر فرق کسے پڑتا ہے؟ مجھے تو نہیں پڑتا… پڑنا بھی نہیں چاہیے… دنیا میں عورت کا سب سے بڑا محسن اس کا شوہر ہی تو ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے، زمانے کے سرد و گرم سے بچاتا ہے، اس کی دل جوئی کرتا ہے، ضروریات فراہم کرتا ہے، ہر طرح سے آرام پہنچاتا ہے… اب اس کے بعد اگر کچھ برداشت کرنا پڑے تو کیا حرج! بلکہ شوہر کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

میں نے کہیںپڑھا تھا اور صرف پڑھا ہی نہیں بلکہ اسے جذب بھی کرلیا تھا کہ بات بالکل مناسب اور صد فیصد درست تھی آپ کو بھی بتاتی چلوں … وہ یہ کہ: ’’عورت کو شوہر کے یہاں قدم رکھتے ہی یہ طے کرلینا چاہیے کہ مجھے آخری دم تک اپنی زندگی اپنے شوہر کے ساتھ گزارنی ہے جس کو خدا نے میری رفاقت کے لیے منتخب کیا ہے۔ اب اس کی عزت میری عزت ہے، اس کا گھر میرا گھر ہے، اس کا مال میرا مال ہے، اس کا بننا میرا بننا ہے، اور اس کا بگڑنا میرا بگڑنا ہے۔

شادی کے بعد جو عورتیں شوہر کے گھر کو اپنا گھر نہیں سمجھتیں اور اپنی ساری دلچسپیاں، بدستور ماں باپ کے گھر سے وابستہ رکھتی ہیں وہ انتہائی نادان اور ناسمجھ ہیں۔‘‘

ہے نا بڑی خوب صورت سی بات… میں نے تو گرہ باندھ لی تھی یہ بات… بات در اصل یہ ہے کہ شوہر کی نظر میں وہی بیوی قابل قدر ہوتی ہے جو شوہر کو دوسروں کا احسان مند بنانے کے بجائے دوسروں کی نظر میں شوہر کی قیمت بڑھائے، جو کچھ شوہر لائے اس کی قدر کرے اور صبر و قناعت کے ساتھ گزارہ کرے…

اوہ! میں تو بہت کچھ کہہ گئی مگر کیا کروں؟ یہ رشتہ ہی اتنا خوب صورت ہے کہ جتنا کہوں کم ہے اور اتنا ہی نازک ہے کہ جتنا سمجھاؤں اور بتاؤں کم ہے… الحمد للہ! زندگی بہت خوب صورتی سے گزر رہی ہے، میں اپنے تمام فرائض و حقوق بہتر سے بہتر طور پر ادا کرنے کی کوشش کرتی ہوں… میرے حقوق میں کبھی ان سے کچھ کمی ہوجائے، ان کا رویہ تھوڑا غیر مناسب ہو جائے تو بھی نظر انداز کردیتی ہوں… اور ہاں زندگی میں زندگی لگتی ہے اور مشکلات کا کیا؟ وہ تو زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ لڑکی کے لیے شادی کے بعد کی زندگی آزمائش ہوتی ہے تو پھر آزمائشوں میں پورا اترنا مومنانہ صفت ہے اور ہم صبر و برداشت، اطاعت اور اللہ پر توکل کے ساتھ رہیں تو پھر آزمائش رحمت بن جاتی ہے اب یہ ہم پر منحصر کرتا ہے نا کہ آزمائش عذاب بنے گی یا ثواب!

تو قارئین یہ سکّہ جس کے دو رخ ہیں اس میں صرف عورت یعنی … بیوی کے علاوہ جناب مرد حضرات …یعنی شوہر بھی تو ہے اور بڑی بے صبری سے اپنی بات کہنے کا انتظار کر رہے ہیں… آپ کو بھی انتظار کرنا ہوگا اگلے ماہ تک کا…! مگر امید کرتی ہوں کہ آپ ان باتوں پر سوچیں گے ضرور…!!جزاک اللہ خیرlll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

Leave a Reply