مِسلے کی دال

ہمارے کالج کی دیوالی کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ چھٹیاں صرف بیس دنوں کے لیے تھیں جس میں دس دن کا اضافہ طلباء نے اپنے تئیں خود ہی کرلیا تھا۔ میں اس سے ذرا بھی متفق نہیں تھی کیوں کہ کالج جانا پھر گھر کی مصروفیت میں دن کدھر گزرتا پتہ ہی نہیں چلتا تھا لیکن کلاس کے سارے اسٹوڈنٹس کی ایماء پر کلاس ریپریزنیٹیٹو نے کامن آف کا اعلان کر دیا تھا۔

ایک مہینہ کی بھی بھلا کوئی چھٹی کرتا ہے کالج سے۔‘‘

میں سخت جھنجھلائی ہوئی تھی۔

’’ایک مہینہ کی نہیں ڈیئر ہم صرف دس دنوں کی چھٹی مار رہے ہیں۔‘‘

شردّھا نے میرے گال پر چٹکی لے کر اپنے مخصوص انداز میں کہا۔

’’وہی مطلب ہوتا ہے۔‘‘ میں نے چڑ کر اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ ہائے اب ایک ماہ بغیر کالج کے کیسے گزرے گا!!‘‘

میں نے آہ بھری تھی۔

اور اب چھٹیاں ویسے ہی گزر رہی تھیں جیسا میں نے اندازہ لگایا تھا۔ ایک دم بور لمبی اور بیزار کن۔

کچن سے فارغ ہوکر میں نے وقت دیکھا بارہ بج رہے تھے اور اب شام پانچ بجے تک مجھے کوئی کام نہ تھا۔ میں نے سائڈ ٹیبل پر پڑا رسالہ اٹھایا۔ تازہ شمارہ تھا اور کچھ دیر پہلے امی اس کا مطالعہ کر رہی تھیں۔ کہیں صوفے پر آرام دہ حالت میں بیٹھ کر ورق گردانی کرنے لگی۔ (آخر کچھ تو کرنا ہی تھا)۔

پہلا جو افسانہ پڑھا اس میں ہیروئن کا شادی سے پہلے ایک آئیڈیل ہوتا ہے مگر شومئی قسمت جہاں اس کی شادی ہوتی ہے وہ عام سی شکل و صورت کا شخص اس کے تراشیدہ آئیڈیل کے خاکے پر پورا نہیں اترتا۔ بالآخر وہ فرینڈ سے دوستی کی پینگیں بڑھا کر شوہر سے بے وفائی کی مرتکب ہو جاتی ہے۔

مجھے افسانہ کچھ خاص پسند نہیں آیا تحریر تو ایسی ہونی چاہیے جس میں زندگی کا کوئی سبق ملے کوئی پیغام ہو کچھ عبرت ہو۔

منہ بنا کر میں نے دوسرا ناولٹ شروع کیا۔

اس میں ہیروئن اپنے تایا زاد کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے جب کہ ہیرو، ہیروئن کی چھوٹی بہن میں دلچسپی رکھتا ہے اور جب ہیرو کی منگنی ہیروئن کی بہن سے طے ہوجاتی ہے تو ہیروئن مارے غم و غصے کے اپنی کلائی کاٹ بیٹھتی ہے۔

’’لاحول ولاقوۃ‘‘

میں جی بھر کے بدمزہ ہوئی۔ خود کشی تو حرام ہے جانے رائٹر صاحبہ نے اس ناولٹ کے ذریعے کیا پیغام پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ محترمہ تمام لڑکیوں کو یہ سبق دینا چاہ رہی تھیں کہ اگر من چاہا شوہر نہ ملا تو زندگی کس کام کی؟ فوراً خود کو ہلاک کر دینا چاہیے۔

میں نے جھرجھری لے کر تیسرا ناولٹ شروع کیا۔

جوائنٹ فیملی سسٹم، کہانی کی ابتداء میں ہی میں سمجھ گئی کہ شادی آپس میں ہی ہونے والی ہے۔ فضول رسموں کی بے جا منظر کشی، کزنز کی آپس میں فحش چھیڑ چھاڑ، بے سروپا گفتگو، بے مقصد مباحثے، چلئے یہ سب بھی قبول لیکن مجھے ناولٹ کے ہیرو پر سخت اعتراض تھا۔ ہیرو کو تو ہینڈ سم ہونے کے ساتھ ساتھ غیرت مند، جرأت مند، ذہین و فطین، بہادر اور سلجھا ہوا ہونا چاہیے لیکن اس کہانی کا ہیرو عجیب چھچھورا، باتونی اور فلرٹی تھا (پھر بھی ’’ہیرو‘‘ تھا) اور اس وقت تو حد ہی ہوگئی جب اپنی چچا زاد بہن (ہیروئن) کو کچن میں اکیلے چائے بناتا پاکر اس نے اس کی کمر میں بانہیں ڈال کر کے رومانٹک ڈآئیلاگ بولنے شروع کر دیے۔ ہیروئن کے حسن کا تذکرہ اس کی نازک کمر پر ناگن سی بل کھاتی چٹیا، اس کے ملبوس سے اٹھتی مسحور کن خوشبو، پورے سین کا کافی تفصیلی بیان تھا۔

میرے ماتھے سے پسینہ پھوٹ نکلا۔ (ہیروئن کی پیشانی بھی عرق آلود ہوگئی تھی)۔

تبھی فون کی زور دار بیل پر میں اس قدر بوکھلائی کہ رسالہ ہاتھ سے چھوٹے چھوٹتے بچا۔

سانسیں ہموار کر کے میں نے ریسور اٹھایا فون کٹ چکا تھا۔ ریسیور رکھ کر میں نے پھر رسالہ اٹھا لیا لیکن اب اس فضول افسانے کو پڑھنے میں مجھے کوئی انٹریسٹ نہیں تھا اسے ادھورا چھوڑ کر میں نے اگلا افسانہ شروع کر دیا۔

اس میں ہیروئن بے چاری یتیم ہوتی ہے اور بیوہ ماں کے ساتھ ننھیال میں رہتی ہے جہاں نانی کے انتقال کے بعد اس کی ممانیاں اس پر اور اس کی ماں پر ظلم کی انتہا کر دیتی ہیں۔ نوکرانیوں کی طرح کام لیتی ہیں۔ پھر کئی سال بعد بڑے ماموں کا بیٹا لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے لوٹتا ہے اور ہیروئن سے شادی کرلیتا ہے۔

یہاں تک تو کہانی مجھے کچھ کچھ پسند آئی تھی لیکن پھر کہانی ایک ایسا نیا موڑ لیتی ہے جس نے میری تیوریوں پر بل ڈال دیے۔

کیوں کہ اس کہانی میں آگے چل کر ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ہیرو کی بڑی بہن بھی بیوگی کی چادر اوڑھ کر ننھی بچی کے ساتھ میکے کی دہلیز پہ آبیٹھتی ہے تب ہیروئن اپنی نند اور اس کی معصوم بچی پر وہی ظلم دہراتی ہے جو اس نے سہا تھا۔ اس طرح وہ اپنا انتقام لیتی ہے۔ ادھر کہانی ختم ادھر میرا ضبط بھی ختم۔

میں نے بے حد ناگواری سے رسالہ سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیا۔ یہ آج کل ہماری رائٹرز کو کیا ہوگیا تھا۔ کس طرح کا ادب تخلیق کیا جانے لگا تھا؟؟ ہم سے تو کہا جاتا ہے کہ موبائل و انٹرنیٹ کا پیچھا چھوڑ کر ٹی وی مت دیکھو، بلکہ مطالعہ کرو کیوں کہ مطالعہ روح کی غذا ہے اس کی تسکین کا سامان ہے۔ لیکن ایسی تحریروں کا مطالعہ کر کے تو ہم موبائل اور انٹرنیٹ سے بھی زیادہ بگڑ جائیں گے۔ شاعر و ادیب تو قوم کو اک نئی راہ دکھاتے ہیں مستقبل سنوارتے ہیں، اس طرح کی تحریریں پڑھ کر تو نوجوان نسل کا ذہن پراگندہ ہو جائے گا پھر ہمارے ہندوستانی سیریلز اور فلمیں کیا کم ہیں جو ایسی کہانیوں کی ضرورت پیش آنے لگیں۔ ہمارا اخلاق اور ذہن بگاڑنے میں تو ٹی وی نے کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی ہے۔

میں کوفت کے ساتھ حیرانی سے سوچ رہی تھی۔

رائٹرز تو اپنی تخلیقات و تحریروں کے ذریعے لوگوں میں ایسا انقلابی جوش پیدا کرسکتے ہیں جو ہمارے ملک و ملت کی تصویر بدل سکتا ہے۔ کیوں کہ قوموں کی تاریخ میں ادب کی اہمیت کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکا ہے۔

ہمارے یہاں ایسے تخلیق کار بھی تھے جنہوں نے عالمی پیمانے کا ادب تخلیق کیا تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ اب نہ سماجی حقیقت نگار ہیں اور نہ ترقی پسند قلم کار۔

پتہ نہیں اس کی وجہ ہے کیا؟ کیا ہمارے شعراء و ادباء کے پاس موضوعات یا مسائل کا فقدان ہے؟ یا تخیلات و تصورات کی کمی؟

ملک میں غریب و کمزور طبقات پر ہونے والے مظالم اور معاشرے میں در آئی دوسری خرابیوں پر لکھنے کی ضرورت جتنی آج ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ملک و ملت کے ڈھیروں مسائل ہیں جن سے کوئی قلم کار نظریں نہیں چرا سکتا۔

جہیز کی وجہ سے ماں باپ کی دہلیز پر بوڑھی ہوتی لڑکیاں، خاندانی ادارے کا بکھرتا شیرازہ، اخلاقی و سماجی ذمہ داریوں سے پہلو تہی، عورتوں کی تعلیم، نئی نسل کا اپنی صحت سے غفلت و لاپروائی برتنا وغیرہ جیسے بہت سے مسائل ہیں جنہیں موضوع بنایا جاسکتا ہے یہ تخلیق کاروں اور فنکاروں کی منصبی ذمہ داری ہے۔ اور فرض بھی کہ ان مسائل دہر کو اپنی تحریروں میں جگہ دیں۔

اور کچھ نہیں تو روز مرہ کے حالات و تجربات ہی سہی جس سے دوسروں کو رہ نمائی بھی ملے اور کچھ کرنے کا جوش بھی۔

ان خیالات کا اظہار میں کالج میں اپنی سہیلیوں کے درمیان بھی کرتی رہتی تھی تب مفت مشورہ سے نوازا جاتا۔

’’تم خود ہی کیوں نہیں کود پڑتیں میدانِ ادب میں!! جب اتنا اچھا بول سکتی ہو تو لکھ بھی سکتی ہو۔‘‘ میں ہنس کر ناک پر سے مکھی اڑا دیتی لیکن لگتا ہے اب مابدولت کو قلم اٹھانا ہی پڑے گا۔

میں نے جماہی لیتے ہوئے گھڑی دیکھی۔ ایک بج رہا تھا مجھے مطالعہ کرتے ہوئے ابھی صرف ایک ہی گھنٹہ ہوا تھا اور اب مزید مطالعے کی نہ مجھے چاہ تھی نہ ہمت۔

فون پھر سے بجنے لگا تھا۔ میں نے ریسور اٹھایا۔ ’’السلام علیکم‘‘

دوسری طرف سے میرے بڑے بھائی تھے آفس سے فون کیا تھا۔

’’وعلیکم السلام، آج کھانے میں کیا بنایا ہے؟‘‘ بڑے پر شوق لہجے میں پوچھا گیا تھا۔ میرے ہونٹوں پر محظوظ کن مسکراہٹ پھیل گئی۔

’’وہی آپ کی فیوریٹ۔‘‘ میں نے لطف اٹھاتے ہوئے ان کا اشتیاق بڑھایا۔

’’کیا؟‘‘ وہ مشتاق ہوئے۔

’’مِسلے کی دال۔‘‘

میں نے انہیں چڑایا لیکن ادھر سے جواباً جس رد عمل کا اظہار ہوا وہ غیر متوقع تھا۔

’’اللہ تیرا شکر ہے۔‘‘ وہ آرام سے بولے تھے۔

میں نے کان سے ریسیور ہٹا کر بے یقینی سے اسے دیکھا۔ وہ میرے بھائی تھے چٹ پٹے مزیدار کھانوں کے شوقین، ہم پچھلے انیس سالوں سے ساتھ رہ رہے تھے۔ میں نے کبھی دیکھا نہ سنا کہ دال بننے پر انھوں نے کبھی شکر منایا ہو۔ مجھے سخت حیرت تھی اور میں اس کا اظہار کیے بنا نہ رہ سکی۔

’’ایکچوئیلی میں ابھی لنچ پر کہیں انوائیٹڈ ہوں۔‘‘ ان کا قہقہہ بے ساختہ تھا اور انداز اب مجھے چڑا رہا تھا۔‘‘

’’تم لوگ لنچ پر میرا انتظار مت کرنا، یہی بتانے کے لیے فون کیا تھا۔‘‘

وہ اب بھی محظو ظ ہو رہے تھے پھر میں بھی ہنس دی۔

صوفے پر بیٹھ کر بوریت سے پیر ہلاتے ہوئے ایک دم ہی خیال آیا کہ کیوں نہ نیچے جاکر بھابھی سے مل آؤں۔ عالیہ بھابھی ہماری بہت اچھی پڑوسن تھیں۔ نیچے والے فلیٹ میں رہتی تھیں انہیں یہاں شفٹ ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ ہمارے درمیان کچھ زیادہ دوستی تو نہیں تھی البتہ ایسا کہا جاسکتا ہے کہ اچھی سلام دعا تھی۔ عالیہ بھابھی اپنے شوہر کی جاب کے سلسلے میں امراؤتی سے منتقل ہوئی تھیں ان کا چھ ماہ کا ایک پیارا سا بیٹا بھی تھا۔

’’ارے واہ! یہ آئیڈیا مجھے پہلے کیوں نہیں آیا۔‘‘

میں سوچنے لگی کہ بھابھی کے گھر کیا لے کر جاؤں۔ یہ میری عادت تھی میں جب بھی کسی کے گھر جاتی تو کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز ضرور لے کر جاتی اور بھابھی کے گھر تو کھانا دینے کے لیے ہی جاتی تھی۔ ایسے بلا ضرورت ملاقات کی غرض سے تو کبھی نہیں گئی۔

میں نے فریج میں جھانکا۔ کچی سبزیاں، انڈے، دودھ، رات کا بچا ہوا قیمہ بس یہی کچھ تھا۔ ایسی کوئی چیز مثلاً کسٹرڈ، آئس کریم یا کیک وغیرہ نہیں تھا جو ان کے گھر لے جاسکتی۔ اب آج تو ہمارے گھر دال بنی بھی اور دال بھی بھلا کوئی کسی کے گھر لے جاتا ہے!!

میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس خیال کو جھٹک دیا۔ لیکن پھر میں اچانک ہی ٹھٹک گئی۔ ابھی ناولٹ پڑھتے ہوئے رسالے کے صفحے کے کونے پر ایک چوکھٹے میں میں نے ابھی ابھی کچھ پڑھا تھا۔

میں کچن سے لپک کر ہال میں گئی رسالہ وہیں پڑا تھا میں نے جلدی جلدی صفحات پلٹ کر مطلوبہ پیج نکالا۔ صفحہ کے چوکھٹے میں حدیث درج تھی۔

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے مسلم عورتو! کوئی عورت اپنی پڑوسن کو چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی بطور ہدیہ بھیجنے کو حقیر نہ جانے چاہے بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (بخاری، مسلم)

یہ حدیث میں اپنے بچپن سے آج تک کئی بار پڑھ اور سن چکی تھی لیکن اس پر عمل کا کبھی خیال نہیں آیا تھا۔ اڑوس پڑوس میں ہدیہ تو کئی بار بھیجا تھا لیکن ہمیشہ عمدہ و لذیذ پسندیدہ و مرغوب گارنش کیے ہوئے کھانے ہی بھیجے تھے۔

لیکن یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر عمل تو نہیں ہوا تھا۔ آج میرے گھر دال بنی تھی جسے ہمارے معاشرے میں حقیر اور کمتر چیز سمجھا جاتا تھا۔

تو کیا یہ مجھے اپنی پڑوسن (بھابھی کے یہاں) لے جانا چاہیے؟ کئی سارے سوالیہ نشان میری آنکھوں کے سامنے ناچ گئے۔

اگر میں لاعلمی میں ویسے ہی چلی جاتی تو کوئی حرج نہیں تھا لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف صاف حکم میرے سامنے تھا اور دال کو حقیر سمجھ کر بھابھی کے گھر نہ لے جاتی تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی اور بہت بڑی گستاخی بھی۔

میں پوری جان سے کانپ گئی…

میں عجیب سی کشمکش میں پھنس گئی تھی۔

دال لے جانے میں مجھے سخت عار تھا اور اسی ’’عار‘‘ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ ’’کمتر نہ جانے‘‘ کے الفاظ کا مطلب ہی یہ تھا کہ مجھے دال لے جانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے تھی۔

بہت بے بسی کے عالم میں گھری میں مسلسل تذبذب کا شکار تھی۔

اگر میں دال لے کر چلی بھی گئی تو کیا گارنٹی کہ بھابھی اسے خوش دلی سے قبول کرلیں گی۔

کیا پڑوسی کا حقیر تحفہ قبول کرنے والا کوئی حکم نہیں ہے؟ میں نے ذہن پر بہت زور ڈالا لیکن اس طرح کی کوئی حدیث یاد نہیں آئی۔ (اب احادیث کا اتنا بھی گہرا مطالعہ نہیں تھا میرا)۔

اگر بھابھی برا مان گئیں تو؟؟

مجھے یہی خدشہ ستائے جا رہا تھا۔

اگر ناراض ہو کر انہوں نے مجھے برا بھلا کہہ دیا تو ۔۔۔؟

کہیں غصے میں آکر وہی دال میرے منہ پر نہ دے ماریں … میں بہت شدت پسندی سے سوچ رہی تھیـ۔

یا ہوسکتا ہے وہ منہ پر کچھ نہ کہیں لیکن ممکن ہے کہ اپنے دل میں میرے لیے عداوت کا بیج بو لیں۔

میرے دال لے جانے سے کہیں وہ اپنی بے عزتی نہ محسوس کرلیں۔

بس اسی طرح کے خیالات چلے آرہے تھے۔

میں اب بھی شش و پنج میں کھڑی تھی۔ بظاہر چھوٹی سی اور آسمان نظر آنے والی حدیث پر عمل کتنا مشکل لگ رہا تھا۔

’’یا اللہ میں کیا کروں!‘‘

کیوں نہ دال کے ساتھ اچار لے جاؤں۔ کیری کا اچار تو ہر عورت کو پسند ہوتا ہے۔ اور اچار بھی میری امی کے ہاتھ کا بنایا ہوا، ہاں یہ ٹھیک ہے۔

میں نے فوراً اچار کی برنی کا ڈھکن ہٹایا خالی برنی میرا منہ چڑا رہی تھی۔

’’یہ کب ختم ہوا؟‘‘ مجھے صدمہ لگ گیا۔

دال کے ساتھ اور کیا کھایا جاتا ہے؟ میرے دماغ کے گھوڑے سرپٹ دوڑنے لگے۔

’’پیاز‘‘ گھوڑے ہنہنائے۔

’’ہنہ، اب میں ان کے گھر پیاز لے جانے سے تو رہی۔ کریلا نیم چڑھا۔ یہ تو دال کو اور حقیر بنا دے گی۔ اگر بھابھی دال کی وجہ سے ناراض نہ بھی ہوئیں تو پیاز دیکھ کر تو انہیں ضرور خفا ہوجانا تھا۔ میں نے آئیڈیا مسترد کر دیا۔

دال کے ساتھ پاپڑ وغیرہ بھی تل کر کھائے جاتے ہیں لیکن یہ اس وقت تک میرے دماغ میں نہیں آیا تھا۔

کاش! یہ حدیث اس وقت میری نظروں سے نہ گزری ہوتی۔ میں نے بے بسی سے سوچا لیکن میں اتنا ہچکچا کیوں رہی ہوں؟ آخر ان کے گھر بھی دال تو بنتی ہی ہوگی۔ اس سوچ نے میری ڈھارس بندھائی۔

بہرحال اندر کی اتھل پتھل سے گھبرا کر میں نے کچن میں آکر اسٹیل کی چھوٹی سی کٹوری نکالی او ہو! کم از کم برتن تو بہتر ہو اسے رکھ کر میں نے کانچ کے ایک بالکل چھوٹے سے باؤل میں دال ڈال لی۔

چنے اور اڑد کی مکس گھونٹی ہوئی گاڑھی گاڑھی دال تھی۔ وردربھ میں اسے ’’مِسلے کی دال‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہینگ زیرہ اور کلمی (دار چینی) کا تڑکا لگایا تھا۔ بگونے سے خوشبو اٹھ رہی تھی۔ پیلی دال ہرا سمار، دیکھنے میں بھی حلیم کی طرح خوب صورت لگ رہی تھی مگر چاہے جو بھی تھا خواہ میں اسے ہیرے موتیوں سے سجا دیتی لیکن تھی تو دال ہی نا! پتہ نہیں لوگ دالوں کو اتنا ناپسند کیوں کرتے ہیں؟ حالاں کہ مودی جی کے راج میں اب یہ ایسی بھی کوئی ارزاں و سستی چیز نہیں تھی۔ پورے دو سو روپے کلو، ہماری تو سات پشتوں میں سے کسی نے کبھی بھی اس قیمت کا تصور تک نہ کیا ہوگا۔

سیڑھیاں اترتے ہوئے قدم گویا من من بھر کے ہو رہے تھے۔ میں بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ آدھا زینہ اتر کر جی میں آیا کہ واپس پلٹ جاؤں۔ دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا، بھابھی کے متوقع رویے کو سوچ سوچ کر متوحش ہو رہی تھی۔

’’جاؤں یا نہ جاؤں۔‘‘ میں اب بھی کشمکش میں تھی۔

’’اے ثمن تم!‘‘ کی آواز پر میں ہوش میں آئی تو خود کو بھابھی کے دروازے پر پایا۔

دروازہ کھلا ہوا تھا اور عالیہ بھابھی فرش پر پونچھا لگا رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر مسکرا دیں۔ ’’آجاؤ اندر۔‘‘

سارا فرش گیلا تھا میرے اندر جانے سے خراب ہو جاتا اور میں اندر جانا ہی کب چاہ رہی تھی۔

’’کوئی بات نہیں، آپ کام کریں میں تو بس یہ دینے آئی تھی۔‘‘

میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر دروازے کے قریب سائڈ ٹیبل پر دال کا باؤل رکھ دیا۔ میں وہاں سے بھاگنے کے چکرمیں تھی۔

’’ارے بیٹھو ناں! کام بس ختم ہی ہوگیا۔‘‘ انہوں نے نرمی سے کہا۔

’’نہیں میں چلتی ہوں۔‘‘

مجھ پر سخت گھبراہٹ طاری تھی۔ ہائے کیوں میں نے وہ حدیث پڑھ لی اب تو شاید یہاں دوبارہ آنا نصیب بھی نہ ہو۔ میں بہت تیزی سے پلٹی لیکن یک دم رک گئی۔ بہتر ہے بھابھی کے ڈھکن ہٹانے سے پہلے ہی انہیں بتادوں کہ اس میں کیا ہے۔ ورنہ وہ کوئی اچھا سا سر پرائز سمجھ کر باؤل اٹھائیں اور اگر انہیں اس میں دال دکھے تو انہیں شاید زیادہ شاک لگے گا۔

’’بھابھی!‘‘ میں نے تھوک نگلتے ہوئے انہیں پکارا۔

’’ہوں۔‘‘ وہ بدستور پونچھا لگاتے ہوئے کام ختم کرنا چاہ رہی تھیں۔

’’جی وہ‘‘ میں پھر اٹکی۔

’’جی وہ در اصل… میں نے کھانا بنایا تو سوچا آپ کو بھی دے آؤں چکھنے کے لیے۔‘‘

میں نے جملہ بدل دیا۔

’’بہت اچھا سوچا تمہارا شکریہ۔‘‘ انہوں نے شوخ لہجے میں کہا۔

’’آہ، یہ ساری شوخی ابھی غصے میں بدلنے والی تھی۔

جی وہ … اصل میں اس کٹوری میں دال ہے۔‘‘ میں نے ہمت مجتمع کرکے بتا ہی دیا۔ فرش پر کپڑا لگاتے ہوئے بھابھی کا ہاتھ اچانک رک گیا اور شاید میرا سانس بھی۔‘‘

’’کیا کہا تم نے؟ کیا ہے اس میں؟‘‘ وہ بے یقین نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔

’’جی دال ہے۔‘‘ میں مری مری آؤاز میں بولی۔ ہائے کاش میں سیڑھیوں سے واپس چلی جاتی ایسی ذلت تو نہ دیکھنی پڑتی۔ مجھے بہت سارے پچھتاووں نے گھیر لیا۔‘‘ یا اللہ اب کیا ہوگا۔‘‘ میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا، کیوں کہ بھابھی کپڑا پھینک کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں شاید انہیں بہت غصہ آگیا تھا۔

’’یارب!‘‘ آخری وقت میں انسان اپنے رب کو ہی پکارتا ہے نا۔

میں بے حد خوف زدہ سی سر جھکائے مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔ کھری کھوٹی کی توقع میں، ان کی صلواتوں کی منتظر۔

ان کے قدم تیزی سے سائیڈ ٹیبل کی طرف آئے میری نظریں نیچی تھیں اس لیے مجھے ان کے پیر ہی دکھائی دیتے تھے۔ پھر شاید انہوں نے باؤل پر سے پلیٹ ہٹا کر تصدیق کی تھی۔ انہیں لگا ہوگا کہ میں شاید مذاق کر رہی ہوں۔

کاش یہ ایک مذاق ہی ہوتا ’’کاش اس کٹوری کی دال پلاؤ، دہی بڑے یا کم ایک نوڈلز میں ہی تبدیل ہو جائے۔‘‘ میرے دل نے شدت سے تمنا کی۔

چند ساعتوں تک خاموشی چھائی رہی۔ مجھ پر ایک ایک لمحہ گراں گزر رہا تھا۔ مزید چند ثانیوں تک انہوں نے کچھ نہیں کہا تو میں نے ڈرتے ڈرتے نگاہیں اٹھائیں۔ لال بھبھوکا چہرہ، انگارہ آنکھیں، چہرے پر تنفر، آنکھوں میں تحقیر، سلگتی نظریں، میں نے سہم کر خوف سے دوبارہ آنکھیں بھینچ لی تھی۔ اف!! کیا کچھ نہیں تھا وہاں …

پھر پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔

جی ہاں بالکل قارئین! وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

میری آنکھیں حیرت سے اس لیے پھیلی ہوئی تھیں کہ بھابھی کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھیـ۔

دال او ر آنسوؤں کا تعلق؟؟ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ شاید انہیں بہت زیادہ برا لگ گیا تھا یا شاید اہانت کے شدید احساس سے وہ رو دی تھیں۔

میں بالکل حیران پریشان کھڑی تھی جب میری سماعتوں میں دھیمی سی آواز آئی۔ ’’پتہ ہے ثمن! میں نے بہت دنوں سے دال نہیں کھائی ہے۔‘‘ ان کے جھلملاتے آنسو گالوں پر بہہ نکلے۔

میں ہونقوں کی طرح ان کا منہ تکنے لگی۔ کیا بھابھی کے حالات اتنے خراب ہیں کہ بے چاری کو دال بھی میسر نہیں۔ بعض ڈاکٹرز کا تو پتہ تھا لیکن انجینئرز کے گھروں میں ایسی کسمپرسی کا علم نہیں تھا۔

بھابھی آنکھوں میں آنسو لیے ہونٹوں پر مدھم سی مسکان سجائے مجھے بہت محبت سے دیکھ رہی تھیں۔

میرے شوہر صرف گنی چنی چیزیں ہی کھاتے ہیں۔ پلاؤ، کوفتے، طاہری، میتھی کی بھاجی، بریانی اور قیمہ بس۔ انہیں گوشت کے سوا کچھ پسند نہیں اور دالوں کو تو وہ ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ ان کے برعکس مجھے دالیں اتنی ہی زیادہ پسند ہیں۔ شادی سے پہلے تو بہت نت نئے طریقوں سے بناتی تھی لیکن اب صرف اپنے لیے ایک مٹھی دال کیا بناؤں اس لیے میں نے دالیں بنانا ہی چھوڑ دیا۔ مجھے تو اب یاد بھی نہیں کہ میں نے پچھلی دفعہ دال کب کھائی تھی۔ شاید جب میکے گئی تھی تو اصرار کر کے امی سے بنوائی تھی میری امی ہنسنے لگی تھیں کہ عجیب لڑکی ہو تم؟ بیٹیاں تو میکے آکر ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ کھانوں کی فرمائش کرتی ہیں اور تمہیں دال کھانی ہے۔‘‘

بھابھی دھیمے سے ہنس دی تھیں۔ میں بہ مشکل مسکرا سکی۔ ابھی چند لمحوں پہلے میں نے ان کے دال نہ سکھانے کی کیا وجہ سوچ لی تھی۔ میں نے تصور میں خود کو چپت لگائی۔

’’میں اکثر سوچتی تھی کہ کس سے کہوں مجھے دال بھیجے۔ میرا تو میکہ بھی یہاں سے بہت دور ہے، لیکن بہت ہچکچا جاتی تھی کہ لوگ کہیں گے کیسی ندیدی ہے۔

’’آہا، کتنی اچھی خوشبو ہے۔‘‘

انھوں نے دال کی مہک اپنے اندر اتاری۔

’’تمہارا بے حد شکریہ۔‘‘ میں بہت زیادہ شرمندہ ہوگئی۔

’’تم تو بہت بہادر نکلیں ثمن۔‘‘ وہ شوخی سے بولیں ’’ورنہ کسی کے گھر دال لے جانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔‘‘

میں نے یک دم سر اٹھا کر انہیں دیکھا کیا وہ طنز کر رہی تھیں…؟ لیکن وہ اسی معتدل لب و لہجے میں روانی سے بولے جا رہی تھیں۔‘‘ بہت ہمت و حوصلہ لگتا ہے۔ کیوں کہ کبھی بہت شوق میں آکر پھیکی دال اور چال بنالوں تو میں سٹ پٹا کر رہ جاتی ہوں کہ کس کے یہاں بھیجوں کیوں کہ میرے لیے تو تور کی دال کی آدھی مٹھی بھی بہت ہوتی ہے۔ لیکن ہمت ہی نہیں پڑتی تھی نتیجتاً کھانا ضائع کرنا پڑتا تھا، سو بنانا ہی چھوڑ دیا۔

’’آپ کو پھیکی دال اور چاول پسند ہیں۔‘‘ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’بہت زیادہ اور تمہیں؟؟‘‘

’’جی! لیکن امی اور بھائی کو تور کی دال سے اے سی ڈی ٹی ہو جاتی ہے اور بھابھی گڑیا کو فیڈنگ کرواتی ہیں سو وہ بھی کسی وجہ سے نہیں کھا پاتی ہیں۔ بھابھی آج کل مائیکے گئی ہوئی ہیں۔‘‘ میں نے انہیں معلومات بہم پہنچائیں۔

’’اچھا تو آج سے جب بھی میرے گھر پھیکی دال چاول بنے تمہیں میری طرف سے دعوت ہے۔‘‘

’’قبول ہے۔‘‘ میں نے بہ خوشی سر ہلایا۔ ’’بھابھی میں آپ کے لیے دال لائی چلئے، مانا کہ آپ کو پسند ہے اس لیے آپ نے برا نہیں مانا بلکہ خوش ہوئیں۔

لیکن اتنی چھوٹی سی کٹوری دیکھ کر آپ کو برا نہیں لگا؟

میں دل میں مچلتا سوال بالآخر زبان پر لے آئی۔

’’بالکل نہیں، ارے پگلی ابھی تمہیں اس کا اندازہ نہیں ہے کہ دوسرے کے ہاتھ کا ٹیسٹ عورت کو کتنا اچھا لگتا ہے چاہے دو لقمے ہی کیوں نہ ہوں۔ کیوں کہ تمہارے گھر میں بھابھی ہے امی ہیں جن کے ہاتھ کا الگ الگ ذائقہ ہے لیکن جہاں پکانے والی ایک ہی عورت ہو اس سے اپنے ہاتھ کے کھانے کھائے نہیں جاتے۔ اس کا دل چاہتا ہے اسے کچھ ایسا کھانے کو ملے جسے اس نے تیار نہ کیا ہو کیوں کہ کھانے کی تیاری اور کھانا بنانے سے ہی اس کا دل بھر جاتا ہے، پھر وہ کھانا حلق سے اتارنا اسے مشکل لگتا ہے۔‘‘

ایسا بھی ہوتا ہے؟ میں نے بھنوئیں اچکائیں یہ تو میرے لیے نئی خبر تھی۔

’’میں تمہارے لیے پانی لے کر آتی ہوں۔‘‘ وہ کچن میں چلی گئیں جب لو ٹیں تو ان کے ہاتھ میں ایک ٹی اسپون بھی تھا۔ انھوں نے چمچ سے دال ٹیسٹ کی۔

’’واؤ‘‘ ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ’’مِسلے کی دال؟؟‘‘

ان کے استفہام پر میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’اللہ تمہیں جنت کا کھانا کھلائے۔‘‘ بھابھی نے ممنونیت اور خوش دلی سے دعا دی۔ میں ششدر رہ گئی۔

آہ، کوئی خوش نصیبی سی خوش نصیبی تھی دال کے بدلے جنت کے کھانے کی دعا!!

میرے اندر گویا سکون و اطمینان کے بیکراں سمندر اتر گئے۔ ان کی دعا میرے دل کی سوکھی زمین پر گویا بارش کی پہلی پھوار بن کر برسی تھی۔ یہاں سے وہاں تک سرور و طمانیت کی لہر دوڑ گئی۔ اک ایسی خوشی مجھے محسوس ہوئی جس کا مزہ میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں چکھا تھا کیوں کہ اتنی انوکھی دعا مجھے آج سے قبل کبھی کسی نے نہیں دی تھی۔

ان کیخلوص پر میں نے متاثر ہوکر انہیں دیکھا۔

اس نگاہ میں محبت، احترام، عزت، اپنائیت، ممنونیت اور تشکر کے جذبات تھے۔ جنت کا کھانا تو ظاہر ہے جنت میں ہی ملنا تھا یعنی عالیہ بھابھی مجھے جنت میں جانے کی دعا دے رہی تھیں وہ بھی اس ارزاں اور حقیر دال کی وجہ سے۔ میری آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔

نبی اکرمؐ کے حکم پر عمل سے اللہ نے مجھے کیسا سرفراز کیا تھا۔

’’الحمد للہ‘‘ میرا دل سجدہ شکر بجا لایا۔

بھابھی نے مجھے پانی کا گلاس پکڑایا تو میں نے انہیں دل سے دعا دی۔

اللہ آپ کو نہر سلسبیل کا پانی پلائے۔‘‘

’’آمین‘‘ بھابھی ہنس دی تھیں۔ ہم دونوں کے کھلکھلانے کی وجہ سے ان کا منا جاگ کر رونے لگا تھا۔ ’’اوہو لیجیے اب آپ اپنے منے کو سنبھالیں ہم جلتے ہیں۔‘‘

’’آتی رہنا اور دالیں لاتی رہنا۔‘‘ انھوں نے پیچھے سے پکار کر کہا۔

’’بے فکر رہیں میں نے آپ کو اپنا ریگولر کسٹمر بنا لیا ہے۔‘‘

میں نے الوداعی ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ جتنی گھبرائی اور ڈری ہوئی میں سیڑھیاں اترتے وقت تھی اس کے بالکل برعکس شاداں و فرحاں مطمئن او رخوش چڑھتے وقت تھی۔lllکالج کی دیوالی کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ چھٹیاں صرف بیس دنوں کے لیے تھیں جس میں دس دن کا اضافہ طلباء نے اپنے تئیں خود ہی کرلیا تھا۔ میں اس سے ذرا بھی متفق نہیں تھی کیوں کہ کالج جانا پھر گھر کی مصروفیت میں دن کدھر گزرتا پتہ ہی نہیں چلتا تھا لیکن کلاس کے سارے اسٹوڈنٹس کی ایماء پر کلاس ریپریزنیٹیٹو نے کامن آف کا اعلان کر دیا تھا۔

ایک مہینہ کی بھی بھلا کوئی چھٹی کرتا ہے کالج سے۔‘‘

میں سخت جھنجھلائی ہوئی تھی۔

’’ایک مہینہ کی نہیں ڈیئر ہم صرف دس دنوں کی چھٹی مار رہے ہیں۔‘‘

شردّھا نے میرے گال پر چٹکی لے کر اپنے مخصوص انداز میں کہا۔

’’وہی مطلب ہوتا ہے۔‘‘ میں نے چڑ کر اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ ہائے اب ایک ماہ بغیر کالج کے کیسے گزرے گا!!‘‘

میں نے آہ بھری تھی۔

اور اب چھٹیاں ویسے ہی گزر رہی تھیں جیسا میں نے اندازہ لگایا تھا۔ ایک دم بور لمبی اور بیزار کن۔

کچن سے فارغ ہوکر میں نے وقت دیکھا بارہ بج رہے تھے اور اب شام پانچ بجے تک مجھے کوئی کام نہ تھا۔ میں نے سائڈ ٹیبل پر پڑا رسالہ اٹھایا۔ تازہ شمارہ تھا اور کچھ دیر پہلے امی اس کا مطالعہ کر رہی تھیں۔ کہیں صوفے پر آرام دہ حالت میں بیٹھ کر ورق گردانی کرنے لگی۔ (آخر کچھ تو کرنا ہی تھا)۔

پہلا جو افسانہ پڑھا اس میں ہیروئن کا شادی سے پہلے ایک آئیڈیل ہوتا ہے مگر شومئی قسمت جہاں اس کی شادی ہوتی ہے وہ عام سی شکل و صورت کا شخص اس کے تراشیدہ آئیڈیل کے خاکے پر پورا نہیں اترتا۔ بالآخر وہ فرینڈ سے دوستی کی پینگیں بڑھا کر شوہر سے بے وفائی کی مرتکب ہو جاتی ہے۔

مجھے افسانہ کچھ خاص پسند نہیں آیا تحریر تو ایسی ہونی چاہیے جس میں زندگی کا کوئی سبق ملے کوئی پیغام ہو کچھ عبرت ہو۔

منہ بنا کر میں نے دوسرا ناولٹ شروع کیا۔

اس میں ہیروئن اپنے تایا زاد کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے جب کہ ہیرو، ہیروئن کی چھوٹی بہن میں دلچسپی رکھتا ہے اور جب ہیرو کی منگنی ہیروئن کی بہن سے طے ہوجاتی ہے تو ہیروئن مارے غم و غصے کے اپنی کلائی کاٹ بیٹھتی ہے۔

’’لاحول ولاقوۃ‘‘

میں جی بھر کے بدمزہ ہوئی۔ خود کشی تو حرام ہے جانے رائٹر صاحبہ نے اس ناولٹ کے ذریعے کیا پیغام پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ محترمہ تمام لڑکیوں کو یہ سبق دینا چاہ رہی تھیں کہ اگر من چاہا شوہر نہ ملا تو زندگی کس کام کی؟ فوراً خود کو ہلاک کر دینا چاہیے۔

میں نے جھرجھری لے کر تیسرا ناولٹ شروع کیا۔

جوائنٹ فیملی سسٹم، کہانی کی ابتداء میں ہی میں سمجھ گئی کہ شادی آپس میں ہی ہونے والی ہے۔ فضول رسموں کی بے جا منظر کشی، کزنز کی آپس میں فحش چھیڑ چھاڑ، بے سروپا گفتگو، بے مقصد مباحثے، چلئے یہ سب بھی قبول لیکن مجھے ناولٹ کے ہیرو پر سخت اعتراض تھا۔ ہیرو کو تو ہینڈ سم ہونے کے ساتھ ساتھ غیرت مند، جرأت مند، ذہین و فطین، بہادر اور سلجھا ہوا ہونا چاہیے لیکن اس کہانی کا ہیرو عجیب چھچھورا، باتونی اور فلرٹی تھا (پھر بھی ’’ہیرو‘‘ تھا) اور اس وقت تو حد ہی ہوگئی جب اپنی چچا زاد بہن (ہیروئن) کو کچن میں اکیلے چائے بناتا پاکر اس نے اس کی کمر میں بانہیں ڈال کر کے رومانٹک ڈآئیلاگ بولنے شروع کر دیے۔ ہیروئن کے حسن کا تذکرہ اس کی نازک کمر پر ناگن سی بل کھاتی چٹیا، اس کے ملبوس سے اٹھتی مسحور کن خوشبو، پورے سین کا کافی تفصیلی بیان تھا۔

میرے ماتھے سے پسینہ پھوٹ نکلا۔ (ہیروئن کی پیشانی بھی عرق آلود ہوگئی تھی)۔

تبھی فون کی زور دار بیل پر میں اس قدر بوکھلائی کہ رسالہ ہاتھ سے چھوٹے چھوٹتے بچا۔

سانسیں ہموار کر کے میں نے ریسور اٹھایا فون کٹ چکا تھا۔ ریسیور رکھ کر میں نے پھر رسالہ اٹھا لیا لیکن اب اس فضول افسانے کو پڑھنے میں مجھے کوئی انٹریسٹ نہیں تھا اسے ادھورا چھوڑ کر میں نے اگلا افسانہ شروع کر دیا۔

اس میں ہیروئن بے چاری یتیم ہوتی ہے اور بیوہ ماں کے ساتھ ننھیال میں رہتی ہے جہاں نانی کے انتقال کے بعد اس کی ممانیاں اس پر اور اس کی ماں پر ظلم کی انتہا کر دیتی ہیں۔ نوکرانیوں کی طرح کام لیتی ہیں۔ پھر کئی سال بعد بڑے ماموں کا بیٹا لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے لوٹتا ہے اور ہیروئن سے شادی کرلیتا ہے۔

یہاں تک تو کہانی مجھے کچھ کچھ پسند آئی تھی لیکن پھر کہانی ایک ایسا نیا موڑ لیتی ہے جس نے میری تیوریوں پر بل ڈال دیے۔

کیوں کہ اس کہانی میں آگے چل کر ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ہیرو کی بڑی بہن بھی بیوگی کی چادر اوڑھ کر ننھی بچی کے ساتھ میکے کی دہلیز پہ آبیٹھتی ہے تب ہیروئن اپنی نند اور اس کی معصوم بچی پر وہی ظلم دہراتی ہے جو اس نے سہا تھا۔ اس طرح وہ اپنا انتقام لیتی ہے۔ ادھر کہانی ختم ادھر میرا ضبط بھی ختم۔

میں نے بے حد ناگواری سے رسالہ سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیا۔ یہ آج کل ہماری رائٹرز کو کیا ہوگیا تھا۔ کس طرح کا ادب تخلیق کیا جانے لگا تھا؟؟ ہم سے تو کہا جاتا ہے کہ موبائل و انٹرنیٹ کا پیچھا چھوڑ کر ٹی وی مت دیکھو، بلکہ مطالعہ کرو کیوں کہ مطالعہ روح کی غذا ہے اس کی تسکین کا سامان ہے۔ لیکن ایسی تحریروں کا مطالعہ کر کے تو ہم موبائل اور انٹرنیٹ سے بھی زیادہ بگڑ جائیں گے۔ شاعر و ادیب تو قوم کو اک نئی راہ دکھاتے ہیں مستقبل سنوارتے ہیں، اس طرح کی تحریریں پڑھ کر تو نوجوان نسل کا ذہن پراگندہ ہو جائے گا پھر ہمارے ہندوستانی سیریلز اور فلمیں کیا کم ہیں جو ایسی کہانیوں کی ضرورت پیش آنے لگیں۔ ہمارا اخلاق اور ذہن بگاڑنے میں تو ٹی وی نے کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی ہے۔

میں کوفت کے ساتھ حیرانی سے سوچ رہی تھی۔

رائٹرز تو اپنی تخلیقات و تحریروں کے ذریعے لوگوں میں ایسا انقلابی جوش پیدا کرسکتے ہیں جو ہمارے ملک و ملت کی تصویر بدل سکتا ہے۔ کیوں کہ قوموں کی تاریخ میں ادب کی اہمیت کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکا ہے۔

ہمارے یہاں ایسے تخلیق کار بھی تھے جنہوں نے عالمی پیمانے کا ادب تخلیق کیا تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ اب نہ سماجی حقیقت نگار ہیں اور نہ ترقی پسند قلم کار۔

پتہ نہیں اس کی وجہ ہے کیا؟ کیا ہمارے شعراء و ادباء کے پاس موضوعات یا مسائل کا فقدان ہے؟ یا تخیلات و تصورات کی کمی؟

ملک میں غریب و کمزور طبقات پر ہونے والے مظالم اور معاشرے میں در آئی دوسری خرابیوں پر لکھنے کی ضرورت جتنی آج ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ملک و ملت کے ڈھیروں مسائل ہیں جن سے کوئی قلم کار نظریں نہیں چرا سکتا۔

جہیز کی وجہ سے ماں باپ کی دہلیز پر بوڑھی ہوتی لڑکیاں، خاندانی ادارے کا بکھرتا شیرازہ، اخلاقی و سماجی ذمہ داریوں سے پہلو تہی، عورتوں کی تعلیم، نئی نسل کا اپنی صحت سے غفلت و لاپروائی برتنا وغیرہ جیسے بہت سے مسائل ہیں جنہیں موضوع بنایا جاسکتا ہے یہ تخلیق کاروں اور فنکاروں کی منصبی ذمہ داری ہے۔ اور فرض بھی کہ ان مسائل دہر کو اپنی تحریروں میں جگہ دیں۔

اور کچھ نہیں تو روز مرہ کے حالات و تجربات ہی سہی جس سے دوسروں کو رہ نمائی بھی ملے اور کچھ کرنے کا جوش بھی۔

ان خیالات کا اظہار میں کالج میں اپنی سہیلیوں کے درمیان بھی کرتی رہتی تھی تب مفت مشورہ سے نوازا جاتا۔

’’تم خود ہی کیوں نہیں کود پڑتیں میدانِ ادب میں!! جب اتنا اچھا بول سکتی ہو تو لکھ بھی سکتی ہو۔‘‘ میں ہنس کر ناک پر سے مکھی اڑا دیتی لیکن لگتا ہے اب مابدولت کو قلم اٹھانا ہی پڑے گا۔

میں نے جماہی لیتے ہوئے گھڑی دیکھی۔ ایک بج رہا تھا مجھے مطالعہ کرتے ہوئے ابھی صرف ایک ہی گھنٹہ ہوا تھا اور اب مزید مطالعے کی نہ مجھے چاہ تھی نہ ہمت۔

فون پھر سے بجنے لگا تھا۔ میں نے ریسور اٹھایا۔ ’’السلام علیکم‘‘

دوسری طرف سے میرے بڑے بھائی تھے آفس سے فون کیا تھا۔

’’وعلیکم السلام، آج کھانے میں کیا بنایا ہے؟‘‘ بڑے پر شوق لہجے میں پوچھا گیا تھا۔ میرے ہونٹوں پر محظوظ کن مسکراہٹ پھیل گئی۔

’’وہی آپ کی فیوریٹ۔‘‘ میں نے لطف اٹھاتے ہوئے ان کا اشتیاق بڑھایا۔

’’کیا؟‘‘ وہ مشتاق ہوئے۔

’’مِسلے کی دال۔‘‘

میں نے انہیں چڑایا لیکن ادھر سے جواباً جس رد عمل کا اظہار ہوا وہ غیر متوقع تھا۔

’’اللہ تیرا شکر ہے۔‘‘ وہ آرام سے بولے تھے۔

میں نے کان سے ریسیور ہٹا کر بے یقینی سے اسے دیکھا۔ وہ میرے بھائی تھے چٹ پٹے مزیدار کھانوں کے شوقین، ہم پچھلے انیس سالوں سے ساتھ رہ رہے تھے۔ میں نے کبھی دیکھا نہ سنا کہ دال بننے پر انھوں نے کبھی شکر منایا ہو۔ مجھے سخت حیرت تھی اور میں اس کا اظہار کیے بنا نہ رہ سکی۔

’’ایکچوئیلی میں ابھی لنچ پر کہیں انوائیٹڈ ہوں۔‘‘ ان کا قہقہہ بے ساختہ تھا اور انداز اب مجھے چڑا رہا تھا۔‘‘

’’تم لوگ لنچ پر میرا انتظار مت کرنا، یہی بتانے کے لیے فون کیا تھا۔‘‘

وہ اب بھی محظو ظ ہو رہے تھے پھر میں بھی ہنس دی۔

صوفے پر بیٹھ کر بوریت سے پیر ہلاتے ہوئے ایک دم ہی خیال آیا کہ کیوں نہ نیچے جاکر بھابھی سے مل آؤں۔ عالیہ بھابھی ہماری بہت اچھی پڑوسن تھیں۔ نیچے والے فلیٹ میں رہتی تھیں انہیں یہاں شفٹ ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ ہمارے درمیان کچھ زیادہ دوستی تو نہیں تھی البتہ ایسا کہا جاسکتا ہے کہ اچھی سلام دعا تھی۔ عالیہ بھابھی اپنے شوہر کی جاب کے سلسلے میں امراؤتی سے منتقل ہوئی تھیں ان کا چھ ماہ کا ایک پیارا سا بیٹا بھی تھا۔

’’ارے واہ! یہ آئیڈیا مجھے پہلے کیوں نہیں آیا۔‘‘

میں سوچنے لگی کہ بھابھی کے گھر کیا لے کر جاؤں۔ یہ میری عادت تھی میں جب بھی کسی کے گھر جاتی تو کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز ضرور لے کر جاتی اور بھابھی کے گھر تو کھانا دینے کے لیے ہی جاتی تھی۔ ایسے بلا ضرورت ملاقات کی غرض سے تو کبھی نہیں گئی۔

میں نے فریج میں جھانکا۔ کچی سبزیاں، انڈے، دودھ، رات کا بچا ہوا قیمہ بس یہی کچھ تھا۔ ایسی کوئی چیز مثلاً کسٹرڈ، آئس کریم یا کیک وغیرہ نہیں تھا جو ان کے گھر لے جاسکتی۔ اب آج تو ہمارے گھر دال بنی بھی اور دال بھی بھلا کوئی کسی کے گھر لے جاتا ہے!!

میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس خیال کو جھٹک دیا۔ لیکن پھر میں اچانک ہی ٹھٹک گئی۔ ابھی ناولٹ پڑھتے ہوئے رسالے کے صفحے کے کونے پر ایک چوکھٹے میں میں نے ابھی ابھی کچھ پڑھا تھا۔

میں کچن سے لپک کر ہال میں گئی رسالہ وہیں پڑا تھا میں نے جلدی جلدی صفحات پلٹ کر مطلوبہ پیج نکالا۔ صفحہ کے چوکھٹے میں حدیث درج تھی۔

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے مسلم عورتو! کوئی عورت اپنی پڑوسن کو چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی بطور ہدیہ بھیجنے کو حقیر نہ جانے چاہے بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (بخاری، مسلم)

یہ حدیث میں اپنے بچپن سے آج تک کئی بار پڑھ اور سن چکی تھی لیکن اس پر عمل کا کبھی خیال نہیں آیا تھا۔ اڑوس پڑوس میں ہدیہ تو کئی بار بھیجا تھا لیکن ہمیشہ عمدہ و لذیذ پسندیدہ و مرغوب گارنش کیے ہوئے کھانے ہی بھیجے تھے۔

لیکن یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر عمل تو نہیں ہوا تھا۔ آج میرے گھر دال بنی تھی جسے ہمارے معاشرے میں حقیر اور کمتر چیز سمجھا جاتا تھا۔

تو کیا یہ مجھے اپنی پڑوسن (بھابھی کے یہاں) لے جانا چاہیے؟ کئی سارے سوالیہ نشان میری آنکھوں کے سامنے ناچ گئے۔

اگر میں لاعلمی میں ویسے ہی چلی جاتی تو کوئی حرج نہیں تھا لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف صاف حکم میرے سامنے تھا اور دال کو حقیر سمجھ کر بھابھی کے گھر نہ لے جاتی تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی اور بہت بڑی گستاخی بھی۔

میں پوری جان سے کانپ گئی…

میں عجیب سی کشمکش میں پھنس گئی تھی۔

دال لے جانے میں مجھے سخت عار تھا اور اسی ’’عار‘‘ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ ’’کمتر نہ جانے‘‘ کے الفاظ کا مطلب ہی یہ تھا کہ مجھے دال لے جانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے تھی۔

بہت بے بسی کے عالم میں گھری میں مسلسل تذبذب کا شکار تھی۔

اگر میں دال لے کر چلی بھی گئی تو کیا گارنٹی کہ بھابھی اسے خوش دلی سے قبول کرلیں گی۔

کیا پڑوسی کا حقیر تحفہ قبول کرنے والا کوئی حکم نہیں ہے؟ میں نے ذہن پر بہت زور ڈالا لیکن اس طرح کی کوئی حدیث یاد نہیں آئی۔ (اب احادیث کا اتنا بھی گہرا مطالعہ نہیں تھا میرا)۔

اگر بھابھی برا مان گئیں تو؟؟

مجھے یہی خدشہ ستائے جا رہا تھا۔

اگر ناراض ہو کر انہوں نے مجھے برا بھلا کہہ دیا تو ۔۔۔؟

کہیں غصے میں آکر وہی دال میرے منہ پر نہ دے ماریں … میں بہت شدت پسندی سے سوچ رہی تھیـ۔

یا ہوسکتا ہے وہ منہ پر کچھ نہ کہیں لیکن ممکن ہے کہ اپنے دل میں میرے لیے عداوت کا بیج بو لیں۔

میرے دال لے جانے سے کہیں وہ اپنی بے عزتی نہ محسوس کرلیں۔

بس اسی طرح کے خیالات چلے آرہے تھے۔

میں اب بھی شش و پنج میں کھڑی تھی۔ بظاہر چھوٹی سی اور آسمان نظر آنے والی حدیث پر عمل کتنا مشکل لگ رہا تھا۔

’’یا اللہ میں کیا کروں!‘‘

کیوں نہ دال کے ساتھ اچار لے جاؤں۔ کیری کا اچار تو ہر عورت کو پسند ہوتا ہے۔ اور اچار بھی میری امی کے ہاتھ کا بنایا ہوا، ہاں یہ ٹھیک ہے۔

میں نے فوراً اچار کی برنی کا ڈھکن ہٹایا خالی برنی میرا منہ چڑا رہی تھی۔

’’یہ کب ختم ہوا؟‘‘ مجھے صدمہ لگ گیا۔

دال کے ساتھ اور کیا کھایا جاتا ہے؟ میرے دماغ کے گھوڑے سرپٹ دوڑنے لگے۔

’’پیاز‘‘ گھوڑے ہنہنائے۔

’’ہنہ، اب میں ان کے گھر پیاز لے جانے سے تو رہی۔ کریلا نیم چڑھا۔ یہ تو دال کو اور حقیر بنا دے گی۔ اگر بھابھی دال کی وجہ سے ناراض نہ بھی ہوئیں تو پیاز دیکھ کر تو انہیں ضرور خفا ہوجانا تھا۔ میں نے آئیڈیا مسترد کر دیا۔

دال کے ساتھ پاپڑ وغیرہ بھی تل کر کھائے جاتے ہیں لیکن یہ اس وقت تک میرے دماغ میں نہیں آیا تھا۔

کاش! یہ حدیث اس وقت میری نظروں سے نہ گزری ہوتی۔ میں نے بے بسی سے سوچا لیکن میں اتنا ہچکچا کیوں رہی ہوں؟ آخر ان کے گھر بھی دال تو بنتی ہی ہوگی۔ اس سوچ نے میری ڈھارس بندھائی۔

بہرحال اندر کی اتھل پتھل سے گھبرا کر میں نے کچن میں آکر اسٹیل کی چھوٹی سی کٹوری نکالی او ہو! کم از کم برتن تو بہتر ہو اسے رکھ کر میں نے کانچ کے ایک بالکل چھوٹے سے باؤل میں دال ڈال لی۔

چنے اور اڑد کی مکس گھونٹی ہوئی گاڑھی گاڑھی دال تھی۔ وردربھ میں اسے ’’مِسلے کی دال‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہینگ زیرہ اور کلمی (دار چینی) کا تڑکا لگایا تھا۔ بگونے سے خوشبو اٹھ رہی تھی۔ پیلی دال ہرا سمار، دیکھنے میں بھی حلیم کی طرح خوب صورت لگ رہی تھی مگر چاہے جو بھی تھا خواہ میں اسے ہیرے موتیوں سے سجا دیتی لیکن تھی تو دال ہی نا! پتہ نہیں لوگ دالوں کو اتنا ناپسند کیوں کرتے ہیں؟ حالاں کہ مودی جی کے راج میں اب یہ ایسی بھی کوئی ارزاں و سستی چیز نہیں تھی۔ پورے دو سو روپے کلو، ہماری تو سات پشتوں میں سے کسی نے کبھی بھی اس قیمت کا تصور تک نہ کیا ہوگا۔

سیڑھیاں اترتے ہوئے قدم گویا من من بھر کے ہو رہے تھے۔ میں بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ آدھا زینہ اتر کر جی میں آیا کہ واپس پلٹ جاؤں۔ دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا، بھابھی کے متوقع رویے کو سوچ سوچ کر متوحش ہو رہی تھی۔

’’جاؤں یا نہ جاؤں۔‘‘ میں اب بھی کشمکش میں تھی۔

’’اے ثمن تم!‘‘ کی آواز پر میں ہوش میں آئی تو خود کو بھابھی کے دروازے پر پایا۔

دروازہ کھلا ہوا تھا اور عالیہ بھابھی فرش پر پونچھا لگا رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر مسکرا دیں۔ ’’آجاؤ اندر۔‘‘

سارا فرش گیلا تھا میرے اندر جانے سے خراب ہو جاتا اور میں اندر جانا ہی کب چاہ رہی تھی۔

’’کوئی بات نہیں، آپ کام کریں میں تو بس یہ دینے آئی تھی۔‘‘

میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر دروازے کے قریب سائڈ ٹیبل پر دال کا باؤل رکھ دیا۔ میں وہاں سے بھاگنے کے چکرمیں تھی۔

’’ارے بیٹھو ناں! کام بس ختم ہی ہوگیا۔‘‘ انہوں نے نرمی سے کہا۔

’’نہیں میں چلتی ہوں۔‘‘

مجھ پر سخت گھبراہٹ طاری تھی۔ ہائے کیوں میں نے وہ حدیث پڑھ لی اب تو شاید یہاں دوبارہ آنا نصیب بھی نہ ہو۔ میں بہت تیزی سے پلٹی لیکن یک دم رک گئی۔ بہتر ہے بھابھی کے ڈھکن ہٹانے سے پہلے ہی انہیں بتادوں کہ اس میں کیا ہے۔ ورنہ وہ کوئی اچھا سا سر پرائز سمجھ کر باؤل اٹھائیں اور اگر انہیں اس میں دال دکھے تو انہیں شاید زیادہ شاک لگے گا۔

’’بھابھی!‘‘ میں نے تھوک نگلتے ہوئے انہیں پکارا۔

’’ہوں۔‘‘ وہ بدستور پونچھا لگاتے ہوئے کام ختم کرنا چاہ رہی تھیں۔

’’جی وہ‘‘ میں پھر اٹکی۔

’’جی وہ در اصل… میں نے کھانا بنایا تو سوچا آپ کو بھی دے آؤں چکھنے کے لیے۔‘‘

میں نے جملہ بدل دیا۔

’’بہت اچھا سوچا تمہارا شکریہ۔‘‘ انہوں نے شوخ لہجے میں کہا۔

’’آہ، یہ ساری شوخی ابھی غصے میں بدلنے والی تھی۔

جی وہ … اصل میں اس کٹوری میں دال ہے۔‘‘ میں نے ہمت مجتمع کرکے بتا ہی دیا۔ فرش پر کپڑا لگاتے ہوئے بھابھی کا ہاتھ اچانک رک گیا اور شاید میرا سانس بھی۔‘‘

’’کیا کہا تم نے؟ کیا ہے اس میں؟‘‘ وہ بے یقین نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔

’’جی دال ہے۔‘‘ میں مری مری آؤاز میں بولی۔ ہائے کاش میں سیڑھیوں سے واپس چلی جاتی ایسی ذلت تو نہ دیکھنی پڑتی۔ مجھے بہت سارے پچھتاووں نے گھیر لیا۔‘‘ یا اللہ اب کیا ہوگا۔‘‘ میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا، کیوں کہ بھابھی کپڑا پھینک کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں شاید انہیں بہت غصہ آگیا تھا۔

’’یارب!‘‘ آخری وقت میں انسان اپنے رب کو ہی پکارتا ہے نا۔

میں بے حد خوف زدہ سی سر جھکائے مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔ کھری کھوٹی کی توقع میں، ان کی صلواتوں کی منتظر۔

ان کے قدم تیزی سے سائیڈ ٹیبل کی طرف آئے میری نظریں نیچی تھیں اس لیے مجھے ان کے پیر ہی دکھائی دیتے تھے۔ پھر شاید انہوں نے باؤل پر سے پلیٹ ہٹا کر تصدیق کی تھی۔ انہیں لگا ہوگا کہ میں شاید مذاق کر رہی ہوں۔

کاش یہ ایک مذاق ہی ہوتا ’’کاش اس کٹوری کی دال پلاؤ، دہی بڑے یا کم ایک نوڈلز میں ہی تبدیل ہو جائے۔‘‘ میرے دل نے شدت سے تمنا کی۔

چند ساعتوں تک خاموشی چھائی رہی۔ مجھ پر ایک ایک لمحہ گراں گزر رہا تھا۔ مزید چند ثانیوں تک انہوں نے کچھ نہیں کہا تو میں نے ڈرتے ڈرتے نگاہیں اٹھائیں۔ لال بھبھوکا چہرہ، انگارہ آنکھیں، چہرے پر تنفر، آنکھوں میں تحقیر، سلگتی نظریں، میں نے سہم کر خوف سے دوبارہ آنکھیں بھینچ لی تھی۔ اف!! کیا کچھ نہیں تھا وہاں …

پھر پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔

جی ہاں بالکل قارئین! وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

میری آنکھیں حیرت سے اس لیے پھیلی ہوئی تھیں کہ بھابھی کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھیـ۔

دال او ر آنسوؤں کا تعلق؟؟ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ شاید انہیں بہت زیادہ برا لگ گیا تھا یا شاید اہانت کے شدید احساس سے وہ رو دی تھیں۔

میں بالکل حیران پریشان کھڑی تھی جب میری سماعتوں میں دھیمی سی آواز آئی۔ ’’پتہ ہے ثمن! میں نے بہت دنوں سے دال نہیں کھائی ہے۔‘‘ ان کے جھلملاتے آنسو گالوں پر بہہ نکلے۔

میں ہونقوں کی طرح ان کا منہ تکنے لگی۔ کیا بھابھی کے حالات اتنے خراب ہیں کہ بے چاری کو دال بھی میسر نہیں۔ بعض ڈاکٹرز کا تو پتہ تھا لیکن انجینئرز کے گھروں میں ایسی کسمپرسی کا علم نہیں تھا۔

بھابھی آنکھوں میں آنسو لیے ہونٹوں پر مدھم سی مسکان سجائے مجھے بہت محبت سے دیکھ رہی تھیں۔

میرے شوہر صرف گنی چنی چیزیں ہی کھاتے ہیں۔ پلاؤ، کوفتے، طاہری، میتھی کی بھاجی، بریانی اور قیمہ بس۔ انہیں گوشت کے سوا کچھ پسند نہیں اور دالوں کو تو وہ ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ ان کے برعکس مجھے دالیں اتنی ہی زیادہ پسند ہیں۔ شادی سے پہلے تو بہت نت نئے طریقوں سے بناتی تھی لیکن اب صرف اپنے لیے ایک مٹھی دال کیا بناؤں اس لیے میں نے دالیں بنانا ہی چھوڑ دیا۔ مجھے تو اب یاد بھی نہیں کہ میں نے پچھلی دفعہ دال کب کھائی تھی۔ شاید جب میکے گئی تھی تو اصرار کر کے امی سے بنوائی تھی میری امی ہنسنے لگی تھیں کہ عجیب لڑکی ہو تم؟ بیٹیاں تو میکے آکر ایک سے بڑھ کر ایک عمدہ کھانوں کی فرمائش کرتی ہیں اور تمہیں دال کھانی ہے۔‘‘

بھابھی دھیمے سے ہنس دی تھیں۔ میں بہ مشکل مسکرا سکی۔ ابھی چند لمحوں پہلے میں نے ان کے دال نہ سکھانے کی کیا وجہ سوچ لی تھی۔ میں نے تصور میں خود کو چپت لگائی۔

’’میں اکثر سوچتی تھی کہ کس سے کہوں مجھے دال بھیجے۔ میرا تو میکہ بھی یہاں سے بہت دور ہے، لیکن بہت ہچکچا جاتی تھی کہ لوگ کہیں گے کیسی ندیدی ہے۔

’’آہا، کتنی اچھی خوشبو ہے۔‘‘

انھوں نے دال کی مہک اپنے اندر اتاری۔

’’تمہارا بے حد شکریہ۔‘‘ میں بہت زیادہ شرمندہ ہوگئی۔

’’تم تو بہت بہادر نکلیں ثمن۔‘‘ وہ شوخی سے بولیں ’’ورنہ کسی کے گھر دال لے جانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔‘‘

میں نے یک دم سر اٹھا کر انہیں دیکھا کیا وہ طنز کر رہی تھیں…؟ لیکن وہ اسی معتدل لب و لہجے میں روانی سے بولے جا رہی تھیں۔‘‘ بہت ہمت و حوصلہ لگتا ہے۔ کیوں کہ کبھی بہت شوق میں آکر پھیکی دال اور چال بنالوں تو میں سٹ پٹا کر رہ جاتی ہوں کہ کس کے یہاں بھیجوں کیوں کہ میرے لیے تو تور کی دال کی آدھی مٹھی بھی بہت ہوتی ہے۔ لیکن ہمت ہی نہیں پڑتی تھی نتیجتاً کھانا ضائع کرنا پڑتا تھا، سو بنانا ہی چھوڑ دیا۔

’’آپ کو پھیکی دال اور چاول پسند ہیں۔‘‘ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’بہت زیادہ اور تمہیں؟؟‘‘

’’جی! لیکن امی اور بھائی کو تور کی دال سے اے سی ڈی ٹی ہو جاتی ہے اور بھابھی گڑیا کو فیڈنگ کرواتی ہیں سو وہ بھی کسی وجہ سے نہیں کھا پاتی ہیں۔ بھابھی آج کل مائیکے گئی ہوئی ہیں۔‘‘ میں نے انہیں معلومات بہم پہنچائیں۔

’’اچھا تو آج سے جب بھی میرے گھر پھیکی دال چاول بنے تمہیں میری طرف سے دعوت ہے۔‘‘

’’قبول ہے۔‘‘ میں نے بہ خوشی سر ہلایا۔ ’’بھابھی میں آپ کے لیے دال لائی چلئے، مانا کہ آپ کو پسند ہے اس لیے آپ نے برا نہیں مانا بلکہ خوش ہوئیں۔

لیکن اتنی چھوٹی سی کٹوری دیکھ کر آپ کو برا نہیں لگا؟

میں دل میں مچلتا سوال بالآخر زبان پر لے آئی۔

’’بالکل نہیں، ارے پگلی ابھی تمہیں اس کا اندازہ نہیں ہے کہ دوسرے کے ہاتھ کا ٹیسٹ عورت کو کتنا اچھا لگتا ہے چاہے دو لقمے ہی کیوں نہ ہوں۔ کیوں کہ تمہارے گھر میں بھابھی ہے امی ہیں جن کے ہاتھ کا الگ الگ ذائقہ ہے لیکن جہاں پکانے والی ایک ہی عورت ہو اس سے اپنے ہاتھ کے کھانے کھائے نہیں جاتے۔ اس کا دل چاہتا ہے اسے کچھ ایسا کھانے کو ملے جسے اس نے تیار نہ کیا ہو کیوں کہ کھانے کی تیاری اور کھانا بنانے سے ہی اس کا دل بھر جاتا ہے، پھر وہ کھانا حلق سے اتارنا اسے مشکل لگتا ہے۔‘‘

ایسا بھی ہوتا ہے؟ میں نے بھنوئیں اچکائیں یہ تو میرے لیے نئی خبر تھی۔

’’میں تمہارے لیے پانی لے کر آتی ہوں۔‘‘ وہ کچن میں چلی گئیں جب لو ٹیں تو ان کے ہاتھ میں ایک ٹی اسپون بھی تھا۔ انھوں نے چمچ سے دال ٹیسٹ کی۔

’’واؤ‘‘ ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ’’مِسلے کی دال؟؟‘‘

ان کے استفہام پر میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’اللہ تمہیں جنت کا کھانا کھلائے۔‘‘ بھابھی نے ممنونیت اور خوش دلی سے دعا دی۔ میں ششدر رہ گئی۔

آہ، کوئی خوش نصیبی سی خوش نصیبی تھی دال کے بدلے جنت کے کھانے کی دعا!!

میرے اندر گویا سکون و اطمینان کے بیکراں سمندر اتر گئے۔ ان کی دعا میرے دل کی سوکھی زمین پر گویا بارش کی پہلی پھوار بن کر برسی تھی۔ یہاں سے وہاں تک سرور و طمانیت کی لہر دوڑ گئی۔ اک ایسی خوشی مجھے محسوس ہوئی جس کا مزہ میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں چکھا تھا کیوں کہ اتنی انوکھی دعا مجھے آج سے قبل کبھی کسی نے نہیں دی تھی۔

ان کیخلوص پر میں نے متاثر ہوکر انہیں دیکھا۔

اس نگاہ میں محبت، احترام، عزت، اپنائیت، ممنونیت اور تشکر کے جذبات تھے۔ جنت کا کھانا تو ظاہر ہے جنت میں ہی ملنا تھا یعنی عالیہ بھابھی مجھے جنت میں جانے کی دعا دے رہی تھیں وہ بھی اس ارزاں اور حقیر دال کی وجہ سے۔ میری آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔

نبی اکرمؐ کے حکم پر عمل سے اللہ نے مجھے کیسا سرفراز کیا تھا۔

’’الحمد للہ‘‘ میرا دل سجدہ شکر بجا لایا۔

بھابھی نے مجھے پانی کا گلاس پکڑایا تو میں نے انہیں دل سے دعا دی۔

اللہ آپ کو نہر سلسبیل کا پانی پلائے۔‘‘

’’آمین‘‘ بھابھی ہنس دی تھیں۔ ہم دونوں کے کھلکھلانے کی وجہ سے ان کا منا جاگ کر رونے لگا تھا۔ ’’اوہو لیجیے اب آپ اپنے منے کو سنبھالیں ہم جلتے ہیں۔‘‘

’’آتی رہنا اور دالیں لاتی رہنا۔‘‘ انھوں نے پیچھے سے پکار کر کہا۔

’’بے فکر رہیں میں نے آپ کو اپنا ریگولر کسٹمر بنا لیا ہے۔‘‘

میں نے الوداعی ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ جتنی گھبرائی اور ڈری ہوئی میں سیڑھیاں اترتے وقت تھی اس کے بالکل برعکس شاداں و فرحاں مطمئن او رخوش چڑھتے وقت تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین

Leave a Reply