جہیز ایک لعنت… کیا واقعی؟

ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ آئے دن ہمیں نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے معاشرے میں بے سکونی اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ ان سب مسائل میں ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو سب سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ ہمارے غریب طبقے کی زندگیوں میں زہر گھول رہا ہے۔

ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی کی شادی ہو جائے اور وہ اپنے گھر کی ہو جائے۔ مگر شادی میں سب سے بڑی رکاوٹ جہیز ہے۔ ایسا کیوں ہے؟

جہیز ہماری زندگیوں میں زہر گھول رہا ہے۔ آئے دن خبروں میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ کہیں جہیز نہ لانے کی پاداش میں سسرال والوں نے بہو کو جلا دیا… اور کہیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ کسی لڑکی نے سسرال کے مطالبات سے تنگ آکر خود کشی کرلی… وجہ جہیز کا نہ ہونا۔ اور کہیں کسی غریب باپ نے دل برداشتہ ہوکر خود کو ختم کرلیا، کیوں کہ وہ بیٹی کے لیے جہیز جمع نہیں کرسکا۔

موجودہ دور میں جہیز ایک ناسور بن گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں اور بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں وہیں سب سے بڑا مسئلہ لڑکیوں کے رشتے میں رکاوٹ ہے۔ والدین کا اپنے بچوں کے لیے اچھے اور مناسب رشتے تلاش کرنا ایک بہت ہی تکلیف دہ مرحلہ ہوگیا ہے۔ اچھے رشتے نہ ملنے کی وجہ سے والدین مجبوراً رشتے کروانے والوں سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ بھی مجبور والدین کو دیکھ کر ان سے ٹھیک ٹھاک پیسے بٹورتے ہیں اور کوئی بھی بے جوڑ رشتہ کروا دیتے ہیں۔

اگر کوئی رشتہ مل بھی جائے تو لڑکے والے اس قدر بڑی بڑی ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ کوئی بھی غریب انسان اسے پورا نہیں کرسکتا۔ جہیز ایک وبا کی طرح معاشرے میں پھیلتا جا رہا ہے جس سے طرح طرح کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ جہیز نہ ہونے کی صورت میں پڑھی لکھی، خوب سیرت اور سلیقہ مند لڑکیاں آنکھوں میں خواب سجائے ماں باپ کی دہلیز پر ہی بیٹھی رہتی ہیں اور بعد میں اس روز روز کی ذہنی اذیت سے بیچنے کے لیے خود کشی کرلیتی ہیں۔ اور کہیں والدین جہیز دینے کے لیے قرض لیتے ہیں اور پھر ان کی ساری زندگی قرض چکاتے چکاتے گزر جاتی ہے۔

شادی ایک خوبصورت بندھن ہے جسے ہم لوگوں نے لالچ اور خود غرضی کی وجہ سے اتنا بڑا مسئلہ بنا لیا ہے۔ ہم لوگ یہ تو بہت کہتے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے مگر پھر بھی جہیز کی ڈیمانڈ کرتے ہیں، اور جہیز لے لیتے ہیں۔ شادی کا خواب دیکھنا ہر لڑکی کا حق ہوتا ہے، اسے محض اس وجہ سے اس حق سے محروم کرنا کہ وہ غریب ہے جہیز نہیں لاسکتی، یہ بہت ہی غلط بات ہے۔ آج کے دور میں لگتا ہے کہ لوگ رشتہ کرنے نہیں، سودا کرنے جاتے ہیں اپنے بیٹوں کا۔

حدیث مبارک میں ہے کہ:

’’عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے شادی نہ کرو، ہوسکتا ہے ان کا حسن تمہیں برباد کر دے، نہ ان کے مال کی وجہ سے شادی کرو ہوسکتا ہے ان کا مال تمہیں گناہوں میں مبتلا کردے، بلکہ دین داری کی وجہ سے شادی کرو۔ کالی، دبلی، بدصورت خادمہ اگر دین دار ہو تو وہی بہتر ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)

افسوس کی بات ہے کہ اس حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بھی عمل نہیں کرتا۔ کچھ لوگ یہ کہہ کر خود کو اور دوسروں کو مطمئن کرلیتے ہیں کہ بھئی ہمیں کچھ نہیں چاہیے، آپ جو بھی دیں گے اپنی بیٹی کو دیں گے۔ مطلب اپنا پھر بھی ہے۔

جہیز جیسے ناسور کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟ اگر ہم میں سے ہر انسان اپنی اصلاح کرلے، خود کو اس برائی سے بچائے، اگر ہر نوجوان اپنے اندر خود داری پیدا کرلے اور جہیز کے خلاف آواز اٹھائے کہ وہ جو بھی کرے گا اپنے بل بوتے پر کرے گا… اور سب لوگ اگر یہ کہہ دیں کہ انہیں صرف دین دار اور سلجھی ہوئی لڑکی چاہیے اور کچھ نہیں… اور دوسروں کی بیٹیوں کو اپنی بیٹی مانے تو یقین جانئے معاشرے سے اس برائی کا بہت جلد خاتمہ ہو جائے گا اور بہت سی غریب لڑکیاں اپنے اپنے گھروں کی ہوجائیں گی اور جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو اس برائی سے بچائے اور ہمیں ایک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینlll

شیئر کیجیے
Default image
حلیمہ وحید

Leave a Reply