دور جدید کے چیلنجز اور خواتین

سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقیات کے کیا کہنے کہ آج پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج کی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ لیکن دور جدید کی ایک سوغات یہ بھی ہے کہ آج بھی فیشن اور ترقی کے نام پر عورت کو سرِبازارنیلام کیا جار ہا ہے ۔ کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی تشہیر کرنی ہو تو عورت کی تصویر دی جاتی ہے ، اس طرح کہ خدو خال تیکھے اور نیم عریاں تا کہ حُسن پرست لوگوں کی سیری ہو اورمال خوب فروخت ہو۔ اس طرح کے اشتہارات صرف چھوٹی تصویروں کے ساتھ ہی نہیں ہوتے بلکہ بڑے بڑے فلائی اوور Flyoversپر عورتوں کے قد آور ہورڈنگس ایسی تصویر کشی کرتے ہیں کہ کوئی باحیا شخص اس پر نظر ڈالنا پسند نہیں کرتا اور اچانک نظر پڑجائے تو شرمسار ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح ٹی وی میں دیکھتے ہیں نیوز کم ہوتے ہیں اور بریک Breakکے لییے طویل وقفہ دیا جاتا ہے جس میں اشتہار کے نام پر عورت کے حیا سوز مناظر دکھائے جاتے ہیں میڈیا والے اس طرح عورت کا استحصال کرکے کروڑوں میں کھیلتے ہیں ۔

دور جدید کی دوسری بد نام زمانہ سوغات رحم مادر میں جنس کا پتہ چلا کر لڑکی ہونے کی صورت میں اسے مارڈالنا ہے۔ عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جاتاتھا۔ لیکن رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جاہلیت کی اس اخلاق سوز رسم کا خاتمہ فرمایا۔ لیکن آج یہی قتل اولاد اس دور جدید میں ایک نیا روپ ڈھال چکا ہے اور ماں کے پیٹ میں ہی بچی کو قتل کردیا جا رہا ہے ۔ اگر چہ اس کے خلاف امتناعی احکام نافذ کیے گیے ہیں اور اسکین اور آپریشن کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف جرمانہ کا قانون ہے۔لیکن رشوت کے سامنے یہ قانون کسی کام کا نہیں ہے۔

دورِ جدیدد کی تیسری سوغات بے پردگی ، بے حیائی اور فحاشی ہے جو نوجوان نسل کو کھوکھلا اور زندہ درگور کر رہی ہے ۔ کتنے ہی خاندان امراض خبیثہ اور ایڈس کا شکار ہو گئے ہیں، ہم اس کا اندازہ تک نہیں کرسکتے ہیں۔ ڈریس کوڈ DRESS CODEکے نام پر لڑکیوں کو نیم عریاں لباس پہنایا جا رہا ہے ۔ بے پردگی کو فیشن کا نام دے دیا گیا ہے۔ کالجوں میں مخلوط تعلیم کا کلچر عام ہے ۔ لڑکیو ں کو موبائیل فون دے دیا گیا ہے کہ جس سے چاہے محبت کی پینگیں بڑھائو اور جسے چاہو رد کردو۔ چمن اور پارکوں میں لڑکے اور لڑکیوں کا جمگٹھا رہتا ہے۔ اور ایسے بے حیائی کے کام کرتے ہیں کہ جس سے انسانیت شرمسار ہو جائے۔

کچھ لوگ عورت کو پردے میں رکھنے کو دقیانوسی خیال تصور کرتے ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج یورپی عورتیں بھی حجاب میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگی ہیں ۔ اور اسی حجاب کی وجہ سے مغرب کی عورتیں دھڑا دھڑ اسلام قبول کر رہی ہیں ۔ اور یہ شرح تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔

مسلم معاشرے نے عورت کو عزت و احترام کا مقام دیا۔ لیکن دور جدیدد نے ایک نیا روپ نکالا اور عورت کو اس کے حقوق سے محروم کردیا۔مغرب نے مساوات کے نام پر عورت کو معاشی حیوان بنادیا ۔ اب وہ گھرکا کام کاج بھی کرے ، بچوں کی پرورش بھی کرے اور کسب معاش کے لیے گھر سے باہر نکل کر کچھ کما کر بھی لائے۔ اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تھا اور مرد کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ گھر کے باہر نکلے ، محنت مشقت کرے، ملازمت تجارت یا کسی دوسرے جائز ذریعہ سے پیسہ کمائے اور اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالے۔ نان و نفقہ کی ذمہ داری مرد کی تھی۔ البتہ عورت چاہے تو گھر بیٹھے کسی کاروبار میں شریک ہوکرنفع میں اپنا حصہ حاصل کرسکتی ہے۔ جائیداد میں عورت کا حصہ مقرر کیا گیا اور وراثت میں بھی اسے حقدار ٹھیرایا گیا۔لیکن مغربی تہذیب نے ان تمام حقوق سے عورت کو یکلخت محروم کردیا۔ آج کے جدید دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ میاں بیوی کے تعلقات میں بگاڑ آگیا ہے۔ اور مرد عورت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ، کیونکہ پردہ اُٹھ گیا ، حجاب باقی نہیں رہا اور عورت آزاد ہے کہ وہ جدھر چاہے جائے اور چاہے تو وہ کلبوں کی زینت بھی بنے۔ اسلام میں یہ سب ٹھیک نہیں ہے اور اس طرح آزادنہ طور پر گھومنے میں اسلام نے قدغن لگائی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ عورت گھر میں جم کر بیٹھی رہے اور اگر باہر جانا ناگریز ہو تو اسلامی حدود کی پابندی کرے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سیّد محی الدین علوی

Leave a Reply