زندگی وقت ہے

کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:

۱- صحت کو بیماری سے پہلے

۲- جوانی کو بڑھاپے سے پہلے

۳- خوش حالی کو تنگ دستی سے پہلے

۴- فراغت کو مشغولیت سے پہلے

۵- زندگی کو موت سے پہلے‘‘

اس حدیث نبویؐ میں وقت کی قدر کا احساس دلایا گیا ہے۔ وقت کی قسم قرآن مجید میں اللہ نے کھائی ہے۔ والعصر (زمانے کی قسم) والفجر (فجر کی قسم) والضحیٰ (روزِ روشن کی قسم)، والیل (رات کی قسم)۔

وقت کی اہمیت سے ہم کتنے آگاہ ہیں۔ ذرا غورکریں؟ ویسے بھی اس دورِ رفتار میں وقت کو پر لگ گئے ہیں۔ بقول شاعر:

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یونہی تمام ہوتی ہے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جونہی آنے والے دن کی پوپھوٹتی ہے تو وہ وقت آواز لگاتا ہے۔‘‘ اے آدمؑ کی اولاد! میں اللہ کی نئی تخلیق ہوں اور تمہارے اعمال کا گواہ ہوں… مجھ سے جتنا زیور لے سکتے ہو، لے لو۔ میں پھر کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا۔‘‘

ہمارا حال یہ ہے کہ صبح دیر سے اٹھنا، رات دیر تک جاگنا معمول ہوگیا ہے۔ افسوس ہی نہیں ہے۔ موبائل پر لمبی لمبی باتیں کتنا وقت کا ضیاع ہے، ان لمحوں اور ساعتوں کو ہم دو بارہ نہیں لاسکتے۔

والعصر ان الانسان لفی خسر یعنی ’’خسران، محرومی ان لوگوں کے لیے ہے، جنہوں نے وقت کی قدر نہ کی اور ساری فرصتِ عمر برباد کردی۔‘‘

وقت امانت ہے، اس کی قدر کی جائے، ایک لمحے کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے تو زندگی کا اختتام ایک اچھی تاریخ بن جائے گا۔

بقول ارسطو: ’’وقت ضائع کرتے وقت اس بات کا خیال رکھو کہ وقت نے بھی تم کو ضائع کر دیا ہے۔‘‘

ایک مسلمان کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکا اسوہ موجود ہے جہاں ہر کام منظم ہے۔ ہر چیز کا ایک ایسا نظام الاوقات ہے، جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ صحابہ کرامؓ بھی اسی سنت کی پیروی کرتے تھے۔

تابعی عامر بن عبد قیس سے ایک شخص نے کہا:

’’آؤ بیٹھ کر باتیں کریں۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’پھر سورج کو بھی ٹھیرالو۔‘‘

امام فقیہ الدین رازی کہا کرتے تھے کہ:

’’کھانے پینے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے، میں ہمیشہ اس پر افسوس کرتا ہوں۔‘‘

غرض دنیا میں آج تک جن باکمال لوگوںنے نام پیدا کیا ہے انھوں نے ہمیشہ وقت کی قدر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت نے ان کو عزت اور شہرت کا تاج پہنایا۔

ہماری کامیابی اور ناکامی ہماری محرومی اور سعادت وقت کی قدر شناسی سے عبارت ہے۔ وقت ہمیشہ آگے کی طرف رواں دواں ہے اور سب کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ جو وقت کی رفتار میں بانہیں ڈال کر ہم قدم، ہم آواز ہو جاتا ہے ترقی اس کا مقدر ہے۔

گیا ایک پل بھی جو غفلت میں چھوٹ

تو مالا گئی ساٹھ ہیروں کی ٹوٹ

شیئر کیجیے
Default image
سائرہ بانو

Leave a Reply