پرسکون زندگی کا راز

اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبے سے۔‘‘

سورہ الم نشرح کی پہلی آیت میں نبی اکرمﷺ کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے ’’(اے نبیؐ) کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا۔‘‘

قرآن مجید میں سینہ کھولنے کا لفظ جتنی بار بھی آیا ہے، ان میں ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردد سے پاک ہوکر کامل یک سوئی سے اسلام کی راہ پر گام زن ہونے کی تلقین کی گئی ہے اور آگے کی بڑی سے بڑی مہمات اور سخت سے سخت کاموں کو سر انجام دینے کے لیے نبی اکرمﷺ کا حوصلہ بڑھایا گیا ہے اس آیت میں ان سب لوگوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو جادۂ حق پر چل رہے ہیں اور صداقت کا علم اٹھائے ہوئے ہر قسم کے نامساعد حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

اسی طرح سورہ الزمر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’کیا پھر وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے (وہ سخت اور تنگ دل کافر کے برابر ہوسکتا ہے) چناں چہ ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاد کے معاملے میں سخت ہیں، وہی لوگ کھلی گم راہی میں ہیں۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچ و حق ہے دل کشادہ ہوتا اور جھوٹ و منافقت سے سخت ہو جاتا ہے۔

سورہ الانعام میں ارشاد ربانی ہے: ’’چناں چہ اللہ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گم راہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ بہت تنگ کر دیتا ہے، جیسے وہ آسمان میں چڑھ رہا ہو۔‘‘ (الانعام)

چناں چہ سورہ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔‘‘

(آل عمران)

جب ہمارے لیے اتنا مضبوط سہارا موجود ہے تو ہمیں خواہ مخواہ اور بے کار قسم کے اندیشوں میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے…؟ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے اسے تو لکھنے والا ہی جانتا ہے جو علام الغیوب (سب سے بڑھ کر غیب جاننے والا) بھی ہے اور قادرِ مطلق بھی ہے۔ وہ چاہے تو آنے والی بلا کو ٹال بھی سکتا ہے۔ ہم نبی رحمتﷺ کے اس ارشاد کو بھی جانتے ہیں کہ ’’تقدیر کو کوئی چیز رد نہیں کرتی مگر دعا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خشوع و خضوع سے دعا کی جائے تو وہ رخِ گردشِ ایام بدل سکتا ہے۔ سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔

’’اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبے سے۔‘‘

ہماری بہت ساری پریشانیاں ہماری بے وقت کی سوچوں اور ذہنی وسوسوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایسی سوچیں ہمیں عجیب طرح کے خیالات اور اوہام میں مبتلا کیے رکھتی ہیں۔ ان سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ یہی سمجھ کر جئیں کہ آج آپ کی زندگی کا آخری دن ہے۔ اگر آپ اپنے اوپر یہ سوچ طاری کرنے میں کام یاب ہوگئے تو پریشانی فورا دور ہوجائے گی۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا: ’’دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو۔‘‘

چناں چہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے:

’’جب شام ہوجائے تو صبح کے منتظر نہ رہو۔ اپنی صحت کو مرض سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو۔

بہ الفاظ دیگر آپ صرف لمحات موجود میں دل و جان اور جسم سمیت جینے کی کوشش کریں۔ نہ ماضی کے بارے میں پریشان ہوں اور نہ مستقبل کا سوچ کر مبتلائے فکر ہوں۔

ایک عرب شاعر کا کہنا ہے:

’’ماضی ہمیشہ کے لیے جاچکا اور جس کے آنے کی توقع کی جاتی ہے وہ اَن دیکھا ہے۔ تو تیرے پاس جو کچھ ہے وہ ساعت موجود ہے، اسی میں جینے کی کوشش کر۔‘‘

ماضی کی سوچوں میں غرق رہنا اور گڑے مردوں کو اکھاڑ کر حال کو خراب کرنا غیر صحتمند ذہن کی علامات ہیں۔

چین کی ایک کہاوت ہے:

’’پل پر پہنچنے سے پہلے اسے پار نہ کرو۔‘‘

اسی طرح ایک فارسی مقولہ بھی ہے:

’’ندی پر پہنچنے سے پہلے ہی جوتے اتار لینا دانش مندانہ بات نہیں ہے۔‘‘

سلف صالحین میں سے ایک بزرگ کا قول ہے:

’’اے ابن آدم! تمہارے پاس صرف تین دن ہیں۔ گزرا ہوا کل، وہ تو تمہیں چھوڑ چکا۔ آنے والا کل، اس کو تو ابھی آنا ہے، اور جو آج کا دن ہے، تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘

جس شخص نے ماضی، حال اور مستقبل کی پریشانیوں کا بوجھ سر پر اٹھا رکھا ہو، وہ صحیح معنوں میں کیسے جی سکتا ہے…‘‘ اسے سکون قلب کیسے نصیب ہوسکتا ہے؟ …جو کچھ گزر چکا ہے اور واقعات کی گرد بھی بیٹھ چکی ہے، اسے بار بار دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جو آدمی ماضی کے بوجھ کو اٹھائے پھرتا ہے، وہ اس کا درد ہمیشہ محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہ درد اسے کسی طرح سے بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔

گزشتہ سطور میں سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد گزرا ہے۔

’’جب شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح ہوجائے تو شام کے منتظر نہ رہو۔‘‘ اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اس دنیا سے زیادہ لمبی چوڑی امیدیں وابستہ نہ کرو۔ موت کو آنے والی سمجھو اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال اکٹھے کرو تاکہ آخرت کے لیے اچھا توشہ جمع ہوجائے۔

اس لیے کہ وہ بہت لمبا سفر ہوگا۔ اسے موجودہ زندگی کے ماہ وسال کے پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر سب کو بتا دیا جائے گا کہ بس اب موت ختم اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آچکی ہے۔ اصل عیش و آرام وہی ہوگا جو وہاں نصیب ہوگا، ان خوشیوں کو کوئی بھی نہیں چھین سکے گا۔

غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا۔

’’اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
مہوش مصطفی

Leave a Reply