لفافہ

حجاب کے نام

عبادت اور نمائش

ستمبر کا حجاب اسلامی ہاتھوں میں ہے۔ گوشۂ حج و قربانی میں ’’قربانی کے سلسلہ کی غلط روش‘‘ اچھا لگا۔ قربانی عظیم عبادت ہے اسی طرح حج بھی اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ اگر ان میں بھی نام و نمود اور نمائش کا پہلو دکھائی دینے لگے تو پھر تباہی ہے۔ مضمون نگار نے بالکل درست لکھا ہے کہ لوگ کس طرح اپنے قربانی کے جانور پر اتراتے اور فخر جتاتے ہیں۔

حج ایسی عبادت ہے جو انسان پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے اور جب لوگ حج کے لیے جاتے ہیں تو کیا کیا نہیں ہوتا۔ ایک تقریب دعوت منعقد ہوتی ہے بالکل شادی کی طرح۔ عجیب بات ہے، عظیم عبادت اور یہ دکھاوا؟ صاحب ہم نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ حاجی صاحب اور حجن صاحبہ ایک جلوس کی شکل میں ہار پہنے اور ڈھول نگاڑے کے ساتھ گھر سے نکلے، پورے گاؤں کا چکر لگایا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ہم لوگوں پر کہاں یہ عظیم عبادت اور کہاں ڈھول نگاڑے اور جلوس۔

مسلم معاشرہ کہاں جا رہا ہے اور جہالت نے کتنی گہرائی تک اپنی جڑی جمالی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔

محمد اقبال قاسمی

بیہٹ روڈ، سہارن پور (یوپی)

طلاق سے متعلق

حجاب اسلامی پابندی سے مل رہا ہے۔ مضامین اچھے ہیں۔ اگست اور ستمبر کے رسالوں کی ٹائٹل میں بڑی یکسانیت ہے۔ رنگوں کے انتخاب میں اس بات کا خیال رہے تو اچھا ہے۔

جولائی، اگست اور ستمبر کے شماروں میں طلاق سے متعلق تین اداریے بہ غور پڑھے اور ذہن و فکر کو غذا ملتی محسوس ہوئی۔ طلاق سے پہلے کے مراحل پر لکھا گیا اداریہ فکر انگیز تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر قرآن کی تعلیمات کو برتا جائے تو طلاق کی شرح کو انتہائی کم کیا جاسکتا ہے۔ مدیر نے طلاق کے قرآنی طریقے اور طلاق کے بعد پیش آنے والے مراحل میں قرآن کی رہ نمائی پر جو کچھ لکھا ہے وہ بہت مدلل ہے۔

میری گزارش ہے کہ ان تینوں مضامین کو ایک کتابچے کی شکل میں شائع کرا کر اہل خیر کے ذریعے تقسیم کرایا جائے۔ اس طرح مسلم سماج میں طلاق سے متعلق جہالت و غفلت بھی دور ہوگی اور لوگوں کو شریعت کا علم بھی ہوگا۔

ظل الرحمن صدیقی

بھوپال

خواتین اور روزگار

ستمبر کے شمارے میں کئی مضامین بہت اچھے لگے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں عورت کا کردار اور میاں بیوی کے اختلافات پر لکھا گیا مضمون چشم کشا ہے۔ اسی طرح ’’بچے کم خوش حال گھرانہ‘‘ بہت اچھا لگا۔ مضمون بڑا معلوماتی اور مدلل ہے۔ مضمون پڑھنے کے بعد فیملی پلاننگ کے عالمی منصوبے کی ہوا نکل جاتی ہے۔ مضمون پڑھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ ترقی یافتہ ممالک کی عالمی وسائل پر قبضہ کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔

’’گھریلو بزنس اور خواتین‘‘ بہت پسند آیا۔ اس طرح کے مضامین مستقل طور پر شائع ہوتے رہیں تو خواتین کو رہ نمائی ملے گی۔

اس وقت غریب مسلم خواتین کے لیے روزگار اور باعزت روزگار کا حصول بڑا مسئلہ ہے۔ اس طرح کے مضامین پڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین روزگار میں لگیں ہی بلکہ اہم بات یہ ہے کہ حجاب پڑھنے والی خواتین سماج کی ضرورت مند خواتین کی رہ نمائی کریں اور ساتھ ہی ان کے لیے کم سے کم سرمایہ بھی فراہم کریں۔ یہ بھی عین عبادت ہے۔

ابو بکر ہندوی (مقیم حال قطر)

(بذریعہ ای-میل)

مضامین اچھے لگے

اگست کے شمارے میں تمام ہی مضامین اچھے لگے لیکن ان میں رمضان کے بعد کا تربیتی لائحہ عمل کے تحت جو عملی خاکہ پیش کیا گیا ہے وہ بہت اچھا لگا۔ میں مضمون نگار کو مبارکباد دیتی ہوں اور اس رہ نمائی پر شکریہ بھی۔

ویسے سمیہ تحریم کی تحریریں مجھے پسند ہیں اور دل چاہتا ہے کہ وہ ہر شمارے میں لکھا کریں۔

محسنہ عارفہ شیخ

کوسہ ممبرا (تھانے)

سیلفی کا جنون

اگست کے شمارے میں مضمون سیلفی کا جنون پرھا۔ اب سیلفی کے چلتے ہونے والے حادثات میں تو اضافہ ہو ہی رہا ہے مگر موبائل کے ذریعے اموات کا ایک اور بھی پہلو ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ نوجوان نسل راہ چلتے کانوں میں لیڈ لگا کر گھومتے اور گانے سنتے رہتے ہیں۔ سڑک پر چلتے ہوئے اپنے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے بالکل بے فکر اور لاتعلق۔ ایسے میں حادثات ہوتے ہیں۔ میں نے اخبار میں پڑھا کہ دہلی میں کئی جگہ اس طرح کے حادثات ہوئے ہیں۔ میرے ایک قریبی رشتہ دار کا نوجوان بیٹا کانوں میں لیڈ لگائے ریلوے ٹریک پر جا رہا تھا۔ سست رفتار ٹرین نے بہت ہارن دیا مگر سنتا کیسے؟ آخر وہی ہوا جو تکلیف دہ تھا۔ میں حجابِ اسلامی کے ذریعے والدین سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے جگر گوشے کو اس سے محفوظ کریں۔

معراج ابراہیم( کدرکی،مراد آباد)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply