بے سہارا بیٹی کی کفالت

عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی اَفْضَلِ الصَّدَقَۃِ اِبْنَتُکَ مَرْدُوْدَۃً اَلَیْکَ لَیْسَ لَہَا کَاسِبٌ غَیْرُکَ۔ (ابن ماجہ)

’’سراقہ بن مالکؓ کہنے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نہ بتائوں تم کو بہترین صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی کی کفالت عظیم ترین صدقہ ہے جو تیرے پاس لوٹا دی گئی ہے اور تیرے سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہیں ہے؟‘‘

تشریح: ایسی لڑکی جس کی بدصورتی یا جسمانی نقص کی وجہ سے شادی نہیں ہوتی یا شادی کے بعد طلاق مل گئی ہے اور تمہارے سوا اس کو کھلانے پلانے والا نہیں ہے، تو اس پر جو کچھ تم خرچ کروگے وہ اللہ کے نزدیک بہترین صدقہ ہوگا۔ حدیث میں بیٹی کا ذکر ہے اور یہی درجہ بہن کا ہے جب کہ بھائی گھر کا ذمہ دار ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا جلیل احسن ندوی

Leave a Reply