بچہ

میاں بیوی کے اختلافات اور بچے

نئی داخل ہونے والی بچی اقراء کا آج اسکول میں پہلا دن تھا۔ وہ کچھ کنفیوز لگ رہی تھی۔ عموماً ایسا ہوتا ہے۔ نیا ماحول، نئے دوست۔۔۔ ایڈجسٹ ہونے میں تھوڑا وقت لگ جاتا ہے۔ لیکن دو ہفتے گزرنے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس کی اداسی کچھ زیادہ بڑھ گئی۔ ہاں البتہ یہ بات میں نے ضرور محسوس کہ کہ وہ ذہین ہے۔ وہ اپنی ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ بھی گھل مل نہیں پا رہی تھی اس وجہ سے مجھے بڑی تشویش ہوئی۔ ٹیچر پیرنٹس میٹنگ (اساتذہ اور والدین کے درمیان ملاقات) میں ابھی ڈیڑھ دو مہینے تھے، لہٰذا میں نے پرنسپل صاحبہ کو تمام احوال بتائے اور کہا کہ میں اقرا کے والدین سے ملنا چاہتی ہوں۔ اگلے دن اقراء کی والدہ میرے سامنے تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کی طرح خوش شکل اور اور صاحب حیثیت گھرانے سے محسوس ہوئیں۔ سلام دعا کے بعد ہمارے درمیان گفتگو شروع ہوئی۔

اقراء کی والدہ: (بڑی فکر مندی سے) کیا اقراء کی کوئی شکایت ہے؟

نہیں… نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ اقراء ایک سمجھ دار اور ذہین بچی ہے۔ لیکن وہ بہت حساس ہے۔

والدہ: جی … جی

کیا وہ گھر میں سب سے چھوٹی ہے؟ میرا مطلب ہے وہ کچھ ڈسٹرپ لگ رہی ہے ، دوسرے بچوں سے گھل مل نہیں پا رہی … پہلے تو میں یہ سمجھ رہی تھی کہ نیا اسکول، نیا ماحول، نئے دوست ہیں شاید وہ اس لیے پریشان اور الجھی الجھی سی ہے، لیکن دو ہفتے گزرنے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ میں نے اسی لیے آپ کو زحمت دی کہ معلوم کرسکوں کہ کیا گھر میں بھی وہ اسی طرح رہتی ہے؟ (اس دوران اقراء کی والدہ بالکل خاموش میری بات سن رہی تھیں لیکن ان کی آنکھوں میں نمی کو میں محسوس کیے بنا نہ رہ سکی)۔ میں معذرت چاہتی ہوں میری گفتگو سے شاید آپ کو دکھ پہنچا۔ اگر آپ مجھ سے کچھ شیئر نہیں کرنا چاہتیں تو میں آپ کو مجبور نہیں کروں گی۔ اصل میں یہ عمر (بارہ تیرہ سال کی) بچوں کے بننے سنورنے میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اقراء کی اس حالت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

کچھ توقف کے بعد ان کی آواز جیسے بہت دور سے مجھے آتی ہوئی محسوس ہوئی: دراصل میڈم، اقراء اپنے والد سے بہت زیادہ قریب اور مانوس تھی۔ صبح اسکول وین کے بجائے باپ کے ساتھ اسکول جانا پسند کرتی۔ وہ اپنا ہوم ورک بھی باپ کے ساتھ بیٹھ کر کر تی۔

کیا اس کے والد… میرا مطلب ہے کہ…

نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ وہ حیات ہیں… ہمارے درمیان علیحدگی ہوگئی ہے… چار مہینے ہوئے اس بات کو۔ پرانے اسکول میں بچے اس سے والد کے بارے میں پوچھتے کہ اس کے والد اس کو چھوڑنے کیوں نہیں آتے؟ اس پر وہ اکثر بچوں سے لڑ پڑتی یا اسکول سے ناغہ کرتی۔ مجبوراً مجھے اس کا اسکول بدلنا پڑا۔ بیٹا چھوٹا ہے، ہماری علیحدگی کا اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زیادہ ذہین، سمجھ دار اور حساس ہے۔ کیا آپ دونوں میں طلاق ہوگئی ہے یا صرف علیحدگی ہوئی ہے؟

نہیں، لیکن ایک دو ہفتوں میں فیصلہ ہوجائے گا (بڑی اداسی ہے)۔

مجھے حق تو نہیں پہنچتا کہ آپ کے ذاتی معاملات میں بولوں، اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں؟

جی … جی… بولیں۔

اگر کوئی گمبھیر مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ گنجائش ہے تو۔۔۔ آپ دونوں اپنے اپنے فیصلے پر نظر ثانی ضرور کیجیے گا۔۔۔ میرا مطلب ہے مصالحت کے لیے۔۔۔ چاہے آپ کو جھکنا ہی پڑے۔ آپ پڑھی لکھی ہیں، سمجھ سکتی ہیں میں آپ سے کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔۔۔ اس بچی کے لیے۔۔۔ ورنہ یہ بکھر جائے گی تو آپ کو اسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

ایک دو ہفتوں کے بعد میں نے اقراء میں مثبت تبدیلی نوٹ کی۔ اس کی پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں میں دلچسپی، ماہانہ ٹیسٹوں میں بہترین کارکردگی دیکھ کر میرا دل مطمئن ہوگیا۔ ماہانہ ٹیسٹ کے نتائج کے بعد اساتذہ او روالدین کی میٹنگ پر اقراء کی والدہ آئیں تو خود بھی ہشاش بشاش نظر آئیں۔ میں نے بچی کی کارکردگی کی تعریف کی تو کہنے لگیں: میںنے اس بچی کے مستقبل کی خاطر تمام لڑائی جھگڑوں اور اختلافات کو پس پشت ڈال کر اپنے شوہر سے مصالحت کی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے یقینا ایک مثبت قدم اٹھایا ہے۔ آپ کی یہ کاوش اور قربانی ضائع نہیں جائے گی۔

……

’’بھئی حمیدہ بچی کے اتنے اچھے رشتے آرہے ہیں، کیا لڑکی کو ساری زندگی بٹھائے رکھنا ہے! اس کی عمر نکل گئی تو ایسے رشتے دوبارہ نہیں آئیں گے۔‘‘

’’آپا کیا کروں ثوبیہ مانے بھی تو سہی، زبردستی تو نہیں کرسکتیـ۔‘‘

’’آخر کہتی کیا ہے؟‘‘ کہنا کیا، ساری زندگی اس نے ہم ماں باپ کو جھگڑتے ہی دیکھا ہے۔ باپ کی گھر اور ہم سے عدم دلچسپی کو دیکھ کر اب تو باپ سے بدظن ہوچکی ہے، کہتی ہے تمام مرد ایک جیسے ہوتے ہیں، شوہر بھی میرے باپ جیسا نکلا تو میں شاید برداشت نہ کرسکوں، اس لیے مجھے شادی کے لیے کچھ عرصہ تک تو نہ کہیں، جب اندر سے میرا دل راضی ہوا تو دیکھا جائے گا۔‘‘

……

ریحانہ اور جمشید ایک چھت کے نیچے زندگی گزار رہے تھے لیکن دونوں ایک دوسرے پر بھاری… ایک سیر تو دوسرا سوا سیر۔ مشکل سے دو دن گھر میں خاموشی رہتی، پھر وہی لڑائی، جھگڑا، اختلاف۔ بچے اس روز کے دنگل کی وجہ سے کونوں کھدروں میں سہمے رہتے۔ ان کی تعلیمی کارکردگی کا گراف دن بدن نیچے کی طرف جا رہا تھا، سونے پہ سہاگہ جمشید نے چھپ کر دوسری شادی کرلی جس سے اختلافات کو نیا رنگ مل گیا۔ بچے ماں کو مظلوم سمجھنے لگے۔ یہی نہیں بلکہ اس نئی صورتِ حال نے بچوں کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا۔ چودہ پندرہ سال کے بیٹے کا اب یہ حال ہے کہ وہ ماں کو پلو چھوڑے کو تیار نہیں۔ زبردستی ماں اسے خود اسکول چھوڑنے اور لینے جاتی ہے۔

یقینا اوپر بیان کیے گئے واقعات جو حقیقت پر مبنی ہیں آپ کے ارد گرد بھی نظر آتے ہوں گے۔ والدین کے اختلافات اور لڑائی جھگڑے ان کی اپنی زندگیوں کو تو عذاب بنا ہی دیتے ہیں لیکن ان کی اولاد زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیوں کی مثل ہیں۔ یکساں اور ساتھ چلے تو گاڑی رواں دواں، ورنہ سفر ادھورا۔ یعنی ان کے درمیان ہم آہنگی، سمجھوتا، درگزر، افہام و تفہیم وہ خوبیاں ہیں جن کی بدولت ایک خوش گوار خاندان تشکیل پاتا ہے۔ اس خوشگوار اور سازگار ماحول میں پرورش پانے والے بچے بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جو نارمل زندگی گزارنے کے اہل ثابت ہوتے ہیں۔ کیوں کہ بچوں کے سامنے والدین کے درمیان اختلافات، لڑائی، جھگڑے ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں جو تاحیات قائم رہتے ہیں۔

میاں بیوی میں اختلاف تو تقریباً ہر جگہ ہی پایا جاتا ہے۔ کہیں زیادہ کہیںکم۔ والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ بچوں کے سامنے اپنے اختلافات کو ظاہر نہ کریں اور نہ چیخ و پکار کریں۔ اگر دونوں میں سے ایک غصیلی طبیعت کا ہے تو دوسرا درگزر سے کام لے۔ بیکار کی بحث، لڑائی اور مخالفت چھوٹے چھوٹے مسائل کو گمبھیر بنا دیتے ہیں اور اکثر نوبت طلاق تک پہنچتی ہے۔ طلاق تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ جائز فعل ہے۔ اس کی نوبت اس وقت آنی چاہیے جب تمام راستے بند ہوجائیں اور نباہ کا کوئی راستہ نظر نہ آئے۔ لہٰذا والدین اپنے بچوں کے لیے، ان کے مستقبل کے لیے، انہیں ایک خوشگوار زندگی دینے کے لیے گھریلو ماحول کو پیار و محبت کی چاشنی سے سنواریں۔ دین اسلام نے بھی میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق واضح کیے ہیں۔ شوہر کی خدمت و اطاعت، گھر اور گھر والوں کی خدمت کرنے والی عورت کو پسند کیا گیا ہے۔ اسی طرح مرد کو بھی عورت کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید کی گئی ہے، اور ایک اچھا مرد اسے کہا گیا ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ پھر دونوں میاں بیوی کو اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کی تاکید کی گئی ۔ میں سوچ رہی ہوں ہمارے رب کے ہر حکم کے پیچھے کتنی مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ میاں بیوی کے پیار و محبت کے رشتے کی وجہ سے گھر کا ماحول خوشگوار اور اس خوشگوار ماحول اور محبت میں پروان چڑھنے والے بچوں کا مستقبل روشن۔ یقینا ہم سب کی خواہش بھی ایسے ہی خوشگوار ماحول کی طلب ہوگی، لہٰذا اس کے لیے مرد اور عورت دونوں کی کوشش لازمی ہے۔ دونوں مل کر ہی اس کامیابی کو حاصل کرسکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
افروز عنایت

Leave a Reply