خواتین کا دعوتی کردار

دعوت الی اللہ انسانوں کی فکری وعملی اصلاح کا وسیع کام ہے۔ یہ اہل خانہ کے اندرونی دائرے سے شروع ہو کر ، خاندان ، محلّہ ، شہر، ملک، تمام عالم اور نوع انسانی تک پھیلنے کا عمل ہے۔ دعوت کے مخاطب وہ لوگ بھی ہیں جو اسلام کو ماننے کے باوجو د اس کی تعلیمات سے بے خبر ہیں یا جانتے بوجھتے اس پر عمل کے لیے تیار نہیں ہیں، اور وہ لوگ بھی جو اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہیں اور اسے قبو ل کرنا بھی نہیں چاہتے۔ اس وسیع میدان میں اپنے حصے کی ادایگی جس طرح مردوں کے لیے لازم ہے اسی طرح خواتین کے لیے بھی فرض کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ ہم جہاں کہیں بھی ہیں اس دائرے اور اس حلقے میں دعوت دین کا کام انجام دینے کی پابند ہیں لیکن چند باتیں خواتین کے دائرۂ کار سے متعلق عرض ہیں جو دعوت کا کام کرنے والی خواتین کے لیے اہم ہیں۔

اس سلسلے میں یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ اپنے کار دعوت میں داعیات کو ایک خاص ترتیب ملحوظ رکھنا ہو گی جو اس کام میں حسن اوراستحکام پیدا کرے گی۔ بصورت دیگر انسان بعد میں پہنچنے والے میدان میں پہلے سے محنت کر رہا ہو گا اور ابتدائی دائرہ اس کی نگاہوں سے اوجھل رہ جائے گا۔ یہ بے تربیتی دعوت کے کام میں عدم توازن کے ساتھ مطلوبہ نتائج نہ دے سکے گی۔

اہلِ خانہ کے درمیان دعوت و اصلاح

یقیناہمارے اہل خانہ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ انھیں دین کی حقیقت سمجھائی جائے، اللہ سے محبت اور اس کے تقاضے واضح کیے جائیں۔ داعیہ کو گھر اور بچوں کے حوالے سے ایک راعی، یعنی نگران کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ اس بارے میں مسؤل ہوگی۔ البتہ شوہر قوام کی ذمہ داری کی بنا پر تمام اہل خانہ بشمول بیوی اور بچوں کے لیے مسؤل ہے، جب کہ خاتونِ خانہ کی مسؤلیت میں شوہر کی ذمہ داری شامل نہیں ہے۔ تاہم شوہر سے محبت اور خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ اگر وہ دین کی بنیادوں اور جزئیات سے ناواقف ہے تو پیار و محبت اور حکمت سے اس تک بھی دین کی دعوت پہنچائی جائے اور اصلاح طلب امور میں اصلاح کا راستہ سمجھایا جائے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش(جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تندخو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں۔ جوارشاد اللہ ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ (التحریم ۶۶:۶)

اس ارشاد میں قطع نظر مردوعورت کے اپنے گھر والوں کو اللہ کی ناراضگی اور اس کے انجام سے بچانے کی فکر کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک داعیہ اگر اپنے گھر کو اپنی دعوت کا پہلا میدان قرار دیتے ہوئے اس منزل کو سر کرے گی تو شوہر ، بچوں اور دیگر اہل خانہ کا تعاون اس کے لیے اگلی منزلوں کو حاصل کرنے میں ممدومعاون بن جائے گا۔ جو داعیات اپنے گھر کی اصلاح کو اہمیت نہیں دیتیں یا بوجوہ نظر انداز کرتی ہیں تو ان کے لیے شوہر اور بچے راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

خاندان میں دعوت و اصلاح

اپنے گھر کی اصلاح کے ساتھ داعیات کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ اس دائرے کو وسیع کرتے ہوئے خاندان اور برادری کے بڑے دائرے تک اپنی دعوت کو پھیلا ئیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، خالہ پھوپھی، چچا ماموں، بھانجے بھانجیاں، یہ سب عزیز رشتے تمام انسانوں کی بہ نسبت ہماری توجہ کے زیادہ حقدار ہیں۔ حکم ربانی ہے:وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقرَبِینَ(الشعرا ۶۲: ۴۱۲)، اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو [یعنی، ڈراؤ]۔

خاندانی زندگی میں تانے بانے یوں جڑے رہتے ہیں کہ قدم قدم پر دوسرے کے محتاج اور تعاون کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس میل ملاپ میں ہمیں خوشیاں بھی حا صل ہوتی ہیں اور یہی تعلقات ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ داعیات کو اس بات کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے کہ خاندان میں دینی اقدار کے فروغ سے خاندانی تعلقات کو استوار رکھنا بھی آسان ہو گا اور دعوت دین کی راہ میں ان کی حمایت اور تعاون بھی حاصل ہو سکتا ہے۔خاندان میں دعوت کے کام سے غفلت ہمیں دوسروں کی نگاہ میں بھی غیر معتبر بنانے کا باعث ہو گی اور اللہ کے ہاں گرفت کی بھی۔

اہلِ محلہ کے درمیان د عوت و اصلاح

گھر اور خاندان کے دائرے کو بڑھاتے ہوئے اس علاقے یا محلے میں دعوت دین کا کام آپ کی ذمہ داری ہے جہاں آ پ رہتی ہیں۔یہ ذمہ داری والدین کے گھر ر ہتے ہوئے بھی ادا ہوسکتی ہے جہاں آپ پلی بڑھی ہیں اور شادی کے بعد سسرال میں یا جہاں شوہر رہایش پذیر ہیں۔

اسلام میں ہمسایوں کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔پڑوس کوچار اطراف۴۰ گھروں تک محیط قرار دیا گیا ہے۔ دیوار برابر پڑوسی کے اور بھی زیادہ حقوق بتائے گئے ہیں۔منجملہ حقوق کی ادایگی یا حسن سلوک میں اللہ کے راستے کی طرف دعو ت دینا ،قرآن سے تعلق جوڑنا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف راہنمائی کرنا دیگر دینی و دنیاوی معاملات میں اللہ کی رضا کا راستہ واضح کرنے کے لیے انھی کے درمیان رہنے والافرد بہت مؤثر ہو سکتا ہے۔ ایک داعیہ کو اپنے ہمسایوں کے درمیان محبت سے میل ملاقات،ان کی خوشیوں اورغموں میں شرکت ،تحفہ و تحائف کا لین دین دعوت کے بے شمار مواقع فراہم کرتاہے۔ اپنے سماجی تعلقات کے دوران موقع کی مناسبت سے قرآن کے احکامات پہنچانا ،دینی کتب کی فراہمی ،دعا کا اہتمام یا باہم گفتگو میں دین کے مبادیات و جزئیات کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے اہل محلہ کو اللہ کے قریب لانے کی کوشش ضروربار آور ہوں گی۔

رفقاے کار کے درمیان دعوت و اصلاح

ایسی داعیات جو کسی ادارے میں ملازمت کرتی ہوں ان کے رفقاے کار بھی ان کے لیے کسی قدر اہل خاندان اور اہل محلہ کے زمرے میں شا مل ہوں گے۔ملازمت کے میدان میں ماتحت خواتین اسی طرح آپ کی رعیت میں شمار ہوں گی جس طرح گھرپر بچے اور ماتحت افراد ہوتے ہیں۔ ان پر ایک درجہ احکامی فوقیت ہونے کے ناطے آپ پر لازم ہے کہ دیگر دفتری احکام کے ساتھ ان کی توجہ اسلام کے تقاضے پورے کرنے پر بھی دلوائیں دیگر ساتھیوں کو بھی خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دین کی متبادل تعلیمات کے ساتھ ساتھ ملازمت کے دوران مطلوب رویوں پر توجہ دلوانا بھی دعوت کے کام کا حصہ ہے۔مثلاً رزق حلال کی اہمیت ، وقت کی پابندی اور ادارے میں ملازمت کے اوقات کار کی پابندی کارزق حلال کے حصول سے تعلق ،دفتری امور کی ذمہ داری سے ادایگی ،ادارے کے وسائل کو امانت سمجھتے ہوئے استعمال کرنا ،دفتری رفقا کے ساتھ حسن سلوک اور خیرخواہی کی تاکید ،دفتری سیاست اور توڑ جوڑ کی کوششوں سے اجتناب وغیرہ کی تعلیم بھی دعوت کا حصہ ہے۔

معاشرہ کا وسیع میدان

اب تک جن معاشرتی دائروں میں دعوت واصلاح کے کام کا ذکر کیاگیا ہے وہاں آپ سب کو براہ راست جانتی اور پہچانتی ہیں اور آپ کے مخاطین بھی آپ کو ذاتی حیثیت میں جانتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر آپ کے شہر و وطن کی وسیع اجتماعیت اس بات کی متقاضی ہے کہ آپ اپنے فہم و ادراک اور علم کے بقدر اپنے ملک کی وسعتوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔آپ کے مخاطبین کا دائرہ جتنا وسیع ہوتاجائے گا آپ کو دعوت کے اسلوب میں بھی اسی مناسبت سے وسعت پیدا کرنا ہوگی۔ گفتگو اورتقریر سے آگے بڑھ کر تحریری اور تحقیقی اسلوب کا بھی سہارا لینا ہوگا۔دوسروں کی لکھی ہوئی تحریروں کو استعمال کریں یا خود لکھیں اور لٹریچر تقسیم کر یں۔

موجودہ زمانے میں میڈیا دعوت دین کا اہم وسیلہ ہے اور اس کے استعمال کے لیے بھی حسبِ سہولت اور صلاحیت ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ذریعے ہم اپنا پیغام وسیع تر دائرے میں پھیلا سکتے ہیں۔ جن بہنوں کو اللہ تعالیٰ نے لکھنے کی صلاحیت دی ہے وہ اخبارات و رسائل میں مضامین لکھ کر اس فریضہ کی ادایگی کریں۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں سوشل میڈیا نے کافی مقبولیت حاصل کرلی ہے اس کو بھی دعوتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شگفتہ عمر

Leave a Reply