مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ

مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ علیہ ۱۳۰۳ہجری میں مولانا محمد اسمٰعیل کاندھلوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ۱۳۱۴ھ میں اپنے بڑے بھائی مولانا محمد یحییٰ ؒ (والد ماجد شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ) کے پاس گنگوہ گئے جو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمت میں گنگوہ میں مقیم تھے اور بڑے بھائی سے پڑھنا شروع کیا، اس طرح حضرت گنگوہیؒ کی صحبت و مجالست کی دولت شب و روز حاصل رہی۔ ۱۳۲۳ھ میں حضرت گنگوہیؒ دنیا سے رحلت فرما گئے اور اس طرح مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا تقریباً آٹھ برس کا عرصہ حضرت گنگوہیؒ کی صحبت میں گزرا، حضرت گنگوہیؒ بچوں اور طالب علموں کو بیعت نہیں کرتے تھے، لیکن آپ کو بیعت کرلیا تھا۔

ایک مرتبہ آپ نے مولانا رشید احمدؒ گنگوہی سے عرض کیا کہ حضرت ! ذکر کرتے ہوئے میرے دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ حضرت گنگوہیؒ یہ سن کر متفکر ہوئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے اس قسم کی شکایت کی تھی تو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے جواب دیا تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ آپ سے کام لیں گے۔‘‘

۱۳۲۶ھ میں حدیث کی تکمیل کے لیے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے درس میں شرکت کے لیے دیوبند تشریف لے گئے۔ بخاری شریف اور ترمذی شریف کی سماعت کی، چوں کہ حضرت گنگوہیؒ کی وفات ہوچکی تھی، لہٰذا حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے مشورے اور اجازت پر حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوری سے تعلق قائم کیا اور ان کی نگرانی میں منازلِ سلوک طے کیے۔ یوں آپ نے ایک طرف شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ جیسے عالم دین سے علوم قرآن و حدیث کی تکمیل کی، تو دوسری طرف اپنے وقت کے قطب الاقطاب مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے تصوف و سلوک کی منازل تیزی سے طے کیں اور اس کی تکمیل شیخ المشائخ حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ کے زیر نگرانی کی اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔ یوں آپ جامع شریعت و طریقت ہوگئے۔

۱۳۲۸ھ میں آپ نے جامعہ مظاہر علوم سہارن پور میں تدریس شروع کی، لیکن ۳۴ھ میں بڑے بھائی حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلویؒ اور دو سال بعد دوسرے بڑے بھائی حضرت مولانا محمد کاندھلوی (جو علاقہ نظام الدین میں بنگلہ والی مسجد میں قائم مدرسہ کے ذمہ دار تھے) کے انتقال کے بعد اپنے شیخ و مرشد حضرت مولانا خلیل احمد صاحبؒ کی اجازت اور مشورے سے نظام الدین بنگلہ والی مسجد میں قائم مدرسہ میں منتقل ہوگئے اور یہاں تدریس کی ذمے داری سنبھال لی، اس مدرسے میں زیادہ تر علاقہ میوات کے رہائشی بچے پڑھتے تھے۔ نظام الدین منتقلی کے بعد حضرت مولانا محمد الیاسؒ دیوانہ وار ’’میوات‘‘ کے ہر علاقے میں پھرے، ہر ایک کے دامن کو تھاما، ایک ایک گھر کے دروازے پر دستک دی، کئی کئی وقت فاقے کیے، گرمی و سردی سے بے پروا ہوکر تبلیغی گشت کیے اور جب لوگوں نے حسب خواہش آپ کی آواز پر ’’لبیک‘‘ نہ کہا تو آپ بے چین و بے قرار ہوکر راتوں کو خدا کے حضور روتے، گڑگڑاتے اور پوری امت کی اصلاح کے لیے دعا کرتے اور پھر اپنی ہمت و طاقت، مال و دولت سب کچھ ان میواتیوں پر اور ان کے ذریعے اس تبلیغی کام پر لگا دیتے۔ آج جس کا ثمرہ سب کے سامنے ہے۔ یہ ہے مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے شب و روز کی ایک معمولی سی جھلک۔

محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے علم و عمل اور اصلاحِ امت کے جس جذبے نے پوری دنیا میں لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو اللہ، رسول، دین اور قرآن و سنت سے وابستہ کیا اور آج بھی ان کا اخلاص و لگن اور لوگوں کو دین سے وابستہ کرنے کی فکر و لگن دنیا بھر کے انسانوں کو بے چین کیے ہوئے ہے۔ مولانا کاندھلویؒ کی دعوتی و تبلیغی جدوجہد اور اس کے اثرات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے بنایا تھا۔

آج سے کم و بیش سو سال قبل (انیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں) جب مغربی استعمار متحدہ ہندوستان پر قابض تھا، مسلمانانِ ہند مادی و روحانی اور دینی و دنیوی ہر طرح سے کمزوری و پسماندگی کے عالم میں تھے، یہاں تک کہ ایمان و اسلام کو چھوڑ کر ارتداد کی طرف منتقلی کی کیفیت بھی سامنے آنے لگی تھی، اس دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی علیہ الرحمہ کے دل و دماغ میں دین کے لیے مٹنے کی ایک خاص تڑپ اور غم و فکر پیدا کی۔ مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ کا جینا مرنا اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے تھا، آپ کے سوز و درد کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی کے ساتھ لگا سکتا تھا جو آپ کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور باتیں سنتا تھا، آپ کا بس نہیں چلتا تھا کہ سب لوگوں کے دلوں میں وہی آگ پھونک دیں جس میں وہ عرصہ سے جل رہے تھے، سب اسی غم میں تڑپنے لگیں، جس میں وہ خود تڑپ رہے تھے، سب میں وہی سوز و گداز پیدا ہوجائے جس کی لطیف لمس سے آپ کی روح جھوم اٹھتی تھی۔ جب ایک جاننے والے نے خط کے ذریعے آپ سے خیریت دریافت کی تو آپ نے سوز و درد میں ڈوبے ہوئے قلم کے ساتھ جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ’’طبیعت میں سوائے درد امت کے سب خیریت ہے۔‘‘

مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ کا درس معاشرے میں ’’برداشت‘‘ کے کلچر کا فروغ تھا۔ ان کی محنت کا مقصد ’’صبر و تحمل‘‘ کا احیا تھا۔ ان کا کام زندگیوں میں ’’اخلاص و اخلاق‘‘ پیدا کرنا تھا۔ ان کا مطمح نظر زندگیوں میں ایسی تبدیلی اور ایسے صالح معاشرے کا وجود تھا، جہاں ہر شخص دل سے مسلمان ہو۔ اس کی مسلمانی اور اس کا اسلام عبادات تک محدود نہ ہو، بلکہ وہ معاملات میں بھی نبی کریمﷺ کا متبع ہو۔ وہ تنہائی میں بھی اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ بلاشبہ مولانا رحمہ اللہ کے اندر اس درجے کا اخلاص تھا کہ آج ان کی برپا کردہ تحریک کے ذریعے مسلم وغیر مسلم ممالک میں وہ انقلاب آیا کہ دنیا ششد رہے۔ آج غیر مسلم ممالک میں جاکر دیکھئے کہ ا س دعوتی محنت کے ذریعے جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے وہ بلاشبہ پورے داخل ہوگئے۔ ان کی عبادات کی طرح ان کے معاملات بھی کھرے ہیں اور ان کی معاشرت بھی صاف و شفاف ہے۔ بلاشبہ ایسے لوگ مسلم ممالک میں بھی کم نہیں۔ لیکن آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ مولانا کے سبق کو ایک بار پھر تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تصور کیجیے کہ ایک شخص دین کی بات سنانے کے لیے گالیاں سنتا ہے، ماریں کھاتا ہے، اپنا پیسہ خرچ کر کے لوگوں کو مسجد میں لاکر نماز سکھاتا ہے اور خلافِ سنت کام دیکھ کر طبیعت صحت سے بیماری کی طرف چلی جاتی ہے، کیا ایسا معاشرہ جب فروغ پائے گا تو وہاں کسی قسم کا جھگڑا و فساد اور ظلم و عدوان باقی رہے گی؟ بلاشبہ آج مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی اسی تڑپ و فکر کی ضرورت ہے۔

مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے اسی درویشی اور دین کے لیے فدا کاری و جاں نثاری کے ساتھ پوری زندگی بسر کی اور ۲۱؍ رجب ۱۳۶۳ھ (۱۲؍ جولائی ۱۹۴۴ء) کی صبح کو یہ علم و عمل اور زہد و تقویٰ کا آفتاب غروب ہوگیا، مولاناؒ کی وفات کو ستر سال سے زائد کا عرصہ ہونے کو ہے، لیکن مولانا نے ایمان و ایقان کی جو صدا آج سے سو سال قبل لگائی تھی، اس کی گونج پورے عالم میں سنی جاسکتی ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے، ’’فکر تبلیغ دین‘‘ کی اہمیت بڑھتی جاتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سید محمد زین العابدین

Leave a Reply