چلکاٹ رپورٹ

امریکہ اور برطانیہ کی جوڑی نے عراق کے خلاف 2003میں فوج کشی کی تھی اور چند دِنوں ہی میں عراق کی بعثی حکومت کاخاتمہ عمل میں آیا۔ عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین کو اسی سال دسمبر میں گرفتار کرلیاگیااور مقدمہ چلا کر تین برس بعد سزائے موت دے دی گئی ۔

اب یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں اور مغربی میڈیا نے صدام حسین کی قیادت والی عراقی حکومت کو عام تباہی کے ہتھیار کی ذخیرہ اندوزی کے لئے محض دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے مطعون کیاتھااور مفتوحہ عراق میں ایسے کوئی ہتھیار نہیں پائے گئے۔ اس طرح اب یہ ثابت ہے کہ مغربی جمہوریتوں کی جانب سے کی گئی یہ جنگ محض ایک عرب اور مسلم ملک کی تباہی کی خاطرلڑی گئی۔ مختلف ایجنسیوں کی جانب سے دئے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 13 لاکھ مسلما نوں کی جانیں تلف ہوئی ہیں اور سارے خطے میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی ہے۔

عراق اب شیعہ ۔ سنی خانہ جنگی کاشکارہے۔ اور امن کے امکانات کم ہیں۔ امریکی بمباری نے ملک کو مکمل طورپر تباہ کردیا اورنئے حکمرانوں سے تیل کی سستی قیمت پر فروخت کا معاہد ہ کر کے عراق کو ہونے والی اس تیل کی آمدنی کے عوض انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے بیشتر ٹھیکے امریکی اور برطانوی کمپنیوں کے سپرد کردئے۔

چِلکاٹ کمیٹی کی تشکیل

عراق کی جنگ کے سلسلے میں برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن (Gordon Brown)نے 2009میں ڈپلومیٹ سرجان چِلکاٹ کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ وہ ان واقعات کی تحقیق کرے جس کے تحت برطانیہ کوا س جنگ میںملوث ہوناپڑا اور اس خطے کو اس قدر بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کمیٹی کو اپنی رپورٹ ایک برس میں مکمل کرنی تھی مگر اس نے سات برس میں اس کام کو مکمل کیا ۔ اب یہ رپورٹ جو26لاکھ الفاظ پر مشتمل ہے7جولائی 2016کو منظرعام پر آچکی ہے۔

چلکاٹ کمیٹی نے ان سات برسوں میں 13 ملین ڈالر یہ جاننے کے لئے خرچ کیے کہ کس طرح سے برطانیہ اورامریکہ نے عراق کے 13لاکھ مسلمانوں کو بموں سے ہلاک کیا۔

اس رپورٹ نے گرچہ ٹونی بلیئرکو ’جھوٹا‘نہیں قرار دیا ہے مگر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹونی بلیئر نے غیر ضروری عجلت سے کام کیا اور پرامن ذرائع کو استعمال کئے بغیر برطانیہ کو جنگ میں جھونک ڈالا۔

عراق پر فوج کشی کی پالیسی کی بنیاد پُر نقص انٹلی جنس رپورٹوں پر رکھی گئی جبکہ اس کو چیلنج کیاجاناچاہیے تھا اور حق کی کسوٹی پر پرکھا جاناچاہیے تھا۔ جن بنیادوں پر فوج کشی کاکیس تیا رکیاگیاتھا وہ قانونی وجوہات کو تشفی بخش انداز سے پور انہیں کرتی تھیں۔

عمومی طورپر چلکاٹ رپورٹ نے رائے عامہ کو ہموار کرنے میں برطانوی میڈیا کے گمراہ کن پروپگنڈہ کے جائزے اور تنقید سے احتراز کیاہے ۔ حالانکہ ایک سروے کے مطابق میڈیا کے سامعین، ناظرین وقارئین کو مغالطہ آمیز، پرفریب اور من گھڑت اطلاعات بہم پہنچائی گئیں۔ جس سے یہ مقصودتھاکہ برطانوی عوام جنگ کی حمایت کریں۔

اب یہ امر غورطلب ہے کہ جب برطانیہ کاجمہوری طورپرمنتخب رہنما عوام کودھوکا دیتا ہے ، جھوٹے شواہد اکٹھا کرکے ساری دنیا میں دہشت گردی کا نقارہ بجاتا پھرتاہے ، جھوٹ اور فریب کاسمندر بہاتاہے تو آیا یہ کسی لبرل جمہوریت کاقائد ہے یا تیسری دنیا کی کسی آمریت کامردآہن ہے۔

مغربی جمہوریتوں میں آزاد پریس اس کا ایک مضبوط ستون ہے۔ ہم فرض کئے لیتے ہیں کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس آزاد پریس نے جنگ کی تیاریوں کے درمیان اس جنگ کے جواز کے سلسلے میں کیااپنا فرض ایمانداری سے نبھایا۔ اس نے عراق کی جنگ پر برطانیہ کے موقف کی تائید کیوں کی ؟

’’اگر دنیا میں کسی دہشت کے واقعہ کے لئے مسلمانوں کوموردِ الزام ٹہرایا جاتاہے (حالانکہ اس مسلمان کوکسی نے نہ ووٹ دئے نہ انہیں منتخب کیا( تو ٹونی بلئیر اور اس کے ساجھی جارج بش کو کیوں نہ خطاوار ٹہرایا جائے۔‘‘

کیا اس فری پریس نے اپنی کسی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعہ امریکہ اوربرطانیہ کے مجرمانہ عزائم کاانکشاف کیا اور یہ بتایاکہ یہ جنگ کتنی بے سود اور نقصان دہ تھی ۔ ان دونوں ممالک نے جرائم کی پردہ کشائی کرنے کے بجائے کس طرح اس سرکاری پروپگنڈہ کے آلۂ کار بن گئے جس کے بعد عوام کے پاس حقیقت جاننے کا اور کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔

جمہوری طورپر منتخب جنگی مجرم

اب جب کہ عراق پر امریکی اور برطانوی فوج کشی کی تحقیق کے لیے قائم کردہ چلکاٹ کمیشن کی رپورٹ جارج بش اور ٹونی بلئیر کے جرائم کو طشت ازبام کرچکی ہے ، ہمیں یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ٹونی بلیئر جنگی مجرم ہیں۔ ایک مغربی جمہوری ملک کاوزیر اعظم ہوتے ہوئے یہ شخص دنیا میں انسانوں کا سب سے بڑا قاتل اور تباہی وغارت گری کامجرم ہے۔

ٹونی بلیئر اور اس کا رنگ ماسٹر اس وقت کا امریکہ صدر جارج بش، اس کا وزیر دفاع ڈونالڈ رمسفیلڈ اور نائب صدر ڈک چینی تمام جنگی مجرم قرار پاتے ہیں اور اس کے لیے ان پر جنگی جرائم کے لئے مقدمہ چلایاجانا چاہیے اور ان الزامات میں انسانیت کے خلاف جرائم کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

چلکاٹ رپورٹ میں وہ ساری تفصیل درج ہیں جس کے تحت امریکہ ۔ برطانیہ کی جوڑی نے عراق جیسی خود مختار ریاست پر فوج کشی کامنصوبہ بنایا۔ اس مقصد کی خاطریہ فریب اور جھوٹ اور بہتان طرازی کی مہم چلائی۔ اپنے مکارانہ پروپگنڈے سے مکرکا جال بنا اور دنیا کے عوام کو ذہنی طورپر تیا رکیااور اس ریاست کے حصے بخرے کر مایوس عوام کودہشت گردی اور زیرزمین مزاحمت پر ابھارا۔ نتیجتاً القاعدہ ا ورداعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آئیں۔

فی الحال امریکہ صدارتی انتخابات کے پروسیس سے گزر رہاہے۔ اور لوگوں کو یاتو ہلیری کلنٹن یا ڈونالڈ ٹرمپ جیسے سفید فام نسل پرست اور غیر ملکیوں سے خوف زدہ کرنے والے متعصب ذہن امیدواروں کے درمیان فیصلہ کرنا ہے۔ ان دونوں امیدوار میں سے چاہے کوئی منتخب ہو ، دنیا کواور خصوصاً مسلم دنیا کو خطرات کا سامنا ہے۔ اس بات کافیصلہ کہ کون منتخب ہوگا صرف امریکی عوام کو کرنا ہے۔ اس میںفلسطینی بیواؤں کا، عراقی ماؤں کااور افغانی بچوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ وہ اس میں حصہ نہیں لیں گے۔ وہ اس پروسیس میں بولیں گے بھی نہیں ۔

کیا یہ جمہوریت ساری دنیا کے لئے مثالی ہوسکتی ہے؟اسرائیل میں ساری دنیا سے پہنچنے والے یہودی تارکین وطن بھی فلسطینیوں کی کمر توڑ کر، ان کی بستیوں کو برباد کرکے ان کو پناہ گزیں بناکر ہی اسرائیلی ریاست کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ اور اس مہم جو ریاست کو دنیا، ’’جمہوری اسرائیلی ریاست‘‘کہتی ہے۔ بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ اسرائیل کومشرق وسطیٰ کی واحدجمہوری ریاست کے ہونے کااعزاز بھی دیا جا رہا ہے۔ کیا یہ نسل پرست اور متعصب ریاست دیگردنیا کے لئے مثال ہوسکتی ہے۔

اب جو نقشہ ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں لبرل جمہوری ریاستیں سوائے اس تخیلاتی جغرافیائی خطے جس کو ’’مغرب ‘‘ کہاجاتاہے کے علاوہ کہیں اپناوجود نہیں رکھتیں ۔ بقیہ دنیا میں محض آمریتیں ہیں۔ منشیات پر مبنی اقتصادیات پر چلنے والی ریاستیں ہیں۔ فوجی ریاستیں ہیں، تاحیات صدور وقائدین والی ریاستیں ہیں۔ آسمانی مندوب کی حیثیت رکھنے والے قائدین ہیں اور خدائی نمائندوں کامرتبہ رکھنے والے حکمران ہیں۔ lll

[email protected]

شیئر کیجیے
Default image
سید حامد محسن

Leave a Reply