گھریلو بزنس اور خواتین

Women Entrepreneurیہ لفظ سترھویں صدی میں متعارف ہو ا ۔اس وقت کی سب سے کامیاب بزنس مین خاتون Margaret Hardenbrook Philipse تھی وہ ایک جہاز کی مالک تھی۔وہ اس کے ذریعے سے مال برداری کاکا م کر تی تھی۔ اٹھارہو یں صدی 1825میں اور تبد یلی آئی Rebecca Lukens نامی خاتو ن نے اپنے لوہار کے فیملی بزنس کو منافع بخش steel businessمیں تبد یل کردیا۔946میں Estée Lauder نے بیوٹی پراڈکٹ کو لانچ کیا۔ جب جنگِ عظیم ختم ہو ئی تو کئی زخمی لو گو ں کے علاج کے لئے ان کی منصوعات کو بہت سراہا گیا۔

ترقی پذیر ممالک میں ۴۰سے ۵۰ فی صد چھوٹے بزنس خواتین کے ذر یعے چلائے جا تے ہیں۔پاکستان میں خواتین انٹرپرینر مردوں کے مقابلہ میں 1%کی حصہ داری ہے۔ ہندوستان میں خواتین کی آبادی تقریباً ۵۰ فی صد ی ہے۔BNP Paribas کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میںمردوں کے مقابلہ میں خواتین انٹرپرینر 49%فی صدہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق ۲۰۱۲ میںپوری دنیامیں تقریباً 126ملین خواتین نے نیا بزنس شروع کیا۔اور جن خواتین کا پہلے سے بزنس سیٹ تھا و ہ تقریباً 98ملین ہے۔اس طر ح وہ بز نس ہی نہیں کر رہی ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگا ر فراہم کر رہی ہیں اورملک کی معیشت کو بڑھا نے میں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔

ہمارے ملک میں Female Entrepreneurship Index (FEI) کے سروے 2012 کے مطابق جو114 خواتین انٹرپرینر پر کیا گیا، 58% خواتین انٹرپرینر ۲۰سے ۳۰ سال کی عمر میں اپنا بز نس شروع کرتی ہیں۔ اس میں بنگلورسرِفہرست ہے۔73% خواتین انٹرپرینر کا بزنس ریونیو ۱۰ لاکھ روپئے کا ہے۔60% خواتین انٹرپرینر نے ایک لاکھ سے کم سرمایہ کاری سے بزنس شروع کیا۔ 57% خواتین نے تنہا بزنس شروع کیا۔ زیادہ تر خواتین انٹر پرینر شادی شدہ ہیں۔ کئی خواتین انٹر پرینرکم آمدنی والے گروپLower Class Familyسے تعلق رکھتی ہیں۔اسمیںکثیر تعداد کم تعلیم یافتہ خواتین کی ہے، جو کہ محدود سرمایہ سے اپنی فر م چلاتی ہیں۔ریاست ِدہلی حکومت کی رپورٹ کے مطابق 70,434(8فی صد ی) بزنس خواتین انٹرپرینر کے ذریعے چلائے جا تے ہیں او ر ان میں 1.6لاکھ لو گ کا م کر تے ہیں۔

(نائب وزیر اعلیٰ دہلی ، نوبھار ت ٹائمس ۱۵مارچ ۲۰۱۶ )

مسلم خواتین سچر کمیٹی رپورٹ کی روشنی میں

آج مسلم سماج کابڑا حصہ مزدورہے،مال بردار حمال ہے، مستری اورچپراسی ہے، ٹھیلے چلانے والاہے، موٹر ڈرائیور ہے، سیلس مین ہے، چھوٹی موٹی دکان داری کرنے والا ہے، گھریلوصنعتوں مثلاً بیڑی ، یا شیشہ گیری، دباغت اوررنگ سازی کرتاہے ، اور ان میں صنعت کا ر، افسر ، سائنس دان اورماہرین، آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ خواتین کی صورتِ حال بھی ایسی ہی ہے کہ جس کو اسلامی تعلیمات اورحدود کی پابندی نہیں کہا جاسکتا۔ خارجی اثرات اورجہالت نے فضول رسم و رواج و خرافات ایجاد کرلیئے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید تعلیم یاہنر دونو ں لحاظ سے وہ انتہائی پستی کا شکار ہیں۔

سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق مسلم خواتین بہت بڑی تعداد میں خود اپنے طور پر روزگار سے لگی ہو ئی ہیں۔ سلائی کڑھائی اور کشیدہ کار ی، زری کا کام،چکن کا کام، تیار ملبوسات، اگر بتی اور بیڑی سازی وغیرہ ایسے پیشے ہیں جن میں بیشتر مسلم خواتین کا رکن برسرکار ہیں۔ لیکن ان پیشوں میں انہیں کم آمدنی، کام کے ابتر حالات ، ٹوائلٹ اور بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز کی غیر موجودگی، صحت بیمہ جیسی سماجی تحفظ کی سہولتیں نہ ہونے اورکام کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کے مواقع کی عدم موجودگی کے مسائل درپیش ہیں۔ کئی ریاستوں میں گھر یلوں روزگار تقریباً بیٹھ چکا ہے جس سے غریب مسلم خواتین سخت افلاس کی حد تک جاپہنچی ہیں۔ گھریلو روزگار کی صورت میں مسلم خواتین کے روزگار کی اس حالت کا ایک سبب باضابطہ روزگار میں کار فرما امتیازات بھی ہیں۔ یہ ایک تاریک دائرہ ہے جس میں غریبی اور تعلیم اور تکنیکی مہارتوں کی کمی کے نتیجے میں کام کی ہنر مند ی نہیں ہوتی جس سے آمدنی کم ہوجاتی ہے اور اس سب کے سبب غریبی کا سلسلہ بڑھتا رہتاہے۔ حکومت کے مائکرو فائنانسنگ پروگراموں مثلاً بچت گُٹ Self Help Group، واٹر شیڈ پروگراموں اور پنچایتی راج اداروں میں مسلم خواتین کی شرکت بہت ہی کم ہے۔ مسلمان خواتین کی تعلیم اور آمدنی کی سطح نچلی ذاتوں سے بھی کم ہے۔ (سچر کمیٹی رپورٹ ۔نومبر،۲۰۰۶)

سچ تو یہ ہے کہ معاشی افلاس کے ازالے کی تحریک، خواتین کے تعاون کے بغیر کا میاب نہیں ہو سکتی۔اگر ایسا ہو تو وومین انٹرپرینر خاندان اورسماج کی غربت کے ازالہ کا اہم وسیلہ بن سکتی ہے۔

خواتین کو روزگار میں مدد و رہنمائی کرنے والے ادارے اور تنظیمیں

٭ Self-Employed Women’s Association of India (SEWA):یہ خود روزگار غریب خواتین کی ٹریڈ یونین ہے۔جسے ۱۹۷۲ میں ڈاکٹر ایلا بھٹ نے قائم کیا۔ اس کا مرکزی دفتر احمد آباد گجرات میں ہے۔ یہ غریب اور خود روزگار خواتین کی تنظیم ہے۔سیوا کا مقصد خواتین ورکر کو کام کی جگہ پرکام کا تحفظ ،آمدنی کا تحفظ ،غذا کا تحفظ،سماجی تحفظ فراہمی کے لئے کوشش کرنا ہے۔ 1998 میں اس کے49,398 خواتین ممبران نے 30.45کروڑروپئے کمائے، یعنی اوسطاً 6164 روپے۔ سال۲۰۰۸ میں سیوا کے ملک گیر سطح پر کل 9,66,139 خواتین ممبر تھیں۔

٭ٖٖFICCI Ladies Organisation (FLO) : یہ Federation of Indian Chambers of Commerce & Industry (FICCI) کی لیڈیز وِنگ ہے۔ جو ۱۹۸۳ میں بنائی گئی۔ FLO کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر خواتین روزگا ر کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیاکروانا اوران کی ٹریننگ منعقد کروانا تھا۔ ۴۰۰۰ ہزار خواتین اس سے وابستہ ہیں۔

٭ Federation of Indian Women Entrepreneurs (FIWE) : اس کا قیام ۱۹۹۳ میں حیدرآباد میں ہوااور دہلی میں اس کا مرکزی دفتر ہے۔ ۲۸ اایسو سی ایشن اور ۱۵۰۰۰ افرادا س کے ممبر ہیں۔یہ فیڈریشن مختلف شعبو ں کیلے انٹر پرائز ڈیولوپمنٹ پروگرام منعقد کر تی ہے۔پچھلے تین سالوں میں ۵۰۰۰ خواتین نے اس کے پروگراموں سے استفادہ کیا۔یہ فیڈریشن نمائش، کانفرنس ،سیمنار ، بیوپاری وگراہک میٹ اور آن لائن نیٹ ورکنگ پروگرام کا انعقاد کر تی ہے۔یہ ادارہ Micro Credit Program کے ذریعہ بزنس کو شروع کرنے اور بڑھانے کے لئے قرض اور بچت کھاتہ کے ذریعہ مالی مددبھی کر تاہے۔

٭Iqra International Women’s Aliance(IIWA)

IIWAیہ ادارہ محترمہ عظمی ٰ نا ہید کے ذریعہ چلا یا جاتا ہے۔جو کہ مولانا قاسم نانوتوی بانی دارلعلوم دیوبند کی پڑ پوتی ہیں۔ عظمیٰ ناہید IIWAکے ذریعے ۲۵ سال سے خواتین کو بااختیار بنانے اور پسماندگی سے نکالنے کے لئے کوشش کررہی ہے۔ IIWAاسلامی دائرہ کار کے اندر تمام جدید فنون و ہنر اپنا کراورسکھاکرانھیں بااختیار بناکران کے لئے مارکیٹ بنانے کی کوشش کررہاہے۔ حجاب ،حج وعمر ہ کٹ،جانماز،ایمبرائڈری، دوپٹہ ،پینٹنگ،سوئی کاری،پرس کی تیاری، جیویلری، کڑھائی، بنائی،گلاس کاری، زردوزی ورک،فائل کی تیاری، خام مال مہیاکرواکر 150 پراڈکٹس کی تیاری، انتخاب اور فروخت میں مدد کر تے ہیں۔ اور خواتین کے ذریعہ تیار شدہ اشیاء کو بیرون ملک Exportکرتی ہیں۔

عظمیٰ ناہید نے ہمیں بتایاکہ تین ہزار خواتین سیلف ہیلپ گروپ کی شکل میںان سے وابستہ ہیں۔۱۵۰ اقسام کی مصنوعات بنارہی ہیں ۔انھوں نے کہاکہ ’’ خواتین خواب دیکھیں کہ انھیں اوپرکیسے اٹھنا ہے، وژنClearہو ،جو کام ہاتھ میں لیں اسے مکمل سنجیدگی سے انجام دیں۔آرٹ اور کرافٹ پر دھیان دیں، اس کا مستقبل بہت روشن ہے، اس کی اہمیت و قدر ہر دور میں رہے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر خواتین کو روزگار ملے گا تو بچوں کی اچھی تعلیم ہوگی، ساس بہوکے جھگڑے ختم ہوںگے، شوہر عزت کی نگاہ سے دیکھے گا۔

انھوں نے قارئین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا اگر خواتین کا کوئی گروپ ان پر اڈکٹس پر کام کر نا چاہتا ہو تو ہم ا ن کے تعاون کیلئے تیارہے۔

٭World Memon Organisation India (WMO)-Ladies Wing India

ورلڈ میمن آرگنائزیشن انڈیاکی لیڈز ونگ کی ڈپٹی چیرمین محترمہ رضیہ اشرف چشمہ والاممبئی ہیں۔ جوکہ۳۵ سالو ں سے پورے ہندوستان میں خواتین کے معاشی مسائل کو لیکر کئیSlum Areas ، لڑکیوں کے مدارس وغیر ہ میں کا م کررہی ہیں۔ مثلاً :انھوں نے ریاست مہاراشٹر ،بھیونڈی کے قریب کے دیہاتوں کے مسلم گھروں کا سروے کرکے انھیں سود سے نجات دلائی اور ان کی عورتوں کو گھریلو بزنس کے لئے رقم دی۔ یہ مختلف سینٹر س کے ذریعے ہونہار بیٹی کا کورس بھی چلاتی ہیں۔

خواتین کی معاشی ترقی کے کئے حکومت کی جانب سے اقدامات:

امداد ی اسکیمیں

٭Prime Minister’s Rozgar Yojana (PMRY): مرکزی حکومت نے ۱۹۹۳ میں یہ اسکیم شروع کی تھی۔اب تک اس اسکیم کے ذریعہ ۷لاکھ فرم شروع ہو چکے ہیں۔اور کروڑوں لوگوں کو روزگار ملا۔ قابلیتـ: بے روزگا ر ۱۸ سے ۴۰ سال عمر تک، دسویں پاس۔ فیملی آمدنی۔ ۴۰ہزار سالانہ سے زیادہ نہ ہو۔ یہ فنڈ این جی اوز کو دیاجاتا ہے جو بچت گٹSHG کے تعاون سے استعمال کرتے ہیں۔

٭Swarnajayanti Gram Swarozgar Yojanaـ:یہ اسکیم ۱۹۹۹میں شروع کی گئی۔یہ ملک کے دیہاتی علاقو ںمیں موجود غریب BPLلوگوں کے لئے شروع کی گئی۔یہ فنڈ این جی اوز کو دیاجاتا ہے جو بچت گٹ SHGکے تعاون سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مقصد مائیکرو بزنس کو منظم کر ناہے۔

دیگر اسکیمیں

٭Prime Minister’s Employment Generation Programme (PMEGP)

٭A Scheme for Promotion of Innovation, Rural Industry & Entrepreneurship(ASPIRE).

٭Scheme for providing financial assistance to set up new enterprises under PMEGP

٭Scheme for ‘Trade Related Entrepreneurship Assistance and Development (TREAD)

٭National Manufacturing Competitiveness Programme(NMCP)

٭Revamped Scheme of Fund for Regeneration of 60 Traditional Industries (SFURTI)

بڑھتے قدم مہیلا ای ہاٹ ویب سائیٹس

یہ ویب سائیٹ۷ مارچ ۲۰۱۶ کو وزارت برائے ترقی خواتین و اطفال کی جانب سے شروع کی گئی۔ خواتین انٹرپرینر کے ذریعے تیارکی گئی مصنوعات کو تیا ر کرنے، بیچنے اور ان کی نمائش کرنے کاکام اس ویب سائیٹس پر ہوتاہے۔ ایسااندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مستقبل میںایک لاکھ پچیس ہزار خواتین اس سے فائد ہ اٹھائیں گی۔ خواتین انٹر پرینر کو اپنا سامان سیدھا خریداروںکو بیچنے کے لئے یہ پلیٹ فار مہیا کرایا گیا۔ www.mahilaehaat-rmk.gov.in

بچت گٹ (Self Help Group):

حکومت کے اصول وضوابط کے مطابق بچت کو تشکیل دیا جاتاہے۔ بچٹ گٹ میں گروپ ممبران کو قرض کا لین دین ، ٹریننگ مہیاکرنا ، مارکٹنگ کی رہنمائی ،ماہانہ مٹنگ کا انعقاد ،بچت کھاتہ میں رقم جمع کرناوغیرہ سہولتیں ملتی ہیں ۔بچت گٹ عام طور سے دس پندرہ خواتین کا ایک گروپ ہوتا ہے ۔ہندوستا ن میں 2,60,000بچت گٹ ہے۔اس میں کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ خواتین ہو تی ہیں۔ گروپ کے ممبران مختلف ذرائع سے آمدنی کرتے ہیں۔ان کو مختلف قسم کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ان کی ماہانہ مٹننگ ہوتی ہے۔تمام تیارکردہ اشیاء کو نمائش کے ذریعہ عوام اور صنعت کاروں کے سامنے رکھاجاتاہے جس سے ان کو گروپ کی شکل میں کام کرنے کا آرڈر ملتا ہے اور اس آرڈر کی خواتین گھر بیٹھے تکمیل کرتی ہیں۔ اس سے انہیں اچھی خاصی رقم مل جاتی ہے۔lll (جاری)

شیئر کیجیے
Default image
توقیر اسلم انعامدار

Leave a Reply