4

بچے کم خوشحال گھرانہ- حقیقت یا افسانہ؟

گیارہ جولائی اضافہ آبادی کے خلاف پروپیگنڈے کا عالمی دن ہے۔ دانشور اور رہ نما اپنی اپنی بساط کے مطابق اضافہ آبادی کے خطرات کے بارے میں وہ بیانات دہرائیں گے جو مغربی پروپیگنڈہ باز نصف صدی سے الاپ رہے ہیں۔ عالمی دن سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ دن پوری دنیا میں اسی طرح منایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ امریکہ، یورپ، جاپان، روس، اسرائیل وغیرہ تو اپنی آبادیاں بڑھانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ عالمی دن سے مراد یہ ہے کہ عالمی قوتوں کے حکم پر یہ دن غریب ملکوں میں منایا جاتا ہے۔

نصف صدی سے زائد مدت سے جاری اس پروپیگنڈے کا خلاصہ یہ ہے کہ حد سے زیادہ آبادی (Over population)انسانیت کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آبادی کی ’صحیح حد‘ کا تعین کس نے کیا ہے، کیسے کیا ہے اور آخر وہ حد ہے کیا؟

مالتھس کے ارشادات

ماضی قریب میں جس شخص نے آبادی کے ’’مسئلے‘‘ کو سائنسی بنیاد پر پیش کرنے کی کوشش کی وہ تھامس رابرٹ مالتھس ۱۷۶۶-۱۸۳۴) تھا۔ اس نے کہا کہ آبادی میں اضافہ ضرب کی صورت میں ہوتا ہے (۲، ۴، ۸، ۱۶…) جب کہ خوراک میں اضافہ جمع کی صورت میں ہوتا ہے۔ (۲،۴،۶…) اس قدرتی نظام کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ابتدا میں خوراک انسانی آبادی کے لیے کافی ہو تو بھی دو نسلوں کے بعد انسانوں کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ اضافہ شدہ خوراک کے ذخیرے ان کے لیے ناکافی ہو جائیں۔ یوں نقشے اور فارمولے دکھا کر اس نے ثابت کر دیا کہ اگر انسانی آبادی کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو پوری دنیا قحط اور بھوک کا شکار ہوجائے گی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابتدائے آفرینش سے مالتھس کے زمانے تک انسانوں کی دو نسلوں سے زیادہ گزر چکی تھیں۔ اگر مالتھس کا نظریہ ایک سائنسی حقیقت ہوتا تو پوری انسانیت اس کے زمانے تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی قدرتی قانون کے تحت عدم آباد کی راہ لے چکی ہوتی۔ مالتھس کے معذرت خواہ یہ کہتے ہیں کے پہلے زمانے میں بیماریوں، قدرتی آفات، اور جنگوں نے انسانی آبادی کو بڑھنے سے روکے رکھا۔ اب چوں کہ سائنس کی ترقی کے سبب انسان ان بیماریوں پر قابو پا چکا ہے اس لیے یہ قدرتی قانون اب پوری طرح کار فرما ہے جو پہلے نہیں تھا۔ اس افسانے کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم عرض کرتے ہیں کہ مالتھس کے زمانہ سے اب تک انسانی آبادی کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے لیکن خوراک کی پیداوار میں اضافہ اس سے بھی زیادہ ہوا ہے۔ مثلاً ۱۹۵۰ سے ۱۹۹۰ تک دنیا کی آبادی دگنی ہوگئی لیکن اسی عرصے میں خوراک کی پیداوار تین گنی ہوگئی۔

مالتھس ایک متعفن حد تک متعصب نسل پرست عیسائی تھا۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم تھا اور اس کے ملازمین کی تعلیم و تربیت پر معمور تھا۔ برسوں وہ انہیں یہ سبق دیتا رہا کہ دنیا میں جو لوٹ مار کرنے وہ جا رہے تھے اس پر کسی پشیمانی کی ضرورت نہیں اس لیے کہ ان کے پنجہ ستم کے شکار لوگوں کی حالت زار ایک قدرتی قانون کے تحت تھی۔

پال اہرلک

مالتھس کا نظریہ جب سائنسی بنیادوں پر رد ہوگیا تو ایک اور شخص اٹھا جس نے تحدید آبادی کی مہم کو ایک نیا بہانہ دینے کی کوشش کی۔ اس کا نام پال اہرلک Paul Ehrlich تھا۔ اس نے کہا کہ دنیا میں معدنیات، سونا، چاندی، لوہا، تیل وغیرہ محدود مقدار میں ہیں اور اگر آبادی ایک حد سے بڑھ گئی تو ان کی مقدار انسانی ضروریات کے لیے کافی نہیں رہے گی۔ ۱۹۶۸ میں اس نے ایک کتاب ’’آبادی کا بم‘‘ کے نام سے لکھی جو پوری دنیا میں پھیلائی گئی۔ اس کی پیشین گوئی کے مطابق آج سے دو عشرے قبل ہی دنیا کو اپنی آبادی کے بوجھ تلے دب کر ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ اس نے لکھا کہ ۱۹۸۵ء تک دنیا میں قحط پھیل جائے گا، سمندر سوکھ جائیں گے، اور متوقع عمر ۴۲ سال رہ جائے گی۔ ایک اور موقع پر اس نے یہ بھی کہا کہ میں یہ شرط لگانے کو تیار ہوں کہ ۲۰۰۰ء تک برطانیہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ ایک شرط اس نے لگائی بھی۔ امریکی ماہر معاشیات جولین سائمن نے جس کا کہنا تھا کہ اہرلک کی کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے، اسے چیلنج کیا کہ وہ کوئی بھی دس معدنیات چن لے۔ اگر دس سال بعد ان کی قیمت،ا فراط زر کو منہا کر کے، نہ بڑھی تو اہرلک کا جھوٹ ثابت ہوجائے گا۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر دھاتوں کی مقدار مسلسل کم ہو رہی ہے تو ان کی قیمت بڑھتی چلی جانی چاہیے۔ یہ شرط اہرلک نے بڑی خوشی سے قبول کی اور دس دھاتیں چن لیں۔ ۱۹۹۰ میں ان کی قیمت کا موازنہ ۱۹۰۸ کی قیم سے کیا گیا تو پتہ چلا کہ افراطِ زر کو منھا کیے بغیر ہی قیمتیں کم ہوچکی تھیں۔ لیکن یہ شخص جھوٹ کے علاوہ ڈھٹائی کے وصف سے بھی مالا مال ہے۔ اس نے شرط کے پیسے ادا کیے لیکن اپنے جھوٹے پروپیگنڈے سے باز نہیں آیا۔

کثافت آبادی

حقیقت یہ ہے کہ خوراک معدنیات یا دوسرے قدرتی وسائل کی بنیاد پر آبادی کو محدود کرنے کی کوئی عقلی، سائنسی یا تجرباتی، بنیاد نہ فراہم کی جاسکی ہے نہ کبھی کی جاسکے گی۔ قدرتی نظام ہی ایسا ہے کہ جیسے جیسے انسان کی ضروریات پھیلیں ان کو پورا کرنے کے اسباب بھی پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ پورا تاریخی تجربہ اس پر شاہد ہے۔ ہاں ہم کسی محدود رقبہ کے لیے یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہاں لوگ گنجائش سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ چناںچہ آبادی کی بحث رقبہ کے حوالے سے ہی کی جاسکتی ہے۔ یعنی کثافت آبادی یا آبادی فی اکائی رقبہ کے حساب سے۔ یوں دیکھا جائے تو اعداد و شمار ہمیں کوئی اور ہی کہانی سناتے ہیں۔

پاکستان کی کثافت آبادی ۱۷۱ افراد فی مربع کلو میٹر ہے۔ جب کہ اسرائیل کی اس سے تقریباً دگنی یعنی ۲۸۲ ہے۔ اور اس کے باوجود اسرائیل اپنی آبادی بڑھانے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ (یہ دلچسپ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ USAID باقی دنیا میں آبادی کم کرنے کے لیے پیسے خرچ کرتا ہے لیکن اسرائیل کو اس کی امداد آبادی بڑھانے کے لیے خرچ کی جاتی ہے)۔ کچھ اور ممالک کے اعداد و شمار یہ ہیں: ہانگ کانگ ۶۵۷۱، سنگار پور ۵۵۳۹، جاپان ۳۳۶، برطانیہ ۲۴۴، نیدر لینڈ ۲۱۶، انڈونیشیا ۱۱۸۔ یہ خیال رہے کہ سنگا پور، جاپان اور برطانیہ اپنی آبادیاں بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ہاں اس فہرست میں سے انڈونیشیا کو آبادی کم کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔

یہ بات بھی بکثرت کہی جاتی ہے کہ دنیا کے لیے مجموعی طور پر چھ ارب کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے اس عدد کو دنیا کی وسعت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا تو بہت وسیع ہے اس آبادی کو کھپانے کے لیے صرف امریکہ بھی بہت کافی ہے۔ اگر دنیا کی تمام آبادی امریکہ منتقل ہوجائے تو یہاں کثافت آبادی صرف ۴۳۴۳ افراد فی مربع کلو میٹر ہوجائے گی۔ یعنی ہانگ کانگ اور سنگار پور سے کہیں کم۔ اب ان اعداد و شمار کو سامنے رکھیے اور ان پروپیگنڈہ بازوں کی ڈھٹائی کی داد دیجیے جو یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ دنیا کی آبادی چھ ارب پر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اب لوگ دم گھٹ کر مرجائیں گے۔

اصل مسئلہ

اصل مسئلہ یہ ہے کہ مغربی دنیا کی آبادی کم ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ اقوام بوڑھی ہو رہی ہیں یعنی ان کی آبادیوں میں بوڑھے لوگوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیے۔

’’یورپ دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھلتا جا رہا ہے۔ ۱۹۵۰ء میں اس کی آبادی دنیا کی آبادی کا ۶ء۱۵ فیصد تھی۔ ۱۹۸۵ میں کم ہوکر ۲ء۱۰ رہ گئی اور ۲۰۲۵ تک یہ ۴ء۶ فیصد رہ جائے گی۔‘‘ اسی خطرے کا اظہار فرانس کے سابق صدر چراک نے کیاتھا:

"If you look at Europe and then at other continents, the comparison is terrifying in demographic terms, Europe is vanishing Twenty or so years from now. our countries will be empty, and no matter what technological strength, we shall be incapable of putting it to use.”

اور اسی کے پیش نظر برٹرنڈرسل نے وہ بات کہی تھی جو آبادی کے خلاف مہم کی اصل بنیاد ہے۔

’’یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ جب دوسری قومیں محض افزائش نسل کے ذریعے طاقت کا توازن بدل رہی ہوں تو فوجی طاقت رکھنے والی اقوام خاموش بیٹھی دیکھتی رہیں گی۔‘‘ (Marrinage and Morals, 1929)

ہمارے ہاں کے بعض ماہرین کو یہ نادر خیال گزرا کہ مغرب میں شرح پیدائش میں کمی کچھ اعلیٰ و ارفع قدروں کی بنیاد پر ہے جب کہ ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں غریب لوگوں کے مشاغل اور دلچسپیاں محدود ہیں اور افزائش نسل اس کا شاخسانہ ہے۔ یہ بات اس مغرب کے بارے میں کہی جاتی ہے جہاں تجرد کی قسم کھائے ہوئے پادریوں کی بے راہ رویوں کی خبریں بھی باقاعدگی سے آتی رہتی ہیں، جہاں سربراہوں کی اخلاقی گراوٹ معمول کی خبروں کا حصہ ہے، جس کا چپہ چپہ نیم برہنہ تصویروں سے آراستہ ہے اور جہاں کی زندگی پر جنس کا اس قدر غلبہ ہے کہ شاید پوری انسانی تاریخ میں ایسے نہیں ہوا تھا۔ یہ معاشرہ اس معاملہ میں جوع البقر کا شکار ہے کہ سب کچھ کر کے بھی تسلی نہیں ہو پاتی۔ ان ماہرین کے علی الرغم مغرب میں شرح پیدائش میں کمی بڑھی ہوئی عیاشی اور خود غرضی کا نتیجہ ہے جب کہ مسلمان ممالک میں شرح پیدائش کا اس حد تک کم نہ ہونا اس سبب سے ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود یہاں یہ رزائل ابھی اس درجے تک نہیں پہنچے۔ بچے پالنا قربانی اور محنت طلب کرتا ہے اور اہل مغرب اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ مانع حمل ادویات اور آلات استعمال کرتے ہیں اور ان سے بھی بات نہ بنے تو اسقاط پر اتر آتے ہیں۔ یہاں عالم یہ ہے کہ میاں بیوی دونوںملازمت کرتے ہیں، اپنی آمدنی اپنے لیے نت نئے کھلونوں میں ختم کر دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم بچوں کا معاشی بوجھ نہیں اٹھاسکتے۔ فطرت انسانی اتنی مسخ ہوچکی ہے کہ کتوں بلیوں کو پالنا بچے پالنے کے مقابلے میں قابل ترجیح سمجھا جاتا ہے۔

یہ ترجیح قابل نفرین تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس لیے دلچسپ بھی ہے کہ یہ آبادی کے خلاف پروپیگنڈے کی معاشی بنیادوں کی حقیقت واضح کرتی ہے۔ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ جنوبی کالیفورنیا کے مشہور عالم سان ڈیگو کے چڑیا گھر میں ایک ہپوپٹمس نے بچہ دیا تو چڑیا گھر نے مہینوں اس کا جشن منایا۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہپوپٹمس کو ایک دن میں سو پونڈ کی خوراک کی ضرورت ہے، جب کہ انسانی بچے کو محض چند پونڈر درکار ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہپوپٹمس کو ساری عمر خوراک کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا ہوگا۔ کوئی جانور بھی اپنی خوراک پیدا نہیں کرا، صرف انسان ہی اپنی خوراک پیدا کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ مثلا شیر اور بھیڑیے بھی بھیڑ بکریاں کھاتے ہیں اور انسان بھی لیکن انسان گلہ بانی کرتا ہے، شیر اور بھیڑیے نہیں۔ انسان زراعت کرتا ہے، فصلیں کاشت کرتا ہے، ان کی نگہبانی کا انتظام کرتا ہے، جب کہ باقی تمام جانور اپنی خوراک کی پیداوار میں قطعی کوئی حصہ نہیں لیتے۔ اگر اضافہ آبادی کے خلاف کوئی معاشی دلیل ہوتی تو اس کا اطلاق ایک انسان کے علاوہ تمام جانوروں پر کیا جاتا۔ لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ مغربی ممالک جانوروں کی پیدائش پر جشن مناتے ہیں اور مشرق میں ہر انسانی بچے کی پیدائش پر صف ماتم بچھاتے ہیں۔

بہرحال مغرب میں عیاشی اور خود غرضی کے سبب شرح پیدائش میں جو کمی ہوئی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ افراد کار نہیں مل رہے اور مغربی اقوام کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ یہ ہے اصل مسئلہ۔ اور اس کا حل یہ سوچا گیا ہے کہ اپنی آبادی بڑھائی نہیں جاسکتی تو باقی دنیا کی آبادی کم کرو تاکہ طاقت کا توازن بگڑنے نہ پائے۔ مغربی دنیا کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنی شرارتوں کے سبب اپنی ایک آنکھ گنوا چکا ہو اور باقی دنیا کو اس پر مجبور کرے کہ وہ اپنی آنکھیں رضاکارانہ طور پر نکلوا دے۔ اس مہم میں غریب ممالک کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ان کی غربت کا سبب ان کی آبادی ہے جب کہ دنیا میں غربت اور احتیاج کا سبب آبادی نہیں بدانتظامی، لوٹ مار اور استحصال ہے۔

بڑھاپے کا سہارا

اولاد افراد کیلیے بھی بڑھاپے کا سہارا ہے اور اقوام کے لیے بھی۔ شرح پیدائش میں کمی نے مغرب میں اوسط عمر کو بہت بڑھا دیا ہے، یعنی معاشرے میں بوڑھے افراد کا تناسب بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہ جو امریکہ کی طرف سے گرین کارڈ لاٹری کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور تمام مغربی ممالک میں امیگریشن کا سلسلہ جاری ہے وہ اسی سبب سے ہے ۔ اس تازہ افرادی قوت کی درآمد کے بغیر گاڑی چلنی مشکل ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی یہاں سوشل سیکورٹی کا نظام خطرے میں نظر آرہا ہے۔ اس نظام میں بظاہر تو یہ ہوتا ہے کہ افراد اپنی ملازمت کے دوران پیسے حکومت کو دیتے رہتے ہیں جو بڑھاپے میں ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو لوٹائے جاتے ہیں۔ لیکن عملاً ہوتا یہ ہے کہ ہر دور میں جو پیسے حکومت کو ملتے ہیں وہ ان لوگوں کو دینے پر خرچ کیے جاتے ہیں جو ریٹائر ہوچکے ہیں۔ اب خدشہ یہ ہے کہ جب وہ لوگ جو آج تیس کے پیٹے میں ہیں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچیں گے تو اس وقت اتنے جوان لوگ ملازمتوں میں نہیں ہوں گے جو ان کی ریٹائرمنٹ کا بوجھ اٹھا سکیں۔

مشرقی ممالک میں سوشل سیکورٹی کا نظام موجود نہیں۔ یہاں تو کل سہارا اپنے خاندان کا سہارا ہے۔ جب اس سہارے کا گلا آپ پر فریب نعرے لگا کر خود گھوٹ دیں گے تو انجام کیا ہوگا؟

مالتھس مرکھپ گیا۔ لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی ایک نئی صورت میں موجود ہے۔ یہ اس موجودہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا حکم ہے کہ اپنی آبادیاں کم کرو۔ اگر قوم نے اپنی آزادی کا دفاع یہاں بھی نہ کیا اور ضبط ولادت کی اس مہم کو روکا نہ گیا تو اس قومی خود کشی کی مہم کا نتیجہ ایک عبرت ناک منظر کی صورت میں اس وقت سامنے آئے گا جب وہ نسلیں ریٹائرمنٹ کی حدود میں داخل ہوں گی جنہیں ’’بچے کم خوش حال گھرانہ‘‘ کے نعرے سے بیوقوف بنایا گیا ہے۔ اور جنہوں نے ’’اے میرے نور نظر، لخت جگر، جان پدر پیدا نہ ہو‘‘ الاپتے ہوئے اپنی زندگی برباد کر دی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خالد بیگ

تبصرہ کیجیے