مٹی کا ڈھیر

اگر سانس لینا ہی زندگی ہے تو میں زندہ ہوں، ورنہ زندگی تو جانے کب سے انجان رستوں کی مسافر ہوگئی ہے اور مٹی کے اس ڈھیر کو پھرولتے پھرولتے ان دھول سے پٹی گلیوں میں رل رہی ہے۔ میں تقدیر کے اندھیروں کا رزق ہوکر اپنے حصے کو کھوٹا سکہ ڈھونڈتی رہی۔

وہ ایک لمحے کو رکی اور عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی جیسے اسے میرے اس دنیا کی مخلوق ہونے پر شک ہو رہا ہے۔ پچاس پچپن سال کے لگ بھگ عمر کی اس عورت کا چہرہ جذبات سے عاری تھا جیسے حالات کے تھپیڑوں نے اسے قناعت پر مجبور کر دیا ہو۔ اس کے چہرے کے نقوش یونانی مسجموں کی طرح کھڑے اور پروقار تھے۔ اس کی آنکھوں میں مایوسیوں کی یلغار اور ناامیدیوں کی داستان رقم تھی۔ اس کے بالوں میں بکھری سفیدی ان کہی کہانی سنا رہی تھی۔

وہ گندمی مائل سفید رنگ کی ایک سوبر اور پروقار عورت تھی جو کبھی اچھی خاصی خوب صورت اور پرکشش رہی ہوگی مگر اب گزرے ہوئے بے رحم موسموں نے اس کے چہرے اور آنکھوں کو ویران کر دیا تھا۔ اس کے لہجے میں سرائے کی زبان کی جھلک نمایاں تھی۔

اپنے بارے میں کچھ بتاؤ شاہ بی بی! میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

شاہ بی بی تو تقدیر کے ایک فیصلے کا نام ہے بیٹا! الجھی ہوئی ان لکیروں کا نام ہے جنہیں تم میری بنجر پیشانی پر دیکھ رہی ہو۔ ہمارے معاشرے کی اس سسکتی بلکتی آرزو کا نام ہے جو سینوں میں ناسور کی طرح رستی رہتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ عورت کو عورت ہی رہنے دو، مال مویشی مت بناؤ۔ اس کی نظریں بدستور فرش پر بچھی بوسیدہ مگر صاف ستھری دری پر جمی ہوئی تھیں۔ زندگی امید کے سہارے آگے برھتی ہے مگر کبھی کبھی انسان نصیب کے اندھیروں میں امید کے چراغ تو جلاتا ہے مگر وہ اسے خالی ہاتھ لوٹا کر اس کی بے بسی پر قہقہے لگاتا ہے۔ عورت ہونے کے ناطے میری خواہشات تھیں، میرے دل میں بھی امیدوں کے چراغ روشن تھے، ماں بننا میرا فطری حق تھا مگر مجھے مقدس مورتی کی طرح ایسے رکھا گیا جس سے شادی گناہ تصور کیا جاتا ہے اور میں اپنے ارد گرد لپٹی کانٹوں کی اس باڑھ سے لہولہان ہوتی رہی۔ میں نے امیدوں اور سہاروں کو دفن کر دیا۔ ہاں اپنی آرزوؤں کی قبر پر بیٹھ کر دوسروں کے لیے ہاتھ اٹھا دیتی ہوں۔ آرزوئیں اور تمنائیں ٹوٹتی جڑتی رہیں تو زندگی متوازن رہتی ہے۔ کشمکش ہی زندگی کا حسن ہے۔ اس نے اپنی آنکھوں میں تیرتا پانی ڈو پٹے کے پلو سے صاف کیا اور میری طرف دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو اور کیا پوچھنا ہے۔

شادی کیسے ہوئی؟ میں دھیرے سے بولی۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی جیسے رات کی سیاہی میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو! وہ تو میرے لیے سویرا تھا جسے کبھی طلوع ہونا ہی نہ تھا۔ میرا سویرا تاریک ہوگیا وہ میرا منگیتر تھا مگر پھر تقدیر کے مدار میں گھومتی یہ سولہ سالہ شانو وٹے سٹے کی بھینٹ چڑھ گئی۔ بھائی کو ستر سال کے رحیم شاہ کی بیٹی ایسی بھائی کہ اس رسم کی قربان گاہ پر بہن کو قربان کر کے سرخ کفن پہنا دیا۔ میرا سودا ستر سالہ رحیم شاہ سے اس کی بیٹی کے بدلے میں کر دیا گیا۔ شاہ بی بی کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ میرے ارمانوں کی قبر پر بھائی کا گھر بسا دیا گیا۔ اس گھر میں رحیم شاہ کی تین بیٹیاں اور ایک بوڑھی بیوی بھی تھی جو بس عمر میں مجھ سے بڑی تھیں۔ رحیم شاہ کو وارث چاہیے تھا، یہ خواہش وہ مجھ سے پوری کرنا چاہتا تھا۔ وارث جو اس کا گدی نشیں ہوتا مگر قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چھ ماہ بعد ہی رحیم شاہ بیمار ہوکر چار پائی سے لگ گیا مگر کسی ان چاہے ہم سفر کے ساتھ ایک ایک لمحہ کتنا اذیت بھرا ہوتا ہے، یہ میں جانتی ہوں کہ گھونٹ گھونٹ تیزاب پی کر میں کس طرح پور پور کٹتی اور جھلستی رہی۔ وہ مرنے سے پہلے ہی گدی مجھے سونپ گیا۔ وہ بہت چالاک انسان تھا وہ ہر وقت حجرے میں مجھے اپنے ساتھ اسی لیے رکھتا اور اپنا کام سکھاتا رہا تاکہ اس کے بعد بھی اس کا گھر چلتا رہے، پھر گھر والوں کو میری شکل میں کماؤ پوت مل گیا۔ میں نے اس کی سب بیٹیاں بیاہ دیں اب تو اس کی بیوی کو مرے بھی کئی سال ہوگئے۔ میں واپس نہیں جاسکتی تھی، جب تک بھابی بھائی کے گھر میں تھی۔ تب میں نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا۔ میں اس کمائی کا نذرانہ اس کی بچیوں کو اور اب ان کے بچوں کو بھیج دیتی ہوں۔ میرے پاس تو بس یہ حجرہ اور ضرورت کی چند چیزیں ہیں۔

اور تمہارا منگیتر؟

وہ اپنی کزن سے شادی کر کے شہر چلا گیا۔ گاؤں کی گلیاں کوچے تلخ یادوں کو بڑھاوا دیتے ہیں مگر شاہ بی بی کی ویران زندگی آج بھی اس کی یاد سے مہکتی ہے مگر تمہارے علاوہ میں نے کبھی کسی کے آگے من کے دکھ نہیں کھولے، دل کے پھپھولے اگر بھرے رہیں تو اتنی تکلیف نہیں دیتے پھٹ جائیں تو گھاؤ ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں۔

اس کی آنکھوں میں پھر نمی تیرنے لگی۔ میرے پاس تو وہ الفاظ ہی نہ تھے جو اس سلگتی ہوئی عورت کو نذر کرتی۔ لوگ کہتے ہیں میں نے آج تک بہت سی ماؤں کی اجڑی گودیں بھرنے، زندگی کی تلخیوں کے مارے ہوؤں، ٹوٹے گھروں اور آخری سانس لیتی زندگی کے لیے دعائیں کی ہیں، پھونکیں ماری ہیں مگر میری ایک بات یاد رکھو بیٹا امکان اور اتفاق میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے۔ تقدیر ایک کھلا سچ ہے۔

وہ پہلی بار ہلکا سا مسکرائی اور میں سوچ رہی تھی کہ اگر کسی کو زندگی کا فلسفہ سیکھنا ہو تو اس گاؤں کی رہنے والی ایک چھوٹے سے حجرے میں ایک بوسیدہ دری پر بیٹھی اس عورت سے سیکھے جسے زندگی کے نشیب و فراز نے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔

میں یہاں اپنی کزن کے مشورے سے آئی تھی۔ ان دنوں میں ایم اے نفسیات کے لیے مختلف لوگوں کے حالات اور ان پر ان کے اثرات کے بارے میں مواد جمع کر رہی تھی۔ میں نے بوجھل دل سے رخصت کی اجازت چاہی اور زندگی کی مصروفیات میں کھو گئی، پھر میری شادی ہوگئی اور میں بیرون ملک چلی گئی مگر شاہ بی بی ہمیشہ میرے ذہن کے کسی کونے سے چپکی رہی۔ واپسی پر پہلی ہی فرصت میں گاؤں پہنچ گئی مگر حجرے کی جگہ ایک بڑے منقش دروازے پر ’’مزار شاہ بی بی‘‘ دیکھ کر میرا دل دھک سے رہ گیا۔ شاہ بی بی دو سال پہلے انتقال کر گئی تھی۔ میں نے دکھی دل سے پھول خریدے اور آہستہ سے مٹی کے اس ڈھیر پر رکھ دیے۔ میں نے دعا مانگی اور صحن میں آگئی۔ باہر نکلتے ہوئے مڑ کر دیکھا، مزار کے ساتھ لگی جالیوں پر لوگ اپنی اپنی خواہشوں اور مرادوں کے رنگین دھاگے باندھ رہے تھے جن میں نوجوان بچیاں پیش پیش تھیں۔ واپسی پر میں سارے راستے سوچتی رہی کہ آخر ہمارے معاشرے کے اس سلگتے پہلو کو بچانے کے لیے کون آگے آئے گا۔ کون اس الاؤ کو بجھانے کے لیے پہلا قطرہ ثابت ہوگا۔ اور کب تک پسماندہ ذہن میرے دیس کی شانو کو شاہ بی بی بنا کر مٹی کا ڈھیر کرتے رہیں گے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد اختر

Leave a Reply