پندار

 بیٹی تم تو سسرال کے مزوں میں ایسی گم ہوگئیں کہ ہم کو بالکل بھول ہی گئیں۔ بیٹی سسرال تو ہم بھی گئے تھے اور الحمد للہ اب بھی وہیں ہیں مگر اپنی امی اور مائکے کے لوگوں کو اتنی جلدی نہیں بھولے تھے۔ اب بھی گاہے گاہے خط یا فون کا آنا جانا لگا ہی رہتا ہے۔ فون نے تو امریکہ تک کے فاصلے مختصر کیا بالکل سمیٹ دیے یہ تو آگرہ ہی ہے، ہاں الحمد للہ مجھے یہ سوچ کر پورا سکون اور اطمینان میسر ہے کہ میری بیٹی خوش و خرم ہے اور اس کو بڑی قدرداں سسرال ملی ہے۔ اللہ تم کو سدا خوش رکھے۔ میں تو بس یہی کہوں گی چاہے کبھی جاوید ناراض ہو جائے مگر اس کے ابا اماں تم سے ناراض نہ ہونا۔ اب یہ سسرال ہی تمہاری دنیا ہے۔ میکہ تو چند روز کا ہوتا ہے۔ بچیاں تو ادھر دنیا میں آئیں ادھر بڑی ہوئیں۔ ہاتھ پیلے ہوئے اور سسرال چلی گئیں۔ ماں باپ اپنے لخت جگر کو بھیگی آنکھوں سے بس دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں یہی اللہ کا قانون ہے اور یہی سماج کا دستور بھی۔

امی جان آج پندرہ بیس دن بعد آپ کی شفقت و محبت سے شرابور آواز سننے کو ملی۔ امی جان میں بہت اچھی ہوں۔ امی جان میں کیا مثال دے کر بتاؤں میں کتنی اچھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے بے پناہ شکر کے ساتھ میں یہ کہتی ہوں کہ شاید ہی کسی کو میری جیسی اتنی اچھی سسرال ملی ہو جیسی کہ آپ نے اللہ کے فضل و کرم سے میرے لیے منتخب فرمائی۔ امی میں بہت اچھی ہوں بہت اچھی۔ آپ تو بس ہم دونوں کے لیے دعا کرتی رہا کریں۔ اور اپنے بیٹے کے لیے تو خوب ہی دعا کریں میرا اپنی جان سے بھی زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ میری ہی وجہ سے سائٹ سے سیدھے گھر ہی آتے ہیں اور کبھی خالی ہاتھ نہیں آتے۔ کوئی پھل، کوئی تحفہ یا کوئی اور پسندیدہ چیز ضرور لاتے ہیں اور جو کچھ لاتے ہیں میں فوراً ساس اماں کی خدمت میں پیش کر دیتی ہوں اور وہ ایسی دل والی اماں ہیں کہ مجھ ہی کو لوٹا دیتی ہیں اور دعائیں الگ دیتی ہیں۔ ایک بار آپ کے بیٹے اپنی تنخواہ میرے ہاتھ میں دینے لگے میں نے کہا نہیں امی جان کے ہاتھ میں دیجیے یہ انہی کا حق ہے۔ میں بلکہ ان کا ہاتھ پکڑ کر امی کی عدالت میں لے گئی۔ ’’دیکھئے امی جان میرے سامنے آپ کے بیٹے آپ کو بھول گئے اور جب میں نے ہاتھ پکڑ کر ان کے ہاتھ میں تنخواہ دلوائی تو امی جان میں کیا بتاؤں ساس اماں کتنی خوش ہوئیں اور مجھ کو کتنی دعائیں دیں۔ دیر تک میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرتی رہیں اور یہی نہیں میری پیشانی کو بوسہ بھی دیا۔ امی آپ آئیں گی تو ہمارا ماحول دیکھ کر بہت خوش ہوں گی۔ مگر آپ ہم کو تو آنے کے لیے کہتی ہیں خود نہیں آتیں۔ آپ کے تو پیر ہی گھر سے نہیں نکلتے۔ اگر میں یہ پہلا رمضان یا اس کے کچھ روزے آپ کے ساتھ نہیں گزار سکی تو آپ کو کس نے منع کیا تھا۔ لکھن پورا اور آگرے کا سفر ہی کتنا ہے۔ یہی دو ڈھائی گھنٹے کا۔ ابھی تو بارہ دن باقی ہیں بس کرلیجیے ہمت سیدھا سفر ہے کہیں بس یا ٹرین بدلنی بھی نہیں۔ لکھن پور ہو یا آگرہ یہیں دو چار دن سحر و افطار ہوجائیں گے۔

بیٹی تم سسرال جاکر پوری مقررہ ہوگئیں۔ باتیں کرنا خوب آگیا ’’اللہ کرے یہ جوشِ طرب اور زیادہ۔‘‘ بیٹی میں فون رکھتی ہوں سحری کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ قرب و جوار سے اذان کی آوازیں آرہی ہیں اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے، بے شک اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ اچھا خدا حافظ۔

٭٭

جی امی جان… السلام علیکم

میں ابھی آپ کو یاد ہی کر رہی تھی کہ آپ کا فون آگیا۔ آپ کا فون نہیں آتا تو دن پہاڑ سا لگنے لگتا ہے۔ فون نصف ملاقات سے بھی بڑھ کر ہے مگر بسا اوقات تشنگی اور بڑھا دیتا ہے۔ آپ تو آنے کا بس ارادہ کرلیں گھر سے تھوڑی دور ہی پر تو ہے بس اسٹینڈ۔

بیٹی تمہارا تقاضہ بالکل بجا بلکہ تم سے ملنا میرے دل کی عین آرزو مگر کیا کروں گھر کی یہ ذمہ داریاں پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ تمہارے یہ سب بہن بھائی پڑھنے جاتے ہیں کوئی ان کو سنبھال لے تو گھر سے باہر قدم نکالوں۔ بس کیا بتاؤں زندگی کیا ہوکر رہ گئی ہے۔ ہاں میں تمہیں ایک تجربہ کی بات بتانا بھول گئی وہ یہ کہ جب تمہاری ہماری بات ہو تو اپنی ساس اماں کو ضرور بتا دیا کرو کہ امی کا فون آیا تھا اور ان سے یہ اور یہ بات ہوئی۔ بیٹی شیطان گھات میں لگا بیٹھا رہتا ہے جانے کیا وسوسے دل میں ڈال دے۔ اور سلام تو میرا کہہ ہی دیا کرو۔

جی امی جان ! کچھ راز کی بات ہو تو چھپائی جائے ماں بیٹی میں کیا بات ہوسکتی ہے وہ تو خود بھی ہم سے بہتر جانتی ہیں۔ چار بیٹیوں کی ماں ہیں اور روزانہ کسی نہ کسی کا فون آتا ہی رہتا ہے میں تو آپ کے بغیر بتائے اس کا خیال رکھتی ہوں۔ کل جب میں نے آپ سے بات چیت کی بات سنائی تو ان کا آپ سے ملاقات کا اشتیاق دو چند ہوگیا۔ کہہ رہی تھیں بیٹی اپنی امی کو بلا لو۔ دو چار دن اپنی بیٹی کے پاس رہ جاتیں اب بتاؤ امی میں کیسے بتاؤں کہ پہلے رمضان کو تو لڑکیاں اپنے میکہ ضرور جاتی ہیں چاہے دو چار ہی دن کے لیے جائیں۔ یہاں اس بات کو دستور کا درجہ دیا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں میں کیا دستور۔ یہ تو ایک اندھی تقلید ہوگئی آدمی کو اپنا موقع محل دیکھنا چاہیے۔ مصروفیات اجازت دیتی ہوں تو جائیں ورنہ ٹِک کر اپنے گھر میں رہیں عورت کی سب سے بڑی عبادت یہی ہے۔ امی آپ وقت نکال سکیں تو اچھا ہے ورنہ عید کے بعد دیکھا جائے گا۔ اچھا امی میں آپ سے پھر بات کروں گی۔ آج مہمان داری کی وجہ سے کام کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔ آپ کا فون آنے اور کچھ باتیں کرنے سے سچ کہتی ہوں امی ساری ہی تھکن دور ہوجاتی ہے بلکہ میں یہ کہوں کہ میں تازہ دم ہوجاتی ہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ اچھا خدا حافظ۔

٭٭

ہلو امی! امی ہلو!

ہاں بیٹا!

امی میں نے کئی بار آپ کو فون کیا آپ نے اٹھایا ہی نہیںـ۔

ارے بٹیا یہ کیسے ہوسکتا ہے تمہارا فون آئے اور میں نہ اٹھاؤں۔ تمہارے فون پر تو ہر وقت کان لگے رہتے ہیں۔

امی کل کا دن تو بہت ہی اچھا گزرا۔ ہمارے پڑوس میں ایک خاتون ضمیرن رہتی ہیں بنگلور سے ان کی سمدھن اور ان کی بہو (ضمیرن کی بیٹی) صبوحی آئی تھیں۔ بہت ہی اچھی ملاقات رہی ساس اماں نے میرا بھی تعارف کرایا۔ بڑی خوش ہوئیں اور مجھے بنگلور کی مٹھائی کا ایک ڈبہ بھی دیا۔

ہماری ساس اماں نے پڑوسن ضمیرن سے پوچھا یہ آپ کی سمدھن اچانک آگئیں یا پہلے سے پروگرام تھا کیوں کہ ہماری ملاقات میں ایسا کوئی ذکر نہیں آیا کہ آیا بنگلور سے کوئی آنے والا ہے۔ اس سے پہلے کہ ضمیرن کچھ کہیں مہمان خاتون خود ہی سے بول اٹھیں بہن بات یہ ہے کہ ہمارا کوئی ارادہ رمضان المبارک میں سفر کا نہیں تھا لیکن ایک دن میں نے اپنے بیٹے سے کہا بیٹا تمہاری دلہن صبوحی کو میں دیکھتی ہوں کہ کچھ بجھی بجھی سی رہتی ہے۔ پہلا رمضان ہے ہوسکتا ہے ماں باپ یاد آرہے ہوں۔ بیٹا جھٹ بولا امی اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے میں ہوائی جہاز کی آج ہی سیٹ بک کرائے دیتا ہوں یہاں سے دہلی اور دہلی سے آگرہ زیادہ سے زیادہ آپ ۸ گھنٹے میں آگرہ پہنچ جائیں گی اور ایسا ہی ہوا۔ ہم آٹھ گھنٹے یا کچھ زیادہ وقت میں آگرہ پہنچ گئے۔ کل رات کو بیٹا آجائے گا اور ایک دن بعد ہم واپس چلے جائیں گے۔ بات یہ ہے کہ رشتہ داری میں صلہ رحمی پیشِ نظر رہنی چاہیے۔ اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ قرآن کریم میں تو بہت مقامات پر اس سلسلے کی آیات ملتی ہیں۔

امی جان ہماری ساس اماں دانتوں تلے انگلی دبائے سب باتیں سنتی رہیں جب مہمان خاتون سے بار بار محسن، محسنین سنا تو کہنے لگیں کلام پاک پڑھتے وقت یہ الفاظ تو ہمارے سامنے بھی آتے ہیں مگر ہم نے زیادہ غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو اتنا پسند کرتا ہے کہ بار بار اس کی تکرار کلامِ پاک میں ملتی ہے۔

امی جان مہمان خاتون کی باتیں اور انداز بیان اتنا دل نشیں تھا کہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنے موبائل میں اس کو ریکارڈ کرلوں تاکہ میں خود بھی دوبارہ سن سکوں اور کسی اور کو بھی سنا سکوں۔ لیجئے ایک دوسرے موبائل کی مدد سے کچھ بات چیت سنواتی ہوں تاکہ آپ یہ نہ سوچیں میری بیٹی بس یوں ہی لفاظی کر رہی ہے۔ لیجیے ذرا کان لگا کر توجہ سے سنئے۔

ساس اماں بول رہی ہیں: بہن ہم پڑھے لکھے لوگوں میں رسم و رواج کی بالادستی کچھ پسند نہیں کی جاتی آپ کا کیا خیال ہے یہ سب پرانے لوگوں کی من گھڑت کہانیاں لگتی ہیں۔ کبھی اس موقع پر میکہ جاؤ کبھی فلاں موقع پر لڑکی کی شادی کر دی بس کردی اب اپنے گھر رہو اللہ کا شکر ادا کرو۔

نہیں بہن نہیں۔ یہ رسم و رواج نہیں ہیں۔ یہ تو بزرگوں کی قائم ی ہوئی قدریں ہیں جن کے ذریعہ کتنی ہی بے زبانوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔ باہمی رشتے مزید مجبوط ہوتے ہیں، تکلفات کی دیواریں منہدم ہوتی ہیں۔ قربت بڑھتی ہے یا یوں کہا جائے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل ہوتی ہے۔

بہن آپ نے تو پہلی ہی ملاقات میں ہمارا دل جیت لیا۔ نہیں بہن ہم کس قابل ہیں یہ تو سب اللہ ہی کا فضل ہے۔ اچھا اب ہمیں جانے دیں زندگی رہی تو پھر آئیں گے، چلو بیٹے صبوحی۔

امی بتائیے کیسی لگی ہماری ہمسایہ خاتون کی سمدھن کی بات چیت۔ امی جان ہم نے ان کو بہت روکنا چاہا مگر وہ رکی نہیں۔ چلتے وقت مجھ کو بنگلور آنے کی کہہ گئیں اور میرا ہاتھ بہت محبت سے پکڑ کر میری مٹھی میں عیدی بھی دے گئیں۔

ہاں بیٹی تم بہت خوش نصیب ہو جو ایسی کشادہ دل اور جہاں دیدہ خواتین سے تمہیں ربط و ضبط کے مواقع نصیب ہو رہے ہیں۔ بس بیٹے اب میں فون رکھتی ہوں، بہت دیر ہوگئی۔ اللہ حافظ۔

٭٭

ہلو امی! امی ہلو! ہاں بیٹی، امی… نہیں نہیں میں تمہاری بات بعد میں سنوں گی پہلے تم میری بات سنو اور غور سے سنو۔

دیکھو یہ بار بار فون کرنا، اچھا نہیں، تمہاری سسرال والے بالخصوص تمہاری ساس اماں کہیں یہ نہ سوچنے لگیں کہ اس صفیہ کو ہر وقت اپنی ماں کی ہی پڑی رہتی ہے۔ جب دیکھو کان سے فون لگا ہے۔ اس کا دل یہاں لگ ہی نہیں رہا ہے۔

نہیں امی یہ بات نہیں ہے میں آپ کو ایک خوش خبری دینا چاہتی ہوں۔ سحری کے بعد میری ذرا آنکھ ہی لگی تھی کہ میری ساس امی آئیں اور میرے کھوے ہلا کر بولیں دلہن تمہیں عید کے دوسرے دن لکھن پور اپنی امی کے پاس جانا ہے۔ تم تنہا نہیں جاؤگی۔ جاوید تمہیں لے کر جائے گا اور دیکھو ایک پیسہ بھی میں تمہیں اپنے پاس سے خرچ نہیں کرنا ہے۔ سب خرچہ میرے ذمہ رہے گا اور لو یہ دو ہزار روپے اپنے پاس رکھو۔ افسوس ہم تو پندارِ علم میں بری طرح گھر گئے تھے اللہ بھلا کرے ہماری پڑوسن ضمیرن کی بنگلوری سمدھن کا وہ تو ہماری آنکھیں کھول گئیں۔

امی بس آپ اب خوش ہو جائیے اللہ نے آپ سے ملاقات کی تمام راہیں کھول دیں۔ اچھا اللہ حافظ۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد داؤد نگینہ

Leave a Reply