گھٹن کا احساس

بچپن میں اس کی ماں اسے نلکے کے نیچے بٹھا کر نہلایا کرتی تھی۔ اس کا بھائی نلکے کی ہتھی چلاتا، ماں اس کے پورے جسم پر صابن مل کر اسے اچھی طرح سے صاف کرتی۔ ماں کا نہلانا اسے اچھا لگتا تھا لیکن جب وہ اس کے منہ پر صابن لگاتی اور اسے آنکھوں میں اس کی چبھن محسوس ہوتی تب وہ تکلیف کے باعث ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارتا۔ صابن سے بھی زیادہ گھبراہٹ اسے اس وقت ہوتی جب اس کا سر نلکے کی دھار کے عین نیچے ہوتا۔ پانی سیدھا اس کے سر اور چہرے پر امنڈتا چلا آتا، اسے ایسا لگتا جیسے وہ کسی گہرے پانی میں ڈوب رہا ہو۔ وہ گھبراہٹ کے مارے چیخنے لگتا۔ ایسے موقع پر اس کا بھائی شرارت سے نلکے کی ہتھی کو زیادہ تیزی سے چلانے لگتا۔ اس کی گھبراہٹ تڑپنے جیسی حالت میں بدل جاتی۔ تب ماں اسے سینے سے لگا لیتی۔ ماں کے سینے سے لگتے ہی اس کی ساری گھبراہٹ دور ہوجاتی۔

لڑکپن میں ایک بار اسے اپنے باپ کے ساتھ ایک پہاڑ کی چوٹی پر جانے کا موقع ملا۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اس نے نیچے دیکھا تو خوف زدہ ہوگیا۔ وہ بلندی اور پانی دونوں سے ڈرنے لگا۔ اسے زمین سے جڑے رہنے میں عافیت محسوس ہونے لگی۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا بلندی اور پانی سے اس کا خوف بڑھتا گیا۔ ایک بار وہ ایک بائیس منزلہ عمارت کی آخری منزل پر گیا۔ بائیسویں منزل کے ایک فلیٹ کی بالکونی سے جب اس نے نیچے جھانک کر دیکھا تو اسے لگا وہ ابھی نیچے گر پڑے گا۔ اس نے بالکونی سے پیچھے ہٹ کر دیوار کے ساتھ جڑ کر آہستہ آہستہ کمرے کی طرف سرکنا شروع کیا اور جب وہ تین میٹر کا فاصلہ طے کر کے بالکونی کے ساتھ ملحقہ کمرے میں گیا تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا جیسے وہ ۳۰۰ میٹر کی دوڑ کے آخری پوائنٹ پر پہنچا ہو۔

جوانی میں ملازمت کے باعث اسے کئی گھر تبدیل کرنے پڑے۔ اسے اتفاق کہیں کہ ہر گھر کا باتھ روم بے حد مختصر ہوتا۔ نہانے والا سمٹ سمٹا کر شاور کے نیچے کھڑا ہوسکتا تھا۔ کئی بار اس نے سوچا اس سے تو بچپن کا وہ نلکا بہتر تھا۔ وہاں اتنی شدید گھٹن تو نہیں تھی۔ تنگ باتھ روم میں جاکر کبھی کبھی اسے ایسے محسوس ہوتا جیسے وہ کوئی ملنگ ہے جو کسی شہزادی پر فریفتہ ہوگیا تھا۔ اور بادشاہ نے اسے سزا کے طور پر دیواروں میں زندہ چن دینے کا حکم دے دیا ہے۔ تب وہ نہائے بغیر ہی گھبرا کر باہر نکل آتا۔ نہاتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنی پوری کمر پر نہیں پھر سکتا تھا۔ ماں کا کمر پر صابن ملنا یاد آتا تو اس کا جی چاہتا کاش ماں زندہ ہوتی اور اب بھی میری کمر پر صابن مل دیتی۔ ایسے ہی خیالوں کے دوران ایک بار اس نے اپنی بیوی کو عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ اس کی بیوی نہ صرف اس کی ماں کی بھتیجی تھی بلکہ بڑی حد تک اس کی ماں کی ہم شکل بھی تھی۔ اس نے اپنی بیوی سے اس خواہش کا اظہار کر دیا کہ وہ نہاتے وقت اس کی کمر پر صابن مل دیا کرے۔ اس کی بیوی تھوڑا سا شرمائی پھر کہنے لگی: ’’مجھ سے یہ فلموں والے باتھ روم کے سین نہیں ہوسکتے‘‘ وہ بیوی کے جملے پر مسکرایا اور پھر اس نے سوچا یہ پگلی کہاں جاپہنچی۔

ایک دن اس نے اخبار میں خبر پڑھی: ایک عورت جسے مردہ سمجھ کر دفن کر دیا گیا تھا، دو دن کی مشقت کے بعد اپنی قبر ادھیڑ کر باہر نکل آئی۔ یہ خبر پڑھ کر اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی۔ کسی زندہ انسان کو مردہ سمجھ کر دفن کر دینا۔ لیکن قبر کے اندر لیٹا ہوا انسان کیسے اسے ادھیڑ سکتا ہے؟ اس نے خوف اور حیرت سے سوچا۔ پھر اس نے فرض کیا کہ اسے بھی اسی طرح مردہ سمجھ کر دفن کر دیا جائے تو وہ اپنی قبر ادھیڑ سکے گا یا نہیں۔ وہ تو سچ مچ وہیں دم گھٹ کر مر جائے گا اور پھر گھبرا کر وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ رات کو جب سردی کے باعث اس نے کمبل اپنے منہ پر لیا، اسے ایسے لگا جیسے وہ کفن میں لپٹا ہوا قبر میں پڑا ہے۔ اس نے گھبرا کر کمبل کو چہرے سے ہی نہیں، سینے سے بھی اتار پھینکا اور بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بعد میں اس نے اپنے ایک دوست کو اپنی گھبراہٹ اور گھٹن کے احساس کے بارے میں بتایا تو اس نے اسے مشورہ دیا کہ تیراکی سیکھ لو۔ اب وہ اپنے دوست کو کیا بتاتا کہ وہ بچپن سے نلکے کے پانی سے بھی خائف رہا ہے۔ تیراکی کیسے سیکھ لے! سو اس نے دوست کے مشورے کو مذاق کے رنگ میں ڈھال دیا:

’’کیا پتہ کل کلاں مجھے مہیوال کا کردار کرنا پڑجائے پھر دریا میں ڈوبنے کے بجائے تیر کر پار لگ جاؤں گا اور محبت کی رسوائی ہوجائے گی۔‘‘ اس عرصہ میں اوزون کا مسئلہ، آلودگی کا مسئلہ اور ایٹمی جنگ کا امکانی خطرہ۔ ان موضوعات پر اس کا مطالعہ بڑھتا گیا۔ وہ سوچتا: انسان نے مختلف نظریات اور مزعومہ برتری کی لڑائیوں میں نفرت کی آلودگی بڑھائی، بلندیوں کی آرزو میں اوزون میں شگاف ڈال دیے۔ صنعتی ترقی اور اسلحے کے دوڑ میں ماں جیسے مقدس پانی کو ناپاک کر دیا، جنگلوں کو اجاڑ دیا، اتنے ہولناک نیوکلیائی ہتھیار بنالیے کہ دھرتی کا دم گھٹ کر رہ جائے۔ یہ ساری بلندیاں انسانیت کو قبر میں گرانے والی ہیں۔ جیتے جی قبر میں گرانے والی۔ اور پھر اس کا دم گھٹنے لگتا۔ اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگتی۔ ایسے ہی خیالوں میں کھویا ہوا وہ ایک بار ٹرین کا سفر کر رہا تھا۔ جب سوچتے سوچتے اس کا دم گھٹنے لگا تو وہ اٹھ کر ٹرین کے دروازے کے قریب آیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اس نے گیٹ کے دائیں بائیں نصب شدہ دونوں ڈنڈوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اندر آتی ہوئی تیز ہوا سے گھٹن کا احساس کم ہونے لگا۔ اسے قدرے سکون مل رہا تھا لیکن پھر یکایک اس کے ذہن میں عجیب سا خیال آیا۔ چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دو۔ پھر یوں لگا جیسے یہ خیال نہیں کوئی غیبی آواز ہے جو اسے حکم دے رہی ہے: چھلانگ لگادو۔ وہ گھبرا کر اپنی سیٹ کی طرف لوٹ آیا۔ اگر وہ مزید تھوڑی دیر گیٹ پر کھڑا رہتا تو یقینا چھلانگ لگا دیتا۔ اس واقعہ کے بعد وہ کسی بھی بلندی والی جگہ پر جاتا، اسے یہی آواز سنائی دینے لگتی: نیچے چھلانگ لگا دو۔ چھلانگ لگا دو۔ اور وہ گھبر اکے نیچے آجاتا۔

اس دن وہ صوبائی دار الحکومت سے واپس آرہا تھا۔ رستے میں ماں، باپ کی قبروں پر جانے کی آرزو ہوئی اس لیے ان کے شہر کی طرف چل پڑا۔ وہاں ان دنوں رستے میں دریا کا پل زیر مرمت تھا۔ کام کی وجہ سے ساری رات پل پر آمد و رفت معطل رہتی تھی۔ اسے اس کا علم نہیں تھا۔ لیکن اب دریا کے اس طرف آگیا تھا تو دوسری طرف جاکر ماں، باپ کی قبروں پر دعا کے بغیر جانا اچھا نہیں لگتا تھا۔ چوں کہ گرمیوں کے دن تھے، اس لیے وہ دریا کے اس طرف مزے سے رات بسر کرسکتا تھا۔ اس نے ارادہ کرلیا کہ صبح رستہ کھلتے ہی دریا کے پار چلا جائے گا۔ لیکن رات دس بجے کے قریب ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ وہ دریا کے دوسری طرف والے شہر کا باسی ہے اور ایک چھوٹے سے پل سے واقف ہے، جہاں سے پیدل دریا پار کیا جاسکتا ہے۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس شخص کے ساتھ چل پڑا۔ یہ بہ مشکل دو فٹ چوڑا پل تھا جس کے ایک طرف لوہے کے پائیوں کا جنگلہ سا بنا تھا اور دوسری طرف سے بغیر جنگلے کے تھا۔ اس نے آدھا پل بے خیالی میں پار کرلیا تواسے احساس ہوا کہ وہ تو پل صراط پر چل رہا ہے۔ اس نے جنگلے کو پکڑے ہوئے اوپر دیکھا۔ ریلوے لائن والے پل پر چندھیا دینے والی روشنی تھی۔ وہاں مزدور کام کر رہے تھے۔اس نے چندھیائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ نیچے نظر دوڑائی تو گرمیوں کا چڑھتا ہوا دریا تھا۔ اس کا دل بیٹھنے لگا۔ تب اسے جتنی دعائیں یاد تھیں اس نے ان کا وِرد شروع کر دیا ان میں علم میں اضافے سے لے کر والدین کی مغفرت تک کی کئی غیر متعلق دعائیں بھی شامل تھیں۔ نہ وہ اوپر دیکھ سکتا تھا نہ نیچے۔ تب اس نے اپنے آگے والے ہم سفر کو دیکھا تو وہ غائب تھا۔ خوف سے اس کی گھگھی بندھ گئی۔ وہ کون تھا اور کیوں مجھے یہاں تک لاکر غائب ہوگیا۔ دریا کے دوسری طرف والے شہر کے رہنے والے نے مجھے دھوکہ کیوں دیا؟ ان خیالوں اور سوالوں کے ساتھ اس نے بے بسی سے آسمان کی طرف نظر اٹھائی۔ ایک طرف گہری تاریکی تھی اور ایک طرف ٹرین کے پل پر ہونے والی تیز روشنی۔ گھبراہٹ میں اس کا ایک ہاتھ جنگلے سے ہٹ گیا۔ اس نے نیچے کی طرف دیکھا جہاں دریا کا چڑھتا ہوا پانی تھا، اضطراری طور پر اس کا دوسرا ہاتھ بھی جنگلے سے ہٹ گیا۔ اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔ پھر اسے وہی آواز سنائی دینے لگے:

چھلانگ لگا دو… نیچے چھلانگ لگا دو۔ پھر دریا میں گہری چھپاک کی آواز اس نے خود ہی سنی تھی۔ اس کے بعد اسے ایسا لگا جیسے اس کی ماں اسے نہلا رہی ہے۔ اس نے اس کے منہ پر صابن مل دیا ہے۔ بھائی نے نلکے کی ہتھی تیز چلانی شروع کردی ہے۔ گھبراکر وہ تھوڑا سا تڑپا تو ماں نے بے تاب ہوکر اسے سینے سے لگا لیا۔ اس کی ساری گھبراہٹ دور ہوگئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حیدر قریشی

Leave a Reply