آج کی عورت

اس نے دونوں بچوں کو ٹفن دے کر اسکولی بس پر سوار کیا اور پھر جلدی سے آکر منّے کے لیے دودھ تیار کرنے لگی دودھ کو برتن میں ڈال کر جلدی جلدی ٹھنڈا کیا پھر دودھ کی بوتل بچہ کے ننھے منے ہاتھوں میں تھما کر خود باتھ روم میں گھس گئی، دو ہی منٹ میں باتھ روم سے نکل کر بیڈ روم میں آئی اور ہینگر پر لگی ہوئی ساڑی اپنے جسم کے گرد لپیٹتے ہوئے آئینہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ جلدی جلدی ہلکا سا میک اپ کیا، بچہ کے قریب آئی ایک پیار بھرا بوسہ اس کی پیشانی پر دیا اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگی۔ چلتے چلتے رسٹ واچ پر نظر ڈالی اور یہ محسوس کرتے ہوئے کہ گھڑی کی سوئی بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے وہ بھی گھڑی کی سوئی کی ہی رفتار سے بھاگنے لگی۔

یہ روز روز کی بھاگ دوڑ بھی کیسی عجیب ہوتی ہے۔ وہ ہر روز سوچتی ہے کہ وقت سے پہلے ہی تیار ہو کر گھر سے نکل جائے گی لیکن ہر روز کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ تاخیر ہو ہی جاتی ہے اور اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ نوکری کرنے والوں کے لیے کبھی کبھی پانچ منٹ بھی کتنے قیمتی ہوتے ہیں۔

خواہ مخواہ باس کے سامنے شرمسار ہونا اسے پسند نہیں تھا۔ لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر وہی کچھ ہوتا تھا جو وہ انہیں چاہتی تھی۔

کالج پہنچ کر لائبریری روم کے سامنے کھڑے ہوکر اسے دو منٹ یہ سوچنے میں لگا کہ آج وہ اپنے باس سے کیا بہانہ بنائے گی۔ کاش اس کے روم میں جانے کے لیے الگ سے دروزہ ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ اس طرح باس کے روم سے ہوکر گزرنے میں اسے بڑی کوفت ہوتی تھی، خاص کر جب تھوڑی بھی تاخیر ہو جائے تو معاملہ اور بھی پریشان کن ہو جاتا تھا۔

وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی باس ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ مخاطب ہوئیں: ’’لیٹ آنا آپ کی عادت بن چکی ہے مسز صادق اب مجھے پرنسپل کو Complain دینا ہوگی۔‘‘

نہیں میڈم، ایکسکیوز می، وہ ہکلاتے ہوئے بولی اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا کہ وہ کیا کہے اور کیا نہ کہے اس لیے وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی اور تیزی سے اپنے کام میں لگ گئیں۔

دن بھر ایک انداز میں بیٹھی بیٹھی وہ بالکل بور ہوجاتی تھی۔ اسے اپنا کمرہ ایک چھوٹا قید خانہ لگتا تھا۔ اس قید خانہ میں اس کی کرسی کے سامنے کی طرف ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی۔ اس کھڑکی کی سلاخیں اس انداز میں کٹی ہوئی تھیں جس سے لڑکیاں دن بھر لائبریری کارڈ لینے کے لیے اپنے ہاتھ اندر بڑھایا کرتی تھیں اور اسی راستہ سے وہ کتاب بھی لیتی دیتی تھیں۔ دن بھر طرح طرح کی لڑکیاں، کوئی الٹر اماڈرن، کوئی سیدھی سادی، کوئی خوب صورت، کوئی بد صورت، کوئی بش شرٹ پتلون میں ملبوس، کوئی شلوار جمپر میں اور کوئی ساڑی میں ملبوس اس دریچہ کے اس پار چھوٹے سے کمرے میں آکر کھڑی ہوجاتیں اور اپنے شور و غل سے اس کے ذہن کو پراگندہ کرتی رہتیں۔

’’دیدی، ابھی میرا کلاس ہے پہلے مجھے دے دیجیے‘‘ اور کوئی کہتی:

’’نہیں دیدی پہلے مجھے دیجیے میں پہلے سے کھڑی ہوں۔‘‘ پھر تیسری آواز ابھرتی ’’دیدی جلدی دیجیے نا۔‘‘

اور وہ گھبرا کر کہتی ہے: ’’تم لوگ کیو میں کیوں نہیں رہتی ہو، جاؤ میں کسی کو نہیں دوں گی۔‘‘

لڑکیاں وقتی طور سے کیو، میں ہوجاتیں، لیکن پھر وہی ہنگامے اور شوخیاں۔ روز روز کے اس ہنگامے اور شور شرابے سے اکثر اس کے سر میں درد ہو جاتا اور وہ سوچتی کہ یہ نوکری ہے یا درد سر۔

اکثر دل چاہتا اس درد سری سے وہ ریزائن کر کے اپنے شوہر کے پاس مع بچوں کے چلی جائے۔ یہاں سے اسے زندگی کی کون سی خوشیاں نصیب ہیں۔ گھر جاتی ہے تو کسی کو بھی تو اس سے ہمدردی نہیں ہوتی۔ ساس صاحبہ یہ سوچتی ہیں کہ وہ دن بھر اس کے بچہ کی کھلائی رہی ہیں اس لیے اب انہیں آرام سے سونا چاہیے۔ بچے سوچتے ہیں کہ ممی دن بھر غائب رہی ہیں اس لیے اب انہیں خوب تنگ کرنا چاہیے۔ کبھی کبھی اسے اپنے شوہر کی کمی کا احساس ہوتا لیکن پھر سوچتی وہ رہتے بھی ہیں تو کیا کرتے ہیں۔ وہ تو اسے اور بھی الجھا دیتے ہیں۔ دوست پر دوست آرہے ہیں۔ رات گئے تک بیٹھک جمی ہوئی ہے۔ چائے پر چائے بن رہی ہے۔ شرٹ کے بٹن ٹوٹ گئے ہیں ذرا لگا دو، گنجی کہاں ہے؟ رومال کہاں ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ غرض ایک عجیب ہنگامہ رہتا ہے ان کے رہنے سے اس ہنگامے میں بھی وہ خوش رہتی تھی کیوں کہ شوہر کی قربت ایک بہت بڑی قوت تھی۔ لیکن اب تو وہ کبھی کبھی بڑی بے سہارا محسوس کرتی ہے خود کو۔

آج سے دس سال پہلے کیسی دل کشی تھی اس نوکری میں۔ جب وہ نوکری میں آئی تھی اسی وقت اس کی شادی ہوئی تھی۔ گھر میں کوئی کام دھام نہیں تھا۔ اس کے شوہر اکثر اسے پہچانے کالج آتے تھے اور پھر شام کو اس کے انتظار میں بے قرار رہتے تھے۔ اس وقت ان کی بے قراری اسے کتنی اچھی لگتی تھی۔ لیکن اب تو جیسے وہ بھی عادی ہوچکے ہیں۔ جبھی تو دوسرے شہر میں بھی اس کے بغیر کتنے مزے میں رہ رہے ہیں۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ وہاں جاکر اس کی بے حد کمی محسوس کریں گے اور بہت جلد اس سے استدعا کریں گے کہ تم نوکری چھوڑ کر میرے ساتھ چلی چلو مجھے ایسی نوکری نہیں چاہیے۔ لیکن یہ تو محض اس کے تصور کا بھرم نکلا۔ اب تو وہ کبھی ان سے نوکری چھوڑنے کا تذکرہ بھی کرتی ہے تو وہ گھبرا کر کہتے ہیں یہ حماقت ہے شہناز۔ آج کے دور میں نوکری ملنی آسان نہیں ہے۔ لگی ہوئی روزی کو چھوڑنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ بعد کو تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ اور وہ سوچتی ہے کہ عورت کی قسمت میں تو ہمیشہ پچھتانا ہی ہے وہ ابھی بھی پچھتا رہی ہے اور بعد کو بھی پچھتائے گی۔ اس نے تو خود کو ایک ایسے مایا جال میں پھنسا لیا ہے کہ اب خود اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

لیکن آج کے واقعہ نے تو اسے تلملا ہی دیا ہے۔ اس کا سب سے چھوٹا بچہ تیز بخار سے بھن رہا ہے۔ اس کی خواہش کالج کی نہں ہو رہی ہے لیکن اس کے پاس ایک بھی کیزوئل لیونہیں ہے۔ اگر وہ چھٹی لے گی تو تنخواہ کٹ جائے گی۔ اس نے سوچا کہ وہ جاکر اپنے باس کو اپنے حالات بتائے گی اور تھوڑی دیر کام کرنے کے بعد باس کی اجازت لے کر گھر چلی آئے گی۔ اس طرح تنخواہ کٹنے سے بچ جائے گی۔ وہ ساس سے کہہ گئی۔ ’’اماں میں بارہ بجے تک آجاؤں گی، جب تک آپ بابو کو بہلائیں گی۔‘‘ جاتے وقت بچہ اس کی ساڑی کا آنچل نہیں چھوڑتا ہے، وہ بڑے پیار سے اس کی معصوم پیشانی کو چومتی ہے اور گردن اور ہونٹ پربوسہ دیتے ہوئے کہتی ہے: ’’میرے منے میں ابھی آجاتی ہوں۔ تمہارے لیے دوا اور بسکٹ بھی تو لانا ہے۔ پاپا تو نہیں ہیں نا بیٹے اس لیے دوا اور بسکٹ کون لائے گا میرے منے کے لیے۔‘‘

’’اور ٹافی بھی ممی۔ لیکن جلدی آنا ممی جلدی آنا ممی۔‘‘ بچے کی گڑگڑاتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں دیر تک گونجتی رہی۔ وہ تیزی سے نکل کر رکشا پر بیٹھ گئی۔ کالج پہنچ کر کام کرنے میں اس کا دل بالکل نہیں لگ رہا تھا۔ لیکن مجبوراً وہ کام میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرنے لگی۔

باس ابھی تک نہیں آئی تھیں۔ اسے بے قراری سے ان کا انتظار تھا۔ گیارہ بجے کے قریب باس آئیں۔ وہ لپک کر ان کے روم میں گئی لیکن باس کا مزاج ہی آج برہم تھا وہ اسے دیکھتے ہی الجھ پڑیں۔ آپ لوگوں کو کام سے بالکل مطلب نہیں ہے۔ دیکھئے ان کتابوں کو آئے ہوئے کتنے دن ہوگئے ہیں۔ ابھی تک ان کی انٹری نہیں ہوئی ہے، کل پرنسپل صاحبہ مجھے ڈانٹ رہی تھیں۔ اگر میں ان چھوٹے چھوٹے کاموں کو کرتی رہوں تو آپ لوگ کس مرض کی دوا ہیں۔ اور وہ سوچ رہی تھی کہ اس وقت اگر وہ گھر جانے کی بات کرتی ہے تب وہ اور برہم ہوجائیں گی۔ اس لیے تھوڑی دیر ان کے مزاج کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر وہ اپنے روم میں واپس آگئی اور انٹری کا کام شروع کرنا چاہا۔ لیکن آج اس کی طبیعت کام کرنے میں بالکل نہیں لگ رہی تھی۔ رہ رہ کر بچہ کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی، ممی جلدی آنا، اس کا قلم بے خیالی میں رجسٹر پر چل رہا تھا اور ذہن گھر کی طرف تھا۔ اتنے میں باس آکر کھڑی ہوگئیں اور رجسٹر کی طرف دیکھتے ہوئے گرجیں۔ ’’مسز صادق میں محسوس کر رہی ہوں کہ اب آپ کا دل کام کرنے میں بالکل نہیں لگ رہا ہے۔ دیکھئے آپ نے کیا غلطی کی ہے۔‘‘ رجسٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے خشمگیں نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ سر جھکا کر کھڑی ہوگئی اور ہمت کر کے بولی۔ ’’معاف کریں گی میڈم۔ آج میں بے حد پریشان ہوں۔ میرا بچہ بیمار ہے میں نے چاہا تھا کہ آج…‘‘

وہ اپنی بات پوری بھی نہ کرسکی کہ باس برس پڑیں۔ ’’آپ کے ساتھ تو روز ہی یہی دھندا لگا رہتا ہے کبھی بچہ بیمار ہے۔ کبھی خود بیمار ہیں اگر آپ کو چھٹی لینی ہے تو چاہیے پرنسپل سے کہیے میں کچھ نہیں جانتی۔ آپ لوگوں کو جس قدر چھوٹ دی جاتی ہے اتنا ہی آپ لوگ آرام چاہتی ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر باس چلی گئیں اور وہ سوچتی رہی کہ اگر وہ پرنسپل آفس میں جائے اور وہ بھی چھٹی نہ دیں تو وہ کیا کرے گی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے آج کی چھٹی کے لیے ایک درخواست لکھی آدھا سے زیادہ دن وہ کام کرچکی تھی لیکن اب اس سے مزید کام نہیں ہوسکتا تھا۔ چھٹی ملنے کی امید نہیں اس لیے without pay ہونا اس نے منظور کرلیا، لیکن اپنے بچہ کو وہ اب زیادہ دیر تک نہیں چھوڑ سکتی تھی، اس کی آواز اس کی ممتا کو للکار رہی تھی۔ ’’ممی جلدی آنا۔‘‘

ایک بجنے والا تھا گھر پہنچتے پہنچتے دو بج جائیں گے۔ بیکار ہی اس نے اتنا وقت برباد کیا کاش وہ آنے کے ساتھ ہی چھٹی لے لیتی۔ اس افسوس کے ساتھ وہ باس کے کمرے میں داخل ہوئی ٹیبل پر پیپر ویٹ کے نیچے درخواست ڈال کر وہ جانے کے لیے مڑی تو باس نے حیرت سے اس کی جرأت رندانہ کو مارک کیا، لیکن کچھ کہا نہیں۔ وہ غم و غصہ سے نڈھال آگے بڑھ گئی۔ رکشا کر کے وہ تیزی سے گھر پہنچنا چاہتی تھی لیکن آج راستہ کی دوری اسے ہر دن سے زیادہ کھل رہی تھی۔ پونے دو کے قریب وہ گھر پہنچی۔ دروازے پر ساس بچہ کو لیے بہلا رہی تھیں اسے دیکھتے ہی ابل پڑیں ’’آج کی عورتوں کے پاس دل نہیں پتھر ہے، بچہ بیما رہے اور میم صاحبہ کو نوکری کی ہی فکر ہے۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
قمر جہاں

Leave a Reply