خوش نصیب کون؟؟؟

اگر آپ کسی صاحب اولاد بوڑھے یا بوڑھی کو صاحب فراش اور تن تنہا دیکھیں گے تو کہیں گے کتنے بد نصیب ہیں یہ…

مگر آپ یقین جانیں بد نصیب وہ نہیں بلکہ ان کی اولاد ہے جو انہیں اس حال میں چھوڑ کر مست ہے۔ کیوں؟ اگر کوئی لڑکا ،لڑکی اپنے والدین یا ان میں کسی ایک کی خوب خوب خدمت کرے، ان کے سامنے سر اطاعت خم کرے، نرمی اختیار کرے، خیال رکھے کھانے پینے کا ،نہلا نے دھلانے اور پسند ناپسند کا تو اس شخص کو بڑھاپا بھی آئے گا ، کمزوری بھی ، بیماری بھی اور موت بھی۔ مگر اس بیٹے یا بیٹی نے اپنا دامن خدا کی رحمت، اجرو ثواب اور آخرت میں کامیابی اور دنیا بھر کی بھلائیوں سے بھر لیا۔ اس نے اگر اللہ تبارک و تعالیٰ پر ایمان کی وجہ سے، اس کی رضا کی خاطر، والدین کی خدمت کی تو ناصرف والدین کی دعا لی بلکہ اس رب کی رضا حاصل کی جس کی رضا دنیا وما فیھا سے افضل ہے جس کی رضا دنیا میں دلی سکون،قلبی اطمینان اور آخرت میں جنت کی ضامن ہے۔

آپ حضرات کہہ سکتے ہیں کہ والدین کی فرمانبرداری اور حقّ ِخدمت ادا کرنا اس کے حق میں یقنا ً بہتر ہے مگر ماں باپ کا اس خدمت سے محروم ہونا بد نصیبی کیوں نہیں ؟

تو سنئے ایک چھوٹی سبق آموز کہانی۔۔۔۔۔ایک خدا ترس درویش قسم کے آدمی تھے۔ساری زندگی اللہ کی عبادت، ریاضت اور فرمانبرداری میں گذاری تھی۔ بہت سی تکلیفوں اور کلفتوں کو اللہ کی رضا کے خاطر انہوں نے گلے لگایا اور بہت سے آرام و عیش کو اللہ کی خاطر چھوڑدیا تھا۔

اب ان کا وقت آخر ہے: اَللّٰھُمَّ وَقِنَا م سُوء الکِبَرِ زیتون کا تیل کھانے کو جی چاہ رہا ہے اور گھر میں تھوڑا سا زیتون کا تیل موجود بھی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ تم اس تیل کو گرادو۔ اور فرشتہ اپنا پنکھ مارکر تیل کی چھوٹی سی شیشی گرادیتا ہے ۔

دوسری طرف ایک عیّاش، بدقماش شخص جس نے ساری زندگی من مانی کی ہے اس کا وقت آخر ہے اور اس کا جی چاہتاہے مچھلی کھائوں ۔اس کی من چاہی مچھلی قرب وجوار میں دستیا ب نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتے کو حکم دیتے ہیں جاکر اس کی پسند کی مچھلی اس کے قریبی سمندر میں ڈال دو۔ غرض وہ شخص اپنی پسندیدہ مچھلی عمدہ طریقے سے پکو ا کر خوب مزے سے کھاتا ہے ۔

ایک فرشتہ اللہ کی جناب میں عرض کرتا ہے،” یاارحم الرحمین تو نے ساری زندگی خوشیوں ،لذتوں کو ترستے اور عیش ونشاط کو تیری خاطر چھوڑ دینے والے کی آخری وقت میں بھی خواہش پوری نہ ہونے دی جبکہ اس نافرمان بندے کی ساری خواہشوں کی طرح آخری خواہش کی بھی تکمیل فرمادی۔ ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،’’میں نہیں چاہتا تھا کہ نافرمان کی کوئی خواہش یا آخری خواہش رہ جائے اور وہ اس کا آخرت میں مجھ سے مطالبہ کرے۔ جب کہ میں چاہتا تھا میرے نیک بندے کی آخری خواہش بھی پوری نہ ہوسکے اور وہ اس پر بھی صبر کرے تاکہ میں اس کا اجر جنت کی صورت میں دوں، جو کہ اس کی خواہش کے مطابق ہو ،نعمتوں سے بھری ہو، لذتوں سے وہ بھر پور ہو۔اور میرا مخلص بندہ ہمیشہ ہمیشہ لطف وسرور میں گذارے ۔‘‘

والدین اگر اللہ کے فرماں بردار رہے ہیں تو ہوسکتا ہے یہ ان کی آزمائش ہو یا آخری خواہش کہ ان کا خیال رکھا جائے، ان کی دیکھ بھال کی جائے، ان کو تنہائی بُری لگنے لگے، وہ سب کے ساتھ مل کر رہنے اور اس بات کے متمنی ہو ں کہ ان کی عزت کی جائے، ان کا کہا ما نا جائے، ان کی رائے لی جائے ۔ مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ صبر کر لیتے ہیں اوریہ صبر ثواب کا باعث اور جنت کا ضامن بن جاتا ہے۔ جبکہ ماں باپ کو تنہا چھوڑنے والے بڑھاپے میں بھی خدمت ناکرنے والی نافرمان اولاد اور من چاہی عیش و نشاط والی زندگی گذارنے والوں کے لئے بربادی ،اُخروی ناکامی اور انتہائی بدنصیبی وبے برکتی ہے۔اللّٰھُمَّ حَفِظنَا مِنھُم آمین کیوںکہ ماں باپ کو اذیت دینا یا ان کا خیا ل نہ رکھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔

ہم میں سے اگر کسی کا بھی شمار ماں باپ سے بے اعتنائی برتنے والوں میں سے ہے تو آج ہی، ابھی توبہ کرلیں اور اپنے ماں باپ کی قدر اور خدمت کریں۔ قرآن پا ک میں چار جگہ اللہ پاک نے اپنے حق کے بعد ماں با پ کا حق ادا کرنے کی تاکید فرمائی اور متعدد جگہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کو کہا۔ اللہ کا حق ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ناکیا جائے۔ ذات میں، ناصفات میں، صرف اللہ ہی دعوات المستجاب اور مغیث اعظم ہے اور والدین خواہ مشرک و کافر ہی کیوں ناہو ں ان کو بڑھاپے میں اف تک کہنے کو منع کیا گیا ہے ۔ عبادت و بندگی صرف اللہ کی ،اطاعت و فرمانبرداری رسولو ں کی کی جائے اور انسانوں میں حسن سلوک ،خدمت و دلجوئی سب سے زیادہ والدین کی کی جائے۔ اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی اور خوش نصیبی ہے۔

صرف ایک حدیث کا مفہوم ۔جبرئیل امین نے تین بار اس شخص پر لعنت فرمائی جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین یا کسی ایک کو پایا مگر ان کی خدمت کر کے جنت کا مستحق نہ بنا اور آپ ؐ نے تین بار آمین فرماکر ایسے شخص کی بربادی پر مہر ثبت کردی ۔ اِلّا یہ کہ وہ تو بہ استغفار کر کے پلٹے اور اپنی روش سے باز آجائے اور والدین کے حق میں دعا ئے خیر کرے ۔ ان کی زندگی میں ان کے ساتھ بہترین سلوک اور ان کے وفات کے بعد ان کے لئے مغفرت کی دعا ہی آدمی کو کامیاب اور خوش نصیب بناتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خان عارفہ محسنہ

Leave a Reply