ڈوورک (Douhg work)

خواتین چاہتی ہیں کہ لباس اور زیورات سے لے کر سنگھار تک، ہر شے میں ان کی انفرادیت او خوب صورتی ان کو دوسروں میں نمایاں کردے۔ اسی خواہش کی تکمیل کے لیے اکثر خواتین سونے، چاندی یا مصنوعی زیورات کے بہ جائے کچھ منفرد اور خوب صورت زیورات کی تلاش میں رہتی ہیں۔ ڈوورک کے زیورات ان کا بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں۔

ڈو ورک آرٹ کی ایک ایسی قسم ہے، جس میں وقت کے ساتھ جدت آگئی ہے۔ ابتدا میں پھولوں کو دیکھ کر لوگوں نے ڈو ورک کے پھول بنانے شروع کیے اور اب ڈو ورک کی آرائشی اشیا، زیورات وغیرہ دنیا بھر میں مقبول عام ہوچکے ہیں۔ ڈو ورک کی کئی اقسام ہیں، لیکن اٹالین، پور سلین، سیرامک اور فیلکسی ڈو زیادہ پائے دار ہیں۔

یوں تو ڈو ورک سے بے شمار اشیا بنائی جاسکتی ہیں، لیکن تین طریقے زیادہ مقبول ہیں۔ ڈو جیولری ، ڈو فلاورز، ڈومنی ایچر، مٹی ایچر یعنی چیزوں کو چھوٹا کر کے بنانا، مثلاً پھول، پھل، سبزیاں، درخت، برگر، مشرومز وغیرہ جب کہ ڈو فلاورز میں اصلی پھولوں کی Douhg کے ذریعے نقل بنائی جاتی ہے۔

… ڈو ورک کا کام کرنے والی خواتین یا لڑکیاں ماہر مجسمہ ساز کی حیثیت رکھتی ہیں کہ وہ قدرت کے خوب صورت پھولوں اور پھلوں کی ہوبہو نقل بنا لیتی ہیں۔ بسا اوقات تو ان کو دیکھ کر اصلی پھولوں کا گمان ہوتا ہے اور یہی اس فن کی کامیابی ہے۔

’’ڈو‘‘ میں رنگوں کی آمیزش بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے لیے مختلف رنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔ رنگوں کا صحیح تناسب اور بہترین طریقے سے اس کو ملانا ازحد ضروری ہے۔ بہترین رنگوں سے ہی کبھی کبھی شے میں خوب صورتی آتی ہے۔

آٹالین ڈو، اس فن کی سب سے قدیم قسم ہے۔ ابتدا میں کورن فلور سے ڈو بنانے کا آغاز ہوا تھا۔ کورن فلور میں گلو ملا کر اس سے چیزیں بنائی جاتی تھیں، پھر آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تنوع آتا گیا اور مختلف اشیاء کی آمیزش یا پکانے کے طریقے میں رد و بدل سے نتائج بہتر آنے لگے۔

مختلف اقسام کی ڈو بنانے کی تراکیب بھی مختلف ہیں۔ یہاں قارئین کے لیے اٹالین ڈو کی ترکیب پیش کی جاتی ہے، جو بہ آسانی بنایا جاسکتا ہے۔

اٹالین ڈو

اجزائٍ

کورن فلور: ایک پیالی

گلو : ایک پیالی

لیموں کا رس: ایک کھانے کا چمچا

ترکیب:

ان تمام اشیاء کو ملا کر درمیانی آنچ پر پکائیں۔ اس دوران پتیلی میں لکڑی کا چمچا چلاتی رہیں۔ جب آمیزہ شفاف ہوجائے اور برتن کا پیندا چھوڑ کر چمچے سے چپکنے لگے تو یہ تیار ہے۔ اس کو ایک برتن میں پکالیں پھر اس میں پٹرولیم جیلی لگائیں۔ اس کے بعد پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر کسی کپڑے کی مدد سے پکڑ کر اچھی طرح مسلیں تاکہ گٹھلیاں نہ بنیں، پھر پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر تھیلی کا منہ کھلا چھوڑ دیں، جب ٹھنڈا ہوجائے تو ربڑ بینڈ سے تھیلی پیک کر کے ایئر ٹائٹ بکس میں بند کر کے کئی دن رکھ سکتے ہیں۔ رنگوں کی آمیزش کے لیے اس کے مخصوص رنگ یا پوسٹر کلر بازار میں بہ آسانی دست یاب ہیں۔ کسی بھی رنگ کو ملانے کے لیے تیار ڈو میں سے تھوڑا ساڈو لے کر اس میں سفید رنگ شامل کر کے پھر حسب پسند رنگ اچھی طرح ملائیں۔ ہاتھ کی ہتھیلی سے یک جان کریں کہ یہ رنگ اس ڈو میں اچھی طرح شامل ہوجائے۔ اگر رنگ کم لگے، تو مزید شامل کیا جاسکتا ہے، مثلا گلاب کے پھول بنانے کے لیے سرخ رنگ پتیوں کے لیے اور سبز رنگ پتوں کے لیے درکار ہوگا۔ جب ایک رنگ ملالیں، تو اس کو علیحدہ پلاسٹک کی تھیلی میں بند کر کے رکھیں۔ کسی بھی رنگ کو ملانے سے قبل سفید رنگ ملانا ازحد ضروری ہے، بہ صورت دیگر پلاسٹک کے پھول لگیں گے۔

زیورات بنانے کے لیے عموماً بہت چھوٹے پھول بنائے جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے چھوٹی چھوٹی پتیاں بنائیں، پھر ان کو آپس میں یکجا کر کے پھول کی شکل دے دیں۔ پھول بنالیں، تو سوکھنے دیں بہترین نتائج کے لیے خشک ہونے کے لیے چوبیس گھنٹے دیں۔ گلو کی مدد سے پھولوں کے اوپر موتی یانگ بھی چپکائے جاسکتے ہیں۔ پتے بنانے ہوں تو پتے کے کٹر بھی بازار میں دست یاب ہیں اور خود بھی ہاتھ کی مدد سے پتے کی شکل دے سکتی ہیں، پھر اس پر ٹوتھ پک کی مدد سے اس طرح کی لکیریں بناسکتی ہیں جیسی پتوں میں ہوتی ہیں۔ اس طرح اصلی پتے کا گمان ہوگا۔

چوبیس گھنٹے بعد جب پھول پتے سوکھ جائیں تو کسی بھی کرافٹ کی دکان سے بندے انگوٹھی وغیرہ کا بیس لے آئیں اور اس پر گلو لگائیں، پھر اس پر تھوڑی تیار شدہ اٹالین ڈو لگائیں۔ اس کے بعد دوبارہ گلو لگا کر اس پر یہ پھول ، پتے، موتی، نگ وغیرہ سے آرائش کریں اور چوبیس گھنٹے خشک ہونے دیں۔ یہ خوب صورت ڈو درک کی جیولری تیار ہے۔

ڈو ورک ایک بہترین مشغلہ ہے اور گرمیوں کی تعطیلات میں بامقصد وقت گزاری اور بچوں میں تخلیقی صلاحیت پروان چڑھانے کے لیے بہترین عمل ہے۔ یہ خواتین خانہ کے لیے گھر بیٹھے آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ کئی خواتین گھر بیٹھے ڈو ورک سکھا رہی ہیں یا آرڈر پر بنا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈو و رک سے نت نئی اشیا بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ اس طرح ان کی تخلیقی صلاحیتیں اور ابھر کر سامنے آرہی ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت آن لائن بھی سکھایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹریننگ سینٹر کھول لیے ہیں، کیوں کہ یہ ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ کام چند ہزار کے قلیل سرمائے سے شروع کر کے ہزاروں روپے ماہانہ کمائے جاسکتے ہیں۔ گھر بیٹھی خواتین اپنی اشیا کی فروخت کے لیے عموماً مختلف نمائشوں میں اسٹال لگاتی ہیں یا ہینڈی کرافٹ کی دکانوں پر رکھوا دیتی ہیں اور شرح منافع طے کرلیتی ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) پر تشہیر کر کے بھی اس کو فروخت کر سکتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ عادل

Leave a Reply