خبردار! یہ اشیا خطرناک ہیں!

گھر میں کچھ ایسی عام اشیاء ضرور موجود ہوتی ہیں جنہیں تمام اہل خانہ وقتاً فوقتاً استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین طب نے چند مخصوص گھریلو اشیا کے مشترکہ استعمال کو خطرناک اور صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مندرجہ ذیل اشیا اہل خانہ کبھی مشترکہ طور پہ استعمال نہ کریں۔ اس عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس طرح ایک فرد میں موجود بیماری دوسرے کو بھی منتقل ہوسکتی ہے۔

دانت صاف کرنے کا برش

ٹوتھ برش کو اگر کھلا نہ بھی چھوڑا جائے تب بھی اس کے بالوں میں جراثیم موجود رہتے ہیں۔ یہ جراثیم برش کرنے کے دوران انسان کے منہ سے ٹوتھ برش میں منتقل ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی دوسرے شخص کا برش استعمال کرنے سے گریز کریں اور نہ ہی کسی کو اپنا ٹوتھ برش استعمال کرنے دیں۔

ہونٹوں کی کریم

موسم سرما میں ہونٹوں کو پھٹنے سے بچانے کے لیے چیپ اسٹک کا استعمال ضرور کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی شیئرنگ بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ ہونٹوں پر لگانے کے دوران منہ کی جھلیوں سے نکلنے والے جراثیم چیپ اسٹک پر چپک جاتے ہیں۔ جب یہی چیپ اسٹک کوئی دوسرا فرد استعمال کرے تو جراثیم اس کے خون میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس طریقے سے عام طور پر Simplex Herpes نامی وائرس دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس انسان میں خارش پیدا کرتا ہے۔

ایئر فون

کانوں میں لگایا جانے والا یہ آلہ بھی جراثیم سے بھرپور ہوتا ہے۔ اور یہ جراثیم ایئر فون تک اس وقت پہنچتے ہیں جب انہیں کانوں میں لگایا جاتا ہے۔ کانوں کی میل ایئر فون سے چیک کر جب دوسروں کے کانوں تک پہنچتی ہے تو انہیں کسی بھی قسم کا انفیکشن ہو سکتا ہے۔

کانوں کے بندے

خواتین میں یہ عادت عام طور پر پائی جاتی ہے کہ وہ اکثر کسی نہ کسی پارٹی میں جاتے ہوئے ایک دوسرے سے لیے ہوئے بندے پہن لیتی ہیں اور اس بات میں کوئی برائی نہیں سمجھتیں۔ لیکن یہ عمل بھی صحت کے واسطے انتہائی خطرناک ہے کیوں کہ کانوں کے سوراخ میں بندے داخل کرنے کے دوران اکثر خون ان پر لگ جاتا ہے۔ یوں ایک فرد کے خون میں موجود موزی امراض کے جراثیم دوسرے فرد تک بہ آسانی منتقل ہوسکتے ہیں۔

ٹوتھ پیسٹ

دانتوں کی پیسٹ کو مشترکہ طور پر استعمال کرنا اگرچہ اتنا زیادہ نقصان دہ تو نہیں جتنا ٹوتھ برش کا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ٹوتھ برش پر ٹوتھ پیسٹ لگانے کے دوران ٹیوب میں بھی جراثیم داخل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو، اپنی ٹوتھ پیسٹ ہی استعمال کیجیے۔

عام کریم

اگرچہ کریم کے استعمال سے چہرے پر موجود جراثیم دوسروں تک منتقل نہیں ہوتے۔ مگر ایک شخص کی انگلیوں کے پوروں پر موجود جراثیم ضرور کریم کی بوتل میں داخل ہوسکتے ہیں۔ یوں وہ دوسرے فرد تک پہنچ سکتی ہیں۔

تولیہ

یہ بات ذہن میں رکھئے کہ ہمیشہ خشک تولیہ استعمال کریں۔ دوسری اہم بات یہ کہ آپ کا تولیہ ہمیشہ مخصوص ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر دوسرے افراد کے بدن پر موجود کئی قسم کے وائرس و جراثیم اور آنکھوں کی ایک مخصوص بیماری آپ میں بھی آسانی سے منتقل ہوسکتی ہے۔

صابن

عام طور پر گھر میں صابن ایک ہی ہوتا ہے اور سبھی اسے استعمال کرتے ہیں لیکن ماہرین نے اس عمل کو بھی اتنا ہی خطرناک قرار دیا ہے جتنا کہ تولیے کی شیئرنگ کو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صابن کے مشترکہ استعمال سے وہ تمام وائرس اور بیماریاں دوسروں میں منتقل ہوسکتی ہیں جو کہ تولیے کی شیئرنگ سے ہوتی ہیں۔

موچنا

بھنوؤں کی درستگی کے لیے استعمال کیے جانے والے موچنے کا مشترکہ استعمال بھی خاصی حد تک خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ شاید آپ کو اس کا گمان بھی نہ ہو۔ دراصل کسی دوسرے فرد کا موچنا جو اس کی جلد پر استعمال کیا گیا ہو، آپ کے خون میں کئی خطرناک بیماریاں پیدا کر سکتا ہے۔ صرف پلکوں پر موچنے کا استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

ناخن تراش

ہمارے ہاں یہ عادت بھی عام ہے کہ ایک ہی ناخن تراش پورا خاندان استعمال کرتا ہے لیکن ماہرین کے نزدیک یہ بھی انتہائی خطرناک عمل ہے۔ ناخن تراش کے مشترکہ استعمال سے ایک فرد کے ناخنوں میں موجود عام بیماریاں دوسرے افراد میں منتقل ہوجاتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ندا سہیل

Leave a Reply