چند باتیں کیریئر منصوبہ بندی پر

کیریئر کی صحیح منصوبہ بندی اور تکمیل یقینا ہر نوجوان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ہر ایک اپنے شعبے میں مہارت کے ساتھ بڑے درجے کی کام یابی پانے کا بھی متمنی ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ تعلیمی دورانیے کے اختتام کے ساتھ ہی کوئی اچھی اور حسب خواہش ملازمت آپ کو مل جائے۔ بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے لیکن جلد بازی میں کیاجانے والا فیصلہ کبھی کبھار غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے کیریئر کی منصوبہ بندی کرتے وقت نہایت محتاط رہتے ہوئے ان نکات پر غور کریں جو اس دوران آپ کو پیش آسکتے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ملازمت یا کیریئر میں تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے اور یہ تبدیلی جزوی طور پر آپ کے مکمل کیریئر کی منصوبہ بندی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اپنے مقصد کو پانے کے لیے سوچ بچار اور وقت کی قید کی پروا نہ کریں کیوں کہ منصوبہ بندی یا کیریئر پلاننگ میں بار بار کی جانے والی تبدیلی زندگی میں آگے بڑھنے نہیں دیتی۔

اگر آپ اپنی موجودہ ملازمت سے مطمئن نہیں یا کسی مرحلہ پر آپ فرسٹریشن کا شکار ہیں اور اس ملازمت نے آپ کو محدود کر دیا ہے تو اس سلسلے میں کیریئر پلاننگ کا عمل آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ آپ کا موجودہ ملازمت یا کیریئر سے اگلی ملازمت یا کیریئر تک کا سفر ایک عمارت تعمیرکرنے کے مترادف ہے جہاں آپ کو بنیاد ہی سے محفوظ اورکارآمد طریقہ اپنانا ہوگا۔ مندرجہ ذیل نکات یقینا آپ کے کیریئر کے مقاصد کے حصول کے لیے مدد گار ثابت ہوں گے۔

٭ اپنے کیریئر کی منصوبہ بندی کرتے وقت اپنے آپ کو تمام رکاوٹوں سے آزاد رکھیں اور وہ رکاوٹیں مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں جیسے کہ ذاتی رکاوٹیں مثلا(سستی، بے حسی، لاپروائی، غیر ذمہ داری، حوصلہ افزائی کی کمی اور پابندی وقت سے غفلت) خاندانی دباؤ جیسے کہ (خاندانی کاروبار میں ساتھ کام کرنے کی توقعات، کیریئر کے حوالے سے مخصوص راستوں کو ہی اپنانا اور کیریئر کو صرف اس وجہ سے نظر انداز کرنا کہ وہ آپ کے معیار اور اسٹیٹس سے کم تر ہے) اور اپنے طبقے کے ارکان کا دباؤ وغیرہ۔ کیریئر کی منصوبہ بندی اور اس کی فیصلہ سازی آپ کی زندگی کا اہم پہلو ہے اس لیے اپنے اوپر کسی بھی قسم کا دباؤ نہ لیں جو آپ کو اصل انتخاب، صحیح فیصلے اور بہترین منصوبہ بندی کرنے سے مفلوج کردے۔ اس کام میں جلد بازی سے آپ اپنا بہت بڑا نقصان کرسکتے ہیں اس لیے ہر قسم کی رکاوٹوں سے آزاد ہوکر اور نہایت سوچ بچار سے فیصلہ کرنا ہی آپ کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

٭ اپنے موجودہ یا ممکنہ لائف اسٹائل یا زندگی گزارنے کے انداز کا جائزہ لیں، کیا آپ اس سے مطمئن اور خوش ہیں؟ کیا آپ اسے تبدیل یا برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟ آپ کو اس بات کا مکمل یقین ہونا چاہیے کہ آپ جس راستے کا بھی انتخاب کریں گے وہ آپ کے آئیڈیل لائف اسٹائل سے ضرور مماثلت رکھتا ہو۔ کیا فی الحال آپ کا زندگی گزارنے کا انداز ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ چاہتے ہیں؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو یقینا آپ خوش قسمت ہیں اور اسے بہترین بنانے میں مزید کام کر سکتے ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تب آپ کو ایسے راستے منتخب کرنا ہوں گے جو آپ کو آپ کا من پسند طرزِ زندگی مہیا کر سکیں۔

٭ اپنی پسندناپسند کا جائزہ لیں۔ اپنی ہر قسم کی سرگرمیوں خواہ وہ کام یا آپ کے پیشے کے متعلق ہوں یا پھر کھیل کے متعلق، ان کے بارے میں سوچیں کیا انھیں انجام دیتے ہوئے آپ لطف اور خوشی محسوس کرتے ہیں یا کس قسم کی سرگرمی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ دونوں قسم کی سرگرمیوں کی ایک فہرست مرتب کرلیں اور اس فہرست کی روشنی میں اس بات کا تجزیہ کریں کہ فہرست کے مندرجات اور آپ کی حالیہ ملازمت یا کیریئر پلاننگ میں کس حد تک مماثلت ہے، اس طرح کسی بھی کام کا انتخاب کرنا آپ کے لیے سہل ہوگا۔

٭ اپنے جذبے یا شوق کا جائزہ لیں۔ یہ دیکھیں کہ کس قت اور ماحول میں آپ خود کو سب سے زیادہ پرجوش محسوس کرتے ہیں۔ کون سا کام یا سرگرمی سے آپ کو مستقل فعال، پرجوش اور متحرک رکھتی ہے۔ ایک فہرست ترتیب دیں اور اس میں اپنے ایسے تمام شوق اور خواہشات کے متعلق لکھیں جنہیں انجام دیتے وقت آپ جنون اور سرشاری کو محسوس کرتے ہیں۔

٭ اپنی کمزوریوں اور طاقت کا جائزہ لیں۔ہر انسان اچھی طرح واقف ہوتا ہے کہ اس کی طاقت اور کمزوری کن باتوں میں پوشیدہ ہے۔ ایک ایمپلائر کے طور پر کام کے دوران حاصل ہونے والے تجربات، تعلیم، تربیت، ٹریننگ، اضافی صلاحتیں، قابلیت، ذہانت، پیشہ ورانہ معلومات اور ذاتی رویہ یا کردار کا تفصیلی جائزہ لیں۔ ان تمام معاملات میں کس جگہ آپ کم زور یا طاقت ور ہیں اس کا اندازہ خود لگانا ہوگا اور پھر اپنی بہترین حکمت عملی سے ان پر قابو پانا اور ان سے مثبت انداز میں کام لینا آپ کی سوچ پر منحصر ہے۔

٭ کامیابی کی تعریف آپ کے نزدیک کیا ہے؟ آپ اسے کن معنوں میں لیتے اور اسے کس طرح سے سوچتے ہیں۔ کچھ وقت اس بارے میں غور و فکر میں بھی گزاریں کہ آپ کامیابی کی وضاحت کس طرح کر سکتے ہیں۔ کامیابی سے آپ کی کیا مراد ہوسکتی ہے۔

٭ آپ کی شخصیت کیسی ہے؟ کیا آپ ایک ملنسار، گھلنے ملنے والے مجلسی انسان ہیں یا پھر آپ کا شمار ایسے افراد میں کیا جاتا ہے جنہیں صرف اپنی ذات سے ہی شغف ہوتا ہے اور شرمیلے، الگ تھلگ اور اپنے آپ میں مگن انسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ کیا آپ سوچنے اور عمل کرنے کے مقولے پر یقین رکھتے ہیں؟ یکسانیت یا تبدیلی کو پسند کرتے ہیں؟ کیا آپ پیچھے رہ کر کام کرنا پسند کرتے ہیں یا آگے بڑھ کر؟ ان تمام باتوں کے لیے اپنی شخصیت کا تفصیلی جائزہ لیں۔ جن امور پر آپ کی گرفت نہیں ان کو جانچیں اور از خود اپنا ٹیسٹ لیں۔ کیریئر کی منصوبہ بندی میں ان تمام باتوں کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔

٭ آپ کی ’ڈریم جاب‘ کس نوعیت کی ہے؟ آپ اپنے بچپن میں بڑا ہوکر کیا بننے کے خواہش مند تھے؟ کیا وہ خواہش ابھی تک اسی شدت کے ساتھ آپ کے اندر موجود ہے۔ اگر ہے تو کیریئر پلاننگ میں اسے بھی شامل رکھیں اور اس بات کا مشاہدہ بھی کریں کہ اگر آپ ملازمت کررہے ہیں تو کیا آپ کی موجودہ ملازمت آپ کے بچپن کی خواہش کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس بات کا پختہ یقین کریں اور اس کے متعلق کسی بھی قسم کی منفی سوچ کو دماغ پر حاوی مت ہونے دیں۔ اپنی ڈریم جاب کے ساتھ ساتھ دیگر ان شعبوں پر توجہ دیں جن میں آپ کی دلچسپی ہوسکتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نرگس ارشد رضا

Leave a Reply