مرد کی عظمت عورت سے ہے!

محبت انسان کا فطری جوہر ہے، جس کی نمود میں عورت کا حصہ زیادہ ہے۔ اگر عورت نہ ہو تو یہ دنیا جنگل اور خارزار ہے۔ عورت قدرت کا حسین پھول ہے جو خارزار کو گلستاں میں تبدیل کردیتی ہے اور یہ دنیا جنت لگنے لگتی ہے۔

ہر ’’عظیم مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے‘‘وہ چاہے ماں ہو، بہن ہو یا بیوی۔ مرد کی زندگی میں ان سب کی اہمیت بھی اسی ترتیب سے ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی ایک عورت کے سہارے کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ ممتا کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا بلکہ وہ اپنی مکمل نشو و نما، پیار محبت سب کے لیے ماں کی توجہ کا طلب گار ہوتا ہے جب کہ باپکا درجہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ بچے میں ماں کی محبت کی کمی اور ممتا کا مسلسل اظہار اس کی شخصیت کو مکمل کرنے میں بڑی مدد دیتا ہے۔ اکثر ایسے بچے جن کی ماؤں کا انتقال ہو جاتا ہے اور ان میں ممتا کی ٹھنڈک کی کمی رہ جاتی ہے تو یہ کمی ان کی زندگی میں (اگر نانی یا دادی نے اس کی پرورش نہ کی ہو) ساری عمر باقی رہتی ہے۔ مرد اپنی تمام تر خوبیوں سے عورتوں کے احسان مند ہیں جب کہ ایسے حالات میں لڑکیاں اپنے آپ کو کم عمری میں ہی ضرورت کے تحت ڈھال لیتی ہیں۔ اپنے کام خود کرتی ہیں بلکہ دوسرے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں بھی سنبھال لیتی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مرد بچپن سے ہی عورت کی محبت، توجہ اور ضروریات کا محتاج ہوتا ہے جب کہ لڑکیاں شروع سے ماں باپ کی اس توجہ اور محبت کا حصہ نہیں ہوتیں جو اس گھر میں لڑکوں کا ہے۔

جب لڑکے ذرا بڑے ہو جاتے ہیں تو ماں کی محبت کے ساتھ اب انہیں بہنوں کے پیار کی شدت کا بھی احساس ہوتا ہے۔ اگر ماں نے کبھی اتفاقا برا بھلا کہہ دیا تو بہنوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لے لیا جب کہ وہ اس کے بدلے میں انہیں ایک حصہ بھی نہیں لوٹا سکتے۔ ماں کی محبت کے بعد دوسری عورت (بہن) کی محبت اس کے کردار میں پختگی پیدا کرتی ہے۔

انسان بھی ایک پھول ہے۔ محبت اس پھول کی خوشبو اور شادی اس پھول کو رنگ عطا کرتی ہے۔ جب وہ اس منزل کا راہی بنتا ہے تو ایک تیسری عورت زنگی کی راہ پر محبت بھرے پھولوں سے اس کی منتظر رہتی ہے۔ایک عورت کی تکمیل تو اس وقت ہو جاتی ہے جب وہ ازدواجی زندگی بسر کرنا شروع کرتی ہے لیکن مرد کی تکمیل شادی کے بعد بھی نہیں ہوتی۔ وہ زندگی میں ہمیشہ جہد مسلسل کا شکار رہتا ہے، عورت اپنے مستقبل کے بارے میں صرف شادی ہونے تک فکر مند رہتی ہے اور مرد شادی کے بعد بھی۔چوں کہ اب اس کی فکر مندی کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اس لیے اس دور میںاسے وجہ اور پیار کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ خود بیوی سے محبت کرے یا نہیں، اس کے مسائل کو نظر انداز کرتا رہے لیکن خود بہ توقع رکھتا ہے کہ بیوی کے فرائض میں کمی نہ آئے جب کہ عورت ان چھوٹی موٹی محرومیوں کو برداشت کرتے ہوئے زندگی کی گاڑی کھینچ لیتی ہے۔وہ اجنبی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو اس کے خیالات میں ڈھال لیتی ہے کیوں کہ محبت نام ہے خیال کی ہم آہنگی کا۔ اگر ہم کسی شخص کے ہم خیال نہیں تو یقینا ہم اس سے محبت بھی نہیں کرسکتے۔ خیال میں یکسانیت ہی محبت کی بنیاد ہے اور ایک گھر محبت کی پائیدار بنیاد پر ہی قائم ہوتا ہے۔ محبت اور توجہ کی کمی مرد کو یا تو دوسری عورت کی طرف راغب کرتی ہے یا پھر وہ غیر شعوری طور پر ایسے ذرائع استعمال کرتا ہے جس سے وہ سب کی توجہ، ہمدردی اور محبت کا مستحق نظر آئے۔

مرد کی محبت زندگی سے ایک علیحدہ چیز ہے لیکن عورت کا وجود مرد کے لیے مجسم محبت ہے۔ وہ خود کسی نہ کسی وجہ (مجبوراً یا معاشی) سے گھر سے ہفتوں باہر رہے گا لیکن انہیں چاہے گا کہ بیوی ایک ہفتہ ہی میکے رہ آئے۔ اگر اس کی خوشی کی خاطر یہ برداشت بھی کرلیا تو کہیں نہ کہیں اس کا رد عمل ضرور ظاہر کرے گا۔ توجہ اور محبت کے معاملے میں وہ ہمیشہ ایک بچہ ہی رہتا ہے چاہے کتنا ہی ذمہ دار ہو۔ جس طرح گھر ایک عورت کے بغیر نہیں چل سکتا اسی طرح مرد بھی اس کے بغیر بچپن سے بڑھاپے تک ایک گام نہیں چل سکتا۔ عورت میں جو سب سے نمایاں خوبی پائی جاتی ہے وہ یہ کہ اگر بڑھاپے میں جب ہر ایک نفرت کرنے لگے تو وہی اس کا سہارا بنتی ہے۔ عورت چاہے جانے کی آرزو رکھنے کے باوجود اپنی قوت برداشت کی وجہ سے محبتوں کے بغیر بھی منزل کا تعین کرلیتی ہے۔

مرد کی زندگی میں محبت کی جھلک کبھی کبھی ملتی ہے جب کہ عورت کی زندگی کی مکمل تاریخ ہی محبت ہے۔ آج کی مادی دنیا میں دولت کی چکا چوند نے محبت کی روشنی کو ماند کر دی اہے اور اس برائی کا زیادہ شکار بھی عورتیں ہی ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ زندگی میں دولت حاصل کرنے کے بعد بھی بعض لوگوں کا مقام پست ہی رہتا ہے۔ زندگی میں فضیلت دولت سے نہیں دل و دماغ کے صحیح استعمال سے محبت کرنے اور امن رکھنے سے آتی ہے۔ خدا نے عورتوں کی ذہانت کو ان کے دلوں میں پوشیدہ رکھا ہے کیوں کہ اس ذہانت کے کارنامے اکثر محبت کے کارنامے ہوتے ہیں اور یہ ہی زندگی وہ جیتی جاگتی تصویر ہے جس میں انسان کا ماضی، حال اور مستقبل چمکتا ہے۔ اگر عورت کی زندگی کی کہانی کچھ اس طرح ہو تو (جیسے چاند ساری دنیا کو اپنی نقرئی چاندنی سے دھوکر چمکاتا ہے پھر وہ اپنے شفاف چہرے پر پڑے ہونے ازلی داغ کو کیوں نہیں دھو ڈالتا) دانش مندوں کو یہ بات معلوم ہے کہ جس انسان کو دوسروں کی بھلائی مقصود ہوتی ہے وہ اپنی ذاتی مصروفیات سے صرفِ نظر کرایا کرتا ہے تب ہی راہِ زندگی میں واقعی رفیق زندگی ہونے کا حق ادا کرسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مرد کی عظمت عورت سے ہے!

Leave a Reply