آج کا نوجوان

قوتوں، صلاحیتوں، حوصلوں، امنگوں، بلند پروازی اور عزائم کا دوسرا نام نوجوانی ہے۔ کسی بھی قوم و ملک کی کامیابی و ناکامی، فتح و شکست، ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں نوجوانوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔ ہر انقلاب خواہ وہ سیاسی ہو یا معاشی، روس کا انقلاب ہو یا فرانس کا۔ آج سے چودہ سو سال پہلے حضور اکرمؐ نے عرب کی سرزمین پر انقلاب برپا کیا جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ اس میں نوجوانوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پندرہ سال سے لے کر چوبیس سال تک کی عمر کے فرد کو نوجوان کہا جاتا ہے۔ World Population Statistics کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی کل آبادی میں پچاس فیصد آبادی پچیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

قرآن مجید اور نوجوان

نوجوانوں کی اہمیت کے بارے میں قرآن مجید اصحابِ کہف کے حوالے سے نوجوانوں کا کردار اس طرح بیان کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم ان کا قصہ تمہیں سناتے ہیں، وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے، ہم نے ان کو ہدایت بخشی۔‘‘

(الکہف:۱۳)

اللہ تعالیٰ ان کے عزم و حوصلے اور غیر متزلزل ایمان اور ان کے عالمگیر اعلان کے بارے میں اس طرح فرماتا ہے: ’’ہم نے ان کے دل اس قدر مضبوط کر دیے کہ جب وہ اٹھے تو انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ہمارا رب بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے، اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جا بات کریں گے۔‘‘ (الکہف:۱۴)۔ ان چند نوجوانوں نے اپنے زمانے میں جو کردار ادا کیا وہ تمام نوجوانوں کے لیے نمونہ عمل ہے۔

اسی طرح سے قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے چند نوجوانوں کا تذکرہ کیا۔ حضرت موسیٰ کو قوم نے ہر طرح سے جھٹلایا لیکن وہ چند نوجوان ہی تھے جنہوں نے کٹھن حالات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان کا اعلان کیا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’موسیٰ کو اسی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربراہ لوگوں کے ڈر سے کہ فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔‘‘ (یونس:۸۳)۔ مذکورہ بالا آیت میں ذریۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بہت ہی جامع اور معنی خیز ہے۔ صاحب تفہیم القرآن نے ذریۃ کی تشریح اس طرح کی ہے: ’’متن میں لفظ ذریۃ استعمال ہوا ہے جس کے معنی اولاد کے ہیں۔ ہم نے اس کا ترجمہ نوجوان سے کیا ہے۔ دراصل اس خاص لفظ کے استعمال سے جو بات قرآن مجید بیان کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اس پرخطر زمانے میں حق کا ساتھ دینے کی جرات چند لڑکوں اور لڑکیوں نے تو کی مگر ماؤں اور باپوں اور قوم کے سن رسیدہ لوگوں کو اس کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔ ان پر مصلحت پرستی اور دنیوی اغراض کی بندگی کچھ اس طرح چھائی رہی کہ حق کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوئے جس کا راستہ ان کو خطرات سے پرنظر آرہا تھا۔‘‘

نبی مہربانﷺ اور نوجوان

حضور اکرمﷺ نے جب دعوتِ حق کا آغاز کیا تو ابتدا میں نوجوانوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا۔ جوانی کی عمر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہے۔ اس لیے خصوصی طور پر قیامت کے دن اس حوالے سے پوچھا جائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

’’قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔ (۱) عمر کن کاموں میں گنوائی۔ (۲) جوانی کی توانائی کہاں صرف کی (۳)مال کہاں سے کمایا۔ (۴)اور کہاں خرچ کیا (۵)جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا۔‘‘ (ترمذی)

اس حدیث مبارکہ میں چار سوال جوانی سے متعلق ہیں۔ ایک عمر کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس میں جوانی کا دور بھی شامل ہے۔ مال کمانے کا تعلق بھی اسی عمر سے شروع ہوتا ہے۔ حصولِ علم کا تعلق بھی اسی عمر سے ہے۔

نوجوانی کی عمر صلاحیتوں کو پیدا کرنے اور اس میں نکھار پیدا کرنے کی ہوتی ہے۔ اسی عمر میں نوجوان علوم سیکھنے کی مختلف منازل طے کرتا ہے۔ عمر کے اسی مرحلے میں نوجوان صحابہؓ نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ یہی وہ عمر ہے جس میں اسامہ بن زیدؓ نے قیادت کی ذمہ داری سنبھالی۔ یہی وہ عمر ہے جس میں خالدؓ بن ولید نے بارگاہِ نبوت سے سیف اللہ کا لقب حاصل کیا۔ دورِ شباب میں ہی حضرت علیؓ، حضرت مصعبؓ بن عمیر، عمارؓ بن یاسر، اور چار عباد اللہ ابن عمرؓ، ابن عباس، ابن زبیر، ابن العاصؓ نے اللہ کے رسولﷺ سے شانہ بشانہ عہد و پیمان باندھا۔ اسی عمر میں ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہؒ محدث دہلوی اور امام غزالیؒ جیسے مجددین علوم کی گہرائیوں میں اترے، اسی دورِ شباب میں صلاح الدین ایوبیؒ، طارق بن زیادؓ اور محمد بن قاسمؒ نے اسلامی تاریخ کو اپنے کارناموں سے منور کیا۔ اسی عمر میں حسن البناء شہید نے مصر کی سرزمین کو جہاں فرعون کے نقوش ابھی بھی بحر تلاطم کی طرح باقی ہیں، دعوت الی اللہ کے لیے مسکن بنایا۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے صحافت کا میدان نوجوانی میں اختیار کیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے اسی عمر کو غنیمت سمجھنے کی تلقین کی ہے کیوں کہ بڑے بڑے معرکے اور کارنامے اسی عمر میں انجام دیے جاسکتے ہیں۔ حضرت عمر بن میمونؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسولؐ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو (۱)جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲) صحت کو بیماری سے پہلے (۳) خوش حالی کو ناداری سے پہلے (۴) فراغت کو مشغولیت سے پہلے (۵) زندگی کو موت سے پہلے۔‘‘ (ترمذی)

احکاماتِ الٰہی سے دور نوجوان

دورِ حاضر میں امت مسلمہ کے نوجوان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ احکاماتِ الٰہی سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید کو ایک رسمی کتاب سمجھتا ہے۔ اس کتاب کے متعلق اس کا تصور یہ ہے کہ اس کے ساتھ اگر تعلق قائم کر بھی لیا جائے تو محض زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن پاک تک محدود رہے۔ وہ یہ سوچتا ہی نہیں کہ یہ کتاب دور حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت اور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ قرآن مجید کتاب انقلاب ہے۔ یہ نہ صرف عصر حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ تمام مسائل کا حل بھی فراہم کرتی ہے۔

سوشل میڈیا اور نوجوان

انٹرنیٹ اور موبائل دورِ حاضر کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ تعلیمی و تحقیقی کاموں اور رابطہ کے لیے اس کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور اخلاقی قدروں کی تباہی بھی اسی کی مرہون منت ہے۔ نوجوانوں میں اس کے بے تحاشا بڑھتے ہوئے رجحان نے ان کی جنسی خواہشات کو برانگیختہ کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ان گنت حیا سوز سائٹس ہیں جن تک ہر نوجوان بہ آسانی رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ گھر سے لے کر کالج تک اور کالج سے لے کر بازار تک بے حیائی پر مبنی ماحول نے نوجوانوں کے اخلاق کا دیوالیہ نکال دیا ہے، جس کی بدولت آج کا نوجوان خوف، تناؤ، ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہوچکا ہے۔ امت مسلمہ کے اس گراں قدر سرمائے کو اطمینانِ قلب، تطہیر ذہن، حیا پسندی، پاک دامنی اور حسن اخلاق سے متصف کرانا وقت کا ایک تجدیدی کام ہے۔ اسلام کی اساسیات اور اس کے نظام و حقائق اور رسالت محمدیؐ کا وہ اعتماد واپس لایا جائے جس کا رشتہ آج کے نوجوان سے چھوٹ چکا ہے۔ آج کا سب سے بڑا جہاد اور عبادت اسی فکری اضطراب اور نفسیاتی الجھنوں کا اعلان کرنا ہے جن میں آج کا تعلیم یافتہ نوجوان مبتلا ہے۔

نوجوان اور مستقبل کی تلاش

قوم کی تعمیر و ترقی اور بہتر مستقبل کی بنیاد نظام تعلیم پر ہے۔ ایک فلسفی کا قول ہے کہ اگر آپ قوم کے مستقبل کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’مجھے اپنا نظام تعلیم دکھاؤ میں بتا سکتا ہوں کہ اس کا مستقبل کیسا ہوگا۔‘‘

عصر حاضر میں تعلیم کا مقصد صرف اور صرف پیشہ (Profession) مقام اور پیسہ و سرمایہ بن گیا ہے۔ ہر نوجوان ان تین چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے۔ آگے بڑھنے اور کیریئر پلاننگ کی دھن نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ کیریئر کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اپنے سوا اور کوئی نظر نہیں آتا۔ وہ اپنے مقصد وجود سے لاعلم ہے۔ وہ قابل ذکر اسناد کا حامل ہوتا ہے لیکن دوسروں کے لیے اس کے دل میں ہمدردی کا جذبہ نہیں ہوتا۔ اس کے پاس معلومات کا وافر خزانہ موجود ہوتا ہے لیکن عمل کی دنیا سے وہ اتنا ہی دور ہوتا ہے۔ اس کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس کی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے لیکن بچارے گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی پیٹھ پر کس قسم کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔

اسلام کیریئر اور مستقبل کو خوب سے خوب تر بنانے اور نکھارنے سے منع نہیں کرتا۔ اسلام تو قاعدے اور سلیقے کے ساتھ منظم اور اچھے طریقے سے کیریئر بنانے پر زور دیتا ہے اور اس بات کی بھی تلقین کرتا ہے کہ احسان ’حسن عمل‘ کسی بھی لمحے آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ اس کے برعکس اسلام جس چیز سے منع کرتا ہے وہ اندھی کیریئر پرستی ہے، جو ایک نوجوان کو معاشرے سے الگ تھلک کر دیتی ہے۔ اس سے قرآن مجید نے سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس حوالے سے حضرت لقمان کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اور تم لوگوں سے منہ پھر کر بات نہ کرو۔‘‘ (لقمان:۱۸) ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے مستقبل کا تعین کیا جائے کہ اس میں ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔

نوجوانوں کے مسائل اور حل

آج امت کا نوجوان بے شمار مسائل اور الجھنوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف غیر متوازن نظام تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری طرف اقتصادی مسائل سے دو چار ہے۔ ایک طرف وقت پر نکاح نہ ہونے کے مسائل تو دوسری طرف بے روزگاری کے مسائل نے پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک طرف ناقص تعلیم و تربیت، حیا سوز مغربی فکر و تہذیب کے پیدا کردہ مسائل ہیں اور دوسری طرف الجھنوں کا انبار لگا ہوا ہے، جن سے امت کا یہ اہم طبقہ دو چار ہے۔ یہ واضح رہے کہ آج کا نوجوان طبقہ مسائل کا سامنا کرنے سے کتراتا بھی ہے۔ کیوں کہ ان کو اس سلسلے میں مطلوبہ رہ نمائی نہیں مل پا رہی ہے تاکہ وہ ان مسائل سے بہ آسانی نبرد آزما ہوسکے۔ اس سلسلے میں ماں باپ، علماء اور دانشوروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مربیانہ کردار ادا کریں تاکہ نوجوان طبقہ مستقبل میں ملت اور معاشرے کی تعمیر و اصلاح کے لیے موثر کردار ادا کر سکے۔ اس حوالے سے اللہ کے رسول کا وہ تربیتی نظام سامنے رکھنا چاہیے جس کی بدولت انہوں نے نوجوانوں کی ایک بہترین ٹیم تیار کی تھی، جس نے بعد میں بڑے بڑے معرکے سر انجام دیے۔ اللہ کے رسول نوجوانوں کی ان کے درجحان اور طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیت کرکے مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے۔آپ کا تربیتی نظام بڑا شاندار اور منفرد انداز کا ہے۔ آپؐ ان کی کردار سازی پر بہت وجہ فرماتے تھے۔ اس سے نہ صرف ان کے خارجی مسائل بلکہ نفسیاتی مسائل بھی حل کرتے تھے۔ ایک دن قریش کا ایک نوجوان رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا اور بلا خوف و تردد عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ مجھے زنا کی اجازت دے دیجئے۔‘‘ صحابہ کرامؓ اس نوجوان کی بے ہودہ جسارت پر بپھر گئے اور اس کو سخت سے سخت سزا دینا چاہی، مگر رسولؐ نے بالکل منفرد انداز اختیار کیا، آپﷺ نے اس نوجوان کو قریب بلایا اور کہا: ’’کیا تم یہ بات اپنی ماں کے لیے پسند کرتے ہو؟‘‘ نوجوان نے کہا: ’’میری جان آپؐ پر قربان ہو، یہ بات میں اپنی ماں کے لیے کبھی پسند نہیں کرسکتا۔‘‘ پھر آپؐ نے اس کی بہن، پھوپھی اور خالہ کے بارے میں اس طرح کے سوالات کیے، بعد میں اس سے پوچھا: ’’کیا تم اسے پسند کرتے ہو؟‘‘ وہ ہر بار یہی کہتا: ’’میری جان آپؐ پر قربان ہو، خدا کی قسم یہ بات میں ہر گز پسند نہیں کرسکتا۔‘‘ پھر آپ نے اس نوجوان کو اپنے پاس بلایااور اس کے لیے اللہ سے دعا کی جس کے بعد وہ کبھی بھی اس بے ہودہ کام کی طرف مائل نہیں ہوا (مسند احمد)۔ اس واقعے سے ہم کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل کو کس طرح حل کرنے اور انہیں پیار سے سمجھانے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
میر بابر مشتاق

Leave a Reply